دنیائے ادب کا ایک لازوال نام۔۔۔ثمینہ سید

دنیائے ادب کا ایک لازوال نام۔۔۔ثمینہ سید

Apr 29, 2026


دیدبان ثمینہ سید نمبر

دنیائے ادب کا ایک لازوال نام۔۔۔ثمینہ سید

تحریر: کنول بہزاد

ثمینہ سید اور میں بہت عرصے سے فیس بک پر ساتھ ساتھ تھے ۔ ادبی تقریبات میں چند سرسری ملاقاتیں روبرو ضرور ہوئی تھیں مگر باقاعدہ بات چیت یا گفتگو نہیں ہو پائی تھی۔

کووڈ کے زمانے کی بات ہے ۔۔۔جنگ میں بالاقساط چھپنے والا میرا ناول" نین تیرے انجان " کتابی شکل میں آیا تو ثمینہ سید نے مجھے فون کیا مبارک باد دی اور کہا کہ مجھے اپنا ناول بھیجیں۔۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہ خود میرے ناول میں دلچسپی لے رہی ہیں ۔۔۔میں نے کہا ضرور میں آپ کو جلد بھجواتی ہوں۔۔۔ ان دنوں میں اقبال ٹاؤن کریم بلاک میں رہتی تھی اور وہ کامران بلاک میں رہائش پذیر تھیں ۔۔۔شاید میں نے بیٹے یا اپنے میاں کی ہاتھ ناول انہیں بھجوایا تھا ۔۔۔چند روز بعد ان کا ناول پر بڑا خوبصورت اور دل نشیں تبصرہ موصول ہوا۔۔۔ مجھے لگا جیسے ثمینہ نے میرے دل کی ساری باتیں جان لیں کہ میں نے یہ ناول کیوں لکھا۔۔۔ اس میں موجود کچھ خاص جملوں ، کچھ خاص پیراگرافوں کا کیا پس منظر کیا تھا ۔۔۔۔وہ حساس دل تخلیق کار جیسے سب جان گئی تھی ۔۔۔گویا دل کی آنکھ سے پڑھ لیا تھا سب۔۔۔

میں نے شکریہ ادا کرنے کے لیے فون کیا تو بڑی خوش دلی سے بات کرتی رہیں ۔۔۔ان کا مزاج ایسا تھا کہ جھٹ سے ہم سب ان سےاپنائیت اور محبت محسوس کرنے لگتے تھے ۔۔۔

میں نے کچھ ہی عرصے بعد گھر پر ایک تقریب رکھی جس میں لاہور کی تقریباً سب اہم لکھنے والی خواتین موجود تھیں ، ثمینہ بھی بڑی محبت سے شامل ہوئیں ۔۔۔وہ بڑی یادگار محفل تھی۔۔۔ثمینہ اپنی خوش مزاجی اور بذلہ سنجی سے ماحول پہ چھائی رہیں ۔۔۔تب سے ہم دوستی کے رشتے میں بندھ گئے اور ہمیشہ رابطے میں رہے ۔۔۔

سانولی سلونی ، تیکھے نینوں والی ثمینہ کا ظاہر و باطن بڑا اجلا تھا ۔۔۔

جہاں بھی دوست مل بیٹھتے سب کو برابر اہمیت دیتیں۔۔۔کبھی کسی کو یہ شکوہ نہ ہوا کہ ثمینہ نے مجھے نظر انداز کیا ۔۔۔ورنہ تو دیکھا گیا ہے کہ دوسرے کو بولنے کا موقع ہی کم دیا جاتا ہے ۔۔۔بس اپنی اپنی ڈفلی ، اپنا اپنا راگ والا معاملہ ہوتا ہے ۔۔۔

سئنیرز ، جونیئرز ،ہم عصر سبھی کے مراتب کا خیال رکھتی تھیں ۔۔۔ان میں تعصب نام کو نہیں تھا۔۔۔وہ راستے اور پل بنانے والی انسان تھیں ۔۔۔ایک بار یوں ہوا کہ میری اور ان کی ایک مشترکہ دوست کے درمیان چھوٹی موٹی رنجش ہو گئی ۔۔۔

بڑی پریشانی میں ان کا فون آیا ۔۔۔" کنول ۔۔۔ہماری دوست بڑی بیمار ہے ، آپ نے رابطہ کیا ، حال پوچھا ۔۔۔"

