پیغام آفاقی کے ناول مکان کی نیرا: ایک نسائی کردار

پیغام آفاقی کے ناول مکان کی نیرا: ایک نسائی کردار

Mar 9, 2025

مصنف

نسترن احسن فتیحی

پیغام آفاقی کے ناول مکان کی نیرا: ایک نسائی کردار

نسترن احسن فتیحی

ادب میں نسائیت کی اصطلاح گزشتہ صدی کے دوران موثر، متحرک، اور متنوع جہت کے طور پر سامنے آئی ہے۔عورت کے جداگانہ وجود اوراس کی صنفی صداقت کو معاشرتی و معاشی اکائی کے طور پر سمجھنے کی جدو جہد پوری کی پوری زمینی و مادی حقائق پر مبنی ہے۔ تحریکِ حقوقِ نسواں یا نسائی تحریک در اصل عورت کی حیثیت و اہمیت، مساوی حقوق،آزادیئ رائے کے حصول اور اسے مکمل انسان تسلیم کرنے کے نقطہئ نظر کا احاطہ کرتی ہے۔احترامِ آدمیت کے مروج قوانین کے تحت ذہنی و فکری آزادی، معاشرتی انصاف، وقعتِ ذات اور خود مختار و مکمل زندگی کی خواہش عورت اور مرد دونوں کو ودیعت کی گئی ہے۔لیکن گزشتہ ادوار کے مطالعے و مشاہدے اور تاریخی حوالوں سے یہ بات بخوبی عیاں ہے کہ ہر عہد میں عورت پر استحصالی قوتیں مذہبی،ریاستی اور خاندانی سطح پر حاوی رہیں، اور اس کے صنفی و ذاتی تشخص اور فردی آزادی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی رہیں۔ لہذا ضرورت تھی کہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ انقلاب مجرد صورت میں کہیں اوپر سے نازل نہیں ہوتا بلکہ عملی زندگی کی کشمکش سے جنم لیتاہے اور جیتی جاگتی انسانی صورتحال میں نمو پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب برطانوی و فرانسیسی انقلاب کے زیرِ اثر سرمایہ دارانہ تسلط کے غیر جمہوری و غیر اخلاقی معاشرے نے عورت کی ذات، حقوق اور نسائی حیثیت پر کاری ضرب لگائی تو صدیوں سے جاری امتیازی و استحصالی طرزِ عمل نے مغربی عورت کی دل بستگی کوآزادی اور مساوات کے نعروں میں قید کردیا۔ ورجینیا وولف (Virginia Woolf)،بیٹی فریڈین (Betty Friedan)، ناومی وولف (Naomi Wolf) اور سیمون ڈی بووا (Simone de Beauvoire)کی انفعالی و انقلابی تحریروں نے عورت کی اہمیت، سماجی و معاشرتی مقام اور فردی آزادی کے ضابطے متعین کر کے تانیثی فکر و ادب پر مثبت و دور رس اثرات مرتب کئے۔

نسائی تحریک کی جدوجہد میں مارکس کے فلسفہئ اشتراکیت نے بھی عورت کی صنفی حیثیت اور سماجی و معاشی تشکیل میں اس کی حصہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے اٹھارویں صدی کے انقلابِ فرانس اور اس کے بعد کے حالات میں صنفی آزادی اور قانونی و آئینی حقوق کی نشاندہی کی ہے۔ نسائی تحریک کے خود انفعالی و معاشرتی انصاف کے نقطہ ئ نظر نے عورتوں پر رجعت پسندانہ اور غیر منصفانہ طرزِ عمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نسائی ادب کی بنیاد رکھی۔ اسی عہد میں ادبی منظر نامے پر ابھرنے والی ورجینیا وولف (Virginia Woolf) بیٹی فریڈین (Betty Friedan) ناومی وولف (Naomi Wolf) اور سیمون ڈی بووا (Simone de Beauvoire)کی شعری اور نثری تخلیقات نے سرمایہ دارانہ نظام میں عورت کی شخصی تنزلی، مصائب اور صنفی تفریق کو پْر اثر اور احتجاجی لب و لہجے میں بیان کیا۔

اٹھارویں صدی کے نوآبادیاتی تسلط نے برِصغیر میں جہاں محکومیت اور پسپائی کے احساس کو اجاگر کیا وہیں رسم و رواج میں جکڑی بے بس و محکوم ہندوستانی عورت میں مغربی رحجانات کے تحت نسائی شعور کی آبیاری کی۔اردو ہندی و بنگلہ ادب کی بیشتر تخلیق کاروں کا تعلق روایت پسند جاگیر دار گھرانوں سے تھا۔ جہاں عورت کی ذات، جذبات اور حقوق پر قدامت پسندی اور مذہبی اصطلاحات کا پردہ ڈال کر عمر بھر کے لئے مقید کر دیا جاتا تھا۔ ایسی صورت میں نسائیت کا تصور بے معنی معلو ہوتا ہے۔

