روما رضوی کا ثمینہ سید سے مکالمہ

روما رضوی کا ثمینہ سید سے مکالمہ

Apr 29, 2026


دیدبان ثمینہ سید نمبر

(شخصیات، انٹرویوز)

روما رضوی کا ثمینہ سید سے مکالمہ

07/07/2023

“میرے نزدیک اظہار یا کچھ لکھ سکنا بہت بڑی عطا ہے۔ رب ذوالجلال کی ودیعت ہے۔ عورت سے بہتر کہانی کوئی نہیں لکھ سکتا۔ افسانہ۔ گار و شاعرہ ثمینہ سید سے گفتگو” ۔۔

دوستو!! معاشرے انسانوں سے مل کر بنتے ہیں اور بہترین انسانوں کی تربیت بہترین ماوں کی گود میں ہی ہوتی ہے۔

یعنی یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ عورت معاشرے کی تعمیر میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے وہ عورت جو زندگی کے بارے میں پر امید ہوتی ہے ، قرب و جوار میں موجود قدرت کی تخلیق سے محبت و ہمدردی کا مظاہرہ کرتی ہے۔۔ وہ اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔۔ نئی نئی ایجادات میں دلچسپی لیتی ہے دل میں کچھ کرنے کی ٹھان لے تو تکمیل تک پہنچانے کا جذبہ رکھتی ہے، بنا کوشش کئے ہار ماننے سے انکار کرتی ہے، اور خود پر مکمل اعتماد اور صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے کہ وہ ہر مقابلے میں شامل ہونے کی اہلیت رکھتی ہے ۔

ایسی ہی عورت اپنے اطراف توانائی کے تانے بانے بنتی ہے۔

اس کی توانائی اس کے اندرون اور بیرون کو خوبصورتی اور ہم آہنگی عطا کرتی ہے۔ اس کی خود اعتمادی خود پر یقین رکھنے سے پیدا ہونے والی مسکراہٹ ہی اس کے چہرے پر حسن و جمال بکھیر دیتی ہے ۔

ہماری مہمان آج ایسی ہی ایک پیاری خاتون

ہیں جو معلمہ ، شاعرہ ، افسانہ نگار ، نقاد اور خوبصورت دل رکھنے والی بہت پیاری شخصیت ہیں ۔۔ اب تک طالبعلمی کو اپنا ہمنوا بنا رکھا ہے ۔۔ اردو پنجابی دونوں ہی زبانوں میں خاصی روانی سے لکھتی ہیں ان کی کتابوں کی فہرست وقت کے ساتھ ساتھ طویل ہوتی جارہی ہے موجودہ کتابیں

ردائے محبت۔ افسانے

کہانی سفر میں ہے۔ افسانے

ہجر کے بہاؤ میں۔ شعری مجموعہ

رات نوں ڈکو۔ پنجابی کہانیاں

سامنے مات ہے۔ شعری مجموعہ

آنے والی کتابوں میں ایک مضامین کی کتاب ہے۔ ” نایاب ہیں ہم”

اور ناول” زنِ زندگی” انشاءاللہ جلد تکمیل کے مرحلے سے گزر کر اشاعت کے مراحل طے کرے گی ۔۔ ملتے ہیں محترمہ ثمینہ سید سے ۔

سوال_ تو جناب آپ ہمیشہ سے شہر لاہور میں رہی ہیں. یا کسی دوسرے شہر سے ہجرت کر کے لاہور میں آ بسیں ہیں

اور کس عمر سے لکھ رہی ہیں؟

جواب _ میرا آبائی شہر پاکپتن ہے۔ حضرت بابافریدالدین گنج شکر کا شہرِ لاہور میں پچیس سال ہورہے ہیں..

الحمدللہ ! میرے بھائی معروف صحافی تھے سید تنویر عباس۔ وہی بہنوں کو پڑھانے کی غرض سے لائے۔ پھر ماشاءاللہ ہم تینوں بہنوں نے بہت پڑھا اور میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ جبکہ باقی سب صحافی ہیں۔

اور لکھنے کی بابت یہ ہے کہ میں ساتویں، آٹھویں جماعت سے نظم اور کہانی لکھ رہی ہوں۔ بچوں کے رسالے” تعلیم وتربیت میں کہانی چھپی تو حوصلہ افزائی اور یقین بحال ہوگیا۔ گھر میں بہت کتابیں تھیں جو میں نے کم عمری سے ہی پڑھنا شروع کردی تھیں۔ والد صاحب شاعری سے لگاؤ رکھتے تھے۔ ساغر صدیقی کے ساتھ محفلیں تک جماتے رہے تھے۔ تو شاعری کی بہت کتابیں تھیں۔ بھائی کو تو گویا جنون تھا۔ اس لیے میں نے فرانز کافکا، میلان کنڈیرا سے سٹارٹ لیا۔ مشرقی، مغربی ادب تو ہم نے کالج تک آتے آتے چاٹ ڈالا تھا۔ مجھے منٹو اور غلام عباس کے افسانے بہت پسند ہیں شاندار ادب تخلیق کرگئے ہیں۔ پھر ممتاز مفتی، حاجرہ مسرور، خدیجہ مستور اور خالدہ حسین کا افسانہ۔ ہماری جوانی کا دور کمیونزم کا دور تھا۔ وہ سب بھی پڑھا۔ گھر میں چھاپے پڑتے تھے کتابیں برامد کرنے کے لیے۔

سوال2 _زندگی کی کن کن کٹھنائیوں کو شکست دے کر اس زندگی سے بھرپور ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ کامیابی کی منزلیں طے کرتی چلی گئی ہیں؟

