افسانہ:محاصرہ

افسانہ:محاصرہ

Jul 29, 2026

مصنف

سبین علی

afsana

افسانہ:محاصرہ

سبین علی

پیپل کے درخت میں بنی اونچی مچان پر وہ بہت دیر سے شست لگائے بیٹھے تھے۔ گہرے اندھیرے میں وہ وقفے وقفے سے ایک دوسرے کو پُکار کر ہمت بڑھاتے اور چوکنی نظروں سے کبھی دائیں جانب دیکھتے تو کبھی بائیں جانب ۔ ان میں سے ایک سہما ہوا شخص بار بار چوٹی کی شاخوں میں جھانکنے کی کوشش کرتا مبادا کہ وہ جنگلی بَلا رات کے وقت آسمان سے جنگل میں نازل ہوتی ہو۔ ان کی تیل لگی بندوقیں چھن کر آتی چاندنی میں چمک رہی تھیں اور جھینگروں کی تیز آوازیں ماحول کے سکوت کو توڑ رہی تھیں۔

گاؤں میں کئی دنوں سے یہ خبر پھیلی تھی کہ قریبی جنگل میں عجیب و غریب شکل کی بلائیں رہتی ہیں۔ کوئی انہی کالی ماتا کا روپ سمجھ رہا تھا تو کوئی پچھل پیریاں مگر خوف و ہراس کا عالم اتنا بڑھا چکا تھا کہ کوئی جنگل کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ ایسے میں شکاریوں کی کئی ٹولیاں انہیں پکڑنے کے لیے جنگل میں گئیں مگر خالی ہاتھ لوٹ آئیں۔ شکاری لال سنگھ نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ گاؤں والوں کو اس مصیبت سے نجات دلانے کا وعدہ کیا ۔ بندوقوں گولیوں اور لاٹھیوں سے لیس ہو کر ان لوگوں نے دن کے وقت ہماری کھوہ کے سامنے ہی اونچی مچان تیار کی تھی۔

وہ تیسرا روز تھا جب سے وہ اس مچان پر ہر رات پہرہ دیتے تھے ۔ میرے چاروں بچے بھوکے تھے۔ جنگل میں رات کو حبس اور رطوبت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اپنے جنگلی گھر میں دیر تک ٹھہرے رہنا ویسے ہی مشکل ہوتا ہے۔ میرے چاروں بچے بہت فرمانبردار اور سمجھدار تھے مجال ہے جو اس محاصرے میں ہلکی سی آواز بھی پیدا کی ہو۔ پچھلی رات مچان پر پہرہ دیتے سنگھ کے ایک ساتھی نے بنگالی شیر پر گولی داغ دی تھی۔ اُس کے کراہنے کی دھیمی آوازیں دیر تک سنائی دیتی رہیں۔ یہ خوف بھی عجیب عفریت ہے دنیا پر راج کرنے والا انسان بندوق ہاتھ میں لیے اونچی مچان کر بیٹھا بھی ایک نہتے چوپائے سے ڈر جانے پر دہکتا انگارہ داغ دیتا ہے۔ اُس رات شیر کو گولی لگنے کے بعد سے کسی جانور نے جنگل کی اِس سمت کا رخ نہیں کیا تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہیں یہ میرے بچوں کو اٹھا کر نہ لے جائیں ۔ سنا تھا شہروں میں اب جانوروں کو جنگلوں میں بند کیے ٹکٹ پر تماشا لگایا جاتا ہے۔ کچھ مُوا چڑیا گھر سا نام ہے۔ ۔ ۔ جانے چڑیا کے گھر میں شیر چیتے ہاتھی کیسے سماتے ہوں گے؟ مگر میرے بچے کوئی ایسے انوکھے تو نہیں ۔ ایسے تو بہت سے بچے جنگل کے نزدیکی گاؤں میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

لیکن اُس وقت مجھے زیادہ فکر اپنی دونوں لے پالک بیٹیوں کی تھی ان کی جلد پر گھنے بال تھے نہ ہی انہیں سردیوں کی طویل بھوک برداشت کرنے کی عادت تھی ۔ میرے اپنے بیٹے تو سب سہہ لیتے اگر نہ بھی سہہ پاتے تو پروا نہیں تھی مگر وہ دونوں بیٹیاں پیدا کرنے والے کی امانت تھیں ۔ اس سے زیادہ عرصہ میں ان دونوں لڑکیوں آملا اور کاملا کو بھوکا نہیں رکھ سکتی تھی ۔