پیش نظر مضمون میں پیغام آفاقی کے ناول مکان کے نسائی کردار کو بخوبی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس ضمن میں مکان کے نسائی کردار اہم محسوس ہوتے ہیں سب سے پہلے ”مکان“ کی کردار نگاری ہمارے سامنے آتی ہے۔ناول بہت سے کرداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کرداروں میں ایسے کردار بھی ہوتے ہیں، جو شروع سے لے کر آخر تک قدم قدم پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے نہ صرف ایک دوسرے کے قدموں، بلکہ اپنے قدموں کی آہٹیں بھی سنتے چلے جاتے ہیں۔اردو ناول کے نسائی کردار اپنی جگہ تنہا اور بے یار و مدگار دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جو پل بھر کے لئے رونما ہوتے ہیں او رپھر ناول کی دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں۔لیکن کچھ دائمی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو ناول کے نسائی کردارعورت کے جداگانہ وجود صنفی صداقت اور معاشرتی و معاشی اکائی کو سمجھنے کی جدو جہد، اور زمینی و مادی حقائق پرحقوقِ نسواں یا نسائی تحریک عورت کی حیثیت و اہمیت، مساوی حقوق آزادی ء رائے کے حصول اور اسے مکمل انسان تسلیم کرنے کے نقطہ نظر کا احاطہ کرتے ہیں۔احترامِ آدمیت کے مروج قوانین کے تحت ذہنی و فکری آزادی، معاشرتی انصاف، وقعتِ ذات اور خود مختا رو مکمل زندگی کی خواہش عورت اور مرد دونوں کو ودیعت کی گئی ہے۔لیکن گزشتہ ادوار کے مطالعے و مشاہدے اور تاریخی حوالوں سے یہ بات بخوبی عیاں ہے کہ ہر عہد میں عورت پر استحصالی قوتیں مذہبی،ریاستی اور خاندانی سطح پر حاوی رہیں، اور اس کے صنفی و ذاتی تشخص اور فردی آزادی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی رہیں ہیں۔ ان نسائی کرداروں سے مذہبی،ریاستی اور خاندانی سطح پر استحصال کی بھر پور تصویر کشی ہوتی ہے۔

پیغام آفاقی کاناول ”مکان“ 1989ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس ناول میں پیغام آفاقی نے دلی شہر میں ایک مکان کی حفاظت میں پریشان حال میڈیکل سائنس کی طالبہ نیرا کو موضوع بنایا ہے۔ مکان کا مرکزی کردار ’نیرا ایک لڑکی نہیں بلکہ ہندوستان کی وہ اقلیت ہے جو اکثریت سے بر سر پیکار ہے - لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ نیرا کا مرکزی کردار اقلیت کے اکثر یت سے بر سر پیکا ر ہو نے کی دا ستا ن نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر اس بظا ہر کمزور لیکن کسی چٹان سے زیادہ مضبوط انسان کی دا ستا ن ہے جو طا قت سے بر سر پیکا ر ہے۔ اگر مکان کے مرکزی کردار نیرا کو دنیا کے نقشے پر کھینچی ہوئی لکیروں کو مٹا کے دیکھا جا ئے تو نیراکا کردار ایک بہت بڑے کینوس پربنا ئی ہو ئی تصویر ہے۔ پیغام آ فا قی کے نا ول کا مر کزی کر دار نیرا اپنے سچ کو منوا نے کی ضد اور اس سے جڑی بے مثال ذہنی اور جسمانی مشقت، تھکن، ٹو ٹنے اور ٹو ٹ ٹو ٹ کے جڑنے کی دا ستان پیش کرتا ہے۔ اب اس طریق اظہار کی وضاحت کے لیے ایک مختصر سی عبارت ملاحظہ کیجئے:

”اس نے غور کیا!

یہ مکان تمہاری ملکیت ہے۔ تم اس مکان کی مالک ہو۔ یہ دو طرفہ رشتہ ہے کہ مکان تمہاری ملکیت ہے اور تم مکان کی مالک ہو اور اس طرح مکان تمہارے ساتھ مقفل ہے اور تم مکان کے ساتھ مقفل ہو۔ لیکن مکان کے ساتھ تمہارا رشتہ ایک الگ ہی چیز ہے اور یہ تمہارے اور مکان کے علاوہ تیسری چیز ہے۔

اسے محسوس ہوا کہ وہ اس وقت بالکل فلسفی ہو گئی تھی۔“

نیراکی بے مثال جنگ اور اس کی جرائت نے ناول میں ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے ’مکا ن”کی نیرا ایک ایسامرکزی کردارہے جو سیلا ب حیات کے منجدھار سے الجھتی ہی نہیں بلکہ طو فا نی مو جو ں پرراس ڈال کے انکا رخ مو ڑ دیتی ہے۔ نیرا انسانی مسا ئل اور ان سے نبرد آزما ئی کا وہ آئین ہے جو انسان کو زندگی کرنے کا ڈھنگ دیتا ہے۔ نیرا ایک ایسی مضطرب روح کا نام ہے جو وقت کی، بین کر تی، جگا تی آ وازوں پر خود بھی لبیک کہتی ہے اور صدا دیتی اور جھنجھوڑتی ہے۔ وہ اپنے قوت ارادی سے واقف ہے۔اور اپنے تخلیقی قوت کو متشکل کرنا چاہتی ہے جس کا ادراک ہوتے ہی اس کے لیے جسم بے معنی ہو جاتا ہے اوراس قوّت کے زور پر اپنے اِرد گرد کے گھیروں کو توڑ تی اور رکاوٹوں کو روندتی چلی جاتی ہے اونچے اونچے پہاڑ گرنے اور بکھرنے لگتے ہیں۔ خلیجیں پٹنے لگتی ہیں۔ نشیب و فراز ہموار ہونے لگتے ہیں اور نیرا پر پیچ راستوں اونچے اونچے پہاڑوں، گہری گہری گھاٹیوں، خوفناک موڑوں اور ٹیڑھی میڑھی اور تنگ سڑکوں سے ڈرنے کے بجائے ان سے کھیلنے لگتی ہے۔ ان میں اسے مزا آنے لگتا ہے:

”وہ اس ترنگ کی تھر تھری کو اپنے اندر محسوس کرنے لگی۔۔ یہ پہاڑ پر پوری قوت سے چڑھنے کا تھرل تھا۔ اسے لگا جیسے وہ گاڑی کی اس قوت سے خود ہم آہنگ ہو گئی ہو اور اپنی قوت سے پہاڑ کی اونچائی پر رفتار کے ساتھ چڑھ رہی ہو۔..۔..۔ اس کا جی چاہا اْونچائیاں اور زیادہ ہوں تاکہ گاڑی کے استعمال کی وہ مشینی آواز محسوس کرے جو اس کے جسم میں نشے کی کیفیت گھولتی جا رہی تھی۔ اس کا جی چاہا کہ اگر وہ خود گاڑی ہو تو زیادہ سے زیادہ سیدھی اوپر چڑھتی پہاڑی کا انتخاب کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ مزہ آئے۔“

پروفیسر خورشید احمد کا خیال ہے کہ در اصل ”مکان“ ایک Bildungsroman ہے یعنی ایسا ناول جس میں ایک نوخیز کردار یعنی نیرا کی شخصیتی تشکیل کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ تاکہ اس کے اندر سماجی زندگی میں داخل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسے ناول یورپ میں بھی کم ہی لکھے گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ناول کا یہ فارم جرمن ادب کی خاص عطا ہے۔ نیرا اس Bildungsroman ناول کا مرکزی کردارہے کیونکہ وہ درس گاہ حیات میں شخصیت کی تکمیل کے بعد کارزار حیات میں قدم رکھتی ہے۔ وہ جن سخت آزمائشوں سے گزرتی ہے اسے میلو ڈراما میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اوراس کی نشو و نما کی تکمیل کے ساتھ ہی یہ ناول ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ پیغام آفاقی نے Bildungsroman ناول مکان میں صنف قوی کے مقابلے میں نیرا جیسی صنف لطیف کو مرکزی کردار کیوں بنایا ہے اور پھر نیرا کو ڈاکٹری کی تعلیم کیوں دلوائی ہے؟ غالبا اس سوال کا جواب اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ نسائیت کے تصور کو واضح کرنے کے لیے صنف لطیف کو مرکزی کردار بنانا ضروری تھاتا کہ یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ اگر عورت ہوتی تو ٹوٹ جاتی اور ڈاکٹری کی تعلیم اس لیے کہ سماج سے بے لوث رشتہ قائم کرنے کا یہ بہترین وسیلہ ہے۔نا ول کے مر کزی کردار کے لئے ایک لڑکی کا انتخا ب یقینا ً مصنف کا سو چا سمجھا فیصلہ ہے۔ عورت بر سہا برس سے ”کمزور”کے لیبل کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔ چتا پر زندہ جل جا نے والی، قران سے بیاہ دی جا نے والی، تا وان میں دے دی جانے والی۔ نن بنا کے گر جا ؤ ں میں حنو ط کر دی جا نے لا تعداد عورتیں جو ذاتی اور سما جی حقو ق سے طر ح طر ح سے دھتکا ری جا تی رہی ہیں پیغام آ فا قی اس عورت کے تشخص کو پہچا نتے بھی ہیں اور اسکی پہچا ن بہت بھر پور طریقے سے دنیا سے بھی کرا تے ہیں وہ اپنی تا بنا ک فکر کو نیرا کی سو چ میں ڈھا ل کے عورت کے وجود کو اپنی شناخت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

نیرا کا کرداراس بات کی وضاحت پیش کرتا ہے کہ عورت کا کو ئی سر پرست نہیں ہے، کوئی اس کی حفا ظت کرنے والا، اس کے لئے سوچنے والا نہیں ہے۔ اسی لیے مکان میں سب سے مشکل مرحلہ اس کا اختتام ہے یعنی وہ نقطہ جو نیرا کے لیے درس گاہ حیات کا نقط اختتام ہے۔ مکان کی ابتدا نیرا کی جدوجہد حیات کا نقطئ آغاز ہے۔مسلسل بھاگتے رہنے کے دوران نیرا پر انکشاف ہوا کہ:

”یہ سارے بھرو سے صرف اذیت پہنچاتے ہیں۔“

اور اس انکشاف پر جب اس نے سوچنا شروع کیا تو:

”سوچنے کے دوران اس نے محسوس کیا کہ اس کے دماغ کے ریشے ازسر نو مرتب ہو رہے ہیں، جیسے اس سے کوئی ہولے ہولے کہہ رہا تھا، یہاں قدم قدم پر رہزن گھات میں بیٹھے ہیں، یہ بیسویں صدی کی نویں دہائی کی دلّی ہے، یہ وہ شہر ہے جہاں کب رات ہوتی ہے، اور کب دن نکلتا ہے، پتا نہیں چلتا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں ہر انسان اپنی حفاظت کا آپ ہی ذمّہ دار ہے یہاں بھروسوں کی تجارت ہوتی ہے، یہاں معاہدہ بنانے والے ایک ایک لفظ کے ہزاروں روپے لیتے ہیں اور اس شہر میں تم بھروسوں پر چل رہی ہو۔“