جواب _ کٹھنائیاں مت پوچھیے، رقم کرنے لگے تو صفحات کم پڑ جائیں گے۔ کم عمری میں ہی شادی ہوگئی، تب ماں باپ ایسے ہی فیصلے کرتے تھے۔ لیکن جلد ہی میں نے اس فیصلے میں لکھنے پڑھنے کی عادت سے آکسیجن بھرنا شروع کردی۔ جینا بھی تو تھا ناں۔ اور مطالعہ کی عادت خون میں رچ بس گئی تھی۔ تعلیمی اور ادبی مدارج چلنے لگے۔ الحمدللہ شادی کے بعد ہی بی اے کیا، ایم اے ہسٹری، ایم اے اردو۔ بی ایڈ، ایم ایڈ کیا۔ میاں کو میرے لکھنے اور پڑھتے رہنے سے محبت تھی انہوں نے ہمیشہ ان دو اہم کاموں میں مجھے کُھل کے دل لگانے کی اجازت دی اور ہر چیز میسر بھی کی۔

پھر ان کے بعد بھی یہ سب ہمارا اوڑھنا بچھونا بنا رہا۔ خوب ہمت اور محنت سے ۔۔ ماشاءاللہ دونوں بچے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھی ملازمتوں تک پہنچ چکے ہیں۔

مسکراہٹ کو میں نے ہمیشہ ‘شکر’ کی طرح ڈھال بنائے رکھا۔ میرا رب بن مانگے عطا کرتا رہا۔ محنت کو ثمر آور کرتا رہا تو مسکرا کر شکر کرنا تو بنتا تھا۔

سوال3_

آپ بہت اچھی افسانہ نگار اور بہت اچھی شاعر دونوں ہیں خود اپنے آپ کو کس صنف میں محسوس کرتی ہیں کہ منوانے میں کامیاب ہوئی ہیں؟

اور کیا خاتون کا مصنفہ و شاعرہ ہونا کامیابی میں مددگار ہوتا ہے؟

جواب _ جیسے کہ میں نے بتایا کہ کم عمری سے ہی نظم اور کہانی میرے ساتھ ہے۔ اور آج میں مڑ کر دیکھوں تو ایک بھی کہانی ایسی نہیں جو اپنے وقت کے معروف جریدوں میں نہ چھپی ہو۔ ہمیشہ میرے لکھے ہوئے کو عزت، قبولیت اور پذیرائی ملی۔ کہانی بہت لکھی۔ نویں جماعت میں تھی جب خواتین ڈائجسٹ میں پہلی کہانی چھپی۔ کہانی میرے اندر چلتے پھرتے مکمل ہوتی ہے۔ تو میں ایک ہی نشست میں بیٹھ کر اسے تحریر کرتی ہوں۔ میں اپنی کہانیوں کو عمر، حالات اور سماجی شعور آنے کے ساتھ ساتھ بدلتے اور بہتر ہوتے دیکھتی ہوں۔

میرے نزدیک اظہار یا کچھ لکھ سکنا بہت بڑی عطا ہے۔ رب ذوالجلال کی ودیعت ہے۔ عورت سے بہتر کہانی کوئی نہیں لکھ سکتا۔ اور شاعری روح کی تسکین ہے۔ ایک شعر کہہ سکنا، ایک نظم کہہ لینا آپ کی روح تک کو شانت کردیتا ہے۔

میں نے تو مستقل مزاجی سے لکھا۔ دکھ سکھ کبھی اس صلاحیت پر حاوی نہیں ہونے دیے۔ مجھے شاعری سے محبت ہے۔ معجزاتی چیز ہے، ہر قدم سیکھنے اور تجربات کی گنجائش رہتی ہے۔ اور کہانی میری پسندیدہ صنف ہے۔ میرا کہنا ہے کہ ” کہانی لکھنا سانس لینے جتنا ضروری ہے” لیکن مطالعہ کرنا اور زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنا بھی نہایت اہم ہے۔

4_

سوال _کس خاص موقع پر لکھنے کا دل چاہتا ہے اور لکھنے کے بعد سب سے پہلے کس کو سنانا پسند کرتی ہیں؟؟

جواب _ لکھنے کا اپنا ایک عمل ہے۔ فطری عمل۔۔ جو لوگ کہتے ہیں روز لکھتے ہیں اور ایک ہی وقت پر لکھتے ہیں یہ میرے لیے ناممکن ہے۔ ایسا کرنے سے لکھتے رہنے کی عادت ضرور بنتی ہے۔ شعر یا کہانی کی اپنی مرضی ہے بھئی۔ ہم آمد کے بغیر تخلیق کے عمل سے گزر ہی نہیں سکتے۔ میری بیٹی ہمیشہ میرے قریب رہی تو اس نے مطالعہ کی عادت بھی لے لی، میری نظم اور کہانی بھی سنتی ہے۔ مشورے بھی دے لیتی ہے، اور میرے دوستوں کو بھی عزت اور اہمیت دیتی ہے۔

سوال5

طالبعلمی یا اس کے بعد کب زیادہ لکھا ؟ کیا کسی کی فرمائش پر انداز تحریر میں تو تبدیلیاں کیں؟

جواب_ مجھے جب لگا کہ زندگی مجھے مصروف کررہی ہے، الجھا رہی ہے میں نے تب تب زیادہ لکھا۔ مجھے کتاب سے دوری گوارا ہی نہیں رہی کبھی بھی۔ پچھلے کچھ سالوں میں ذمہ داریاں کسی قدر کم ہوئیں تو ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزل، نظم، اور نظم کی ہر ایک قسم، کہانی،ناولٹ، ناول۔ پنجابی کہانیاں۔

