ثمینہ سید کی چند غیر مطبوعہ غزلیں

ثمینہ سید کی چند غیر مطبوعہ غزلیں

May 4, 2026

دیدبان ثمینہ سید نمبر


ثمینہ سید کی چند غیر مطبوعہ غزلیں

(نوٹ:-ثمینہ سید نے چند ماہ قبل اپنی کچھ غیر مطبوعہ غزلیں اپنے ایک دوست کو خود بھیجی تھیں۔۔۔۔۔ اس کے بعد وہ سخت بیمار ہو گئیں۔۔۔ اس خصوصی شمارے کے لیے دیدبان کو یہ غزلیں انہوں نے ہی عنایت کی ہیں،ممکن ہے اب تک یہ کہیں شائع ہو چکی ہوں یا نہ ہو سکی ہوں ،بہرجال اب یہ امانت دیدبان کے قاری کے سپرد ہے ۔)


باہر ہے چپ۔ اندر لیکن رقص بپا ہے۔۔۔

اک حیرت موجود ہے مجھ میں ۔جانے کیا ہے

لوگوں کی تعریفوں میں ہے طنز کا عنصر

سوچ رہی ہوں ایسا آخر مجھ میں کیا ہے

اس سے چار ہوئی جب آنکھیں ایسا لگا تھا

میری آنکھوں سے وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے۔

تنہائی کا کتنا ساتھ نبھاتا آخر

موبائل کا چارج بھی اب دم توڑ رہا ہے

باقی چہرے ذہن میں اب محفوظ کہاں ہیں؟

جس کو یاد رکھا وہ مجھ کو بھول چکا ہے

آخر کتنا صبر کرے بیمار سی عورت

یعنی ایسا جینا خود ہی ایک سزا ہے

سخن جزیرے کی جانب ہے دل کی کشتی

نا مانوس ثمینہ لفظوں کی یہ صدا ہے

،،،،،،،،،،،

اُف ! دھڑکتا دل لیے بے بس سی اک تصویر تھی

چاہتی تھی رقص کرنا، پاؤں میں زنجیر تھی

زندگی اب کہ کھنڈر صورت ہے تو کچھ غم نہیں

جڑ کے رہنا تھا زمیں سے ایسی ہی تعمیر تھی

تھا یقیں مجھ کو مٹا سکتا کوئی کیسے بھلا

میں دلوں کے سادہ کاغذ پر لکھی تحریر تھی

ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا پڑھ کر جنہیں

جانے کیسی میرے لفظوں میں بھلا تاثیر تھی

ٹمٹمانے لگ گئے آنکھوں میں ساون کے چراغ

میز پر میری طرح تنہا کوئی تصویر تھی

آتے آتے صبر کرنا آگیا شاید مجھے

اس لیے صابر ہوں شاید یہ مری تقدیر تھی

فخر کیوں نہ ہو ثمینہ اپنی اُردو پر مجھے

یہ زباں غالب کی با ندی تھی کنيزِ میر تھی

ثمینہ سید ۔ لاہور

،،،،،،،،

نیند آنکھوں سے نہ بے وجہ چراتے جاتے

کم سے کم سبز کوئی باغ دکھاتے جاتے

یہ الگ ہے کہ کوئی نام نہیں دے سکتی

تُجھ سے بے نام تعلق تو ہے آتے جاتے

اب ترے شہر میں آئے ہیں تو سوچا ہے کہ پھر

اک نیا دھوکہ ترے نام سے کھاتے جاتے

میری پتھرائی ہوئی آنکھیں ہی نمناک ہوئیں

اس نے مڑ کر مجھے دیکھا نہیں جاتے جاتے

لوگ آتے ہیں عیادت کو ثمینہ سید

کاش بستر سے کبھی مجھ کو اٹھاتے جاتے

،،،،،,,

پیاس کو میری نظرآتا ہے،دریا ہوگا

عین ممکن ہے سراب آسا وہ صحرا ہوگا