اور اسی سوچ کے بیچ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ:

”بچپن سے لے کر چند روز پہلے تک وہ زندگی کو جس روپ میں دیکھ رہی تھی وہ زندگی کا اصل روپ نہیں تھا، زندگی اس روپ میں تو بھیس بدل کر کھڑی تھی۔ وہ زندگی کا جو روپ اب دیکھ رہی ہے، یہ حقیقت ہے ___زندگی کے اس روپ کے ایک ایک خد و خال کو غور سے دیکھنے کے لیے وہ بے چین ہو گئی۔“

اور جب وہ اصل زندگی کے خد و خال کی تلاش میں نکلی تو اس پر کائنات کے اسرار کھلنے لگے اسے صاف دکھائی دینے لگا کہ:

”یہ سب کچھ جو وہ دیکھ رہی ہے، وہ محض تماشا ہے اور زندگی ایک کھیل ہے اور اس کھیل میں جیتنے یا ہارنے کا احساس ہی اس کی روح ہے اور اسی روح کی گہرائی میں اس کی بقا مضمر ہے کہ لہروں کی طرح ڈوبتے اور اتراتے رہنے کا احساس ہی دائمی سے اور اس احساس کی لہریں ہی ہر چیز کی اصل ہیں۔“

زندگی کی مزید باریکیوں کی تلاش کرتے ہوئے ایک

ایک دن اسے نیند آ گئی اور اس نے:

”نیند میں اپنے اندر ایسی کیفیت محسوس کی کہ اسے لگا کہ آج اس کی نیند حسب معمول نہیں تھی۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کے اندر بدلتے موسموں والی بے چینی تھی۔ تم سب مجھے کیا سمجھتے ہو؟ اس نے ایک ایک کوکھا جانے والی نگاہ سے اپنے چاروں طرف کے ماحول کو دیکھا۔ تم سمجھتے ہو کہ میں ایک کمزور لڑکی ہوں، میں عورت ہوں، میں سمندر ہوں کہ جس میں پورا کا پورا پہاڑ غرقاب ہو سکتا ہے لیکن میں جو کچھ اپنے اندر سہتی ہوں اس سے نئی چیزیں جنم لیتی ہیں۔ میں کوکھ ہوں میرے اندر جو عکس پیدا ہوتا ہے وہ محض خیال نہیں ہوتا۔“

اس دن کے بعد نیرا کو یہ محسوس ہونے لگا:

اس کی زندگی کے نقوش اب اور تیزی سے یکے بعد دیگرے بدلنے لگے۔ چند ماہ پہلے اس کے ذہن میں جو آتش فشاں پھوٹا تھا اور جس نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا تھا، اس کی ایک ایک چنگاری سے سورج پیدا ہو رہا تھا۔“

اور اس سورج کے پیدا ہوتے ہی اس پر یہ راز روشن ہو گیا کہ:

”اپنی زندگی کے اس دور میں جب وہ اندھوں کی طرح چل رہی تھی، لوگ اسے اپنے اشاروں پر دوڑاتے تھے اور وہ چوٹ کھاتی تھی تو ٹوٹ ٹوٹ جاتی تھی، لیکن اب یہ چوٹیں اور یہ دوسروں پر بھروسہ کرنا، ایک کھیل، ایک لذتّ آ میز عمل بن گیا تھا۔ اور جیسے جیسے وہ اس آندھی کے ساتھ تیز حرکت میں آ رہی تھی، ویسے ویسے اس کو لگ رہا تھا کہ وہ ایک رقّاصہ کی طرح دوسروں کے لیے سب کچھ کر رہی ہے، وہ ا پنے آپ سے باہر نکل آئی تھی۔ اسے ناچنے، دوڑنے، بھاگنے اور تھکنے میں لذّت مل رہی تھی۔“

گویا اس طرح نیرا کی تخلیقیت اس پر آشکار ہوتی ہے اور وہ دبلی پتلی کمزور سی لڑکی مضبوط اور طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے۔

گویا اس طرح دبلی پتلی کمزور سی نیرا کے نسائی کردار میں تانیثیت کا شعور بیدار ہوتا ہے اور وہ مضبوط اور طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے۔اور جنس کی تخصیص و تشخص کے بر خلاف برابری قائم کرنے کا عمل شروع کرتی ہے۔ یہ کوشش ظلم و استبدادسے آزاد زندگی فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حق تلفیوں اور ان پرہور ہے جبر و استحصال کے خلاف ایک مہم ہے۔اس نسائی جدّو جہد کا ایک مقصدمردانہ پن اور نسائیت کے زوجی تضاد کو ڈی کنسٹرکٹDeconstruct) کرنا ہے تاکہ عورت بھی مرد کی طرح اپنی مرضی کے مطابق زندگی کے تمام فیصلے خودکرسکے پیغام آفاقی نے نیرا کی مدد سے خواتین کی ذہنی تربیت اسی لیے کی ہے تاکہ وہ پدرانہ سماج کے بر خلاف مردوں کی تنگ ذہنیت کو چیلنج کرسکے

....................