نہیں لکھنے والا تو الہام کو کاغذ پر اتارتا ہے۔ اس کو سیکھنا چاہیے، کسی کے ردعمل پر الفاظ میں یا خیال میں ترمیم بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں میرا ذاتی خیال ہے اگر آپ کسی مشکل ترین موضوع میں الجھ گئے ہیں تو اسے تہذیب کے پیرہن میں لکھ لیں۔ اقدار کی پاسداری کر لیں لیکن زور زبردستی یا ردعمل مصنف کو مغلوب نہیں کرسکتا۔

سوال_6

مشاعروں میں

جانے والے شعرا کیا آپ کے خیال میں بڑے شاعر ہوتے ہیں؟

جواب_ ہرگز نہیں۔ مشاعرے شاعر کو ترقی، شہرت اور شعور ضرور دیتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ مشاعرہ لوٹنے والے شاعر ہمیشہ بڑے شاعر ہی ہوتے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں

شاعر بڑے اور چھوٹے اپنے موضوعات سے ہوسکتے ہیں، اپنے عہد کی ترجمانی سے ہوسکتے ہیں۔ تحیر پیدا کرنے والے اشعار کہنے سے ہو سکتے ہیں۔ مشاعرے تو اکثر سازشی ٹولہ لوٹ لے جاتا ہے۔ خیر یہ طویل بحث ہے۔ شعر کا معیار شاعر کو بڑا شاعر بناتا ہے۔ اس کے لیے مشاعرہ ضروری نہیں۔ لیکن کوئی نہ کوئی میڈیم تو ہو جو شعر عوام تک لا سکے۔ جیسے کہ کتاب، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ۔۔

7سوال_

موجودہ دور میں شعرا بیشمار ہیں کیا اس وقت شاعری کو تنزلی کا شکار سمجھا جائے؟ یا اس وقت اپنی بلندیوں پر ہے؟؟

جواب _ میں تنزلی کا شکار کہہ کر مایوس نہیں ہوتی۔ شورشرابا زیادہ ہے اور معیار کم۔ لیکن بہت اچھا شعر کہنے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ جو جینوئن نہیں ہے وہ تادیر اور پرتاثیر بھی نہیں ہے۔ ادب کی بلندی کا دور نہیں کہہ سکتے کیونکہ اور بہت سارے پھکڑ پن اور مشاغل نے خالص ادبی شعور کو اور ذوق کو متاثر کیا ہے لیکن تنزلی پھر بھی نہیں

سوال8_

سوشل میڈیا کے آنے سے لکھنے والے زیادہ پیدا ہوئے ہیں یا ہمیشہ سے موجود تھے اور انہیں اظہار کا ایک بہتر موقع مل گیا ہے یعنی پلیٹ فارم مل ہے۔؟؟

جواب _ سوشل میڈیا سے لوگ سامنے آئے ہیں اور ہر دور کی طرح نئی انے والی چیز کے اچھے اور برے استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن میں اسے ایک مثبت ذریعہ سمجھتی ہوں۔ دنیا بھر سے آپ کو قارئین اور سامعین میسر ہو گئے ہیں۔ بہت کچھ اچھا لکھنے اور پڑھنے کے لیے مل گیا ہے۔ جو آپ کے مزاج سے میل نہیں کھاتا وہ مت دیکھیں اور سنیں زبردستی تو نہیں ہے ناں۔ جس چیز کے اتنے فائدے ہیں کچھ نقصانات تو ہونگے ہی۔ آگ سے بچنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔

9سوال_

آپ کی شاعری کو خالصتاً نسائی شاعری کہا جا سکتا ہے یا حالات حاضرہ پر منطبق شاعری کرتی ہیں؟؟

جواب_ میری شاعری کو خالص نسائی شاعری تو نہیں کہا جا سکتا . محبت میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ لیکن وہ چرند، پرند، فطرت سے، بچے کی معصومیت سے، خواہشات کے استحصال سے، معاشرتی مسائل سے بھی محبت ہے۔ سب میرا اپنا ہے تو سبھی میری شاعری کے موضوعات ہیں۔

10سوال _

اس دور میں ادب لکھنے والوں میں یاسیت نمایاں نظر آتی ہے اسکی کیا وجہ سمجھتی ہیں ؟

جواب _ بےشمار سماجی رویئے اور مسائل ہیں۔ جو ایک حساس انسان کو متاثر کرتے ہیں۔ اور وہ قلم کے سپرد کرتا جاتا ہے۔ اور دوسری چیز ہے” کیفیت” جسے نئے لکھنے والے زیادہ طاری کرلیتے ہیں۔ مسائل کا رونا روتے ہیں اور حل نکالنے کی بجائے بےبسی کو کہانی میں، یا شاعری میں اتار لیتے ہیں۔ دکھ ہے لیکن تمام دکھ ہی تو نہیں۔ خوشیاں کشید کریں۔

11سوال _

کیا شعرا اور مصنفین افسانہ نگار اپنے معاشرے کی درست عکاسی کر رہے ہیں یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر تصوراتی ماحول میں سوچتے اور لکھتے ہیں؟

جواب _ کچھ ہوتے ہوں گے جو ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھ کر لکھتے ہوں۔ ورنہ مشاہدہ نہ ہو، تجربے کی کاٹ بدن پر نہ سہی ہو تو الفاظ ” تخلیق ” نہیں بن سکتے۔ عمل کے بغیر تاثیر نہیں آتی۔۔

سوال 12 _ کیا لکھنے والوں میں خواتین شعرا و مصنفین کی بڑھتی ہوئی تعداد ، تحریر یا کلام کی بہتری اور متنوع موضاعات سے دیگر حضرات مقابلہ محسوس کرتے ہیں؟

