افسانوی مجموعہ گمشدہ دولت پر تبصرہ

افسانوی مجموعہ گمشدہ دولت پر تبصرہ

Mar 15, 2021

تبصرہ نگار:عرفان رشید

تبصرہ:

کتاب کا نام:گمشدہ دولت (افسانوی مجموعہ)

مصنف:طارق شبنم  

تبصرہ نگار:عرفان رشید (ریسرچ اسکالر،شعبہٗ اردو،یونی ورسٹی آف کشمیر)

ای۔میل: irfanrasheedf@gmail.com

         جموںوکشمیر میں اردو فکشن کی ایک مستحکم اور شاندار تاریخ رہی ہے بلخصوص فنِ افسانہ نگاریکی۔ادبی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتا تاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسے افسانہ نگار بھیسامنے آئے ہیں جنہوں نے اس صنف میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے ادبی منظر نامے پرایک گہری چھاپ قائم کی ہے۔جن میں محمد دین فوق،پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ در،تیرتھکاشمیری،سوم ناتھ ذتشی،علی محمد لون،قدرت اللہ شہاب،ٹھاکر پونچھی،پشکر ناتھ،نور شاہحامدی کاشمیری،وریندر پٹھواری،آنند لہر،دیپک بد کی، وحشی سعید،غلام نبی شاہد، ترنمریاض وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

         طارقشبنم کشمیر میں معاصر اردو افسانہ نگاری کے حوالے سے ایک بہترین نام ہے جو تقریباًہر ہفتے کشمیر عظمیٰ کے ادب نامہ میں ایک نئی تخلیق کے ساتھ چھپتے ہیں۔اصل نام طارقاحمد شیخ ہے لیکن ادبی حلقوں میں طارق شبنم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنےافسانوی سفر کا آغاز ۰۱۰۲ءمیں افسانہ ”مجبوری“ سے کیا ہے یہ افسانہ ”ہند سماچار“ جموں نے شائع کیا۔اب تک ان کےمتعدد افسانے رسائل و جرائد میں چھپ چکے ہیں۔

         زیرتبصرہ افسانوی مجموعہ ”گمشدہ دولت“ حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس مجمو عہ کوجی۔این۔کےپبلی کیشز(بڈگام،کشمیر) نے ۰۲۰۲ءمیں شائع کیا ہے۔یہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جس میں ۷۲ افسانےشامل ہیں جن میں بے درد زمانہ، اندھیرے اجالے، صدمہ، کہانی کا المیہ، دہشت کے سائے،اعتبار، گمشدہ دولت، مسیحا کی تلاش، نسخہ کیمیا، سنہرا پھنداوغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔  

                   افسانہ”بے درد زمانہ“ اس مجموعے کی پہلی کہانی ہے۔ یہ کہانی ایک مچھیرن ”سندری“ کی زندگیپر مبنی ہے۔ افسانہ نگار نے اس کہانی کے ذریعے ایک طرف سماج پر طنز کیا ہے کہ کس طرح سے ایک بے رحم سماج میں ایک مجبور، لاچار اور بے بس عورت کا مزاق اُڑیا جارہا ہے۔دوسری طرف اس افسانے میں یہاں کے گورنمنٹ اسپتالوں کا حقیقی نقشہ بھی کھینچا گیا ہےجس میں ”سندری“ جیسی سینکڑوں عورتیں استحصال کا شکار ہوجاتی ہیں۔کہانی کی آخری دو سطوراس کہانی کا کلایمکس بیان کرتاہیں:

”اسبے درد زمانے میں،میں اکیلی عورت بے سہارا عورت کیا کروں۔ کس سے مدد مانگوں، کہاں انصافڈھونڈوں،یہاں صرف پتھردل انسان ہیں، پتھر کے ضمیر ہیں، چاپلوسی، فریب،حرص اور خودغرضیہے“ (افسانہ: بے درد زمانہ)

