ایک نظم موہن جو ڈرو اور کراچی کےنام
ایک نظم موہن جو ڈرو اور کراچی کےنام
Aug 28, 2026

ایک نظم موہن جو ڈرو اور کراچی کےنام
سلمی جیلانی
موہن جو دڑو کی
خاموش گلیوں میں
صدیوں پرانی
قدموں کی چاپ
سنائی دیتی ہے۔
کہتے ہیں—
مٹی کی تہوں میں
وہ تہذیب آج بھی زندہ ہے،
جس نے اینٹوں سے
شہر نہیں
ایک خواب بسایا تھا
کانسی کے برتن
مٹی کے کھلونے
اور ڈانسنگ گرل سنبارا
جس میں زندگی،
ترتیب، محبت
اور انسان کے مستقبل کی
روشن تصویر تھی۔
وقت گزرتا گیا،
دریا نے اپنا راستہ بدل لیا
اور شہر
مٹی کی تہوں میں
سو گئے۔
مگر سندھ کی مٹی
اپنے ماضی کو
کبھی نہیں بھولی
وہی قدیم دھڑکن
آج بھی
اجرک کے رنگوں میں،
شاہ کے سُروں میں،
صوفیوں کی دھمال میں
اور سندھ کی لوک روایتوں میں
زندہ ہے۔
کل جو
موہن جو دڑو کہلاتا تھا،
آج وہی تہذیبی روح
کراچی کی دھڑکن میں سنائی دیتی ہے۔
کراچی—
جس کی مٹی کی گرماہٹ
ماں کی نرم آغوش کی مانند ہے،
جس نے اپنے دامن میں
صرف شہر نہیں،
پورے پاکستان کو
سمیٹ رکھا ہے۔
یہاں
قدیم سندھ کی خوشبو بھی ہے،
ہجرت کی داستانیں بھی،
اور آنے والے کل کے
خواب بھی۔
شاید اسی لیے
موہن جو دڑو کبھی مٹا نہیں—
وہ صرف
اپنی شکل بدل کر
کراچی بن گیا ہے۔
سلمی جیلانی
ایک نظم موہن جو ڈرو اور کراچی کےنام
سلمی جیلانی
موہن جو دڑو کی
خاموش گلیوں میں
صدیوں پرانی
قدموں کی چاپ
سنائی دیتی ہے۔
کہتے ہیں—
مٹی کی تہوں میں
وہ تہذیب آج بھی زندہ ہے،
جس نے اینٹوں سے
شہر نہیں
ایک خواب بسایا تھا
کانسی کے برتن
مٹی کے کھلونے
اور ڈانسنگ گرل سنبارا
جس میں زندگی،
ترتیب، محبت
اور انسان کے مستقبل کی
روشن تصویر تھی۔
وقت گزرتا گیا،
دریا نے اپنا راستہ بدل لیا
اور شہر
مٹی کی تہوں میں
سو گئے۔
مگر سندھ کی مٹی
اپنے ماضی کو
کبھی نہیں بھولی
وہی قدیم دھڑکن
آج بھی
اجرک کے رنگوں میں،
شاہ کے سُروں میں،
صوفیوں کی دھمال میں
اور سندھ کی لوک روایتوں میں
زندہ ہے۔
کل جو
موہن جو دڑو کہلاتا تھا،
آج وہی تہذیبی روح
کراچی کی دھڑکن میں سنائی دیتی ہے۔
کراچی—
جس کی مٹی کی گرماہٹ
ماں کی نرم آغوش کی مانند ہے،
جس نے اپنے دامن میں
صرف شہر نہیں،
پورے پاکستان کو
سمیٹ رکھا ہے۔
یہاں
قدیم سندھ کی خوشبو بھی ہے،
ہجرت کی داستانیں بھی،
اور آنے والے کل کے
خواب بھی۔
شاید اسی لیے
موہن جو دڑو کبھی مٹا نہیں—
وہ صرف
اپنی شکل بدل کر
کراچی بن گیا ہے۔