جواب _نثر میں یہ مسائل کافی حد تک کم ہیں۔ میں دیکھ رہی ہوں قرات العین حیدر، خالدہ حسین سے لے کر آج طاہرہ اقبال تک، نیلم احمد بشیر، سلمیٰ اعوان آپا سب کو بہت تحسین اور عزت سے نوازا جاتا ہے۔ اور کہنے والے تارڑ صاحب کے بارے میں بھی کہہ دیتے ہیں کہ گھر ہی بیٹھ کے سفرنامہ لکھ لیتے ہیں۔ یہ ایک الگ ٹولہ ہے جو تخریبی تنقید کرتا ہے۔ البتہ شاعری میں یہ رجحان بہت زیادہ ہے۔ مرد حضرات ٹوہ میں ہی رہتے ہیں کہ کس شاعرہ کو کون لکھ کے دے رہا ہے۔ کوئی شاعرہ بہت اچھا شعر کہہ لے تو مرد حضرات ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ خود کہا ہوگا جبکہ شاعر حضرات میں آج کل کے مشہور شاعر جدت کے نام پہ عجیب و غریب شاعری کر رہے ہیں۔ نثر کے مقابلے شاعری میں یہ مسئلہ زیادہ نظر آتا ہے۔۔

13 سوال_ پڑھنے والے یا لکھنے خود ہی تحریر یا کلام کا معیار اچھا ہے یا برا ۔۔۔ طے کرتے ہیں ؟

جواب_ میرا خیال ہے کچھ پیمانے تو طے شدہ ہوتے ہیں جن سے انحراف کر کے تخلیق لنگڑی لولی ہو جاتی ہے۔ ان پر چلنا ہی پڑتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ایسی کلاس بھی ہے جو ہر کسی کو بنا جانچے، پرکھے ٹھپہ لگا دیتی ہے کہ وہ ہی معیار طے کریں گے۔ اور انہی کے معیار کے مطابق شاعر یا ادیب۔ ہے یا نہیں۔۔ زندگی کے کسی بھی میدان میں سب کچھ طے شدہ نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں وقت طے کرتا ہے۔ اسی طرح ادب میں بھی وقت کو طے کرنے دیں ہم آپ صرف کام کریں۔

14 سوال_

اس دور میں ہر موقع پر خواہ کوئی قومی دن ہو تہوار ہو حادثہ ہو اشعار یا تحریر پیش کردی جاتی ہے ۔۔ کیا یہ لکھنے والے اس طرح عوام کے جذبات کی آواز بنتے ہیں یا کسی بہتری کا سبب بنتے ہیں یا سب جز وقتی اور واہ واہ کی چاہ ہے ؟

جواب _ شعراء اور افسانہ نگار اپنے زمانے کے، اس کے طرز سیاست کے، اس کی تہذیب و تمدن کے اس کے مذہب و وطنیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ تو جہاں قلم اٹھنا چاہے وہاں ضروری ہے کہ آواز اٹھائیں۔ بعض اوقات ایک شعر انقلاب زمانہ کی وجہ بن جاتا ہے۔ ادب نے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ ادیب کی کوشش ہمیشہ استواری ہونی چاہیے انتشار نہیں۔

آپ کے بھرپور جوابات سے یقین کیجئے کہ میں خود بہت محظوظ ہوئی ۔۔

اپنے چاہنے والوں اور ہمارے پڑھنے والوں کو کیا پیغام دیں گی ۔۔

جواب _ یہی کہ پڑھتے رہیں، ہر کتاب پڑھیں اپ لکھ بھی سکتے ہیں۔ مطالعہ ہماری لکھنے کی صلاحیت کی تربیت کرتا ہے۔ کتابوں میں زندگی کے راز ہیں، جینے کے ڈھب ہیں۔ کتاب سے کبھی دور نہ ہوں۔ آپ بہت اچھا کام کررہی ہیں ماشاءاللہ لکھنے اور پڑھنے جتنا ہی ضروری ہے کہ کوئی بات عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنے۔ آپ خود ادیبہ ہیں ماشاءاللہ

آپ کے سوالات بہترین اور مکمل احاطہ کرنے والے جامع سوالات تھے۔ اور مجھے بولنے کی عادت بھی ہے۔ تو سونے پہ سہاگہ

اس حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ ثمینہ جی ۔۔۔

اختتام ثمینہ جی کی اس غزل کے ساتھ کرتے ہیں کہ

غزل

بعد دن بھر کی مشقت کے جو سونا چاہوں

میں ترے خواب کا فورا ہی بچھونا چاہوں

ایک دنیا کو شکایت ہے رویے سے مرے

ایک میں ہوں کہ اسی شخص کی ہونا چاہوں

نہ مٹا اس کا نشاں دل سے مرے آج تلک

میں کہ اس داغ کو اشکوں سے ہی دھونا چاہوں

آج بھی کل کی طرح جھوٹ نیا بولو تو

میں کہ بس تجھ سے تسلی کا کھلونا چاہوں

انگلیاں جب بھی لہو رنگ ہوئی ہیں میری

میں ترے پیار کے پھولوں کو پرونا چاہوں

اس سے بڑھ کر بھی کوئی دکھ ہے ثمینہ سید

نہ بہیں آنکھ سے آنسو بھی، جو رونا چاہوں

۔۔۔۔۔۔

نوٹ:- یہ مصاحبہ روما رضوی نے عالمی اخبار کے لیے 2023 میں لیا اب دیدبان ثمینہ سید نمبر کے لیے خصوصی طور پر ارسال کیا۔