         اساقتبا س سے کہانی کا روح مترشح ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے موجودہ سماج میں انسان ہی  انسانیت کا جنازہ نکالتاہے اور دنیا کے عقلمند اوردانش یافتہ لوگ اس چیز کالطف اُٹھا تے ہیں۔

         مذکورہکہانی کا پلاٹ منظم اور سادہ ہے۔ بیانیہ اسلوب کا خوبصورت امتزاج، خودکلامی اور فلشبیک تکنیک کا استعمال ہوا ہے۔ البتہ کہیں کہیں جملوں کی ساخت کمزور پڑ جاتی ہے لیکناس سے کہانی کی معنوعت اور وحدت تاثر میں کو ئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوجاتی ہے۔

          افسانہ”اندھیرے اجالے“میں کشمیر کے موجودہ حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس افسانےمیں علامت نگاری اور اشاروں اور کنایوں کی تکنیک سے کام لیا ہے۔ منظر کشی اس طرح سےکی گئی ہے کہ کشمیر کا نقش آنکھوں کے سامنے رقص کرتا ہو ا نظر آتا ہے۔ منظر کشی کےحوالے سے کہانی کا پہلا ہی اقتباس ملاحظہ کیجئے:

”ارےواہ۔۔۔کتنا حسین دل موہ لینے والا سماں ہے۔یہ باغ یہ گلستان کتنا خوبصورت ہے۔یہ رنگبہ رنگے پھول،یہ سر سبز پتوں والے درخت، یہ ننھی منی کونپلیں،یہ سبز مخملی چادر جیسابچھونا،یہ نیلے پانی کا جھرنا،یہ فلک بوس دلکش پہاڑیاں۔۔۔“

         اسافسانے میں طارق شبنم نے یہاں کے بزگوں،نوجوانوں اور بچوں کی نفسیات کو علامتی اندازمیں پیش کیا ہے:    

”اسدلکش باغ کے سبھی پھول مرجھا کیوں گئے ہیں؟ شبنم میں نہلائے ہوئے اس گلستان کے سارےپھول اتنے اداس کیوں ہیں؟ جیسے آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے۔۔ارے یہ کوئل،یہ بلبل،یہ بھنورے،یہہد ہد اتنے خاموش اور اداس اور اکھڑے اکھڑے کیوں ہیں؟

         مندرجہبالا اقتباس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے افسانہ نگار نے علامتی جامع میں یہاںکے عوام کی حقیقی زندگی کا آئینہ پیش کیا ہے۔ ”افسانہ صدمہ“میں بھی کشمیر کے آئے روزگولیوں اور لاشوں کا منظر نامہ پیش کیا ہے اور ’کاکا‘جن کا اصلی نام محمد شفیع ہے جیسےسینکڑوں ایسے ہوں گے جو ان حالات و واقعات کا شکار ہوئے ہونگے۔افسانہ’دہشت کے سائے‘میں بھی یہاں کے روز مرہ حالات و واقعات کا رونا رویا گیا ہے۔

         کشمیرکی ثقافت پر لکھا ہوا افسانہ ’آبرو‘ہے۔جس میں ایک مفلوک الحال گھرانے کو موضوع بحثبنا گیا ہے۔ اس افسانے میں ایک طرف قالین بننے کے کام کو دکھا یا گیا ہے تودوسری طرفاس وقت کے سماج کے سماج کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں پڑھائی کے مقابلے میں چھوٹے بچوںکو قالین بننے کے کام پر لگایا جاتا تھا۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ یہاں کا عوام بہت دیرتک تعلیم کے نور سے دور رہا۔