غور کیجے گا ذرا دعوے پہ پھر از سر ـ نو

آپ نے آگے کا سوچا بھی ہے ۔کیا کیا ہوگا

ذکر کرتے رہے کوفہ کا مسلسل ۔لیکن

تم نے سوچا ہی نہیں کہ کوئی پیاسا ہوگا

راہِ حق پر بھی انا داری سے ٹھوکر کھائے

جانتے بوجھتے وہ آنکھ کا اندھا ہوگا

چیخ کر اپنی ہر اک بات کو ثابت کرنا

کیا کہوں ۔آپ سمجھ لیں کہ وہ کیسا ہوگا

خوش گمانی کا مرض نقص بتاتا ہی نہیں

آئینہ ہوگا۔ فقط آپ کا چہرہ ہوگا

آج پھر روٹھ کے نکلا ہے ثمینہ سید

ہائے وہ شخص بھری بزم میں تنہا ہوگا

ثمینہ سید۔لاہور

اور کچھ بھی تو نہیں اس کے سوا چاہتی ہوں

ایک اُمید کا جگنو یا دیا چاہتی ہوں

تُو نے وعدوں کے بھروسے کا بھرم توڑ دیا

اب کہاں تُجھ سے کوئی عہدِ وفا چاہتی ہوں؟

خود کو ہم چاہ کے بھی روکے ہوئے رہتے ہیں

وہ ہے خود دار تو میں اپنی انا چاہتی ہوں

میرے ہم عصر دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں

مر کے زندہ رہوں میں ایسی فنا چاہتی ہوں

ہر کسی شئے کو ہے اک دن یہاں مٹی ہونا

اپنی تحریر میں رہ کر میں بقا چاہتی ہوں

اب ہتھیلی پہ کوئی جچتا نہیں نقش و نگار

اب تو خود میں بھی نہیں رنگِ حنا چاہتی ہوں

سوچتی رہتی ہُوں کیا جرم ہوا ہے مجھ سے

قید ـ تنہائی میں ہوں اور سزا چاہتی ہوں

ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا

اب ثمینہ میں فقط سب کی دعا چاہتی ہوں

ثمینہ سید۔لاہور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عجیب دنیا ہے دے رہی ہے طرح طرح کی مثال کیسے

یہ مجھ میں دکھ کو

چھپا ئے رکھنے کا آ گیا ہے کمال کیسے

میں جی رہی ہوں یا مر چکی ہوں۔ یہ دیکھنے آج آپ آئے

حضور اتنے دنوں کے بعد آیا آپ کو یہ خیال کیسے

غزل تو ہلکا سا اک تعارف ہے۔ کھل کے کس کس کو میں بتا تی

مجھے پتہ ہے صعوبتوں میں گزارے ہیں ماہ و سال کیسے

ذرا سا پاؤں الگ کیے کیا زمین سے یک بیک انا نے

عروج کی آخری کڑی نے ہی پوچھا آیا زوال کیسے

بہت ہی معصوم اور سادہ سوالوں کا وہ جواب دیتے

مگر انہیں طیش آ گیا کہ۔ہوئی ہے میری مجال کیسے

کسے بتاؤ ں میں اپنی حالت۔اک آئینہ ہے سو وہ بھی گونگا

یہ چہرہ اترا ہوا ہے کیوں کر۔ہوئی ہیں یہ آنکھیں لال کیسے

مجھے سنبھالا ہے میری تحریر نے ہی بڑھ کر ثمینہ سید

یہ میرے لہجے کی تازگی ہے۔میں ہونے لگتی نڈھال کیسے

ثمینہ سید۔ لاہور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم اپنے عہد کے ہر موڑ پر سوالی ہیں

"ہنوز قہقہے اپنے خوشی سے خالی ہیں"