میں نے کہا۔۔۔" ثمینہ ڈئیر ۔۔۔ان کو ڈاکٹر میں نے ہی ریکمنڈ کیا ہے ۔۔۔اب بہتر ہیں ۔۔۔میں رابطے میں ہوں ان کے۔۔۔پریشان نہ ہوں ۔۔۔"

تب انہیں جاکر تسلی ہوئی کہ میں بھی ان کی طرح رنجش دل میں زیادہ دیر نہیں پالتی۔۔۔ثمینہ کی مسکراہٹ بڑی دلنواز تھی۔۔۔اور زندگی سے بھرپور قہقہے تو اور بھی پُرکشش ۔۔۔

ثمینہ نے زندگی بتائی نہیں ۔۔۔بھرپور طریقے سے جی تھی۔۔۔درد ان کے اندر کرلاتے تھے ۔۔۔جن کا عکس ان تحریروں اور شاعری میں دکھائی دیتا تھا ، لیکن ان کی شخصیت میں اس درد کی کہیں جھلک نظر نہ آتی تھی ۔۔۔

چھوٹی سی عمر میں جیون ساتھی کی دائمی جدائی ، دو ننھے بچوں کا ساتھ ، ملازمت ، ادبی دنیا میں نام بنانے کی جدو جہد سب آسان کہاں تھا ، ثمینہ تمام عمر چو مکھی لڑتی رہیں ۔۔۔پھر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے محنت ۔۔۔اور ایم فل بھی کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے کیا ۔۔۔ایسی ہمت ، ایسا حوصلہ جانے کہاں سے لاتی تھیں ۔۔۔

دو ہزار بائیس میں کینسر کے بارے میں پتہ چلا ۔۔۔کس کس تکلیف سے نہ گزریں ۔۔۔مگر کبھی شکوہ لبوں پر نہ لائیں نہ منھ سے کبھی ہائے نکلی۔۔۔

انہیں یہ پسند نہ تھا کہ بیماری کے دوران کوئی ان سے ملنے آئے ۔۔۔سو کم کم ملاقات ہوئی ۔۔۔تکیوں کے سہارے بیٹھ کر ، کمزور سی ثمینہ کی مسکراہٹ آخر وقت تک قائم رہی ۔۔۔

ثمینہ نے بہت لکھا ۔۔۔شاعری ، نثر ، مضامین ہر صنف میں اپنا لوہا منوایا اور خوب منوایا ۔۔۔ابھی جیتی رہتیں تو جانے کتنا اور لکھتیں۔۔۔انہیں قدرت کی طرف سے بے انتہا خوبصورت لکھنے کی صلاحیت عطا ہوئی تھی اور انہوں نے اس خداداد صلاحیت سے دنیائے ادب میں تاریخ رقم کر دی ۔۔۔ان کا ادبی اثاثہ لازوال ہے اور زندگی ہم سب کے لیے مشعل راہ ۔۔۔

سچ ہے ثمینہ ہم آپ کو کبھی نہیں بھول پائیں گے ۔۔۔آپ کا ہنستا مسکراتا چہرہ سدا دل میں جگمگاتا رہے گا اور دعا کے لیے اٹھے ہاتھ آپ کے نام کی مالا پروتے رہیں گے ۔۔۔

اور کچھ بھی تو نہیں اس کے سوا چاہتی ہوں

ایک اُمید کا جگنو یا دیا چاہتی ہوں

تُو نے وعدوں کے بھروسے کا بھرم توڑ دیا

اب کہاں تُجھ سے کوئی عہدِ وفا چاہتی ہوں؟

خود کو ہم چاہ کے بھی روکے ہوئے رہتے ہیں

وہ ہے خود دار تو میں اپنی انا چاہتی ہوں

میرے ہم عصر دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں

مر کے زندہ رہوں میں ایسی فنا چاہتی ہوں

ہر کسی شئے کو ہے اک دن یہاں مٹی ہونا

اپنی تحریر میں رہ کر میں بقا چاہتی ہوں

اب ہتھیلی پہ کوئی جچتا نہیں نقش و نگار

اب تو خود میں بھی نہیں رنگِ حنا چاہتی ہوں

سوچتی رہتی ہُوں کیا جرم ہوا ہے مجھ سے

قید تنہائی میں ہوں اور سزا چاہتی ہوں

ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا

اب ثمینہ میں فقط سب کی دعا چاہتی ہوں

ثمینہ سید



دیدبان ثمینہ سید نمبر

دنیائے ادب کا ایک لازوال نام۔۔۔ثمینہ سید

تحریر: کنول بہزاد

ثمینہ سید اور میں بہت عرصے سے فیس بک پر ساتھ ساتھ تھے ۔ ادبی تقریبات میں چند سرسری ملاقاتیں روبرو ضرور ہوئی تھیں مگر باقاعدہ بات چیت یا گفتگو نہیں ہو پائی تھی۔

