کرونا 

  کرونا 

Mar 23, 2021

افسانچہ

دیدبان شمارہ ١٣

افسانچہ    ۔۔۔ کرونا                                

تحریر      ۔۔۔ راجہ یوسف

        نربھایا کیس میں ملوث ملزموں کی پھانسی کے بعد اگرچہ کئی دنوں تک حالات پرامن رہے لیکن رفتہ رفتہ ڈر اور خوف کا ماحول ماند پڑنے لگا۔  نئے شکاری شکار کی طاق میں بیٹھے رہتے۔ اور ایسا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جو ان کو مل جاتا تھا۔

   ننسی کام والی بائی جوزی کی جوان بیٹی تھی۔ اس کی ماں نزدیکی کالونی کے ایک گھر میں کام کیا کرتی تھی۔ اس گھر میں عمررسیدہ میاں بیوی رہتے تھے، جن کابیٹا اور بہو صرف اتوار کو ہی ان سے ملنے آتے رہتے۔ جوزی کچھ دنوں سے بیمار تھی۔ اس لئے ماں کے بدلے بیٹی کام پر جا رہی تھی۔

اتوار تھی اورسرکاری کی طرف سے احتیاطی تدبیر اپنانے کے احکامات کے پیش نظرپورا دیش کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑا تھا۔ اس دن نہ بزرگ لوگوں کا بیٹا آیا اورنہ بہو، بلکہ اسے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ آج اتوار کو بھی کام پر آجائے۔

شام کو گھر جاتے وقت اسے نہ کوئی گاڑی ملی نہ ہی کوئی آٹو رکشا۔ اس لئے پیدل ہی گھر کی طرف چلنے لگی۔ وہ خوفزدہ تھی اور تیز تیز قدم اٹھا ئے جارہی تھی۔ راستے میں اکا دکا لوگ ہی دکھائی دے رہے تھے۔ اسے تو بس اپنے محلے کے رہنے والے کلو اور اس کے تین دوستوں کا ڈر لگا رہتاتھا، جو ا سے دیکھتے ہی اناپ شناپ بولتے رہتے اوراسے اکیلا دیکھ کر اڑا لیجانے کے طاق میں رہتے تھے۔ ایک دو بار وہ کوشش بھی کر چکے تھے۔ لیکن ناکام رہے۔

   لوگ گھروں میں بند ہوگئے  تھے۔لیکن کلو آج بھی اپنے دو موالی دوستوں کے ساتھ ننسی کی تاک میں بیٹھا تھا۔ وہ جونہی گلی میں پہنچی  ان تینوں نے اسے دبوچ لیا اور قریب ہی ایک ویران گھر کے اندر لے گئے۔  اپنے دو  دوستوں کو رکنے کا اشارہ کرکے کلو  ننسی کو دوسرے کمرے میں لے کر گیا۔  لیکن صرف دو منٹ سے کم وقفے میں کلو بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔

اس کے دونوں ساتھی ہکا بکا ہوکر رہ گئے۔  وہ موبائل کی ٹارچ جلا کر کمرے کی طرف گئے تو خوف سے چیخ پڑے۔  ننسی دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر بری طرح سے کھانس رہی تھی۔

-------------

دیدبان شمارہ ١٣

افسانچہ    ۔۔۔ کرونا                                

تحریر      ۔۔۔ راجہ یوسف

        نربھایا کیس میں ملوث ملزموں کی پھانسی کے بعد اگرچہ کئی دنوں تک حالات پرامن رہے لیکن رفتہ رفتہ ڈر اور خوف کا ماحول ماند پڑنے لگا۔  نئے شکاری شکار کی طاق میں بیٹھے رہتے۔ اور ایسا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جو ان کو مل جاتا تھا۔

   ننسی کام والی بائی جوزی کی جوان بیٹی تھی۔ اس کی ماں نزدیکی کالونی کے ایک گھر میں کام کیا کرتی تھی۔ اس گھر میں عمررسیدہ میاں بیوی رہتے تھے، جن کابیٹا اور بہو صرف اتوار کو ہی ان سے ملنے آتے رہتے۔ جوزی کچھ دنوں سے بیمار تھی۔ اس لئے ماں کے بدلے بیٹی کام پر جا رہی تھی۔

اتوار تھی اورسرکاری کی طرف سے احتیاطی تدبیر اپنانے کے احکامات کے پیش نظرپورا دیش کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑا تھا۔ اس دن نہ بزرگ لوگوں کا بیٹا آیا اورنہ بہو، بلکہ اسے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ آج اتوار کو بھی کام پر آجائے۔

شام کو گھر جاتے وقت اسے نہ کوئی گاڑی ملی نہ ہی کوئی آٹو رکشا۔ اس لئے پیدل ہی گھر کی طرف چلنے لگی۔ وہ خوفزدہ تھی اور تیز تیز قدم اٹھا ئے جارہی تھی۔ راستے میں اکا دکا لوگ ہی دکھائی دے رہے تھے۔ اسے تو بس اپنے محلے کے رہنے والے کلو اور اس کے تین دوستوں کا ڈر لگا رہتاتھا، جو ا سے دیکھتے ہی اناپ شناپ بولتے رہتے اوراسے اکیلا دیکھ کر اڑا لیجانے کے طاق میں رہتے تھے۔ ایک دو بار وہ کوشش بھی کر چکے تھے۔ لیکن ناکام رہے۔

   لوگ گھروں میں بند ہوگئے  تھے۔لیکن کلو آج بھی اپنے دو موالی دوستوں کے ساتھ ننسی کی تاک میں بیٹھا تھا۔ وہ جونہی گلی میں پہنچی  ان تینوں نے اسے دبوچ لیا اور قریب ہی ایک ویران گھر کے اندر لے گئے۔  اپنے دو  دوستوں کو رکنے کا اشارہ کرکے کلو  ننسی کو دوسرے کمرے میں لے کر گیا۔  لیکن صرف دو منٹ سے کم وقفے میں کلو بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔

اس کے دونوں ساتھی ہکا بکا ہوکر رہ گئے۔  وہ موبائل کی ٹارچ جلا کر کمرے کی طرف گئے تو خوف سے چیخ پڑے۔  ننسی دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر بری طرح سے کھانس رہی تھی۔

-------------

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024