رات کا آخری پہر تھا میرا سب سے چھوٹا بچہ بنا کوئی آواز پیدا کیے باہر کے حالات کا پتا لگانے کے لیے کھوہ کے سرے سے باہر جھانک رہا تھا ۔ کچھ دیر تک بغور جائزہ لینے کے بعد اس نے بتایا کہ مچان پر بیٹھے لوگوں پر نیند کا غلبہ ہے۔ فقط ایک شخص چوکنا ہے مگر اسکا رخ جنگل کی دوسری سمت میں ہے ۔ میں نے دھیرے سے قدم اٹھاتے کھوہ سے باہر پاؤں رکھا اور بچوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ اسی رات ہمیں گھنے جنگل کی طرف نکلنا تھا۔ مجھے امید تھی ہمیں بن مانسوں کے جھنڈ کے قریب کسی قدیم غار میں پناہ مل جائے گی۔ ورنہ مچان کے سامنے اس جگہ بھوک سے مر جاتے یا پھر گولی کا شکار ہو جاتے۔

آملا کے پاؤں کے تلوے سخت تھے۔ اس کے پاؤں تلے سوکھے پتوں کی چرمراہٹ نے مچان پر بیٹھے شکاریوں کی توجہ ہماری جانب کر دی۔

آملا بھاگو واپس -------

کاملا وہیں رکو واپس پلٹو -------

اتنے میں ترتراہٹ کی آواز سنائی دی میرا ایک بچہ خون میں لت پت پڑا تھا دوسرا گھبرا کر بھاگا اور کہیں اندھیرے میں گم ہو گیا میں بندوق بردار پر جھپٹی مگر میری پچھلی ٹانگ میں ایک دہکتا ہوا انگارہ آن لگا۔۔۔

رکو ۔ ۔ ۔ رکو ۔ ۔ ۔

رکو مہندر ۔ رکو ۔ کوئی گولی نہ چلائے یہ عفریت نہیں ہیں ۔

یہ بلائیں نہیں

ڈرو مت

سنگھ کی پاٹ دار آواز گونج رہی تھی۔

ارے ۔۔۔

ہائے رے ماتا ۔۔۔۔ یہ تو ناریاں ہیں۔۔

مگر جنگل کی پرانی کھوہ میں ناریاں کیسے ؟

دھیان سے دیکھو سنگھ ۔ ۔ ۔ ۔

کہیں یہ پچھل پیریاں روپ بدلے نہ بیٹھی ہوں؟

نہیں نہیں یہ ناریاں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناریاں

انہوں نے آملا اور کاملا کو اٹھا لیا۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں رسیاں باندھ دیں۔ میں نے لنگڑاتے ہوئے پیچھے جانے کی بے سود کوشش کی ۔ وہ دونوں بہت دیر تک اُن پر چلاتی رہیں۔ ان کی غصیلی غراہٹ اور فریاد بھری پکار میرا دل چیر رہی تھی ۔

مگر پھر دل میں اطمینان کی لہر دوڑی

آج میں نے اٗس بستی کی امانت ، اس کی پُتریاں اُسے واپس لوٹا دی تھیں۔

پتا نہیں جنتریوں کے حساب میں کتنے سمبت بیتے ہوں گے۔ مگر میں نے درجنوں پورے چاند گنے تھے جب سے آملا کاملا گاؤں کے قریب والے حصے سے ملی تھیں۔ املا کوئی چار برس کی دکھائی دیتی تھی نیند میں ماتا جی پتا جی بولتی تھی اور کاملا وہ فقط چند ماہ کی تھی اور تب گھٹنوں پر چلتی تھی ۔ میرے پستانوں میں انہیں دیکھ کر دودھ اترا تھا ۔ شروع میں آملا کاملا اسی دودھ پر پلیں ۔ جنگل کی جھاڑیوں میں زہریلی بوٹیاں تھیں۔ گھاس پتے تو انہیں کھلا نہ سکتی تھی دھیرے دھیرے وہ بھی میری طرح کچا گوشت کھانے لگیں۔

۔۔۔

پھر کیا ہوا ؟ بھلا وہ باپ جو انہیں جنگل میں درندوں کے کھانے کو چھوڑ گیا تھا اتنے برس بعد انہیں اپنا لیتا؟ سیامی نے شاخ سے چھلانگ لگا کر نرمی سے نیچے اترتے ہوئے پوچھا ۔

پتا نہیں ۔ ۔ ۔

بھلا اس نے کیا اپنانا تھا۔ پر میرے دل میں ڈھارس بندھی تھی ۔ آدمی میں انسانیت تب بھی باقی تھی ۔ گاؤں کے لوگ بلاؤں کی جگہ لڑکیاں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے تھے اور کہیں من ہی من میں پشیمان بھی ۔ چہ مگوئیاں ہوتیں یہ کس کی بچیاں ہیں۔

میں برسوں سے انسانی فطرت کا مشاہدہ کر رہی ہوں۔ ان میں سے بہت سوں کے لکچھن ناگ کے جیسے ہیں یہ اپنے بچے خود تو نہیں کھاتے مگر ڈستے ضرور ہیں ۔مینا نے کہا۔

