زن زندگی کی زنان مشرق

زن زندگی کی زنان مشرق

Apr 29, 2026


یدبان ثمینہ سید نمبر

زن زندگی کی زنان مشرق

تحریر: سبین علی


فرض کر لیجیے ان دنوں بطور قاری میں کچھ زیادہ حساس ہوں۔ فرض کر لیجیے ایسا کچھ نہیں وہی پرانی سبین جسے اچھا کریٹک سمجھا جاتا تھا وہی ہے لیکن پھر بھی ثمینہ سید کی اس کتاب نے مجھے بہت اداس اور غمزدہ کیا۔

اس سرما کے آغاز میں ثمینہ کی دوسری کیموتھراپی چل رہی تھی ۔ انہیں دنوں ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنی تین کتابوں کا تحفہ دیا۔ ان کی چوتھی تخلیق شوال بھی باعلم ماں کی گود اور تربیت کی عکاس تھی۔

سردیوں کی طویل خنک راتیں اور جرعہ جرعہ چائے کے ساتھ سطر سطر کتب کا مطالعہ شروع ہوا۔

زن زندگی ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ہے۔ یوں تو ہر کہانی ہر افسانہ اپنی ہیت میں الگ اور آزاد ہے مگر میرے لیے یہ پوری کتاب فقط ایک کہانی ہے۔ کہانی جو کسی عورت کی بپتا ہے۔ وہ ماں ہے۔ وہ بیوی ہے وہ بہن ہے۔ وہ کمسن لڑکیوں کی استانی ہے جنہیں سماج پیسے کی ہوس میں جسم فروشی تک لے جاتا ہے جنہیں ایک استاد جڑ سے ختم کرنے کو ہاتھ میں نشتر پکڑ لیتی ہے۔ وہ ایک بیوہ ماں ہےجو اولاد کے سامنے مرحوم باپ کی اعلی تصویر کشی کر کے بعد از مرگ بھی رشتوں کا بھرم رکھتی ہے۔ وہ ماں ہے جو مشقت سے اولاد کو پال کر بڑھاپے میں تنہائی اور لا تعلقی کے زہر سے نیلو نیل ہے۔ وہ محبوبہ ہے جس کے شوہر کو خاندان سے رخصتی سے قبل قتل کروا دیا وہ کسی دربار پر مجاور بنی بیبی ہے جس کی دوسروں کے لیے مانگی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ جس کی اپنی جھولی میں سو چھید ہیں مگر پھیلتی ہے تو اووروں کے لیے ۔


یا پھر وہ ایسی محبوبہ ہے جسے شادی شدہ مرد اپنے بستر کی زینت بنا اسے گالی دے کر پھر اپنے خاندان اپنے بیوی بچوں کے پاس لوٹ جائے۔

وہ بیوی ہے کہ کبھی کبھار کی قربت کے لمحات میں شوہر اسے اپنی کسی محبوبہ کے نام سے پکار کر رد و قبول کی سولی پر چڑھا جاتا ہے۔

وہ بستر مرگ پر پڑی ماں ہے جس کی اولاد تھک کر اسکی آسان موت کی تمنا کرتی ہے۔

یہ ساری زنان مشرق ایک جیسی ہی تو ہیں ۔

کیا ان میں کوئی فرق ہے ؟

سب اپنے اپنے طریقے سے قربانیاں ہی تو دے رہی ہیں۔ اس کتاب میں مجھے کوئی ایسی عورت نہیں ملی جس نے زندگی اپنی خوشی اور خوش اسلوبی سے گزاری ہو۔

تصویر کا دوسرا رخ اس کتاب میں زنان مشرق کے علاوہ گاڑی کا دوسرا پہیہ مرد بھی شامل ہے مگر مجہول صورت میں دھیمے نقوش میں ۔ جبکہ بین السطور زن زندگی کی عورت کسی باوقار ہمسفر کسی محافظ اور احساس کرنے والے مرد کی تلاش میں نظر آتی ہے۔

اس کتاب کو اردو کے نسائی ادب کی ذیل میں ایک عمدہ اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ زن زندگی کتاب میں بائیس افسانے، پیش لفظ اور ثمینہ سید کی افسانہ نگاری کی بابت منیر عباس سپرا کا سیر حاصل مضمون شامل ہے۔ کتاب سانجھ پبلی کیشنز نے شائع کی ہے۔ عمدہ سرورق اور طباعت بھی خوب ہے۔