پیغام آفاقی کے ناول مکان کی نیرا: ایک نسائی کردار

نسترن احسن فتیحی

ادب میں نسائیت کی اصطلاح گزشتہ صدی کے دوران موثر، متحرک، اور متنوع جہت کے طور پر سامنے آئی ہے۔عورت کے جداگانہ وجود اوراس کی صنفی صداقت کو معاشرتی و معاشی اکائی کے طور پر سمجھنے کی جدو جہد پوری کی پوری زمینی و مادی حقائق پر مبنی ہے۔ تحریکِ حقوقِ نسواں یا نسائی تحریک در اصل عورت کی حیثیت و اہمیت، مساوی حقوق،آزادیئ رائے کے حصول اور اسے مکمل انسان تسلیم کرنے کے نقطہئ نظر کا احاطہ کرتی ہے۔احترامِ آدمیت کے مروج قوانین کے تحت ذہنی و فکری آزادی، معاشرتی انصاف، وقعتِ ذات اور خود مختار و مکمل زندگی کی خواہش عورت اور مرد دونوں کو ودیعت کی گئی ہے۔لیکن گزشتہ ادوار کے مطالعے و مشاہدے اور تاریخی حوالوں سے یہ بات بخوبی عیاں ہے کہ ہر عہد میں عورت پر استحصالی قوتیں مذہبی،ریاستی اور خاندانی سطح پر حاوی رہیں، اور اس کے صنفی و ذاتی تشخص اور فردی آزادی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی رہیں۔ لہذا ضرورت تھی کہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ انقلاب مجرد صورت میں کہیں اوپر سے نازل نہیں ہوتا بلکہ عملی زندگی کی کشمکش سے جنم لیتاہے اور جیتی جاگتی انسانی صورتحال میں نمو پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب برطانوی و فرانسیسی انقلاب کے زیرِ اثر سرمایہ دارانہ تسلط کے غیر جمہوری و غیر اخلاقی معاشرے نے عورت کی ذات، حقوق اور نسائی حیثیت پر کاری ضرب لگائی تو صدیوں سے جاری امتیازی و استحصالی طرزِ عمل نے مغربی عورت کی دل بستگی کوآزادی اور مساوات کے نعروں میں قید کردیا۔ ورجینیا وولف (Virginia Woolf)،بیٹی فریڈین (Betty Friedan)، ناومی وولف (Naomi Wolf) اور سیمون ڈی بووا (Simone de Beauvoire)کی انفعالی و انقلابی تحریروں نے عورت کی اہمیت، سماجی و معاشرتی مقام اور فردی آزادی کے ضابطے متعین کر کے تانیثی فکر و ادب پر مثبت و دور رس اثرات مرتب کئے۔

نسائی تحریک کی جدوجہد میں مارکس کے فلسفہئ اشتراکیت نے بھی عورت کی صنفی حیثیت اور سماجی و معاشی تشکیل میں اس کی حصہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے اٹھارویں صدی کے انقلابِ فرانس اور اس کے بعد کے حالات میں صنفی آزادی اور قانونی و آئینی حقوق کی نشاندہی کی ہے۔ نسائی تحریک کے خود انفعالی و معاشرتی انصاف کے نقطہ ئ نظر نے عورتوں پر رجعت پسندانہ اور غیر منصفانہ طرزِ عمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نسائی ادب کی بنیاد رکھی۔ اسی عہد میں ادبی منظر نامے پر ابھرنے والی ورجینیا وولف (Virginia Woolf) بیٹی فریڈین (Betty Friedan) ناومی وولف (Naomi Wolf) اور سیمون ڈی بووا (Simone de Beauvoire)کی شعری اور نثری تخلیقات نے سرمایہ دارانہ نظام میں عورت کی شخصی تنزلی، مصائب اور صنفی تفریق کو پْر اثر اور احتجاجی لب و لہجے میں بیان کیا۔

اٹھارویں صدی کے نوآبادیاتی تسلط نے برِصغیر میں جہاں محکومیت اور پسپائی کے احساس کو اجاگر کیا وہیں رسم و رواج میں جکڑی بے بس و محکوم ہندوستانی عورت میں مغربی رحجانات کے تحت نسائی شعور کی آبیاری کی۔اردو ہندی و بنگلہ ادب کی بیشتر تخلیق کاروں کا تعلق روایت پسند جاگیر دار گھرانوں سے تھا۔ جہاں عورت کی ذات، جذبات اور حقوق پر قدامت پسندی اور مذہبی اصطلاحات کا پردہ ڈال کر عمر بھر کے لئے مقید کر دیا جاتا تھا۔ ایسی صورت میں نسائیت کا تصور بے معنی معلو ہوتا ہے۔