اری تو آملا کاملا کو رو رہی ہے اب تو شہر میں ایسی ایسی مشینیں آ گئی ہیں جو ماں کے پیٹ میں ہی لڑکی کا پتا چلا لیتی ہیں اور پیٹ میں ہی کاٹ کاٹ کر بچیوں کو گرا دیتے ہیں یہ لوگ ۔ شہری کتے کچرا کنڈی میں کتنے ہی کالے تھیلوں پر پیٹ بھرتے ہیں ۔ سیامی نے طنز سے کہا ۔

یہ سن کر کَلّو غراتے ہوئے سیامی سے کہنے لگا! پیٹ بھریں مُردار ۔۔۔ سانس کی رمق دیکھ کر کتنی تھیلیاں کھینچ کھانچ کر لوگوں کے بیچ لائے ہم ۔ رو رو کر شور مچایا ۔ ۔ ۔ ۔ بچا لو اسے ۔ ۔ ۔ ۔ آخر انسان کا بچہ ہے۔ ۔ ۔

پر انسان کا پیٹ بھی عجیب ہے ناف سے اوپر کی بھوک اس کی شدید اور ناف سے نیچے کی اس سے بھی شدید ۔ بھری توند ہوگی ماس چربی لٹکے گی مگر کھائے جائے گا کھائے جائے گا۔ ۔ ۔ اور جنس کے معاملے میں ان پر بیبون کا اثر ہے۔ بیبون جفتی ہونے کے لیے اتنا لڑتے ہیں کہ اپنی مادہ کو ہی مار دیتے ہیں ۔

بیبون کا نہیں سور نہیں اب آدمی ہی سب سے خوفناک درندہ ہے ۔ اسے رزق کا ادب ہے نہ ہی جنس کی تمیز ۔ ۔ ۔

کرمو نے اوپر کی شاخوں سے جھانکتے ہوئے کہا ۔

گڑیا پنکی جیوتی زینب کتنی کم سن بچیاں آملا کاملا کی عمر کی جن کے دودھ کے دانت نہ ٹوٹے تھے، جنسی مریضوں نے بھنبھوڑ ڈالیں۔ ان کی لاشیں کبھی کسی عبادت گاہ کی چھت سے جھول رہی ہوتی ہیں تو کبھی کماد کے کھیت میں پڑی ملتی ہیں ۔ پوٹلی کا ابال ختم ہونے کے بعد وہ ان معصوم بچوں کو مار کر کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں یا جلا کر راکھ کر دیتے ہیں ۔

آملا کاملا کا کیا بنا ؟ سیامی نے ان دونوں کی بات کاٹتے ہوئے ماتا سے پوچھا ۔

کیا انہوں نے انسانوں کی مانند رہنا سیکھ لیا ؟

کیا انسانوں نے انہیں اپنا ہم جنس سمجھ کر قبول کیا یا وہ بلائیں ہی کہلاتی رہیں جن کی تلاش میں لال سنگھ اور اسکے ساتھی جنگل میں گئے تھے؟

گاؤں کے باشندوں میں پشیمانی تھی مگر لوگ چپ تھے کوئی نہیں جانتا تھا ان کے ماتا پتا کون ہیں مگر اتنا تو سب کو معلوم تھا کہ کوئی انہیں میں سے ہے۔ اگر لڑکے ہوتے تو کوئی باپ انہیں یوں جنگل میں نہ چھوڑ جاتا۔

لال سنگھ نے ان دونوں کا خیال رکھنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود ۔

کئی بار مجھے شبہ ہوتا ہے آخر سنگھ کا ان سے کیا رشتہ تھا یا اُسے ہمدردی تھی؟ اور کئی بار لگتا ہے وہ انہیں ایک تجربے کے طور پر پال رہا تھا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس نے یہ بچیاں ایک بے اولاد عورت کو دے دیں۔ مگر وہ عام انسانوں کی طرح رہنا نہ سیکھیں۔ چھوٹی کاملا جس نے ہوش ہی میری گود میں سنبھالی تھی دھیرے دھیرے ان میں گھلنے لگی مگر آملا آدمیوں کو دیکھ کر غُرانے لگتی ،پکا ہوا کھانا پھینک دیتی اس نے ملنے والے سب کپڑے اور کھلونے نوچ ڈالے ۔ وہ دونوں رات کو جنگل کی طرف منہ کر کے ہوکتی رہتیں۔ ان کی ہوکیں میرے دل پر ایسا کاری وار کرتیں کہ بندوق سے نکلے انگارے کی چوٹ بھی ایسی نہ تھی۔

آہنی پنجرے میں مقید میری بیٹیاں سرد راتوں میں پرانی کھوہ اور ماتا کی گود کی گرمی سے محروم تھیں۔ کاش میں انہیں سمجھا سکتی کہ وہ جنگلی نہیں بلکہ انہیں لوگوں کی اولاد ہیں ۔ بڑی لڑکی آملا کو تو اس بات کا بخوبی علم تھا مگر وہی عام انسانوں سے میل جول اور ان کی عادات اپنانے میں شدید مزاحم رہی۔ جانے جنگل میں پھینکے جانے سے قبل اس کے ساتھ ایسا کیا بیتا تھا جو وہ خود کو ان میں سے تصور کرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔

پھر ایک دن آملا مر گئی اُس کی جان مکت ہوئی مگر آتما بھٹکتی رہی اور اب بھی بستیوں میں ماؤں کی کوکھ سے نوچی بچیوں، جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں اور ناریوں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔

جنس جو جانداروں کی نسل کے فروغ کا ذریعہ ہے پتا نہیں آدمی کے لیے وہ کیا حثیت اختیار کرگئی ۔ جنگلی درندوں کے نر اس وقت تک مادہ کا پیچھا نہیں کرتے جب تک وہ مُشکی نہ ہو۔ مگر انسان تو اپنی مادہ کی آمادگی یا بیزاری کا کوئی احترام نہیں کرتا۔ کم سن بچیوں اور ننھے بچوں تک کو بھنبھوڑ نے لگا ہے۔ اگر اس نے اپنے اطوار نہ بدلے مادہ بچوں کا قتل نہ روکا تو انسان کی نسل دھیرے دھیرے ختم ہو جائے گی۔

اچھا ہے ختم ہو جائے ۔ ایک دل جلے نے ہنکارہ بھرتے ہوئے کہا ۔ کم از کم اس طرح ہم جنگلیوں کی نسلیں تو بچ جائیں گی نا ۔

نہیں ایسا مت کہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ زمین تو بچھائی ہی انسان کے لیے گئی تھی ۔ ماتا نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔

اچھا یہ زمین انسان کے لیے بچھائی گئی اسے زمین کا مالک بنادیا گیا مگر اس نے باقی پرجاتیوں اور خود دھرتی ماتا سے کیا ظلم روا رکھا ۔ کون جواب دے گا اس کا؟

سب خاموش ہو گئے پھر چند ثانیوں کی خاموشی کے بعد سیامی نے پوچھا ماتا جی کاملا کا کیا ہوا۔ ماتا نے پھر سے وہی کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا !

آملا کے مکت ہونے کے بعد وہ دھیرے دھیرے سمجھنے لگی تھی وہ اصل میں کون ہے۔ اُس بے اولاد عورت نے بہت مشقت سے اسے دو پاؤں پر چلنا سکھایا کپڑے پہنائے اور وہ بھی پکا ہوا کھانا کھانے لگی ۔ بےاولاد عورت کی مامتا نے انسانی چہرے پر ملی کالک کے داغ بہت مل مل کر دھونے کی کوشش کی۔ مگر پھر بھی کاملا زیادہ دیر نہ جی سکی اور چند برسوں بعد آملا سے جا ملی۔

پھر کیا ہوا ۔ ایک ننھی لڑکی نے اداس لہجے میں پوچھا ۔ انجان آواز سن کر سبھی نے حیرت سے پیچھے مڑ کر دیکھا اور گویا پتھر کے ہو گئے۔

پتھر کی مانند ساکت جنگلی جانوروں نے دیکھا وہاں بچوں کے لاتعداد ہیولے سے بیٹھے تھے۔ وہ تمام بچے جو انسانی ہوس اور درندگی کا شکار ہوئے جن کی موت پہ پرندوں نے نوحے پڑھے تھے ۔ وہ خدا کے نائب کہ جن کے لیے جنگلی درندوں کے جھنڈ آیا گیری کریں۔ کرمو آسمان کی جانب تھوتھنی اٹھا کر ہوکنے لگا ،سیامی کی بلکنے کی آواز جنگل میں پھیلتی گئی ۔

مگر ماتا نے اس بات پر حیران ہوئے بغیر اپنی کہانی جاری رکھی۔ جب بستیوں میں بچے جنسی درندگی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی چیخیں بلائیں بن کر زمین پر بھٹکتی رہتی ہیں جو کسی کو دکھائی دیتیں ۔ مگر جنگل میں انکی چیخوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر خون آشامی کا جرثومہ پرورش پانے لگا ہے وہ کم سن بچوں کی اذیت اور موت کے مناظر سے لطف کشید کرنے لگا ہے اور بلائیں ہیں کہ بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔

ماتا آپ نے جو آملا کاملا کی پرورش کی بیکار گئی؟

نہیں بیکار نہیں گئی میری بچی ۔

ہم بھیڑیے ہیں ہمیں کتے کی نسل سے گردانا جاتا ہے۔ تمھیں پتا ہے بھیڑیوں کی ماتا دو انسانی لڑکیاں برسوں تک کیوں پالتی ہے۔ کیونکہ وہ ماتا ہے اور دھرتی بھی ماتا ہے جو ہم سب کو پالتی پوستی ہے۔ جیسے جنگلوں میں رہنا شکار کرنا اپنی نسل بڑھانا ہماری جبلت ہے اسی طرح ہماری جبلت میں یہ بھی کہیں درج ہے کہ انسان اس جگ کا راجا ہے انسان ہے تو یہ زمین باقی ہے جس دن انسان ختم ہوا درندوں کی پرجاتیوں میں ایک پرجاتی اور بڑھے گی مگر دھرتی ختم ہو جائے گی۔ یہاں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

