اعتراف
اعتراف
Jan 30, 2026


مصنف
شہباز حسین
نام: ڈاکٹر شہباز حسین پیدائش: فروری ۱۹۸۲ لاہور تعلیم: ایم بی بی ایس، ایم ایس سی، ایف سی پی ایس۔ ادبی صنف: شاعری، آزاد نظم، نثری نظم رہائش: لاہور
دیدبان شمارہ -31،
2025/دسمبر
اعتراف
شہباز
پا بریدہ پڑا ہوں۔
کویئ سائباں،
کویئ سایہ نہیں۔
دشت آزار میں
ایک مدت ہویئ
کویئ آیا نہیں۔
میرا ٹوٹا بدن !
میری تنہایئوں
کی گواہی بنا۔۔
آسماں کے خدا !
تھوڑی مدھم کرو
اپنے سورج کی لو۔
تھوڑا ہلکا کرو
اسکی تپتی ہویئ
بے اماں آنچ کو۔
میں !
بنا اذن پیدا
کیا جانے والا،
حزیں ،بے اماں اور دریدہ بدن،
تجھ سے نالاں تو ہوں
تیرا منکر نہیں۔
تیرا شاکی تو ہوں
تیرا کافر نہیں۔۔
شہباز....
حل
ہم نفس بات سنو گی میری۔
تھوڑا سا وقت عنائت ہو توبولوں میں بھی؟
یہ جولکھا ہے مقدّر میں یہ کس نے لکھٌا؟
میں نے لکھّا ہے؟
،کسی اور نے؟
یا تم نے لکھّا؟
جب یہ معلوم نہیں ہے تو لڑایئ کیسی؟
جھگڑا کس بات کاہےاور گلہ ہےکیسا؟
-تیری آنکھوں میں بھی رقصاں ہے کسی آس کی لَو!
میں بھی اس شہر ِخرابات کا ایندھن ٹھہرا
تو بھی زنداں میں ہے اک نفس حزیں کی مانند
میرا چہرا بھی فقط یاس کا مسکن ٹھہرا
ہم نفس!
کس سے کہیں کسی سے رہایئ مانگیں ؟
کس کی چوکھٹ پہ دھریں سر کو، دھایئ ڈالیں؟
اک مگر حل ہے مرے پاس اگر مانو تم بھی!
کیوں نا ہم دونوں کسی ایک خدا کو مانیں
سب گلے شکوے یہ سب رنج کے آزار کے دن
اس کے سر تھوپ کر آرام سے خود سو جایئں-
ایک دوجے کی نگاہوں میں کہیں کھو جایئں۔
ہم نفس بات سنو گی میری!!
شہباز
.....
ابو
صبح اٹھا تو
ساماں اپنا باندھ چکا تھا بوڑھا برگد
عینک لاٹھی گھڑی دوایئں
انہیلر اور نیلا مفلر
سب ریڈی تھا
ویل چیئر بھی پاس پڑی تھی
چائے کی اک چسکی لیتے
نم آنکھوں سے بول رہا تھا بوڑھا برگد
"بیٹا دنیا چھوٹی سی ہےپھر آؤں گا"
ایئر پورٹ پر بوسہ لے کے وداع کیاتو
نیلا پانی امڈ پڑا آنکھوں سے میری
ضبط کیاکہ
وقت کھڑا تھاسامنے ہی واں کچھ قدموں پر
دیکھ رہا تھا منظر سارا
ہنس رہا تھا شاید مجھ پہ؟؟
(وقت وہ جس کی قید میں ہیں یہ رشتے سارے)
واپس آ کر
بوڑھے برگد کے تکیے سے ٹیک لگا کربیٹھا تو
محسوس ہوا کہ
بوڑھا برگد جاتے جاتے
چھاؤں اپنی چھوڑ گیا ہےمیری خاطر
شہباز....
چیخ
ہلکی ہلکی بارش،
ٹپ ٹپ،
تنہایٔی اور
گُھپ اندھیرا۔
رات کے پچھلے پہر میں دستک
دروازے پر!
چونک پڑا،
دروازہ کھولا،
سامنے میرے،
بال بکھیرے،
ننگے پاؤں،
پھٹے پرانے کپڑے پہنے،
"چیخ" کھڑی تھی!!