         طارقشبنم کے یہاں موضوعاتی تنوع دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہاں کے سیاسی، سماجی،اقتصادی اور معیشیت کو افسانے کے قالب میں ڈھالا ہے بلکہ انہوں نے ایسے افسانے بھیخلق کیے ہیں  جو بین الاقوامی وسعت رکھتے ہیں۔ایسا ہی ایک افسانہ ”اعتبار“ ہے۔ حالانکہ افسانہ بیانیہ تکنیک میں لکھا گیا ہے۔لیکنموضوعاتی اعتبار سے یہ ایک اچھوتا افسانہ ہے جس کی مثال خال خال ہی اردو افسانے میںنظر آئے گی۔ پورا افسانہ رومانوی اسلوب کی تار پود سے تیار کیا گیا ہے۔ افسانے میںماجد اور ثمینہ کی داستان محبت کا بیان ہواہے۔ ماجد اور ثمینہ بچپن سے لے کر بلوغتتک ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور کب ان کے درمیان محبت کا پھول کھل اُٹھا۔دونوں کو پتہ ہینہیں چلا۔ دونوں ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں لیکن انٹرنس میں ناکام ہوجاتے ہیں جس کا ساراخمیازہ ماجد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ثمینہ اس وجہ سے الگ ہوتی ہے انہیں ہر حال میں ڈاکٹربننا ہے۔آخر پر ثمینہ ڈاکٹر بن ہی جاتی ہے۔ لیکن جب یہ خبر ماجد نے سنی اسے یقین ہینہیں آیا۔ اس  نے جنرل لسٹ دیکھنے کے بعد جبثمینہ کا نام categoty listمیںدیکھا تو اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ کہانی کا آخری اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میںکہانی کا روح چھپا ہو ا ہے:

”ثمینہشاہباز۔۔۔وائف آف شہباز خان۔۔“

اورپتا کیا کالم میں ایک دور دراز پہاڑی علاقے کا نام درج تھا۔

”کیاایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم بھی کسی کیٹگری میں آسکیں۔۔۔مجھے ہر حال میں ڈاکٹر بننا ہےکسی بھی قیمت پر“۔

         اساقتباس سے مترشح ہوتا ہے کہ کس طرح سےcategoryوالےGeneralCategoryپر استحصال کرتے ہیں۔ شہباز خان کی فیملیشہر میں بسنے کے لیے آئے ہیں اور جب اس کا نکاح ثمینہ سے ہوتا ہے تو MBBSمیں ثمینہ بحیثیت شہباز خانکی بیوی فارم جمع کر تی ہے اور پتہ دور دراز پہاڑی جگہ کا اس لیے دیتی ہیں تاکہ Reservation برقرار رہے۔ حقیقیمعنوں میں افسانہ نگار اپنے قارئین کو باور کرانا چاہتا ہے کہ کن کن جگہوں اور مراحلپر انسان کے ساتھ استحصال کیا جاتا ہے۔ افسانہ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ اسمیں ایک طرف سے ان بچوں اور والدین پر بھی طنز ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹری سے آگےدنیا نہیں ہے۔تکنیکی نوعیت کے حوالے سے یہ افسانہ کافی مضبوط ہے۔ اس میں مکالماتی اندازاور ڈرامائی پن سے بھی کام لیا گیا ہے۔

         ”گمشدہدولت“ ایک انوکھے موضوع پر لکھا ہوا افسانہ ہے جس میں افسانہ نگار نے جنرل ٹام جو مریخسے اتر کر دنیا کا معاینہ کرنے آیا تھا۔ پہلے اسے انسان کی خوشحالی،سکون، آرام، دولت،خوبصورتی پر رشک آتا ہے لیکن جوں ہی وہ اس دنیا کا دوسرا رخ دیکھتاہے جو جدید سائنسیٹکنالوجی کا دور کہلا تا ہے جس میں ہتھیاروں اور ایٹم بموں کی وجہ سے ناحق انسانیتکا خون کیاجاتا ہے۔اس سے بے دل ہو کے مریخ پر واپس جانا پڑتا ہے۔  

         یہافسانہ موضوع کے لحاظ سے بہترین افسانہ ہے۔جس میں عصر حاضر کے انسان کی نفسیاتی حقیقتنگاری کو عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