انسانوں میں خون آشامی کا جرثومہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اس کی نسل ختم ہونے کے قریب ہے اس سے قبل سب انسان ویمپائر بن جائیں تم سب بستیوں میں پھیل جاؤ اور ظلم کا شکار معصوم بچوں کو جنگل میں لے آؤ۔ ہم ان بچوں کو پال کر انسانی نسل کو بچا لیں گے وہ ہمارے ساتھ جنگلوں میں جی کر ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کچھ دنوں بعد رکاوٹوں کے قریب کھڑے ٹی وی چینل کے نمائندے کی آواز جگمگاتی سکرینوں پر گونج رہی تھی ۔

کئی بڑے شہروں میں رات کے وقت چمکتی آنکھوں والی عجیب و غریب بلائیں نظر آ رہی ہیں جو پیچھا کرتے ہی اچانک غائب ہو جاتی ہیں ۔ ان کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا ۔کچھ لوگ انہیں بھوت پریت قرار دے رہے ہیں تو کچھ لوگ اسے زمین پر ایلین کا حملہ تصور کر رہے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اس قسم کی وڈیو ہو تو ہمارے چینل کو ارسال کیجیے۔ اور اسی خبر کے ساتھ جڑی دوسری اہم خبر یہ ہے کہ شہر سے کئی کم سن بچے غائب ہو رہے ہیں۔ ابھی تک کسی بچے کا زندہ یا مردہ کوئی سراغ نہیں مل رہا۔حکومت نے عوام کے تحفظ کے لیے شہر کے تمام راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا محاصرہ بڑھا دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبین علی

افسانہ:محاصرہ

سبین علی

پیپل کے درخت میں بنی اونچی مچان پر وہ بہت دیر سے شست لگائے بیٹھے تھے۔ گہرے اندھیرے میں وہ وقفے وقفے سے ایک دوسرے کو پُکار کر ہمت بڑھاتے اور چوکنی نظروں سے کبھی دائیں جانب دیکھتے تو کبھی بائیں جانب ۔ ان میں سے ایک سہما ہوا شخص بار بار چوٹی کی شاخوں میں جھانکنے کی کوشش کرتا مبادا کہ وہ جنگلی بَلا رات کے وقت آسمان سے جنگل میں نازل ہوتی ہو۔ ان کی تیل لگی بندوقیں چھن کر آتی چاندنی میں چمک رہی تھیں اور جھینگروں کی تیز آوازیں ماحول کے سکوت کو توڑ رہی تھیں۔

گاؤں میں کئی دنوں سے یہ خبر پھیلی تھی کہ قریبی جنگل میں عجیب و غریب شکل کی بلائیں رہتی ہیں۔ کوئی انہی کالی ماتا کا روپ سمجھ رہا تھا تو کوئی پچھل پیریاں مگر خوف و ہراس کا عالم اتنا بڑھا چکا تھا کہ کوئی جنگل کے قریب بھی نہ پھٹکتا ۔ ایسے میں شکاریوں کی کئی ٹولیاں انہیں پکڑنے کے لیے جنگل میں گئیں مگر خالی ہاتھ لوٹ آئیں۔ شکاری لال سنگھ نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ گاؤں والوں کو اس مصیبت سے نجات دلانے کا وعدہ کیا ۔ بندوقوں گولیوں اور لاٹھیوں سے لیس ہو کر ان لوگوں نے دن کے وقت ہماری کھوہ کے سامنے ہی اونچی مچان تیار کی تھی۔

وہ تیسرا روز تھا جب سے وہ اس مچان پر ہر رات پہرہ دیتے تھے ۔ میرے چاروں بچے بھوکے تھے۔ جنگل میں رات کو حبس اور رطوبت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اپنے جنگلی گھر میں دیر تک ٹھہرے رہنا ویسے ہی مشکل ہوتا ہے۔ میرے چاروں بچے بہت فرمانبردار اور سمجھدار تھے مجال ہے جو اس محاصرے میں ہلکی سی آواز بھی پیدا کی ہو۔ پچھلی رات مچان پر پہرہ دیتے سنگھ کے ایک ساتھی نے بنگالی شیر پر گولی داغ دی تھی۔ اُس کے کراہنے کی دھیمی آوازیں دیر تک سنائی دیتی رہیں۔ یہ خوف بھی عجیب عفریت ہے دنیا پر راج کرنے والا انسان بندوق ہاتھ میں لیے اونچی مچان کر بیٹھا بھی ایک نہتے چوپائے سے ڈر جانے پر دہکتا انگارہ داغ دیتا ہے۔ اُس رات شیر کو گولی لگنے کے بعد سے کسی جانور نے جنگل کی اِس سمت کا رخ نہیں کیا تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہیں یہ میرے بچوں کو اٹھا کر نہ لے جائیں ۔ سنا تھا شہروں میں اب جانوروں کو جنگلوں میں بند کیے ٹکٹ پر تماشا لگایا جاتا ہے۔ کچھ مُوا چڑیا گھر سا نام ہے۔ ۔ ۔ جانے چڑیا کے گھر میں شیر چیتے ہاتھی کیسے سماتے ہوں گے؟ مگر میرے بچے کوئی ایسے انوکھے تو نہیں ۔ ایسے تو بہت سے بچے جنگل کے نزدیکی گاؤں میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