رمق نہیں ہے کوئی وضعداری کی ان میں

اگرچہ شجرہ دکھا کر کئی حلالی ہیں

ہمیں ثمر سے نہ چھاؤں سے ہے غرض کوئی

ہمارا حصہ نہیں ہم تو صرف مالی ہیں

غرض نہیں کہ سمجھتی ہے کیا ہمیں دنیا

بہت سے لوگ ہمارے لیے مثالی ہیں

یہ علم ہے جو سدا انکسار بخشتا ہے

بھرے ہوؤں کو بھی لگتا ہے اب بھی خالی ہیں

ہنر کے دم سے ہی پہچانتی ہے یہ دنیا

ذرا سے موڈی ہیں اور تھوڑے لا ابالی ہیں

ہماری نرمی ۶ گفتار پر نہ جائے کوئی

ثمینہ اصل جبلت پہ ہم جلالی ہیں

دن بھی تاریک ہوا شب کی سحر آتی نہیں

اپنی آنکھوں سے میں خود کو بھی نظر آتی نہیں

ذہن پر چھا یا ہے یوں خانہ بدوشی کا غبار

پھرتی رہتی ہوں کہیں لوٹ کے ۔گھر آتی نہیں

ڈاکیہ آخری خط لے کے چلا آئے کبھی

ہائے اس شخص کی جانب سے خبر آتی نہیں

لکھنا چاہوں بھی تو الفاظ مرے ساتھ نہیں

اب کوئی فکر بھی پابندِ ہنر آتی نہیں

خود میں جکڑی ہوں میں اس طرح ثمینہ سید

چلنا چاہوں تو کوئی راہ گزر آتی نہیں

ثمینہ سید ۔لاہور

صرف موہوم تصوّر کا اشارہ ہے مجھے

اب تو آواز کی لاٹھی کا سہارا ہے مجھے

چاہتی میں تھی بہت اپنی طرح کا جینا

زندگی تُو نے کئی طرح گزارا ہے مجھے

یاد اس کی ہے ہر اک لمحہ اُسی کا ہے خیال

بس میسّر اُسی چہرے کا نظارہ ہے مجھے

عمر اب جا کے سنبھلنے کی ہوئی تھی قابل

حادثوں نے بھی طمانچہ ابھی مارا ہے مجھے

مسکرانے کی بھی توفیق نہیں ہے حاصل

خود میں گُم کیسے رہوں کب یہ گوارا ہے مجھے

ڈھونڈتی پھرتی ہوں احساسِ بدن کو اپنے

وقت نے کیسے اندھیروں میں اتارا ہے مجھے

غرق ہونے کو تھی پھر آج ثمینہ سید

غم نے پھر آج غزل بن کے اُبھارا ہے مجھے

ثمینہ سید۔لاہور


دیدبان ثمینہ سید نمبر


ثمینہ سید کی چند غیر مطبوعہ غزلیں

(نوٹ:-ثمینہ سید نے چند ماہ قبل اپنی کچھ غیر مطبوعہ غزلیں اپنے ایک دوست کو خود بھیجی تھیں۔۔۔۔۔ اس کے بعد وہ سخت بیمار ہو گئیں۔۔۔ اس خصوصی شمارے کے لیے دیدبان کو یہ غزلیں انہوں نے ہی عنایت کی ہیں،ممکن ہے اب تک یہ کہیں شائع ہو چکی ہوں یا نہ ہو سکی ہوں ،بہرجال اب یہ امانت دیدبان کے قاری کے سپرد ہے ۔)