         ”سنہراپھندا“بھی ایک اچھوتے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس میں انٹر نیٹ کے منفی اور مثبت پہلوؤںکو زیر بحث لایا گیا ہے۔ افسانہ نگار نے راحیلہ کے ذریعے ہمارے سماج کی ان لڑکیوں پرسوال کیا ہے جو اس آفت کے ذریعے اپنے گھر کو جہنم بنا دیتی ہیں۔موصوف اس بات پر زوردیتے ہیں کہ انٹرنیٹ ایک ایسا زہر ہے جس نےyouthکو اپنے لپیٹ میں لیا ہے۔اور ایسی کئی ’راحیلہ‘ہوں گی جو بظاہر نیک اور پرہیزگار ہوتی ہیں لیکن اس زہر کے آگے ہر انسان بے یارو مددگارثابت ہوتا ہے۔ اس لیے تخلیق کار دانستہ طور پر اپنے قارئین کو اس لعنت سے دور رکھنےکی کوشش کرتے ہیں۔

         ”کیمیاگھر“ اس مجموعے کی آخری کہانی ہے جس میں موجودہCOVID 19اور لاک ڈاون کو موضوع بنایا گیا ہے۔ قرأتکے دوران یہ افسانہ افسانے سے کہیں زیادہ ڈراما معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں افسانہنگار نے افسانوی پن کو برقرار رکھنے کے لیے ڈرامائی اسلوب اور مکالموں سے کہانی کوآگے بڑھایا ہے۔

         طارقشبنم کو کہانی کہنے کا فن آتا ہے۔ اس مجموعے میں موضوعاتی تنوع ہے۔ اسلوبی اور تکنیکیطور پر زیادہ باریک بینی سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ پورے مجموعے پرراست بیانیہ غالب ہےجو کہیں کہیں قاری کو اکتاہٹ پیداکرتا ہے۔ بہرحال میں ذاتی طور پر طارق شبنم کو اسپہلی کامیاب کوشش کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آئندہ بھی ان سے ہم نئی نگارشاتکی توقع رکھتے ہیں۔

         Address

Researchscholar  

Universityof Kashmir

Depttof Urdu ,

Pincode:190006

Cell:9622701103

تبصرہ:

کتاب کا نام:گمشدہ دولت (افسانوی مجموعہ)

مصنف:طارق شبنم  

تبصرہ نگار:عرفان رشید (ریسرچ اسکالر،شعبہٗ اردو،یونی ورسٹی آف کشمیر)

ای۔میل: irfanrasheedf@gmail.com

         جموںوکشمیر میں اردو فکشن کی ایک مستحکم اور شاندار تاریخ رہی ہے بلخصوص فنِ افسانہ نگاریکی۔ادبی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتا تاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسے افسانہ نگار بھیسامنے آئے ہیں جنہوں نے اس صنف میں قومی اور بین الاقوامی سطح کے ادبی منظر نامے پرایک گہری چھاپ قائم کی ہے۔جن میں محمد دین فوق،پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ در،تیرتھکاشمیری،سوم ناتھ ذتشی،علی محمد لون،قدرت اللہ شہاب،ٹھاکر پونچھی،پشکر ناتھ،نور شاہحامدی کاشمیری،وریندر پٹھواری،آنند لہر،دیپک بد کی، وحشی سعید،غلام نبی شاہد، ترنمریاض وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

         طارقشبنم کشمیر میں معاصر اردو افسانہ نگاری کے حوالے سے ایک بہترین نام ہے جو تقریباًہر ہفتے کشمیر عظمیٰ کے ادب نامہ میں ایک نئی تخلیق کے ساتھ چھپتے ہیں۔اصل نام طارقاحمد شیخ ہے لیکن ادبی حلقوں میں طارق شبنم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنےافسانوی سفر کا آغاز ۰۱۰۲ءمیں افسانہ ”مجبوری“ سے کیا ہے یہ افسانہ ”ہند سماچار“ جموں نے شائع کیا۔اب تک ان کےمتعدد افسانے رسائل و جرائد میں چھپ چکے ہیں۔

