فرح کامران کا شعری مجموعہ "سرخ شام کا دیا"
فرح کامران کا شعری مجموعہ "سرخ شام کا دیا"
Feb 4, 2026
مصوّر-اسرار فاروقی


دیدبان شمارہ- 32
جنوری-2026
فرح کامران کا شعری مجموعہ "سرخ شام کا دیا"
نسترن احسن فتیحی
فرح کامران کا شعری مجموعہ "سرخ شام کا دیا" ایک خوبصورت اور احساس سے بھرپور گل دستہ ہے، جس میں نظموں اور غزلوں کا امتزاج قاری کو ایک نئی شعری دنیا کی سیر کرواتا ہے۔ یہ مجموعہ فرح کامران کی تخلیقی صلاحیتوں کا عمدہ نمونہ ہے، جہاں وہ جذباتی گہرائی، لسانی خوبصورتی اور معاصر مسائل کو شاعرانہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔
کتاب کی ظاہری خوبصورتی واقعی متاثر کن ہے۔ عنوان "سرخ شام کا دیا" کی مناسبت سے سرورق سرخ رنگ سے آراستہ کیا گیا ہے، جو شام کی سرخی، جذبات کی شدت اور روشنی کی علامت کو خوبصورت طریقے سے ظاہر کرتا ہے۔ میٹر لنکس پبلیشرز نے اس کی اشاعتی ذمہ داریاں بہترین انداز میں نبھائی ہیں—نفیس کاغذ، مناسب فونٹ اور مجموعی ڈیزائن سے کتاب کو ایک پرکشش شکل دی گئی ہے۔ یہ اردو شعری مجموعوں میں ایک مثبت مثال ہے کہ کتاب نہ صرف پڑھنے کے لیے بلکہ دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بھی خوبصورت ہو سکتی ہے۔
مجموعے کے شروع میں شعری انتساب قاری کی توجہ فوراً اپنی طرف کھینچتا ہے، جو شاعرہ کے جذبات اور عہد کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے بعد حرفِ چند (پیش لفظ) میں فرح کامران خود اپنے تخلیقی ذہن کی جھلک دکھاتی ہیں—یہ مختصر مگر گہرا متن ان کی شاعری کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتا ہے، جو قاری کو مطالعے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر دیتا ہے۔
فرح کامران کی نظمیں خاص طور پر متاثر کن ہیں۔ ان میں جذباتی شدت، استعاراتی زبان اور روزمرہ کی زندگی کی گہرائی نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر ان کی نظم "شب خون" میں یہ سطریں:
رات اندھیری یاد نے اس کی زور سے دروازہ کھڑکایا میں نے دل کے حجرے کی چلمن سرکائی وہ آنکھوں میں دیپ جلائے من آنگن میں جھانک رہا تھا
یہ سطریں تنہائی، یادوں کی آمد اور دل کی بے چینی کو انتہائی خوبصورت اور زندہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہاں "یاد کا دروازہ کھڑکانا" اور "آنکھوں میں دیپ جلانا" جیسے استعارے شاعرہ کی تخلیقی قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسی طرح ان کی غزلیں بھی تخلیقیت اور روایتی شعری حسن کا خوبصورت امتزاج ہیں۔ وہ غزل کی روایتی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی تصاویر اور احساسات سے مزین کرتی ہیں، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
کشور ناہید، غلام حسین ساجد اور شہلا نقوی کے بے باک تبصرے کتاب کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں ، جو مجموعے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ تبصرے نہ صرف شاعرہ کی کاوشوں کی توثیق کرتے ہیں بلکہ قاری کو شاعری کے گہرے معنی سمجھنے میں مدد بھی دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر، "سرخ شام کا دیا" فرح کامران کی ایک قابلِ فخر کاوش ہے جو اردو شاعری کے جدید منظر نامے کو پیش کرتی ہے۔ یہ مجموعہ ان قارئین کے لیے خاص طور پر لائقِ مطالعہ ہے جو جذباتی گہرائی، خوبصورت زبان اور معاصر شعور سے مزین شاعری پسند کرتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف پڑھنے کی بلکہ بار بار لوٹ کر محسوس کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیدبان شمارہ- 32