لیکن اُس وقت مجھے زیادہ فکر اپنی دونوں لے پالک بیٹیوں کی تھی ان کی جلد پر گھنے بال تھے نہ ہی انہیں سردیوں کی طویل بھوک برداشت کرنے کی عادت تھی ۔ میرے اپنے بیٹے تو سب سہہ لیتے اگر نہ بھی سہہ پاتے تو پروا نہیں تھی مگر وہ دونوں بیٹیاں پیدا کرنے والے کی امانت تھیں ۔ اس سے زیادہ عرصہ میں ان دونوں لڑکیوں آملا اور کاملا کو بھوکا نہیں رکھ سکتی تھی ۔

رات کا آخری پہر تھا میرا سب سے چھوٹا بچہ بنا کوئی آواز پیدا کیے باہر کے حالات کا پتا لگانے کے لیے کھوہ کے سرے سے باہر جھانک رہا تھا ۔ کچھ دیر تک بغور جائزہ لینے کے بعد اس نے بتایا کہ مچان پر بیٹھے لوگوں پر نیند کا غلبہ ہے۔ فقط ایک شخص چوکنا ہے مگر اسکا رخ جنگل کی دوسری سمت میں ہے ۔ میں نے دھیرے سے قدم اٹھاتے کھوہ سے باہر پاؤں رکھا اور بچوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ اسی رات ہمیں گھنے جنگل کی طرف نکلنا تھا۔ مجھے امید تھی ہمیں بن مانسوں کے جھنڈ کے قریب کسی قدیم غار میں پناہ مل جائے گی۔ ورنہ مچان کے سامنے اس جگہ بھوک سے مر جاتے یا پھر گولی کا شکار ہو جاتے۔

آملا کے پاؤں کے تلوے سخت تھے۔ اس کے پاؤں تلے سوکھے پتوں کی چرمراہٹ نے مچان پر بیٹھے شکاریوں کی توجہ ہماری جانب کر دی۔

آملا بھاگو واپس -------

کاملا وہیں رکو واپس پلٹو -------

اتنے میں ترتراہٹ کی آواز سنائی دی میرا ایک بچہ خون میں لت پت پڑا تھا دوسرا گھبرا کر بھاگا اور کہیں اندھیرے میں گم ہو گیا میں بندوق بردار پر جھپٹی مگر میری پچھلی ٹانگ میں ایک دہکتا ہوا انگارہ آن لگا۔۔۔

رکو ۔ ۔ ۔ رکو ۔ ۔ ۔

رکو مہندر ۔ رکو ۔ کوئی گولی نہ چلائے یہ عفریت نہیں ہیں ۔

یہ بلائیں نہیں

ڈرو مت

سنگھ کی پاٹ دار آواز گونج رہی تھی۔

ارے ۔۔۔

ہائے رے ماتا ۔۔۔۔ یہ تو ناریاں ہیں۔۔

مگر جنگل کی پرانی کھوہ میں ناریاں کیسے ؟

دھیان سے دیکھو سنگھ ۔ ۔ ۔ ۔

کہیں یہ پچھل پیریاں روپ بدلے نہ بیٹھی ہوں؟

نہیں نہیں یہ ناریاں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناریاں

انہوں نے آملا اور کاملا کو اٹھا لیا۔ ان کے ہاتھوں اور پاؤں میں رسیاں باندھ دیں۔ میں نے لنگڑاتے ہوئے پیچھے جانے کی بے سود کوشش کی ۔ وہ دونوں بہت دیر تک اُن پر چلاتی رہیں۔ ان کی غصیلی غراہٹ اور فریاد بھری پکار میرا دل چیر رہی تھی ۔

مگر پھر دل میں اطمینان کی لہر دوڑی

آج میں نے اٗس بستی کی امانت ، اس کی پُتریاں اُسے واپس لوٹا دی تھیں۔

پتا نہیں جنتریوں کے حساب میں کتنے سمبت بیتے ہوں گے۔ مگر میں نے درجنوں پورے چاند گنے تھے جب سے آملا کاملا گاؤں کے قریب والے حصے سے ملی تھیں۔ املا کوئی چار برس کی دکھائی دیتی تھی نیند میں ماتا جی پتا جی بولتی تھی اور کاملا وہ فقط چند ماہ کی تھی اور تب گھٹنوں پر چلتی تھی ۔ میرے پستانوں میں انہیں دیکھ کر دودھ اترا تھا ۔ شروع میں آملا کاملا اسی دودھ پر پلیں ۔ جنگل کی جھاڑیوں میں زہریلی بوٹیاں تھیں۔ گھاس پتے تو انہیں کھلا نہ سکتی تھی دھیرے دھیرے وہ بھی میری طرح کچا گوشت کھانے لگیں۔

