دلشاد نظمی کی نظم "ثمینہ سید" ۔
دلشاد نظمی کی نظم "ثمینہ سید" ۔
May 4, 2026

ثمینہ سید
کہا تھا تم نے
ابھی بہت سے ہیں کام باقی
ہیں میرے زمہ
مسودے کچھ پڑے ہوئے ہیں
کہانیوں کے
کئی مضامین ہیں ادھورے
کئی مقالوں کی اختتامی سطور فرصت کی منتظر ہے
غزل کے مصرعے تو اسپتالوں کے راستوں پر بکھر گئے ہیں۔
طرح طرح کے یہ ٹیسٹ میرے بدن کو بے وزن کر رہے ہیں۔
بتایا تھا تم نے ایک میسیج میں
میری آنکھوں کو دوہری شکلیں دکھ رہی ہیں
میرے بدن پر یہ چڑھنے والا غلیظ کیمو
اذیتوں سے بھرا ہوا ہے
نچوڑ لیتا ہے ساری قوّت
سہیلیوں کی،،، تمام احباب کی محافل سے دور ہوں میں
شوال بیٹی ہے سایہ بن کر قدم قدم پر ۔۔۔
پتہ نہیں کب یہ ٹوٹ جائے گا سانس بندھن
ثمینہ سید
تمہاری قسمت میں مغفرت والا عشرہ آیا
دعا ہے ربِ کریم سے کہ تمہیں وہ بخشے۔
میں گیلی پلکیں جھکائے آمین کہہ رہا ہوں ۔
دلشاد نظمی ۔رانچی,انڈیا
8709966321
ثمینہ سید
کہا تھا تم نے
ابھی بہت سے ہیں کام باقی
ہیں میرے زمہ
مسودے کچھ پڑے ہوئے ہیں
کہانیوں کے
کئی مضامین ہیں ادھورے
کئی مقالوں کی اختتامی سطور فرصت کی منتظر ہے
غزل کے مصرعے تو اسپتالوں کے راستوں پر بکھر گئے ہیں۔
طرح طرح کے یہ ٹیسٹ میرے بدن کو بے وزن کر رہے ہیں۔
بتایا تھا تم نے ایک میسیج میں
میری آنکھوں کو دوہری شکلیں دکھ رہی ہیں
میرے بدن پر یہ چڑھنے والا غلیظ کیمو
اذیتوں سے بھرا ہوا ہے
نچوڑ لیتا ہے ساری قوّت
سہیلیوں کی،،، تمام احباب کی محافل سے دور ہوں میں
شوال بیٹی ہے سایہ بن کر قدم قدم پر ۔۔۔
پتہ نہیں کب یہ ٹوٹ جائے گا سانس بندھن
ثمینہ سید
تمہاری قسمت میں مغفرت والا عشرہ آیا
دعا ہے ربِ کریم سے کہ تمہیں وہ بخشے۔
میں گیلی پلکیں جھکائے آمین کہہ رہا ہوں ۔
دلشاد نظمی ۔رانچی,انڈیا
8709966321