جنوری-2026
فرح کامران کا شعری مجموعہ "سرخ شام کا دیا"
نسترن احسن فتیحی
فرح کامران کا شعری مجموعہ "سرخ شام کا دیا" ایک خوبصورت اور احساس سے بھرپور گل دستہ ہے، جس میں نظموں اور غزلوں کا امتزاج قاری کو ایک نئی شعری دنیا کی سیر کرواتا ہے۔ یہ مجموعہ فرح کامران کی تخلیقی صلاحیتوں کا عمدہ نمونہ ہے، جہاں وہ جذباتی گہرائی، لسانی خوبصورتی اور معاصر مسائل کو شاعرانہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔
کتاب کی ظاہری خوبصورتی واقعی متاثر کن ہے۔ عنوان "سرخ شام کا دیا" کی مناسبت سے سرورق سرخ رنگ سے آراستہ کیا گیا ہے، جو شام کی سرخی، جذبات کی شدت اور روشنی کی علامت کو خوبصورت طریقے سے ظاہر کرتا ہے۔ میٹر لنکس پبلیشرز نے اس کی اشاعتی ذمہ داریاں بہترین انداز میں نبھائی ہیں—نفیس کاغذ، مناسب فونٹ اور مجموعی ڈیزائن سے کتاب کو ایک پرکشش شکل دی گئی ہے۔ یہ اردو شعری مجموعوں میں ایک مثبت مثال ہے کہ کتاب نہ صرف پڑھنے کے لیے بلکہ دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بھی خوبصورت ہو سکتی ہے۔
مجموعے کے شروع میں شعری انتساب قاری کی توجہ فوراً اپنی طرف کھینچتا ہے، جو شاعرہ کے جذبات اور عہد کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے بعد حرفِ چند (پیش لفظ) میں فرح کامران خود اپنے تخلیقی ذہن کی جھلک دکھاتی ہیں—یہ مختصر مگر گہرا متن ان کی شاعری کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتا ہے، جو قاری کو مطالعے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر دیتا ہے۔
فرح کامران کی نظمیں خاص طور پر متاثر کن ہیں۔ ان میں جذباتی شدت، استعاراتی زبان اور روزمرہ کی زندگی کی گہرائی نمایاں ہے۔ مثال کے طور پر ان کی نظم "شب خون" میں یہ سطریں:
رات اندھیری یاد نے اس کی زور سے دروازہ کھڑکایا میں نے دل کے حجرے کی چلمن سرکائی وہ آنکھوں میں دیپ جلائے من آنگن میں جھانک رہا تھا
یہ سطریں تنہائی، یادوں کی آمد اور دل کی بے چینی کو انتہائی خوبصورت اور زندہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہاں "یاد کا دروازہ کھڑکانا" اور "آنکھوں میں دیپ جلانا" جیسے استعارے شاعرہ کی تخلیقی قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسی طرح ان کی غزلیں بھی تخلیقیت اور روایتی شعری حسن کا خوبصورت امتزاج ہیں۔ وہ غزل کی روایتی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی تصاویر اور احساسات سے مزین کرتی ہیں، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
کشور ناہید، غلام حسین ساجد اور شہلا نقوی کے بے باک تبصرے کتاب کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں ، جو مجموعے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ تبصرے نہ صرف شاعرہ کی کاوشوں کی توثیق کرتے ہیں بلکہ قاری کو شاعری کے گہرے معنی سمجھنے میں مدد بھی دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر، "سرخ شام کا دیا" فرح کامران کی ایک قابلِ فخر کاوش ہے جو اردو شاعری کے جدید منظر نامے کو پیش کرتی ہے۔ یہ مجموعہ ان قارئین کے لیے خاص طور پر لائقِ مطالعہ ہے جو جذباتی گہرائی، خوبصورت زبان اور معاصر شعور سے مزین شاعری پسند کرتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف پڑھنے کی بلکہ بار بار لوٹ کر محسوس کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