۔۔۔

پھر کیا ہوا ؟ بھلا وہ باپ جو انہیں جنگل میں درندوں کے کھانے کو چھوڑ گیا تھا اتنے برس بعد انہیں اپنا لیتا؟ سیامی نے شاخ سے چھلانگ لگا کر نرمی سے نیچے اترتے ہوئے پوچھا ۔

پتا نہیں ۔ ۔ ۔

بھلا اس نے کیا اپنانا تھا۔ پر میرے دل میں ڈھارس بندھی تھی ۔ آدمی میں انسانیت تب بھی باقی تھی ۔ گاؤں کے لوگ بلاؤں کی جگہ لڑکیاں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے تھے اور کہیں من ہی من میں پشیمان بھی ۔ چہ مگوئیاں ہوتیں یہ کس کی بچیاں ہیں۔

میں برسوں سے انسانی فطرت کا مشاہدہ کر رہی ہوں۔ ان میں سے بہت سوں کے لکچھن ناگ کے جیسے ہیں یہ اپنے بچے خود تو نہیں کھاتے مگر ڈستے ضرور ہیں ۔مینا نے کہا۔

اری تو آملا کاملا کو رو رہی ہے اب تو شہر میں ایسی ایسی مشینیں آ گئی ہیں جو ماں کے پیٹ میں ہی لڑکی کا پتا چلا لیتی ہیں اور پیٹ میں ہی کاٹ کاٹ کر بچیوں کو گرا دیتے ہیں یہ لوگ ۔ شہری کتے کچرا کنڈی میں کتنے ہی کالے تھیلوں پر پیٹ بھرتے ہیں ۔ سیامی نے طنز سے کہا ۔

یہ سن کر کَلّو غراتے ہوئے سیامی سے کہنے لگا! پیٹ بھریں مُردار ۔۔۔ سانس کی رمق دیکھ کر کتنی تھیلیاں کھینچ کھانچ کر لوگوں کے بیچ لائے ہم ۔ رو رو کر شور مچایا ۔ ۔ ۔ ۔ بچا لو اسے ۔ ۔ ۔ ۔ آخر انسان کا بچہ ہے۔ ۔ ۔

پر انسان کا پیٹ بھی عجیب ہے ناف سے اوپر کی بھوک اس کی شدید اور ناف سے نیچے کی اس سے بھی شدید ۔ بھری توند ہوگی ماس چربی لٹکے گی مگر کھائے جائے گا کھائے جائے گا۔ ۔ ۔ اور جنس کے معاملے میں ان پر بیبون کا اثر ہے۔ بیبون جفتی ہونے کے لیے اتنا لڑتے ہیں کہ اپنی مادہ کو ہی مار دیتے ہیں ۔

بیبون کا نہیں سور نہیں اب آدمی ہی سب سے خوفناک درندہ ہے ۔ اسے رزق کا ادب ہے نہ ہی جنس کی تمیز ۔ ۔ ۔

کرمو نے اوپر کی شاخوں سے جھانکتے ہوئے کہا ۔

گڑیا پنکی جیوتی زینب کتنی کم سن بچیاں آملا کاملا کی عمر کی جن کے دودھ کے دانت نہ ٹوٹے تھے، جنسی مریضوں نے بھنبھوڑ ڈالیں۔ ان کی لاشیں کبھی کسی عبادت گاہ کی چھت سے جھول رہی ہوتی ہیں تو کبھی کماد کے کھیت میں پڑی ملتی ہیں ۔ پوٹلی کا ابال ختم ہونے کے بعد وہ ان معصوم بچوں کو مار کر کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں یا جلا کر راکھ کر دیتے ہیں ۔

آملا کاملا کا کیا بنا ؟ سیامی نے ان دونوں کی بات کاٹتے ہوئے ماتا سے پوچھا ۔

کیا انہوں نے انسانوں کی مانند رہنا سیکھ لیا ؟

کیا انسانوں نے انہیں اپنا ہم جنس سمجھ کر قبول کیا یا وہ بلائیں ہی کہلاتی رہیں جن کی تلاش میں لال سنگھ اور اسکے ساتھی جنگل میں گئے تھے؟

گاؤں کے باشندوں میں پشیمانی تھی مگر لوگ چپ تھے کوئی نہیں جانتا تھا ان کے ماتا پتا کون ہیں مگر اتنا تو سب کو معلوم تھا کہ کوئی انہیں میں سے ہے۔ اگر لڑکے ہوتے تو کوئی باپ انہیں یوں جنگل میں نہ چھوڑ جاتا۔