دیدبان ثمینہ سید نمبر

(شخصیات، انٹرویوز)

روما رضوی کا ثمینہ سید سے مکالمہ

07/07/2023

“میرے نزدیک اظہار یا کچھ لکھ سکنا بہت بڑی عطا ہے۔ رب ذوالجلال کی ودیعت ہے۔ عورت سے بہتر کہانی کوئی نہیں لکھ سکتا۔ افسانہ۔ گار و شاعرہ ثمینہ سید سے گفتگو” ۔۔

دوستو!! معاشرے انسانوں سے مل کر بنتے ہیں اور بہترین انسانوں کی تربیت بہترین ماوں کی گود میں ہی ہوتی ہے۔

یعنی یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ عورت معاشرے کی تعمیر میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے وہ عورت جو زندگی کے بارے میں پر امید ہوتی ہے ، قرب و جوار میں موجود قدرت کی تخلیق سے محبت و ہمدردی کا مظاہرہ کرتی ہے۔۔ وہ اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔۔ نئی نئی ایجادات میں دلچسپی لیتی ہے دل میں کچھ کرنے کی ٹھان لے تو تکمیل تک پہنچانے کا جذبہ رکھتی ہے، بنا کوشش کئے ہار ماننے سے انکار کرتی ہے، اور خود پر مکمل اعتماد اور صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے کہ وہ ہر مقابلے میں شامل ہونے کی اہلیت رکھتی ہے ۔

ایسی ہی عورت اپنے اطراف توانائی کے تانے بانے بنتی ہے۔

اس کی توانائی اس کے اندرون اور بیرون کو خوبصورتی اور ہم آہنگی عطا کرتی ہے۔ اس کی خود اعتمادی خود پر یقین رکھنے سے پیدا ہونے والی مسکراہٹ ہی اس کے چہرے پر حسن و جمال بکھیر دیتی ہے ۔

ہماری مہمان آج ایسی ہی ایک پیاری خاتون

ہیں جو معلمہ ، شاعرہ ، افسانہ نگار ، نقاد اور خوبصورت دل رکھنے والی بہت پیاری شخصیت ہیں ۔۔ اب تک طالبعلمی کو اپنا ہمنوا بنا رکھا ہے ۔۔ اردو پنجابی دونوں ہی زبانوں میں خاصی روانی سے لکھتی ہیں ان کی کتابوں کی فہرست وقت کے ساتھ ساتھ طویل ہوتی جارہی ہے موجودہ کتابیں

ردائے محبت۔ افسانے

کہانی سفر میں ہے۔ افسانے

ہجر کے بہاؤ میں۔ شعری مجموعہ

رات نوں ڈکو۔ پنجابی کہانیاں

سامنے مات ہے۔ شعری مجموعہ

آنے والی کتابوں میں ایک مضامین کی کتاب ہے۔ ” نایاب ہیں ہم”

اور ناول” زنِ زندگی” انشاءاللہ جلد تکمیل کے مرحلے سے گزر کر اشاعت کے مراحل طے کرے گی ۔۔ ملتے ہیں محترمہ ثمینہ سید سے ۔

سوال_ تو جناب آپ ہمیشہ سے شہر لاہور میں رہی ہیں. یا کسی دوسرے شہر سے ہجرت کر کے لاہور میں آ بسیں ہیں

اور کس عمر سے لکھ رہی ہیں؟

جواب _ میرا آبائی شہر پاکپتن ہے۔ حضرت بابافریدالدین گنج شکر کا شہرِ لاہور میں پچیس سال ہورہے ہیں..

الحمدللہ ! میرے بھائی معروف صحافی تھے سید تنویر عباس۔ وہی بہنوں کو پڑھانے کی غرض سے لائے۔ پھر ماشاءاللہ ہم تینوں بہنوں نے بہت پڑھا اور میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ جبکہ باقی سب صحافی ہیں۔

اور لکھنے کی بابت یہ ہے کہ میں ساتویں، آٹھویں جماعت سے نظم اور کہانی لکھ رہی ہوں۔ بچوں کے رسالے” تعلیم وتربیت میں کہانی چھپی تو حوصلہ افزائی اور یقین بحال ہوگیا۔ گھر میں بہت کتابیں تھیں جو میں نے کم عمری سے ہی پڑھنا شروع کردی تھیں۔ والد صاحب شاعری سے لگاؤ رکھتے تھے۔ ساغر صدیقی کے ساتھ محفلیں تک جماتے رہے تھے۔ تو شاعری کی بہت کتابیں تھیں۔ بھائی کو تو گویا جنون تھا۔ اس لیے میں نے فرانز کافکا، میلان کنڈیرا سے سٹارٹ لیا۔ مشرقی، مغربی ادب تو ہم نے کالج تک آتے آتے چاٹ ڈالا تھا۔ مجھے منٹو اور غلام عباس کے افسانے بہت پسند ہیں شاندار ادب تخلیق کرگئے ہیں۔ پھر ممتاز مفتی، حاجرہ مسرور، خدیجہ مستور اور خالدہ حسین کا افسانہ۔ ہماری جوانی کا دور کمیونزم کا دور تھا۔ وہ سب بھی پڑھا۔ گھر میں چھاپے پڑتے تھے کتابیں برامد کرنے کے لیے۔

سوال2 _زندگی کی کن کن کٹھنائیوں کو شکست دے کر اس زندگی سے بھرپور ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ کامیابی کی منزلیں طے کرتی چلی گئی ہیں؟