پیش نظر مضمون میں پیغام آفاقی کے ناول مکان کے نسائی کردار کو بخوبی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس ضمن میں مکان کے نسائی کردار اہم محسوس ہوتے ہیں سب سے پہلے ”مکان“ کی کردار نگاری ہمارے سامنے آتی ہے۔ناول بہت سے کرداروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کرداروں میں ایسے کردار بھی ہوتے ہیں، جو شروع سے لے کر آخر تک قدم قدم پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے نہ صرف ایک دوسرے کے قدموں، بلکہ اپنے قدموں کی آہٹیں بھی سنتے چلے جاتے ہیں۔اردو ناول کے نسائی کردار اپنی جگہ تنہا اور بے یار و مدگار دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے کردار بھی ہوتے ہیں جو پل بھر کے لئے رونما ہوتے ہیں او رپھر ناول کی دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں۔لیکن کچھ دائمی حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو ناول کے نسائی کردارعورت کے جداگانہ وجود صنفی صداقت اور معاشرتی و معاشی اکائی کو سمجھنے کی جدو جہد، اور زمینی و مادی حقائق پرحقوقِ نسواں یا نسائی تحریک عورت کی حیثیت و اہمیت، مساوی حقوق آزادی ء رائے کے حصول اور اسے مکمل انسان تسلیم کرنے کے نقطہ نظر کا احاطہ کرتے ہیں۔احترامِ آدمیت کے مروج قوانین کے تحت ذہنی و فکری آزادی، معاشرتی انصاف، وقعتِ ذات اور خود مختا رو مکمل زندگی کی خواہش عورت اور مرد دونوں کو ودیعت کی گئی ہے۔لیکن گزشتہ ادوار کے مطالعے و مشاہدے اور تاریخی حوالوں سے یہ بات بخوبی عیاں ہے کہ ہر عہد میں عورت پر استحصالی قوتیں مذہبی،ریاستی اور خاندانی سطح پر حاوی رہیں، اور اس کے صنفی و ذاتی تشخص اور فردی آزادی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی رہیں ہیں۔ ان نسائی کرداروں سے مذہبی،ریاستی اور خاندانی سطح پر استحصال کی بھر پور تصویر کشی ہوتی ہے۔

پیغام آفاقی کاناول ”مکان“ 1989ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس ناول میں پیغام آفاقی نے دلی شہر میں ایک مکان کی حفاظت میں پریشان حال میڈیکل سائنس کی طالبہ نیرا کو موضوع بنایا ہے۔ مکان کا مرکزی کردار ’نیرا ایک لڑکی نہیں بلکہ ہندوستان کی وہ اقلیت ہے جو اکثریت سے بر سر پیکار ہے - لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ نیرا کا مرکزی کردار اقلیت کے اکثر یت سے بر سر پیکا ر ہو نے کی دا ستا ن نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہر اس بظا ہر کمزور لیکن کسی چٹان سے زیادہ مضبوط انسان کی دا ستا ن ہے جو طا قت سے بر سر پیکا ر ہے۔ اگر مکان کے مرکزی کردار نیرا کو دنیا کے نقشے پر کھینچی ہوئی لکیروں کو مٹا کے دیکھا جا ئے تو نیراکا کردار ایک بہت بڑے کینوس پربنا ئی ہو ئی تصویر ہے۔ پیغام آ فا قی کے نا ول کا مر کزی کر دار نیرا اپنے سچ کو منوا نے کی ضد اور اس سے جڑی بے مثال ذہنی اور جسمانی مشقت، تھکن، ٹو ٹنے اور ٹو ٹ ٹو ٹ کے جڑنے کی دا ستان پیش کرتا ہے۔ اب اس طریق اظہار کی وضاحت کے لیے ایک مختصر سی عبارت ملاحظہ کیجئے:

”اس نے غور کیا!

یہ مکان تمہاری ملکیت ہے۔ تم اس مکان کی مالک ہو۔ یہ دو طرفہ رشتہ ہے کہ مکان تمہاری ملکیت ہے اور تم مکان کی مالک ہو اور اس طرح مکان تمہارے ساتھ مقفل ہے اور تم مکان کے ساتھ مقفل ہو۔ لیکن مکان کے ساتھ تمہارا رشتہ ایک الگ ہی چیز ہے اور یہ تمہارے اور مکان کے علاوہ تیسری چیز ہے۔

اسے محسوس ہوا کہ وہ اس وقت بالکل فلسفی ہو گئی تھی۔“

نیراکی بے مثال جنگ اور اس کی جرائت نے ناول میں ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے ’مکا ن”کی نیرا ایک ایسامرکزی کردارہے جو سیلا ب حیات کے منجدھار سے الجھتی ہی نہیں بلکہ طو فا نی مو جو ں پرراس ڈال کے انکا رخ مو ڑ دیتی ہے۔ نیرا انسانی مسا ئل اور ان سے نبرد آزما ئی کا وہ آئین ہے جو انسان کو زندگی کرنے کا ڈھنگ دیتا ہے۔ نیرا ایک ایسی مضطرب روح کا نام ہے جو وقت کی، بین کر تی، جگا تی آ وازوں پر خود بھی لبیک کہتی ہے اور صدا دیتی اور جھنجھوڑتی ہے۔ وہ اپنے قوت ارادی سے واقف ہے۔اور اپنے تخلیقی قوت کو متشکل کرنا چاہتی ہے جس کا ادراک ہوتے ہی اس کے لیے جسم بے معنی ہو جاتا ہے اوراس قوّت کے زور پر اپنے اِرد گرد کے گھیروں کو توڑ تی اور رکاوٹوں کو روندتی چلی جاتی ہے اونچے اونچے پہاڑ گرنے اور بکھرنے لگتے ہیں۔ خلیجیں پٹنے لگتی ہیں۔ نشیب و فراز ہموار ہونے لگتے ہیں اور نیرا پر پیچ راستوں اونچے اونچے پہاڑوں، گہری گہری گھاٹیوں، خوفناک موڑوں اور ٹیڑھی میڑھی اور تنگ سڑکوں سے ڈرنے کے بجائے ان سے کھیلنے لگتی ہے۔ ان میں اسے مزا آنے لگتا ہے:

