نذرِ ثَمینہ سَید
نذرِ ثَمینہ سَید
Apr 29, 2026

دیدبان ثمینہ سید نمبر
نذرِ ثَمینہ سَید
ڈھل گئی وہ شب کہ جس کی اب سحر آتی نہیں
ہو گئی رخصت جو اب پھر لوٹ کر آتی نہیں
ڈھونڈتی ہے اب تمہیں یہ بزمِ یاراں ہر جگہ
پر تمہاری اب کہیں سے بھی خبر آتی نہیں
وہ جو تھی پابندِ فن اور صاحبِ فکر و نظر
اب کسی صورت بھی وہ پیشِ نظر آتی نہیں
لفظ روتے ہیں، قلم حیراں ہے، کاغذ منتظر
شعر کی محفل میں اب وہ خوش ہنر آتی نہیں
یاد کے رستے پہ اب بھی منتظر ہیں سب چراغ
وہ جو تھی اک شمعِ محفل لوٹ کر آتی نہیں
بزمِ دانش میں جو چھائی ہے اچانک خامشی
کوئی بھی اب صورتِ لعل و گہر آتی نہیں
یاد سے جس کی مہکتے تھے شب و روز و سحر
اب وہ ہستی خواب بن کر بھی ادھر آتی نہیں
ہم کہاں ڈھونڈیں تمہیں اب، اے ثمینہ سید
اب کہیں بھی تری صورت تو نظر آتی نہیں
اک کسک محسوس کرتا ہے شعیبؔ اب رات دن
راحتِ جاں بن کے وہ اب چارہ گر آتی نہیں
شعیب_الحسن_بوسال
13'اپریل 2026ء
دیدبان ثمینہ سید نمبر
نذرِ ثَمینہ سَید
ڈھل گئی وہ شب کہ جس کی اب سحر آتی نہیں
ہو گئی رخصت جو اب پھر لوٹ کر آتی نہیں
ڈھونڈتی ہے اب تمہیں یہ بزمِ یاراں ہر جگہ
پر تمہاری اب کہیں سے بھی خبر آتی نہیں
وہ جو تھی پابندِ فن اور صاحبِ فکر و نظر
اب کسی صورت بھی وہ پیشِ نظر آتی نہیں
لفظ روتے ہیں، قلم حیراں ہے، کاغذ منتظر
شعر کی محفل میں اب وہ خوش ہنر آتی نہیں
یاد کے رستے پہ اب بھی منتظر ہیں سب چراغ
وہ جو تھی اک شمعِ محفل لوٹ کر آتی نہیں
بزمِ دانش میں جو چھائی ہے اچانک خامشی
کوئی بھی اب صورتِ لعل و گہر آتی نہیں
یاد سے جس کی مہکتے تھے شب و روز و سحر
اب وہ ہستی خواب بن کر بھی ادھر آتی نہیں
ہم کہاں ڈھونڈیں تمہیں اب، اے ثمینہ سید
اب کہیں بھی تری صورت تو نظر آتی نہیں
اک کسک محسوس کرتا ہے شعیبؔ اب رات دن
راحتِ جاں بن کے وہ اب چارہ گر آتی نہیں
شعیب_الحسن_بوسال
13'اپریل 2026ء

