خلعت اقتدار قرمزی آنسوؤں سے رنگیں
خلعت اقتدار قرمزی آنسوؤں سے رنگیں
Feb 18, 2025


خلعت اقتدار قرمزی آنسوؤں سے رنگیں
محل کے پہلو میں آہوں کی تدفیں
کیا عجب
اب کی بہار
اس زمیں سے کونپلیں جو کھلیں
ہر پتی کی دھار ہو تلوار سی
ہر پودا مثل سنگ
ہر سمت ہوا کی لپٹ میں تپش
ہر بویا ہوا ستم نمو پا جاۓ بد دعا کی طرح
خلقت چہرے بدل جاۓ ادھورے سچ کی اوڑ
یہ مٹی سیم اٹھاۓ فصل گل کی طرح
پست ارادوں کی بھینٹ چڑھے وعدوں کی طرح
زرد دن اترا ہے اس بار
شکست آرزو کی طرح
صدف حماد
خلعت اقتدار قرمزی آنسوؤں سے رنگیں
محل کے پہلو میں آہوں کی تدفیں
کیا عجب
اب کی بہار
اس زمیں سے کونپلیں جو کھلیں
ہر پتی کی دھار ہو تلوار سی
ہر پودا مثل سنگ
ہر سمت ہوا کی لپٹ میں تپش
ہر بویا ہوا ستم نمو پا جاۓ بد دعا کی طرح
خلقت چہرے بدل جاۓ ادھورے سچ کی اوڑ
یہ مٹی سیم اٹھاۓ فصل گل کی طرح
پست ارادوں کی بھینٹ چڑھے وعدوں کی طرح
زرد دن اترا ہے اس بار
شکست آرزو کی طرح
صدف حماد