”وہ اس ترنگ کی تھر تھری کو اپنے اندر محسوس کرنے لگی۔۔ یہ پہاڑ پر پوری قوت سے چڑھنے کا تھرل تھا۔ اسے لگا جیسے وہ گاڑی کی اس قوت سے خود ہم آہنگ ہو گئی ہو اور اپنی قوت سے پہاڑ کی اونچائی پر رفتار کے ساتھ چڑھ رہی ہو۔..۔..۔ اس کا جی چاہا اْونچائیاں اور زیادہ ہوں تاکہ گاڑی کے استعمال کی وہ مشینی آواز محسوس کرے جو اس کے جسم میں نشے کی کیفیت گھولتی جا رہی تھی۔ اس کا جی چاہا کہ اگر وہ خود گاڑی ہو تو زیادہ سے زیادہ سیدھی اوپر چڑھتی پہاڑی کا انتخاب کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ مزہ آئے۔“

پروفیسر خورشید احمد کا خیال ہے کہ در اصل ”مکان“ ایک Bildungsroman ہے یعنی ایسا ناول جس میں ایک نوخیز کردار یعنی نیرا کی شخصیتی تشکیل کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ تاکہ اس کے اندر سماجی زندگی میں داخل ہونے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسے ناول یورپ میں بھی کم ہی لکھے گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ناول کا یہ فارم جرمن ادب کی خاص عطا ہے۔ نیرا اس Bildungsroman ناول کا مرکزی کردارہے کیونکہ وہ درس گاہ حیات میں شخصیت کی تکمیل کے بعد کارزار حیات میں قدم رکھتی ہے۔ وہ جن سخت آزمائشوں سے گزرتی ہے اسے میلو ڈراما میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اوراس کی نشو و نما کی تکمیل کے ساتھ ہی یہ ناول ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ پیغام آفاقی نے Bildungsroman ناول مکان میں صنف قوی کے مقابلے میں نیرا جیسی صنف لطیف کو مرکزی کردار کیوں بنایا ہے اور پھر نیرا کو ڈاکٹری کی تعلیم کیوں دلوائی ہے؟ غالبا اس سوال کا جواب اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ نسائیت کے تصور کو واضح کرنے کے لیے صنف لطیف کو مرکزی کردار بنانا ضروری تھاتا کہ یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ اگر عورت ہوتی تو ٹوٹ جاتی اور ڈاکٹری کی تعلیم اس لیے کہ سماج سے بے لوث رشتہ قائم کرنے کا یہ بہترین وسیلہ ہے۔نا ول کے مر کزی کردار کے لئے ایک لڑکی کا انتخا ب یقینا ً مصنف کا سو چا سمجھا فیصلہ ہے۔ عورت بر سہا برس سے ”کمزور”کے لیبل کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔ چتا پر زندہ جل جا نے والی، قران سے بیاہ دی جا نے والی، تا وان میں دے دی جانے والی۔ نن بنا کے گر جا ؤ ں میں حنو ط کر دی جا نے لا تعداد عورتیں جو ذاتی اور سما جی حقو ق سے طر ح طر ح سے دھتکا ری جا تی رہی ہیں پیغام آ فا قی اس عورت کے تشخص کو پہچا نتے بھی ہیں اور اسکی پہچا ن بہت بھر پور طریقے سے دنیا سے بھی کرا تے ہیں وہ اپنی تا بنا ک فکر کو نیرا کی سو چ میں ڈھا ل کے عورت کے وجود کو اپنی شناخت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

نیرا کا کرداراس بات کی وضاحت پیش کرتا ہے کہ عورت کا کو ئی سر پرست نہیں ہے، کوئی اس کی حفا ظت کرنے والا، اس کے لئے سوچنے والا نہیں ہے۔ اسی لیے مکان میں سب سے مشکل مرحلہ اس کا اختتام ہے یعنی وہ نقطہ جو نیرا کے لیے درس گاہ حیات کا نقط اختتام ہے۔ مکان کی ابتدا نیرا کی جدوجہد حیات کا نقطئ آغاز ہے۔مسلسل بھاگتے رہنے کے دوران نیرا پر انکشاف ہوا کہ:

”یہ سارے بھرو سے صرف اذیت پہنچاتے ہیں۔“

اور اس انکشاف پر جب اس نے سوچنا شروع کیا تو:

”سوچنے کے دوران اس نے محسوس کیا کہ اس کے دماغ کے ریشے ازسر نو مرتب ہو رہے ہیں، جیسے اس سے کوئی ہولے ہولے کہہ رہا تھا، یہاں قدم قدم پر رہزن گھات میں بیٹھے ہیں، یہ بیسویں صدی کی نویں دہائی کی دلّی ہے، یہ وہ شہر ہے جہاں کب رات ہوتی ہے، اور کب دن نکلتا ہے، پتا نہیں چلتا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں ہر انسان اپنی حفاظت کا آپ ہی ذمّہ دار ہے یہاں بھروسوں کی تجارت ہوتی ہے، یہاں معاہدہ بنانے والے ایک ایک لفظ کے ہزاروں روپے لیتے ہیں اور اس شہر میں تم بھروسوں پر چل رہی ہو۔“