         زیرتبصرہ افسانوی مجموعہ ”گمشدہ دولت“ حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس مجمو عہ کوجی۔این۔کےپبلی کیشز(بڈگام،کشمیر) نے ۰۲۰۲ءمیں شائع کیا ہے۔یہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جس میں ۷۲ افسانےشامل ہیں جن میں بے درد زمانہ، اندھیرے اجالے، صدمہ، کہانی کا المیہ، دہشت کے سائے،اعتبار، گمشدہ دولت، مسیحا کی تلاش، نسخہ کیمیا، سنہرا پھنداوغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔  

                   افسانہ”بے درد زمانہ“ اس مجموعے کی پہلی کہانی ہے۔ یہ کہانی ایک مچھیرن ”سندری“ کی زندگیپر مبنی ہے۔ افسانہ نگار نے اس کہانی کے ذریعے ایک طرف سماج پر طنز کیا ہے کہ کس طرح سے ایک بے رحم سماج میں ایک مجبور، لاچار اور بے بس عورت کا مزاق اُڑیا جارہا ہے۔دوسری طرف اس افسانے میں یہاں کے گورنمنٹ اسپتالوں کا حقیقی نقشہ بھی کھینچا گیا ہےجس میں ”سندری“ جیسی سینکڑوں عورتیں استحصال کا شکار ہوجاتی ہیں۔کہانی کی آخری دو سطوراس کہانی کا کلایمکس بیان کرتاہیں:

”اسبے درد زمانے میں،میں اکیلی عورت بے سہارا عورت کیا کروں۔ کس سے مدد مانگوں، کہاں انصافڈھونڈوں،یہاں صرف پتھردل انسان ہیں، پتھر کے ضمیر ہیں، چاپلوسی، فریب،حرص اور خودغرضیہے“ (افسانہ: بے درد زمانہ)

         اساقتبا س سے کہانی کا روح مترشح ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے موجودہ سماج میں انسان ہی  انسانیت کا جنازہ نکالتاہے اور دنیا کے عقلمند اوردانش یافتہ لوگ اس چیز کالطف اُٹھا تے ہیں۔

         مذکورہکہانی کا پلاٹ منظم اور سادہ ہے۔ بیانیہ اسلوب کا خوبصورت امتزاج، خودکلامی اور فلشبیک تکنیک کا استعمال ہوا ہے۔ البتہ کہیں کہیں جملوں کی ساخت کمزور پڑ جاتی ہے لیکناس سے کہانی کی معنوعت اور وحدت تاثر میں کو ئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوجاتی ہے۔

          افسانہ”اندھیرے اجالے“میں کشمیر کے موجودہ حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس افسانےمیں علامت نگاری اور اشاروں اور کنایوں کی تکنیک سے کام لیا ہے۔ منظر کشی اس طرح سےکی گئی ہے کہ کشمیر کا نقش آنکھوں کے سامنے رقص کرتا ہو ا نظر آتا ہے۔ منظر کشی کےحوالے سے کہانی کا پہلا ہی اقتباس ملاحظہ کیجئے:

”ارےواہ۔۔۔کتنا حسین دل موہ لینے والا سماں ہے۔یہ باغ یہ گلستان کتنا خوبصورت ہے۔یہ رنگبہ رنگے پھول،یہ سر سبز پتوں والے درخت، یہ ننھی منی کونپلیں،یہ سبز مخملی چادر جیسابچھونا،یہ نیلے پانی کا جھرنا،یہ فلک بوس دلکش پہاڑیاں۔۔۔“

         اسافسانے میں طارق شبنم نے یہاں کے بزگوں،نوجوانوں اور بچوں کی نفسیات کو علامتی اندازمیں پیش کیا ہے:    

”اسدلکش باغ کے سبھی پھول مرجھا کیوں گئے ہیں؟ شبنم میں نہلائے ہوئے اس گلستان کے سارےپھول اتنے اداس کیوں ہیں؟ جیسے آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے۔۔ارے یہ کوئل،یہ بلبل،یہ بھنورے،یہہد ہد اتنے خاموش اور اداس اور اکھڑے اکھڑے کیوں ہیں؟

