ہڑپّہ
ہڑپّہ
Feb 27, 2026
مصور-اسرار فاروقی

·دیدبان شمارہ - ٣۲
فروری۔2026
ہڑپّہ
اک ہرے بھرے شہر کے پہلو میں لال خشتی دیوار کے حصار میں اک شہر ناآباد میں اک شہر آباد ہو ، کچی پکی نیم پختہ دیواروں ، پیرانہ سال درختوں اور اونچے نیچے راستوں میں گھرا سرما کی گہری دوپہر آسا یکسر خاموش !!!
اک لمبی رہگزر سے ہوتا ہوا ،جانے کہاں سے کہاں کو نکلتا ہوا ، جانے کونسی داستان سُناتا ہوا !!!
جیسے ایک لمبی چُپ کے پیچھے اک نامعلوم سی کَتھا !!!
جیسے اِک اَن مٹ محبت کے پیچھے طاقِ دل میں رہ جانے والی ہمیشہ کے لیے اک ریشمی غلاف میں لپٹی زرد پکھراج سی یاد !!!
رہگزار رہگزار پیلو کے درختوں کے ہمراہ چلتی ہوئی رہگزر دُور تلک ساتھ چلتی ہے
ہر موڑ پہ جیسے ٹھہر کر جانے کن اَن دیکھے لوگوں کی کہانی دہراتی ہے - ہم ہی جیسے لوگوں کی کہانی جن کے خوابوں کے کچے رنگ ، کچھ آہنگ کیا خبر ہو بہو ہمارے خوابوں کے جیسے ہوں ، جن کی محبتیں ہماری جیسی کہیں بے غرض ، کہیں غرضوں سے بھری ہوں ،جن کے دکھ کہیں سر بانہوں میں نہواڑے تو کہیں خوشی سر پہ پھولوں بھری گاگر اُٹھائے اٹھلاتی ہوئی !!!
بھری دوپہر کی شانت سی خاموشی میں لمبی رہگزر بھی ساتھ چلتے چلتے ، موڑ مڑتے مڑتے تھک جاتی ہے ، کمر خمیدہ درخت اپنی کہانی سمیٹ لیتے ہیں اور دور تلک پھیلے کھنڈر یکسر خاموش جانے کن یادوں میں مستغرق اک لمحے کو جیسے چونک کر آنے والوں کو دیکھتے ہیں اور پھر دوبارہ کسی گہرے گیان میں غرق ہو جاتے ہیں !!!
وقت کا ہکڑا بہتا چلا جاتا ہے اپنے سیل رواں کے ساتھ زندگی کی کاغذ کی کشتیوں سی کہانیاں بہاتا ہوا اور ہم کنارے پہ کھڑے دور تلک منظروں کو اپنی آنکھوں سے اوجھل ہوتا دیکھتے رہتے ہیں !!!
An afternoon at the archaeological site of Harappa !!!
11 Feb,2026
صائمہ صبیح
·دیدبان شمارہ - ٣۲
فروری۔2026
ہڑپّہ
اک ہرے بھرے شہر کے پہلو میں لال خشتی دیوار کے حصار میں اک شہر ناآباد میں اک شہر آباد ہو ، کچی پکی نیم پختہ دیواروں ، پیرانہ سال درختوں اور اونچے نیچے راستوں میں گھرا سرما کی گہری دوپہر آسا یکسر خاموش !!!
اک لمبی رہگزر سے ہوتا ہوا ،جانے کہاں سے کہاں کو نکلتا ہوا ، جانے کونسی داستان سُناتا ہوا !!!
جیسے ایک لمبی چُپ کے پیچھے اک نامعلوم سی کَتھا !!!
جیسے اِک اَن مٹ محبت کے پیچھے طاقِ دل میں رہ جانے والی ہمیشہ کے لیے اک ریشمی غلاف میں لپٹی زرد پکھراج سی یاد !!!
رہگزار رہگزار پیلو کے درختوں کے ہمراہ چلتی ہوئی رہگزر دُور تلک ساتھ چلتی ہے
ہر موڑ پہ جیسے ٹھہر کر جانے کن اَن دیکھے لوگوں کی کہانی دہراتی ہے - ہم ہی جیسے لوگوں کی کہانی جن کے خوابوں کے کچے رنگ ، کچھ آہنگ کیا خبر ہو بہو ہمارے خوابوں کے جیسے ہوں ، جن کی محبتیں ہماری جیسی کہیں بے غرض ، کہیں غرضوں سے بھری ہوں ،جن کے دکھ کہیں سر بانہوں میں نہواڑے تو کہیں خوشی سر پہ پھولوں بھری گاگر اُٹھائے اٹھلاتی ہوئی !!!
بھری دوپہر کی شانت سی خاموشی میں لمبی رہگزر بھی ساتھ چلتے چلتے ، موڑ مڑتے مڑتے تھک جاتی ہے ، کمر خمیدہ درخت اپنی کہانی سمیٹ لیتے ہیں اور دور تلک پھیلے کھنڈر یکسر خاموش جانے کن یادوں میں مستغرق اک لمحے کو جیسے چونک کر آنے والوں کو دیکھتے ہیں اور پھر دوبارہ کسی گہرے گیان میں غرق ہو جاتے ہیں !!!
وقت کا ہکڑا بہتا چلا جاتا ہے اپنے سیل رواں کے ساتھ زندگی کی کاغذ کی کشتیوں سی کہانیاں بہاتا ہوا اور ہم کنارے پہ کھڑے دور تلک منظروں کو اپنی آنکھوں سے اوجھل ہوتا دیکھتے رہتے ہیں !!!
An afternoon at the archaeological site of Harappa !!!
11 Feb,2026
صائمہ صبیح