اور اسی سوچ کے بیچ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ:

”بچپن سے لے کر چند روز پہلے تک وہ زندگی کو جس روپ میں دیکھ رہی تھی وہ زندگی کا اصل روپ نہیں تھا، زندگی اس روپ میں تو بھیس بدل کر کھڑی تھی۔ وہ زندگی کا جو روپ اب دیکھ رہی ہے، یہ حقیقت ہے ___زندگی کے اس روپ کے ایک ایک خد و خال کو غور سے دیکھنے کے لیے وہ بے چین ہو گئی۔“

اور جب وہ اصل زندگی کے خد و خال کی تلاش میں نکلی تو اس پر کائنات کے اسرار کھلنے لگے اسے صاف دکھائی دینے لگا کہ:

”یہ سب کچھ جو وہ دیکھ رہی ہے، وہ محض تماشا ہے اور زندگی ایک کھیل ہے اور اس کھیل میں جیتنے یا ہارنے کا احساس ہی اس کی روح ہے اور اسی روح کی گہرائی میں اس کی بقا مضمر ہے کہ لہروں کی طرح ڈوبتے اور اتراتے رہنے کا احساس ہی دائمی سے اور اس احساس کی لہریں ہی ہر چیز کی اصل ہیں۔“

زندگی کی مزید باریکیوں کی تلاش کرتے ہوئے ایک

ایک دن اسے نیند آ گئی اور اس نے:

”نیند میں اپنے اندر ایسی کیفیت محسوس کی کہ اسے لگا کہ آج اس کی نیند حسب معمول نہیں تھی۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کے اندر بدلتے موسموں والی بے چینی تھی۔ تم سب مجھے کیا سمجھتے ہو؟ اس نے ایک ایک کوکھا جانے والی نگاہ سے اپنے چاروں طرف کے ماحول کو دیکھا۔ تم سمجھتے ہو کہ میں ایک کمزور لڑکی ہوں، میں عورت ہوں، میں سمندر ہوں کہ جس میں پورا کا پورا پہاڑ غرقاب ہو سکتا ہے لیکن میں جو کچھ اپنے اندر سہتی ہوں اس سے نئی چیزیں جنم لیتی ہیں۔ میں کوکھ ہوں میرے اندر جو عکس پیدا ہوتا ہے وہ محض خیال نہیں ہوتا۔“

اس دن کے بعد نیرا کو یہ محسوس ہونے لگا:

اس کی زندگی کے نقوش اب اور تیزی سے یکے بعد دیگرے بدلنے لگے۔ چند ماہ پہلے اس کے ذہن میں جو آتش فشاں پھوٹا تھا اور جس نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا تھا، اس کی ایک ایک چنگاری سے سورج پیدا ہو رہا تھا۔“

اور اس سورج کے پیدا ہوتے ہی اس پر یہ راز روشن ہو گیا کہ:

”اپنی زندگی کے اس دور میں جب وہ اندھوں کی طرح چل رہی تھی، لوگ اسے اپنے اشاروں پر دوڑاتے تھے اور وہ چوٹ کھاتی تھی تو ٹوٹ ٹوٹ جاتی تھی، لیکن اب یہ چوٹیں اور یہ دوسروں پر بھروسہ کرنا، ایک کھیل، ایک لذتّ آ میز عمل بن گیا تھا۔ اور جیسے جیسے وہ اس آندھی کے ساتھ تیز حرکت میں آ رہی تھی، ویسے ویسے اس کو لگ رہا تھا کہ وہ ایک رقّاصہ کی طرح دوسروں کے لیے سب کچھ کر رہی ہے، وہ ا پنے آپ سے باہر نکل آئی تھی۔ اسے ناچنے، دوڑنے، بھاگنے اور تھکنے میں لذّت مل رہی تھی۔“

گویا اس طرح نیرا کی تخلیقیت اس پر آشکار ہوتی ہے اور وہ دبلی پتلی کمزور سی لڑکی مضبوط اور طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے۔

گویا اس طرح دبلی پتلی کمزور سی نیرا کے نسائی کردار میں تانیثیت کا شعور بیدار ہوتا ہے اور وہ مضبوط اور طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے۔اور جنس کی تخصیص و تشخص کے بر خلاف برابری قائم کرنے کا عمل شروع کرتی ہے۔ یہ کوشش ظلم و استبدادسے آزاد زندگی فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حق تلفیوں اور ان پرہور ہے جبر و استحصال کے خلاف ایک مہم ہے۔اس نسائی جدّو جہد کا ایک مقصدمردانہ پن اور نسائیت کے زوجی تضاد کو ڈی کنسٹرکٹDeconstruct) کرنا ہے تاکہ عورت بھی مرد کی طرح اپنی مرضی کے مطابق زندگی کے تمام فیصلے خودکرسکے پیغام آفاقی نے نیرا کی مدد سے خواتین کی ذہنی تربیت اسی لیے کی ہے تاکہ وہ پدرانہ سماج کے بر خلاف مردوں کی تنگ ذہنیت کو چیلنج کرسکے

....................


خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024