جواب _ کٹھنائیاں مت پوچھیے، رقم کرنے لگے تو صفحات کم پڑ جائیں گے۔ کم عمری میں ہی شادی ہوگئی، تب ماں باپ ایسے ہی فیصلے کرتے تھے۔ لیکن جلد ہی میں نے اس فیصلے میں لکھنے پڑھنے کی عادت سے آکسیجن بھرنا شروع کردی۔ جینا بھی تو تھا ناں۔ اور مطالعہ کی عادت خون میں رچ بس گئی تھی۔ تعلیمی اور ادبی مدارج چلنے لگے۔ الحمدللہ شادی کے بعد ہی بی اے کیا، ایم اے ہسٹری، ایم اے اردو۔ بی ایڈ، ایم ایڈ کیا۔ میاں کو میرے لکھنے اور پڑھتے رہنے سے محبت تھی انہوں نے ہمیشہ ان دو اہم کاموں میں مجھے کُھل کے دل لگانے کی اجازت دی اور ہر چیز میسر بھی کی۔

پھر ان کے بعد بھی یہ سب ہمارا اوڑھنا بچھونا بنا رہا۔ خوب ہمت اور محنت سے ۔۔ ماشاءاللہ دونوں بچے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھی ملازمتوں تک پہنچ چکے ہیں۔

مسکراہٹ کو میں نے ہمیشہ ‘شکر’ کی طرح ڈھال بنائے رکھا۔ میرا رب بن مانگے عطا کرتا رہا۔ محنت کو ثمر آور کرتا رہا تو مسکرا کر شکر کرنا تو بنتا تھا۔

سوال3_

آپ بہت اچھی افسانہ نگار اور بہت اچھی شاعر دونوں ہیں خود اپنے آپ کو کس صنف میں محسوس کرتی ہیں کہ منوانے میں کامیاب ہوئی ہیں؟

اور کیا خاتون کا مصنفہ و شاعرہ ہونا کامیابی میں مددگار ہوتا ہے؟

جواب _ جیسے کہ میں نے بتایا کہ کم عمری سے ہی نظم اور کہانی میرے ساتھ ہے۔ اور آج میں مڑ کر دیکھوں تو ایک بھی کہانی ایسی نہیں جو اپنے وقت کے معروف جریدوں میں نہ چھپی ہو۔ ہمیشہ میرے لکھے ہوئے کو عزت، قبولیت اور پذیرائی ملی۔ کہانی بہت لکھی۔ نویں جماعت میں تھی جب خواتین ڈائجسٹ میں پہلی کہانی چھپی۔ کہانی میرے اندر چلتے پھرتے مکمل ہوتی ہے۔ تو میں ایک ہی نشست میں بیٹھ کر اسے تحریر کرتی ہوں۔ میں اپنی کہانیوں کو عمر، حالات اور سماجی شعور آنے کے ساتھ ساتھ بدلتے اور بہتر ہوتے دیکھتی ہوں۔

میرے نزدیک اظہار یا کچھ لکھ سکنا بہت بڑی عطا ہے۔ رب ذوالجلال کی ودیعت ہے۔ عورت سے بہتر کہانی کوئی نہیں لکھ سکتا۔ اور شاعری روح کی تسکین ہے۔ ایک شعر کہہ سکنا، ایک نظم کہہ لینا آپ کی روح تک کو شانت کردیتا ہے۔

میں نے تو مستقل مزاجی سے لکھا۔ دکھ سکھ کبھی اس صلاحیت پر حاوی نہیں ہونے دیے۔ مجھے شاعری سے محبت ہے۔ معجزاتی چیز ہے، ہر قدم سیکھنے اور تجربات کی گنجائش رہتی ہے۔ اور کہانی میری پسندیدہ صنف ہے۔ میرا کہنا ہے کہ ” کہانی لکھنا سانس لینے جتنا ضروری ہے” لیکن مطالعہ کرنا اور زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنا بھی نہایت اہم ہے۔

4_

سوال _کس خاص موقع پر لکھنے کا دل چاہتا ہے اور لکھنے کے بعد سب سے پہلے کس کو سنانا پسند کرتی ہیں؟؟

جواب _ لکھنے کا اپنا ایک عمل ہے۔ فطری عمل۔۔ جو لوگ کہتے ہیں روز لکھتے ہیں اور ایک ہی وقت پر لکھتے ہیں یہ میرے لیے ناممکن ہے۔ ایسا کرنے سے لکھتے رہنے کی عادت ضرور بنتی ہے۔ شعر یا کہانی کی اپنی مرضی ہے بھئی۔ ہم آمد کے بغیر تخلیق کے عمل سے گزر ہی نہیں سکتے۔ میری بیٹی ہمیشہ میرے قریب رہی تو اس نے مطالعہ کی عادت بھی لے لی، میری نظم اور کہانی بھی سنتی ہے۔ مشورے بھی دے لیتی ہے، اور میرے دوستوں کو بھی عزت اور اہمیت دیتی ہے۔

سوال5

طالبعلمی یا اس کے بعد کب زیادہ لکھا ؟ کیا کسی کی فرمائش پر انداز تحریر میں تو تبدیلیاں کیں؟

جواب_ مجھے جب لگا کہ زندگی مجھے مصروف کررہی ہے، الجھا رہی ہے میں نے تب تب زیادہ لکھا۔ مجھے کتاب سے دوری گوارا ہی نہیں رہی کبھی بھی۔ پچھلے کچھ سالوں میں ذمہ داریاں کسی قدر کم ہوئیں تو ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ غزل، نظم، اور نظم کی ہر ایک قسم، کہانی،ناولٹ، ناول۔ پنجابی کہانیاں۔