چیخ!
وہ جس کو
برسوں پہلے دفن کیا تھا،
اپنے اندر!!!
شہباز
دیدبان شمارہ -31،
2025/دسمبر
اعتراف
شہباز
پا بریدہ پڑا ہوں۔
کویئ سائباں،
کویئ سایہ نہیں۔
دشت آزار میں
ایک مدت ہویئ
کویئ آیا نہیں۔
میرا ٹوٹا بدن !
میری تنہایئوں
کی گواہی بنا۔۔
آسماں کے خدا !
تھوڑی مدھم کرو
اپنے سورج کی لو۔
تھوڑا ہلکا کرو
اسکی تپتی ہویئ
بے اماں آنچ کو۔
میں !
بنا اذن پیدا
کیا جانے والا،
حزیں ،بے اماں اور دریدہ بدن،
تجھ سے نالاں تو ہوں
تیرا منکر نہیں۔
تیرا شاکی تو ہوں
تیرا کافر نہیں۔۔
شہباز....
حل
ہم نفس بات سنو گی میری۔
تھوڑا سا وقت عنائت ہو توبولوں میں بھی؟
یہ جولکھا ہے مقدّر میں یہ کس نے لکھٌا؟
میں نے لکھّا ہے؟
،کسی اور نے؟
یا تم نے لکھّا؟
جب یہ معلوم نہیں ہے تو لڑایئ کیسی؟
جھگڑا کس بات کاہےاور گلہ ہےکیسا؟
-تیری آنکھوں میں بھی رقصاں ہے کسی آس کی لَو!
میں بھی اس شہر ِخرابات کا ایندھن ٹھہرا
تو بھی زنداں میں ہے اک نفس حزیں کی مانند
میرا چہرا بھی فقط یاس کا مسکن ٹھہرا
ہم نفس!
کس سے کہیں کسی سے رہایئ مانگیں ؟
کس کی چوکھٹ پہ دھریں سر کو، دھایئ ڈالیں؟
اک مگر حل ہے مرے پاس اگر مانو تم بھی!
کیوں نا ہم دونوں کسی ایک خدا کو مانیں
سب گلے شکوے یہ سب رنج کے آزار کے دن
اس کے سر تھوپ کر آرام سے خود سو جایئں-
ایک دوجے کی نگاہوں میں کہیں کھو جایئں۔
ہم نفس بات سنو گی میری!!
شہباز
.....
ابو
صبح اٹھا تو
ساماں اپنا باندھ چکا تھا بوڑھا برگد
عینک لاٹھی گھڑی دوایئں
انہیلر اور نیلا مفلر
سب ریڈی تھا
ویل چیئر بھی پاس پڑی تھی
چائے کی اک چسکی لیتے
نم آنکھوں سے بول رہا تھا بوڑھا برگد
"بیٹا دنیا چھوٹی سی ہےپھر آؤں گا"
ایئر پورٹ پر بوسہ لے کے وداع کیاتو
نیلا پانی امڈ پڑا آنکھوں سے میری
ضبط کیاکہ
وقت کھڑا تھاسامنے ہی واں کچھ قدموں پر
دیکھ رہا تھا منظر سارا
ہنس رہا تھا شاید مجھ پہ؟؟
(وقت وہ جس کی قید میں ہیں یہ رشتے سارے)
واپس آ کر
بوڑھے برگد کے تکیے سے ٹیک لگا کربیٹھا تو
محسوس ہوا کہ
بوڑھا برگد جاتے جاتے
چھاؤں اپنی چھوڑ گیا ہےمیری خاطر
شہباز....
چیخ
ہلکی ہلکی بارش،
ٹپ ٹپ،
تنہایٔی اور
گُھپ اندھیرا۔
رات کے پچھلے پہر میں دستک
دروازے پر!
چونک پڑا،
دروازہ کھولا،
سامنے میرے،
بال بکھیرے،
ننگے پاؤں،
پھٹے پرانے کپڑے پہنے،
"چیخ" کھڑی تھی!!
چیخ!
وہ جس کو
برسوں پہلے دفن کیا تھا،
اپنے اندر!!!

