تبصرہ-۲ : کہانی سفر میں ہے
تبصرہ-۲ : کہانی سفر میں ہے
Apr 28, 2026

ثمینہ سید نمبر
کتاب۔۔ کہانی سفر میں ہے
افسانہ نگار:ثمینہ سید
تبصرہ : عبدالقیوم مرزا
ثمینہ سید کے افسانے پڑھے۔ خوشگوار حیرت ہوئی۔ محسوس ہوتا ہے کہ موصوفہ نے اردو کلاسیک کا بنظر غائر مطالعہ کیا ہے۔ بلکہ اسے پوری طرح ہضم بھی کیا ہے۔ ان کی تحریر عام تحریر نہیں لگتی۔ انہوں نے ادب کا روایتی رنگ اپنانے کی کوشش کی ہے۔ لفظوں کو بڑی خوبصورتی سے برتا ہے۔ اس کے ساتھ پلاٹ کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ ان کا ہر افسانہ اپنی جگہ ایک بھرپور تاثر لیے ہوئے ہے۔ اور قاری اس تاثر سے پہلوتہی نہیں کرپاتا۔ ثمینہ کے افسانوں کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ اگر یہ ناول لکھنا چاہیں تو آسانی سے لکھ سکتی ہیں کیونکہ پلاٹ پر بنیاد استوار کرنا اور اسے خوب رنگ و روغن سے آراستہ کرنے کا فن انہیں بخوبی آتا ہے۔ ان کے ہاں مکالمہ بھی پایا جاتا ہے جو ناول کی بنیادی خوبی ہے۔ کردار کو نکھار کر بنا سنوار کر پیش کرنے کی خوبی بھی ان کے ہاں وافر پائی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے آج کی نسل نے پڑھنا چھوڑ رکھا ہے۔ اسی لیے ان کی تحریر اپنا تاثر قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ تحریر کا حسن اور رنگ اسی وقت نکھرتا ہے جب اپ مطالعے کے رسیا ہوں۔
بغیر پڑھنے کے جو تحریر لکھی جائے گی۔ وہ پڑھنے کے بھی لائق نہیں ہوگی۔
کسی مفکر کا قول ہے۔ "پہلے سنو پھر بولو" یعنی بغیر سنے بولا بھی نہیں جاسکتا تو بغیر پڑھے لکھا کیونکر جا سکتا ہے۔
ثمینہ بی بی نے پڑھنا ترک نہیں کیا اس بات کی شہادت ان کی تحریر بخوبی دیتی ہے۔ یہ جتنا پڑھیں گی اتنا ہی ان کی تحریر میں نکھار آئے گا اور تادیر یاد رکھی جائے گی۔
اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ۔
قیوم مرزا 17.11.2022
ثمینہ سید نمبر
کتاب۔۔ کہانی سفر میں ہے
افسانہ نگار:ثمینہ سید
تبصرہ : عبدالقیوم مرزا
ثمینہ سید کے افسانے پڑھے۔ خوشگوار حیرت ہوئی۔ محسوس ہوتا ہے کہ موصوفہ نے اردو کلاسیک کا بنظر غائر مطالعہ کیا ہے۔ بلکہ اسے پوری طرح ہضم بھی کیا ہے۔ ان کی تحریر عام تحریر نہیں لگتی۔ انہوں نے ادب کا روایتی رنگ اپنانے کی کوشش کی ہے۔ لفظوں کو بڑی خوبصورتی سے برتا ہے۔ اس کے ساتھ پلاٹ کا بھی خوب خیال رکھا گیا ہے۔ ان کا ہر افسانہ اپنی جگہ ایک بھرپور تاثر لیے ہوئے ہے۔ اور قاری اس تاثر سے پہلوتہی نہیں کرپاتا۔ ثمینہ کے افسانوں کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ اگر یہ ناول لکھنا چاہیں تو آسانی سے لکھ سکتی ہیں کیونکہ پلاٹ پر بنیاد استوار کرنا اور اسے خوب رنگ و روغن سے آراستہ کرنے کا فن انہیں بخوبی آتا ہے۔ ان کے ہاں مکالمہ بھی پایا جاتا ہے جو ناول کی بنیادی خوبی ہے۔ کردار کو نکھار کر بنا سنوار کر پیش کرنے کی خوبی بھی ان کے ہاں وافر پائی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے آج کی نسل نے پڑھنا چھوڑ رکھا ہے۔ اسی لیے ان کی تحریر اپنا تاثر قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ تحریر کا حسن اور رنگ اسی وقت نکھرتا ہے جب اپ مطالعے کے رسیا ہوں۔
بغیر پڑھنے کے جو تحریر لکھی جائے گی۔ وہ پڑھنے کے بھی لائق نہیں ہوگی۔
کسی مفکر کا قول ہے۔ "پہلے سنو پھر بولو" یعنی بغیر سنے بولا بھی نہیں جاسکتا تو بغیر پڑھے لکھا کیونکر جا سکتا ہے۔
ثمینہ بی بی نے پڑھنا ترک نہیں کیا اس بات کی شہادت ان کی تحریر بخوبی دیتی ہے۔ یہ جتنا پڑھیں گی اتنا ہی ان کی تحریر میں نکھار آئے گا اور تادیر یاد رکھی جائے گی۔
اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ۔
قیوم مرزا 17.11.2022