کووڈ کے زمانے کی بات ہے ۔۔۔جنگ میں بالاقساط چھپنے والا میرا ناول" نین تیرے انجان " کتابی شکل میں آیا تو ثمینہ سید نے مجھے فون کیا مبارک باد دی اور کہا کہ مجھے اپنا ناول بھیجیں۔۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہ خود میرے ناول میں دلچسپی لے رہی ہیں ۔۔۔میں نے کہا ضرور میں آپ کو جلد بھجواتی ہوں۔۔۔ ان دنوں میں اقبال ٹاؤن کریم بلاک میں رہتی تھی اور وہ کامران بلاک میں رہائش پذیر تھیں ۔۔۔شاید میں نے بیٹے یا اپنے میاں کی ہاتھ ناول انہیں بھجوایا تھا ۔۔۔چند روز بعد ان کا ناول پر بڑا خوبصورت اور دل نشیں تبصرہ موصول ہوا۔۔۔ مجھے لگا جیسے ثمینہ نے میرے دل کی ساری باتیں جان لیں کہ میں نے یہ ناول کیوں لکھا۔۔۔ اس میں موجود کچھ خاص جملوں ، کچھ خاص پیراگرافوں کا کیا پس منظر کیا تھا ۔۔۔۔وہ حساس دل تخلیق کار جیسے سب جان گئی تھی ۔۔۔گویا دل کی آنکھ سے پڑھ لیا تھا سب۔۔۔

میں نے شکریہ ادا کرنے کے لیے فون کیا تو بڑی خوش دلی سے بات کرتی رہیں ۔۔۔ان کا مزاج ایسا تھا کہ جھٹ سے ہم سب ان سےاپنائیت اور محبت محسوس کرنے لگتے تھے ۔۔۔

میں نے کچھ ہی عرصے بعد گھر پر ایک تقریب رکھی جس میں لاہور کی تقریباً سب اہم لکھنے والی خواتین موجود تھیں ، ثمینہ بھی بڑی محبت سے شامل ہوئیں ۔۔۔وہ بڑی یادگار محفل تھی۔۔۔ثمینہ اپنی خوش مزاجی اور بذلہ سنجی سے ماحول پہ چھائی رہیں ۔۔۔تب سے ہم دوستی کے رشتے میں بندھ گئے اور ہمیشہ رابطے میں رہے ۔۔۔

سانولی سلونی ، تیکھے نینوں والی ثمینہ کا ظاہر و باطن بڑا اجلا تھا ۔۔۔

جہاں بھی دوست مل بیٹھتے سب کو برابر اہمیت دیتیں۔۔۔کبھی کسی کو یہ شکوہ نہ ہوا کہ ثمینہ نے مجھے نظر انداز کیا ۔۔۔ورنہ تو دیکھا گیا ہے کہ دوسرے کو بولنے کا موقع ہی کم دیا جاتا ہے ۔۔۔بس اپنی اپنی ڈفلی ، اپنا اپنا راگ والا معاملہ ہوتا ہے ۔۔۔

سئنیرز ، جونیئرز ،ہم عصر سبھی کے مراتب کا خیال رکھتی تھیں ۔۔۔ان میں تعصب نام کو نہیں تھا۔۔۔وہ راستے اور پل بنانے والی انسان تھیں ۔۔۔ایک بار یوں ہوا کہ میری اور ان کی ایک مشترکہ دوست کے درمیان چھوٹی موٹی رنجش ہو گئی ۔۔۔

بڑی پریشانی میں ان کا فون آیا ۔۔۔" کنول ۔۔۔ہماری دوست بڑی بیمار ہے ، آپ نے رابطہ کیا ، حال پوچھا ۔۔۔"

