لوئیس گلک کی دو نظموں کے ترجمے

لوئیس گلک کی دو نظموں کے ترجمے

Mar 23, 2021

؁ ۲۰۲۰ کی نوبل انعام یافتہ نظم

دیدبان شمارہ ١٣

٢٠٢٠ کی نوبل انعام یافتہ لوئیس گلک کی دو نظموں کے ترجمے / ترجمہ نگار نودان ناصر

نظم : میری ماں کی نذر

وہ بہتر وقت تھا

جب ہم ایک جسم میں

یکجا تھے

تیس برس بیتے

تُمھاری آنکھوں کے

شیشے جیسی سبز پتلیوں سے

چاندنی گُزر کر

مری ہڈیوں میں اُترتی گئی

جب ہم وسیع بستر پہ

تاریکی میں لیٹے

میرے باپ کا

انتظار کیا کرتے تھے

تیس برس بیتے

اُس نے

دو بوسے لے کر

تُمھاری پلکیں بند کی

پھر بہار کی آمد ہوئی

اور مُجھ سے شعورِ نازائیدگی

مُطلق چھین کر لے گئی

وہ اینٹوں کا چبوترا رہ گیا

جہاں تُم کھڑی ہوتی ہو

اپنی آنکھوں کو سائباں دئیے

مگر یہ رات ہے

جہاں چاند

گول اور سفید رنگت لئے

شجرِ سفیدے کے پیچھے

ایستادہ ہے۔

باریک نُکتے کے جیسے

ستاروں کے مابین

جھلملاتا ہے

تیس برس بیتے

گھر کے گرد

اک دلدل پنپتا جاتا ہے

بَزَرہ کی درسگاہیں

سایوں کے پیچھے گھومتی ہیں

اور جالی دار پودے

پھڑپھڑاتے ہوئے

بڑھتے چلے جاتے ہیں۔۔

ترجُمہ   :  نودان ناصر

شاعرہ  :  لوئیس گلیک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نظم : خُمارِ تپش

سوچنے کی صلاحیت سے محرومی

بُڑی زبردست چیز ہے

احساسات: اوہ،

یہ ہی تو ہیں میرے پاس

یہی تو مُجھے چلاتے ہیں

آسمانوں میں مرا اک خُدا بھی ہے

جسے آفتاب کہتے ہیں

اور اُس کے لئے کُھلا چھوڑا ہے

اپنے ہی جلتے دل کو

جو اُس کے موجودگی جتنی

تپش لئے ہے

ایسے افتخار کا کیا فائدہ ہو

گر دل ہی نہ رہے؟

اے مرے بہنو،بھائیو!

کیا تُم بھی کبھی میرے جیسے تھے؟

بہت پہلے

انسان ہونے سے بھی پہلے؟

کیا تُم نے کبھی

خود کو کُُھلنے کی اجازت دی،

تمُ جو دوبارہ کبھی نہ کُھل پاوگے؟

کیونکہ میں اب تُم جیسا

سچ بولنے لگی ہوں

میں بولنے لگی ہوں

کیونکہ میں بکھر چُکی ہوں۔۔

ترجُمہ   :  نودان ناصر

شاعرہ  :  لوئیس گلیک

دیدبان شمارہ ١٣

٢٠٢٠ کی نوبل انعام یافتہ لوئیس گلک کی دو نظموں کے ترجمے / ترجمہ نگار نودان ناصر

نظم : میری ماں کی نذر

وہ بہتر وقت تھا

جب ہم ایک جسم میں

یکجا تھے

تیس برس بیتے

تُمھاری آنکھوں کے

شیشے جیسی سبز پتلیوں سے

چاندنی گُزر کر

مری ہڈیوں میں اُترتی گئی

جب ہم وسیع بستر پہ

تاریکی میں لیٹے

میرے باپ کا

انتظار کیا کرتے تھے

تیس برس بیتے

اُس نے

دو بوسے لے کر

تُمھاری پلکیں بند کی

پھر بہار کی آمد ہوئی

اور مُجھ سے شعورِ نازائیدگی

مُطلق چھین کر لے گئی

وہ اینٹوں کا چبوترا رہ گیا

جہاں تُم کھڑی ہوتی ہو

اپنی آنکھوں کو سائباں دئیے

مگر یہ رات ہے

جہاں چاند

گول اور سفید رنگت لئے

شجرِ سفیدے کے پیچھے

ایستادہ ہے۔

باریک نُکتے کے جیسے

ستاروں کے مابین

جھلملاتا ہے

تیس برس بیتے

گھر کے گرد

اک دلدل پنپتا جاتا ہے

بَزَرہ کی درسگاہیں

سایوں کے پیچھے گھومتی ہیں

اور جالی دار پودے

پھڑپھڑاتے ہوئے

بڑھتے چلے جاتے ہیں۔۔

ترجُمہ   :  نودان ناصر

شاعرہ  :  لوئیس گلیک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نظم : خُمارِ تپش

سوچنے کی صلاحیت سے محرومی

بُڑی زبردست چیز ہے

احساسات: اوہ،

یہ ہی تو ہیں میرے پاس

یہی تو مُجھے چلاتے ہیں

آسمانوں میں مرا اک خُدا بھی ہے

جسے آفتاب کہتے ہیں

اور اُس کے لئے کُھلا چھوڑا ہے

اپنے ہی جلتے دل کو

جو اُس کے موجودگی جتنی

تپش لئے ہے

ایسے افتخار کا کیا فائدہ ہو

گر دل ہی نہ رہے؟

اے مرے بہنو،بھائیو!

کیا تُم بھی کبھی میرے جیسے تھے؟

بہت پہلے

انسان ہونے سے بھی پہلے؟

کیا تُم نے کبھی

خود کو کُُھلنے کی اجازت دی،

تمُ جو دوبارہ کبھی نہ کُھل پاوگے؟

کیونکہ میں اب تُم جیسا

سچ بولنے لگی ہوں

میں بولنے لگی ہوں

کیونکہ میں بکھر چُکی ہوں۔۔

ترجُمہ   :  نودان ناصر

شاعرہ  :  لوئیس گلیک

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024