         مندرجہبالا اقتباس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے افسانہ نگار نے علامتی جامع میں یہاںکے عوام کی حقیقی زندگی کا آئینہ پیش کیا ہے۔ ”افسانہ صدمہ“میں بھی کشمیر کے آئے روزگولیوں اور لاشوں کا منظر نامہ پیش کیا ہے اور ’کاکا‘جن کا اصلی نام محمد شفیع ہے جیسےسینکڑوں ایسے ہوں گے جو ان حالات و واقعات کا شکار ہوئے ہونگے۔افسانہ’دہشت کے سائے‘میں بھی یہاں کے روز مرہ حالات و واقعات کا رونا رویا گیا ہے۔

         کشمیرکی ثقافت پر لکھا ہوا افسانہ ’آبرو‘ہے۔جس میں ایک مفلوک الحال گھرانے کو موضوع بحثبنا گیا ہے۔ اس افسانے میں ایک طرف قالین بننے کے کام کو دکھا یا گیا ہے تودوسری طرفاس وقت کے سماج کے سماج کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں پڑھائی کے مقابلے میں چھوٹے بچوںکو قالین بننے کے کام پر لگایا جاتا تھا۔یہ بھی ایک وجہ ہے کہ یہاں کا عوام بہت دیرتک تعلیم کے نور سے دور رہا۔

         طارقشبنم کے یہاں موضوعاتی تنوع دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہاں کے سیاسی، سماجی،اقتصادی اور معیشیت کو افسانے کے قالب میں ڈھالا ہے بلکہ انہوں نے ایسے افسانے بھیخلق کیے ہیں  جو بین الاقوامی وسعت رکھتے ہیں۔ایسا ہی ایک افسانہ ”اعتبار“ ہے۔ حالانکہ افسانہ بیانیہ تکنیک میں لکھا گیا ہے۔لیکنموضوعاتی اعتبار سے یہ ایک اچھوتا افسانہ ہے جس کی مثال خال خال ہی اردو افسانے میںنظر آئے گی۔ پورا افسانہ رومانوی اسلوب کی تار پود سے تیار کیا گیا ہے۔ افسانے میںماجد اور ثمینہ کی داستان محبت کا بیان ہواہے۔ ماجد اور ثمینہ بچپن سے لے کر بلوغتتک ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور کب ان کے درمیان محبت کا پھول کھل اُٹھا۔دونوں کو پتہ ہینہیں چلا۔ دونوں ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں لیکن انٹرنس میں ناکام ہوجاتے ہیں جس کا ساراخمیازہ ماجد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ثمینہ اس وجہ سے الگ ہوتی ہے انہیں ہر حال میں ڈاکٹربننا ہے۔آخر پر ثمینہ ڈاکٹر بن ہی جاتی ہے۔ لیکن جب یہ خبر ماجد نے سنی اسے یقین ہینہیں آیا۔ اس  نے جنرل لسٹ دیکھنے کے بعد جبثمینہ کا نام categoty listمیںدیکھا تو اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ کہانی کا آخری اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میںکہانی کا روح چھپا ہو ا ہے:

”ثمینہشاہباز۔۔۔وائف آف شہباز خان۔۔“

اورپتا کیا کالم میں ایک دور دراز پہاڑی علاقے کا نام درج تھا۔

”کیاایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم بھی کسی کیٹگری میں آسکیں۔۔۔مجھے ہر حال میں ڈاکٹر بننا ہےکسی بھی قیمت پر“۔