نہیں لکھنے والا تو الہام کو کاغذ پر اتارتا ہے۔ اس کو سیکھنا چاہیے، کسی کے ردعمل پر الفاظ میں یا خیال میں ترمیم بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں میرا ذاتی خیال ہے اگر آپ کسی مشکل ترین موضوع میں الجھ گئے ہیں تو اسے تہذیب کے پیرہن میں لکھ لیں۔ اقدار کی پاسداری کر لیں لیکن زور زبردستی یا ردعمل مصنف کو مغلوب نہیں کرسکتا۔

سوال_6

مشاعروں میں

جانے والے شعرا کیا آپ کے خیال میں بڑے شاعر ہوتے ہیں؟

جواب_ ہرگز نہیں۔ مشاعرے شاعر کو ترقی، شہرت اور شعور ضرور دیتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ مشاعرہ لوٹنے والے شاعر ہمیشہ بڑے شاعر ہی ہوتے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں

شاعر بڑے اور چھوٹے اپنے موضوعات سے ہوسکتے ہیں، اپنے عہد کی ترجمانی سے ہوسکتے ہیں۔ تحیر پیدا کرنے والے اشعار کہنے سے ہو سکتے ہیں۔ مشاعرے تو اکثر سازشی ٹولہ لوٹ لے جاتا ہے۔ خیر یہ طویل بحث ہے۔ شعر کا معیار شاعر کو بڑا شاعر بناتا ہے۔ اس کے لیے مشاعرہ ضروری نہیں۔ لیکن کوئی نہ کوئی میڈیم تو ہو جو شعر عوام تک لا سکے۔ جیسے کہ کتاب، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ۔۔

7سوال_

موجودہ دور میں شعرا بیشمار ہیں کیا اس وقت شاعری کو تنزلی کا شکار سمجھا جائے؟ یا اس وقت اپنی بلندیوں پر ہے؟؟

جواب _ میں تنزلی کا شکار کہہ کر مایوس نہیں ہوتی۔ شورشرابا زیادہ ہے اور معیار کم۔ لیکن بہت اچھا شعر کہنے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ جو جینوئن نہیں ہے وہ تادیر اور پرتاثیر بھی نہیں ہے۔ ادب کی بلندی کا دور نہیں کہہ سکتے کیونکہ اور بہت سارے پھکڑ پن اور مشاغل نے خالص ادبی شعور کو اور ذوق کو متاثر کیا ہے لیکن تنزلی پھر بھی نہیں

سوال8_

سوشل میڈیا کے آنے سے لکھنے والے زیادہ پیدا ہوئے ہیں یا ہمیشہ سے موجود تھے اور انہیں اظہار کا ایک بہتر موقع مل گیا ہے یعنی پلیٹ فارم مل ہے۔؟؟

جواب _ سوشل میڈیا سے لوگ سامنے آئے ہیں اور ہر دور کی طرح نئی انے والی چیز کے اچھے اور برے استعمال ہو رہے ہیں۔ لیکن میں اسے ایک مثبت ذریعہ سمجھتی ہوں۔ دنیا بھر سے آپ کو قارئین اور سامعین میسر ہو گئے ہیں۔ بہت کچھ اچھا لکھنے اور پڑھنے کے لیے مل گیا ہے۔ جو آپ کے مزاج سے میل نہیں کھاتا وہ مت دیکھیں اور سنیں زبردستی تو نہیں ہے ناں۔ جس چیز کے اتنے فائدے ہیں کچھ نقصانات تو ہونگے ہی۔ آگ سے بچنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔

9سوال_

آپ کی شاعری کو خالصتاً نسائی شاعری کہا جا سکتا ہے یا حالات حاضرہ پر منطبق شاعری کرتی ہیں؟؟

جواب_ میری شاعری کو خالص نسائی شاعری تو نہیں کہا جا سکتا . محبت میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ لیکن وہ چرند، پرند، فطرت سے، بچے کی معصومیت سے، خواہشات کے استحصال سے، معاشرتی مسائل سے بھی محبت ہے۔ سب میرا اپنا ہے تو سبھی میری شاعری کے موضوعات ہیں۔

10سوال _

اس دور میں ادب لکھنے والوں میں یاسیت نمایاں نظر آتی ہے اسکی کیا وجہ سمجھتی ہیں ؟

جواب _ بےشمار سماجی رویئے اور مسائل ہیں۔ جو ایک حساس انسان کو متاثر کرتے ہیں۔ اور وہ قلم کے سپرد کرتا جاتا ہے۔ اور دوسری چیز ہے” کیفیت” جسے نئے لکھنے والے زیادہ طاری کرلیتے ہیں۔ مسائل کا رونا روتے ہیں اور حل نکالنے کی بجائے بےبسی کو کہانی میں، یا شاعری میں اتار لیتے ہیں۔ دکھ ہے لیکن تمام دکھ ہی تو نہیں۔ خوشیاں کشید کریں۔

11سوال _

کیا شعرا اور مصنفین افسانہ نگار اپنے معاشرے کی درست عکاسی کر رہے ہیں یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر تصوراتی ماحول میں سوچتے اور لکھتے ہیں؟

جواب _ کچھ ہوتے ہوں گے جو ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھ کر لکھتے ہوں۔ ورنہ مشاہدہ نہ ہو، تجربے کی کاٹ بدن پر نہ سہی ہو تو الفاظ ” تخلیق ” نہیں بن سکتے۔ عمل کے بغیر تاثیر نہیں آتی۔۔

سوال 12 _ کیا لکھنے والوں میں خواتین شعرا و مصنفین کی بڑھتی ہوئی تعداد ، تحریر یا کلام کی بہتری اور متنوع موضاعات سے دیگر حضرات مقابلہ محسوس کرتے ہیں؟