باہر ہے چپ۔ اندر لیکن رقص بپا ہے۔۔۔

اک حیرت موجود ہے مجھ میں ۔جانے کیا ہے

لوگوں کی تعریفوں میں ہے طنز کا عنصر

سوچ رہی ہوں ایسا آخر مجھ میں کیا ہے

اس سے چار ہوئی جب آنکھیں ایسا لگا تھا

میری آنکھوں سے وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے۔

تنہائی کا کتنا ساتھ نبھاتا آخر

موبائل کا چارج بھی اب دم توڑ رہا ہے

باقی چہرے ذہن میں اب محفوظ کہاں ہیں؟

جس کو یاد رکھا وہ مجھ کو بھول چکا ہے

آخر کتنا صبر کرے بیمار سی عورت

یعنی ایسا جینا خود ہی ایک سزا ہے

سخن جزیرے کی جانب ہے دل کی کشتی

نا مانوس ثمینہ لفظوں کی یہ صدا ہے

،،،،،،،،،،،

اُف ! دھڑکتا دل لیے بے بس سی اک تصویر تھی

چاہتی تھی رقص کرنا، پاؤں میں زنجیر تھی

زندگی اب کہ کھنڈر صورت ہے تو کچھ غم نہیں

جڑ کے رہنا تھا زمیں سے ایسی ہی تعمیر تھی

تھا یقیں مجھ کو مٹا سکتا کوئی کیسے بھلا

میں دلوں کے سادہ کاغذ پر لکھی تحریر تھی

ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا پڑھ کر جنہیں

جانے کیسی میرے لفظوں میں بھلا تاثیر تھی

ٹمٹمانے لگ گئے آنکھوں میں ساون کے چراغ

میز پر میری طرح تنہا کوئی تصویر تھی

آتے آتے صبر کرنا آگیا شاید مجھے

اس لیے صابر ہوں شاید یہ مری تقدیر تھی

فخر کیوں نہ ہو ثمینہ اپنی اُردو پر مجھے

یہ زباں غالب کی با ندی تھی کنيزِ میر تھی

ثمینہ سید ۔ لاہور

،،،،،،،،

نیند آنکھوں سے نہ بے وجہ چراتے جاتے

کم سے کم سبز کوئی باغ دکھاتے جاتے

یہ الگ ہے کہ کوئی نام نہیں دے سکتی

تُجھ سے بے نام تعلق تو ہے آتے جاتے

اب ترے شہر میں آئے ہیں تو سوچا ہے کہ پھر

اک نیا دھوکہ ترے نام سے کھاتے جاتے

میری پتھرائی ہوئی آنکھیں ہی نمناک ہوئیں

اس نے مڑ کر مجھے دیکھا نہیں جاتے جاتے

لوگ آتے ہیں عیادت کو ثمینہ سید

کاش بستر سے کبھی مجھ کو اٹھاتے جاتے

،،،،،,,

پیاس کو میری نظرآتا ہے،دریا ہوگا

عین ممکن ہے سراب آسا وہ صحرا ہوگا

غور کیجے گا ذرا دعوے پہ پھر از سر ـ نو

آپ نے آگے کا سوچا بھی ہے ۔کیا کیا ہوگا

ذکر کرتے رہے کوفہ کا مسلسل ۔لیکن

تم نے سوچا ہی نہیں کہ کوئی پیاسا ہوگا

راہِ حق پر بھی انا داری سے ٹھوکر کھائے

جانتے بوجھتے وہ آنکھ کا اندھا ہوگا

چیخ کر اپنی ہر اک بات کو ثابت کرنا

کیا کہوں ۔آپ سمجھ لیں کہ وہ کیسا ہوگا

خوش گمانی کا مرض نقص بتاتا ہی نہیں

آئینہ ہوگا۔ فقط آپ کا چہرہ ہوگا

آج پھر روٹھ کے نکلا ہے ثمینہ سید

ہائے وہ شخص بھری بزم میں تنہا ہوگا

ثمینہ سید۔لاہور

اور کچھ بھی تو نہیں اس کے سوا چاہتی ہوں

ایک اُمید کا جگنو یا دیا چاہتی ہوں

تُو نے وعدوں کے بھروسے کا بھرم توڑ دیا

اب کہاں تُجھ سے کوئی عہدِ وفا چاہتی ہوں؟

خود کو ہم چاہ کے بھی روکے ہوئے رہتے ہیں

وہ ہے خود دار تو میں اپنی انا چاہتی ہوں

میرے ہم عصر دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں

مر کے زندہ رہوں میں ایسی فنا چاہتی ہوں

ہر کسی شئے کو ہے اک دن یہاں مٹی ہونا

اپنی تحریر میں رہ کر میں بقا چاہتی ہوں

اب ہتھیلی پہ کوئی جچتا نہیں نقش و نگار

اب تو خود میں بھی نہیں رنگِ حنا چاہتی ہوں

سوچتی رہتی ہُوں کیا جرم ہوا ہے مجھ سے

قید ـ تنہائی میں ہوں اور سزا چاہتی ہوں

ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا

اب ثمینہ میں فقط سب کی دعا چاہتی ہوں

ثمینہ سید۔لاہور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عجیب دنیا ہے دے رہی ہے طرح طرح کی مثال کیسے

