دیدبان ثمینہ سید نمبر
ثمینہ سید
نادیہ عنبر لودھی
ثمینہ سید سے پہلی ملاقات ۲۰۱۹ میں ہوئی تھی ۔ وہ اسلام آباد پریس کلب میں ادبی اشارہ انٹرنیشنل کے مشاعرے میں شرکت کے لیے آئی تھی ۔ ہنس مکھ زندہ دل ثمینہ سے ملتے ہوئے اس وقت گمان بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی ہم سے روٹھ جائیں گی اس دار فانی سے ابدی ٹھکانے کی طرف مراجعت کر جائیں گی ۔
اشارہ ادبی انٹر نیشل ہر سال عالمی مشاعرہ منعقد کرواتی تھی جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک سے شاعر و شاعرات شرکت کرتے تھے _
اس تنظیم کے روح رواں ڈاکٹر جنید آزر ، ڈاکٹر یاسر علی مرحوم ، اطہر ضیا اور شہباز چوہان اس مشاعرے کے لیے بہت محنت کرتے تھے ۔ مشاعرے کے اختتام پر شامل شعرا کو اعزازی شیلڈز بھی دی جاتی تھی _ اور بھر پور ضیافت بھی _
اس مشاعرے میں پہلی دفعہ ثمینہ سید کو سنا ۔ دلنشیں لہجہ ، عمدہ کلام اور منفرد انداز ان کو سب شاعرات میں ممتاز کررہا تھا _
ثمینہ نا صرف اچھی شاعرہ تھی بلکہ افسانہ نگار بھی تھی _ علم کی طلب ان کو علم حاصل کرنے میں مشغول رکھتی تھی _
ثمینہ کہتی ہیں _
جیسے کبھی دریا کے کنارے نہیں ملتے
ایسے ہی تو جاں بخت ہمارے نہیں ملتے
کھل جائے نہ تم پر یہ کہیں وصل کی خواہش
ہم تم سے اسی خوف کے مارے نہیں ملتے
جب ضبط کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں میری جاں
آنکھوں کے کناروں کو کنارے نہیں ملتے
اے دل ٫ تیری فریاد یہاں کون سنے گا
ٹوٹے ہوءے پتوں کو سہارے نہیں ملتے
(ثمینہ سید )
وہ ہمہ جہت شخصیت کی مالک تھی _ تدریس کے شعبے سے وابستہ تھی _ مضامین ، افسانے ناول لکھے _ ان کے چار مصرے
وادئ عشق رہے ، مجنوں کا صحرا نہ بنے
جو بھی دل بنتا ہے بن جائے تماشا نہ بنے
بوند سے بوند ملے گی تو کرشمہ ہوگا
کیسے ممکن ہے کہ قطرہ کبھی دریا نہ بنے
ثمینہ سید
کینسر جیسا موذی مرض ثمینہ جیسے گوہر نایاب کا ہم سے چھین کے لے گیا _
اللہ تعالی درجات بلند فرمائے آمین
نادیہ عنبر لودھی