یدبان ثمینہ سید نمبر

زن زندگی کی زنان مشرق

تحریر: سبین علی


فرض کر لیجیے ان دنوں بطور قاری میں کچھ زیادہ حساس ہوں۔ فرض کر لیجیے ایسا کچھ نہیں وہی پرانی سبین جسے اچھا کریٹک سمجھا جاتا تھا وہی ہے لیکن پھر بھی ثمینہ سید کی اس کتاب نے مجھے بہت اداس اور غمزدہ کیا۔

اس سرما کے آغاز میں ثمینہ کی دوسری کیموتھراپی چل رہی تھی ۔ انہیں دنوں ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنی تین کتابوں کا تحفہ دیا۔ ان کی چوتھی تخلیق شوال بھی باعلم ماں کی گود اور تربیت کی عکاس تھی۔

سردیوں کی طویل خنک راتیں اور جرعہ جرعہ چائے کے ساتھ سطر سطر کتب کا مطالعہ شروع ہوا۔

زن زندگی ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ہے۔ یوں تو ہر کہانی ہر افسانہ اپنی ہیت میں الگ اور آزاد ہے مگر میرے لیے یہ پوری کتاب فقط ایک کہانی ہے۔ کہانی جو کسی عورت کی بپتا ہے۔ وہ ماں ہے۔ وہ بیوی ہے وہ بہن ہے۔ وہ کمسن لڑکیوں کی استانی ہے جنہیں سماج پیسے کی ہوس میں جسم فروشی تک لے جاتا ہے جنہیں ایک استاد جڑ سے ختم کرنے کو ہاتھ میں نشتر پکڑ لیتی ہے۔ وہ ایک بیوہ ماں ہےجو اولاد کے سامنے مرحوم باپ کی اعلی تصویر کشی کر کے بعد از مرگ بھی رشتوں کا بھرم رکھتی ہے۔ وہ ماں ہے جو مشقت سے اولاد کو پال کر بڑھاپے میں تنہائی اور لا تعلقی کے زہر سے نیلو نیل ہے۔ وہ محبوبہ ہے جس کے شوہر کو خاندان سے رخصتی سے قبل قتل کروا دیا وہ کسی دربار پر مجاور بنی بیبی ہے جس کی دوسروں کے لیے مانگی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ جس کی اپنی جھولی میں سو چھید ہیں مگر پھیلتی ہے تو اووروں کے لیے ۔


یا پھر وہ ایسی محبوبہ ہے جسے شادی شدہ مرد اپنے بستر کی زینت بنا اسے گالی دے کر پھر اپنے خاندان اپنے بیوی بچوں کے پاس لوٹ جائے۔

وہ بیوی ہے کہ کبھی کبھار کی قربت کے لمحات میں شوہر اسے اپنی کسی محبوبہ کے نام سے پکار کر رد و قبول کی سولی پر چڑھا جاتا ہے۔

وہ بستر مرگ پر پڑی ماں ہے جس کی اولاد تھک کر اسکی آسان موت کی تمنا کرتی ہے۔

یہ ساری زنان مشرق ایک جیسی ہی تو ہیں ۔

کیا ان میں کوئی فرق ہے ؟

سب اپنے اپنے طریقے سے قربانیاں ہی تو دے رہی ہیں۔ اس کتاب میں مجھے کوئی ایسی عورت نہیں ملی جس نے زندگی اپنی خوشی اور خوش اسلوبی سے گزاری ہو۔

تصویر کا دوسرا رخ اس کتاب میں زنان مشرق کے علاوہ گاڑی کا دوسرا پہیہ مرد بھی شامل ہے مگر مجہول صورت میں دھیمے نقوش میں ۔ جبکہ بین السطور زن زندگی کی عورت کسی باوقار ہمسفر کسی محافظ اور احساس کرنے والے مرد کی تلاش میں نظر آتی ہے۔

اس کتاب کو اردو کے نسائی ادب کی ذیل میں ایک عمدہ اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ زن زندگی کتاب میں بائیس افسانے، پیش لفظ اور ثمینہ سید کی افسانہ نگاری کی بابت منیر عباس سپرا کا سیر حاصل مضمون شامل ہے۔ کتاب سانجھ پبلی کیشنز نے شائع کی ہے۔ عمدہ سرورق اور طباعت بھی خوب ہے۔

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024