یہ مجھ میں دکھ کو

چھپا ئے رکھنے کا آ گیا ہے کمال کیسے

میں جی رہی ہوں یا مر چکی ہوں۔ یہ دیکھنے آج آپ آئے

حضور اتنے دنوں کے بعد آیا آپ کو یہ خیال کیسے

غزل تو ہلکا سا اک تعارف ہے۔ کھل کے کس کس کو میں بتا تی

مجھے پتہ ہے صعوبتوں میں گزارے ہیں ماہ و سال کیسے

ذرا سا پاؤں الگ کیے کیا زمین سے یک بیک انا نے

عروج کی آخری کڑی نے ہی پوچھا آیا زوال کیسے

بہت ہی معصوم اور سادہ سوالوں کا وہ جواب دیتے

مگر انہیں طیش آ گیا کہ۔ہوئی ہے میری مجال کیسے

کسے بتاؤ ں میں اپنی حالت۔اک آئینہ ہے سو وہ بھی گونگا

یہ چہرہ اترا ہوا ہے کیوں کر۔ہوئی ہیں یہ آنکھیں لال کیسے

مجھے سنبھالا ہے میری تحریر نے ہی بڑھ کر ثمینہ سید

یہ میرے لہجے کی تازگی ہے۔میں ہونے لگتی نڈھال کیسے

ثمینہ سید۔ لاہور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم اپنے عہد کے ہر موڑ پر سوالی ہیں

"ہنوز قہقہے اپنے خوشی سے خالی ہیں"

رمق نہیں ہے کوئی وضعداری کی ان میں

اگرچہ شجرہ دکھا کر کئی حلالی ہیں

ہمیں ثمر سے نہ چھاؤں سے ہے غرض کوئی

ہمارا حصہ نہیں ہم تو صرف مالی ہیں

غرض نہیں کہ سمجھتی ہے کیا ہمیں دنیا

بہت سے لوگ ہمارے لیے مثالی ہیں

یہ علم ہے جو سدا انکسار بخشتا ہے

بھرے ہوؤں کو بھی لگتا ہے اب بھی خالی ہیں

ہنر کے دم سے ہی پہچانتی ہے یہ دنیا

ذرا سے موڈی ہیں اور تھوڑے لا ابالی ہیں

ہماری نرمی ۶ گفتار پر نہ جائے کوئی

ثمینہ اصل جبلت پہ ہم جلالی ہیں

دن بھی تاریک ہوا شب کی سحر آتی نہیں

اپنی آنکھوں سے میں خود کو بھی نظر آتی نہیں

ذہن پر چھا یا ہے یوں خانہ بدوشی کا غبار

پھرتی رہتی ہوں کہیں لوٹ کے ۔گھر آتی نہیں

ڈاکیہ آخری خط لے کے چلا آئے کبھی

ہائے اس شخص کی جانب سے خبر آتی نہیں

لکھنا چاہوں بھی تو الفاظ مرے ساتھ نہیں

اب کوئی فکر بھی پابندِ ہنر آتی نہیں

خود میں جکڑی ہوں میں اس طرح ثمینہ سید

چلنا چاہوں تو کوئی راہ گزر آتی نہیں

ثمینہ سید ۔لاہور

صرف موہوم تصوّر کا اشارہ ہے مجھے

اب تو آواز کی لاٹھی کا سہارا ہے مجھے

چاہتی میں تھی بہت اپنی طرح کا جینا

زندگی تُو نے کئی طرح گزارا ہے مجھے

یاد اس کی ہے ہر اک لمحہ اُسی کا ہے خیال

بس میسّر اُسی چہرے کا نظارہ ہے مجھے

عمر اب جا کے سنبھلنے کی ہوئی تھی قابل

حادثوں نے بھی طمانچہ ابھی مارا ہے مجھے

مسکرانے کی بھی توفیق نہیں ہے حاصل

خود میں گُم کیسے رہوں کب یہ گوارا ہے مجھے

ڈھونڈتی پھرتی ہوں احساسِ بدن کو اپنے

وقت نے کیسے اندھیروں میں اتارا ہے مجھے

غرق ہونے کو تھی پھر آج ثمینہ سید

غم نے پھر آج غزل بن کے اُبھارا ہے مجھے

ثمینہ سید۔لاہور


خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024