جواب _نثر میں یہ مسائل کافی حد تک کم ہیں۔ میں دیکھ رہی ہوں قرات العین حیدر، خالدہ حسین سے لے کر آج طاہرہ اقبال تک، نیلم احمد بشیر، سلمیٰ اعوان آپا سب کو بہت تحسین اور عزت سے نوازا جاتا ہے۔ اور کہنے والے تارڑ صاحب کے بارے میں بھی کہہ دیتے ہیں کہ گھر ہی بیٹھ کے سفرنامہ لکھ لیتے ہیں۔ یہ ایک الگ ٹولہ ہے جو تخریبی تنقید کرتا ہے۔ البتہ شاعری میں یہ رجحان بہت زیادہ ہے۔ مرد حضرات ٹوہ میں ہی رہتے ہیں کہ کس شاعرہ کو کون لکھ کے دے رہا ہے۔ کوئی شاعرہ بہت اچھا شعر کہہ لے تو مرد حضرات ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ خود کہا ہوگا جبکہ شاعر حضرات میں آج کل کے مشہور شاعر جدت کے نام پہ عجیب و غریب شاعری کر رہے ہیں۔ نثر کے مقابلے شاعری میں یہ مسئلہ زیادہ نظر آتا ہے۔۔

13 سوال_ پڑھنے والے یا لکھنے خود ہی تحریر یا کلام کا معیار اچھا ہے یا برا ۔۔۔ طے کرتے ہیں ؟

جواب_ میرا خیال ہے کچھ پیمانے تو طے شدہ ہوتے ہیں جن سے انحراف کر کے تخلیق لنگڑی لولی ہو جاتی ہے۔ ان پر چلنا ہی پڑتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ایسی کلاس بھی ہے جو ہر کسی کو بنا جانچے، پرکھے ٹھپہ لگا دیتی ہے کہ وہ ہی معیار طے کریں گے۔ اور انہی کے معیار کے مطابق شاعر یا ادیب۔ ہے یا نہیں۔۔ زندگی کے کسی بھی میدان میں سب کچھ طے شدہ نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں وقت طے کرتا ہے۔ اسی طرح ادب میں بھی وقت کو طے کرنے دیں ہم آپ صرف کام کریں۔

14 سوال_

اس دور میں ہر موقع پر خواہ کوئی قومی دن ہو تہوار ہو حادثہ ہو اشعار یا تحریر پیش کردی جاتی ہے ۔۔ کیا یہ لکھنے والے اس طرح عوام کے جذبات کی آواز بنتے ہیں یا کسی بہتری کا سبب بنتے ہیں یا سب جز وقتی اور واہ واہ کی چاہ ہے ؟

جواب _ شعراء اور افسانہ نگار اپنے زمانے کے، اس کے طرز سیاست کے، اس کی تہذیب و تمدن کے اس کے مذہب و وطنیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ تو جہاں قلم اٹھنا چاہے وہاں ضروری ہے کہ آواز اٹھائیں۔ بعض اوقات ایک شعر انقلاب زمانہ کی وجہ بن جاتا ہے۔ ادب نے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ ادیب کی کوشش ہمیشہ استواری ہونی چاہیے انتشار نہیں۔

آپ کے بھرپور جوابات سے یقین کیجئے کہ میں خود بہت محظوظ ہوئی ۔۔

اپنے چاہنے والوں اور ہمارے پڑھنے والوں کو کیا پیغام دیں گی ۔۔

جواب _ یہی کہ پڑھتے رہیں، ہر کتاب پڑھیں اپ لکھ بھی سکتے ہیں۔ مطالعہ ہماری لکھنے کی صلاحیت کی تربیت کرتا ہے۔ کتابوں میں زندگی کے راز ہیں، جینے کے ڈھب ہیں۔ کتاب سے کبھی دور نہ ہوں۔ آپ بہت اچھا کام کررہی ہیں ماشاءاللہ لکھنے اور پڑھنے جتنا ہی ضروری ہے کہ کوئی بات عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنے۔ آپ خود ادیبہ ہیں ماشاءاللہ

آپ کے سوالات بہترین اور مکمل احاطہ کرنے والے جامع سوالات تھے۔ اور مجھے بولنے کی عادت بھی ہے۔ تو سونے پہ سہاگہ

اس حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ ثمینہ جی ۔۔۔

اختتام ثمینہ جی کی اس غزل کے ساتھ کرتے ہیں کہ

غزل

بعد دن بھر کی مشقت کے جو سونا چاہوں

میں ترے خواب کا فورا ہی بچھونا چاہوں

ایک دنیا کو شکایت ہے رویے سے مرے

ایک میں ہوں کہ اسی شخص کی ہونا چاہوں

نہ مٹا اس کا نشاں دل سے مرے آج تلک

میں کہ اس داغ کو اشکوں سے ہی دھونا چاہوں

آج بھی کل کی طرح جھوٹ نیا بولو تو

میں کہ بس تجھ سے تسلی کا کھلونا چاہوں

انگلیاں جب بھی لہو رنگ ہوئی ہیں میری

میں ترے پیار کے پھولوں کو پرونا چاہوں

اس سے بڑھ کر بھی کوئی دکھ ہے ثمینہ سید

نہ بہیں آنکھ سے آنسو بھی، جو رونا چاہوں

۔۔۔۔۔۔

نوٹ:- یہ مصاحبہ روما رضوی نے عالمی اخبار کے لیے 2023 میں لیا اب دیدبان ثمینہ سید نمبر کے لیے خصوصی طور پر ارسال کیا۔

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024