میں نے کہا۔۔۔" ثمینہ ڈئیر ۔۔۔ان کو ڈاکٹر میں نے ہی ریکمنڈ کیا ہے ۔۔۔اب بہتر ہیں ۔۔۔میں رابطے میں ہوں ان کے۔۔۔پریشان نہ ہوں ۔۔۔"

تب انہیں جاکر تسلی ہوئی کہ میں بھی ان کی طرح رنجش دل میں زیادہ دیر نہیں پالتی۔۔۔ثمینہ کی مسکراہٹ بڑی دلنواز تھی۔۔۔اور زندگی سے بھرپور قہقہے تو اور بھی پُرکشش ۔۔۔

ثمینہ نے زندگی بتائی نہیں ۔۔۔بھرپور طریقے سے جی تھی۔۔۔درد ان کے اندر کرلاتے تھے ۔۔۔جن کا عکس ان تحریروں اور شاعری میں دکھائی دیتا تھا ، لیکن ان کی شخصیت میں اس درد کی کہیں جھلک نظر نہ آتی تھی ۔۔۔

چھوٹی سی عمر میں جیون ساتھی کی دائمی جدائی ، دو ننھے بچوں کا ساتھ ، ملازمت ، ادبی دنیا میں نام بنانے کی جدو جہد سب آسان کہاں تھا ، ثمینہ تمام عمر چو مکھی لڑتی رہیں ۔۔۔پھر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے محنت ۔۔۔اور ایم فل بھی کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے کیا ۔۔۔ایسی ہمت ، ایسا حوصلہ جانے کہاں سے لاتی تھیں ۔۔۔

دو ہزار بائیس میں کینسر کے بارے میں پتہ چلا ۔۔۔کس کس تکلیف سے نہ گزریں ۔۔۔مگر کبھی شکوہ لبوں پر نہ لائیں نہ منھ سے کبھی ہائے نکلی۔۔۔

انہیں یہ پسند نہ تھا کہ بیماری کے دوران کوئی ان سے ملنے آئے ۔۔۔سو کم کم ملاقات ہوئی ۔۔۔تکیوں کے سہارے بیٹھ کر ، کمزور سی ثمینہ کی مسکراہٹ آخر وقت تک قائم رہی ۔۔۔

ثمینہ نے بہت لکھا ۔۔۔شاعری ، نثر ، مضامین ہر صنف میں اپنا لوہا منوایا اور خوب منوایا ۔۔۔ابھی جیتی رہتیں تو جانے کتنا اور لکھتیں۔۔۔انہیں قدرت کی طرف سے بے انتہا خوبصورت لکھنے کی صلاحیت عطا ہوئی تھی اور انہوں نے اس خداداد صلاحیت سے دنیائے ادب میں تاریخ رقم کر دی ۔۔۔ان کا ادبی اثاثہ لازوال ہے اور زندگی ہم سب کے لیے مشعل راہ ۔۔۔

سچ ہے ثمینہ ہم آپ کو کبھی نہیں بھول پائیں گے ۔۔۔آپ کا ہنستا مسکراتا چہرہ سدا دل میں جگمگاتا رہے گا اور دعا کے لیے اٹھے ہاتھ آپ کے نام کی مالا پروتے رہیں گے ۔۔۔

اور کچھ بھی تو نہیں اس کے سوا چاہتی ہوں

ایک اُمید کا جگنو یا دیا چاہتی ہوں

تُو نے وعدوں کے بھروسے کا بھرم توڑ دیا

اب کہاں تُجھ سے کوئی عہدِ وفا چاہتی ہوں؟

خود کو ہم چاہ کے بھی روکے ہوئے رہتے ہیں

وہ ہے خود دار تو میں اپنی انا چاہتی ہوں

میرے ہم عصر دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں

مر کے زندہ رہوں میں ایسی فنا چاہتی ہوں

ہر کسی شئے کو ہے اک دن یہاں مٹی ہونا

اپنی تحریر میں رہ کر میں بقا چاہتی ہوں

اب ہتھیلی پہ کوئی جچتا نہیں نقش و نگار

اب تو خود میں بھی نہیں رنگِ حنا چاہتی ہوں

سوچتی رہتی ہُوں کیا جرم ہوا ہے مجھ سے

قید تنہائی میں ہوں اور سزا چاہتی ہوں

ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا

اب ثمینہ میں فقط سب کی دعا چاہتی ہوں

ثمینہ سید


خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024