         اساقتباس سے مترشح ہوتا ہے کہ کس طرح سےcategoryوالےGeneralCategoryپر استحصال کرتے ہیں۔ شہباز خان کی فیملیشہر میں بسنے کے لیے آئے ہیں اور جب اس کا نکاح ثمینہ سے ہوتا ہے تو MBBSمیں ثمینہ بحیثیت شہباز خانکی بیوی فارم جمع کر تی ہے اور پتہ دور دراز پہاڑی جگہ کا اس لیے دیتی ہیں تاکہ Reservation برقرار رہے۔ حقیقیمعنوں میں افسانہ نگار اپنے قارئین کو باور کرانا چاہتا ہے کہ کن کن جگہوں اور مراحلپر انسان کے ساتھ استحصال کیا جاتا ہے۔ افسانہ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ اسمیں ایک طرف سے ان بچوں اور والدین پر بھی طنز ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹری سے آگےدنیا نہیں ہے۔تکنیکی نوعیت کے حوالے سے یہ افسانہ کافی مضبوط ہے۔ اس میں مکالماتی اندازاور ڈرامائی پن سے بھی کام لیا گیا ہے۔

         ”گمشدہدولت“ ایک انوکھے موضوع پر لکھا ہوا افسانہ ہے جس میں افسانہ نگار نے جنرل ٹام جو مریخسے اتر کر دنیا کا معاینہ کرنے آیا تھا۔ پہلے اسے انسان کی خوشحالی،سکون، آرام، دولت،خوبصورتی پر رشک آتا ہے لیکن جوں ہی وہ اس دنیا کا دوسرا رخ دیکھتاہے جو جدید سائنسیٹکنالوجی کا دور کہلا تا ہے جس میں ہتھیاروں اور ایٹم بموں کی وجہ سے ناحق انسانیتکا خون کیاجاتا ہے۔اس سے بے دل ہو کے مریخ پر واپس جانا پڑتا ہے۔  

         یہافسانہ موضوع کے لحاظ سے بہترین افسانہ ہے۔جس میں عصر حاضر کے انسان کی نفسیاتی حقیقتنگاری کو عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

         ”سنہراپھندا“بھی ایک اچھوتے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس میں انٹر نیٹ کے منفی اور مثبت پہلوؤںکو زیر بحث لایا گیا ہے۔ افسانہ نگار نے راحیلہ کے ذریعے ہمارے سماج کی ان لڑکیوں پرسوال کیا ہے جو اس آفت کے ذریعے اپنے گھر کو جہنم بنا دیتی ہیں۔موصوف اس بات پر زوردیتے ہیں کہ انٹرنیٹ ایک ایسا زہر ہے جس نےyouthکو اپنے لپیٹ میں لیا ہے۔اور ایسی کئی ’راحیلہ‘ہوں گی جو بظاہر نیک اور پرہیزگار ہوتی ہیں لیکن اس زہر کے آگے ہر انسان بے یارو مددگارثابت ہوتا ہے۔ اس لیے تخلیق کار دانستہ طور پر اپنے قارئین کو اس لعنت سے دور رکھنےکی کوشش کرتے ہیں۔

         ”کیمیاگھر“ اس مجموعے کی آخری کہانی ہے جس میں موجودہCOVID 19اور لاک ڈاون کو موضوع بنایا گیا ہے۔ قرأتکے دوران یہ افسانہ افسانے سے کہیں زیادہ ڈراما معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں افسانہنگار نے افسانوی پن کو برقرار رکھنے کے لیے ڈرامائی اسلوب اور مکالموں سے کہانی کوآگے بڑھایا ہے۔

         طارقشبنم کو کہانی کہنے کا فن آتا ہے۔ اس مجموعے میں موضوعاتی تنوع ہے۔ اسلوبی اور تکنیکیطور پر زیادہ باریک بینی سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ پورے مجموعے پرراست بیانیہ غالب ہےجو کہیں کہیں قاری کو اکتاہٹ پیداکرتا ہے۔ بہرحال میں ذاتی طور پر طارق شبنم کو اسپہلی کامیاب کوشش کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آئندہ بھی ان سے ہم نئی نگارشاتکی توقع رکھتے ہیں۔

         Address

Researchscholar  

Universityof Kashmir

Depttof Urdu ,

Pincode:190006

Cell:9622701103

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024