لال سنگھ نے ان دونوں کا خیال رکھنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود ۔

کئی بار مجھے شبہ ہوتا ہے آخر سنگھ کا ان سے کیا رشتہ تھا یا اُسے ہمدردی تھی؟ اور کئی بار لگتا ہے وہ انہیں ایک تجربے کے طور پر پال رہا تھا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس نے یہ بچیاں ایک بے اولاد عورت کو دے دیں۔ مگر وہ عام انسانوں کی طرح رہنا نہ سیکھیں۔ چھوٹی کاملا جس نے ہوش ہی میری گود میں سنبھالی تھی دھیرے دھیرے ان میں گھلنے لگی مگر آملا آدمیوں کو دیکھ کر غُرانے لگتی ،پکا ہوا کھانا پھینک دیتی اس نے ملنے والے سب کپڑے اور کھلونے نوچ ڈالے ۔ وہ دونوں رات کو جنگل کی طرف منہ کر کے ہوکتی رہتیں۔ ان کی ہوکیں میرے دل پر ایسا کاری وار کرتیں کہ بندوق سے نکلے انگارے کی چوٹ بھی ایسی نہ تھی۔

آہنی پنجرے میں مقید میری بیٹیاں سرد راتوں میں پرانی کھوہ اور ماتا کی گود کی گرمی سے محروم تھیں۔ کاش میں انہیں سمجھا سکتی کہ وہ جنگلی نہیں بلکہ انہیں لوگوں کی اولاد ہیں ۔ بڑی لڑکی آملا کو تو اس بات کا بخوبی علم تھا مگر وہی عام انسانوں سے میل جول اور ان کی عادات اپنانے میں شدید مزاحم رہی۔ جانے جنگل میں پھینکے جانے سے قبل اس کے ساتھ ایسا کیا بیتا تھا جو وہ خود کو ان میں سے تصور کرنا بھی نہیں چاہتی تھی۔

پھر ایک دن آملا مر گئی اُس کی جان مکت ہوئی مگر آتما بھٹکتی رہی اور اب بھی بستیوں میں ماؤں کی کوکھ سے نوچی بچیوں، جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں اور ناریوں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔

جنس جو جانداروں کی نسل کے فروغ کا ذریعہ ہے پتا نہیں آدمی کے لیے وہ کیا حثیت اختیار کرگئی ۔ جنگلی درندوں کے نر اس وقت تک مادہ کا پیچھا نہیں کرتے جب تک وہ مُشکی نہ ہو۔ مگر انسان تو اپنی مادہ کی آمادگی یا بیزاری کا کوئی احترام نہیں کرتا۔ کم سن بچیوں اور ننھے بچوں تک کو بھنبھوڑ نے لگا ہے۔ اگر اس نے اپنے اطوار نہ بدلے مادہ بچوں کا قتل نہ روکا تو انسان کی نسل دھیرے دھیرے ختم ہو جائے گی۔

اچھا ہے ختم ہو جائے ۔ ایک دل جلے نے ہنکارہ بھرتے ہوئے کہا ۔ کم از کم اس طرح ہم جنگلیوں کی نسلیں تو بچ جائیں گی نا ۔

نہیں ایسا مت کہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ زمین تو بچھائی ہی انسان کے لیے گئی تھی ۔ ماتا نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔

اچھا یہ زمین انسان کے لیے بچھائی گئی اسے زمین کا مالک بنادیا گیا مگر اس نے باقی پرجاتیوں اور خود دھرتی ماتا سے کیا ظلم روا رکھا ۔ کون جواب دے گا اس کا؟

سب خاموش ہو گئے پھر چند ثانیوں کی خاموشی کے بعد سیامی نے پوچھا ماتا جی کاملا کا کیا ہوا۔ ماتا نے پھر سے وہی کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا !

آملا کے مکت ہونے کے بعد وہ دھیرے دھیرے سمجھنے لگی تھی وہ اصل میں کون ہے۔ اُس بے اولاد عورت نے بہت مشقت سے اسے دو پاؤں پر چلنا سکھایا کپڑے پہنائے اور وہ بھی پکا ہوا کھانا کھانے لگی ۔ بےاولاد عورت کی مامتا نے انسانی چہرے پر ملی کالک کے داغ بہت مل مل کر دھونے کی کوشش کی۔ مگر پھر بھی کاملا زیادہ دیر نہ جی سکی اور چند برسوں بعد آملا سے جا ملی۔

پھر کیا ہوا ۔ ایک ننھی لڑکی نے اداس لہجے میں پوچھا ۔ انجان آواز سن کر سبھی نے حیرت سے پیچھے مڑ کر دیکھا اور گویا پتھر کے ہو گئے۔

پتھر کی مانند ساکت جنگلی جانوروں نے دیکھا وہاں بچوں کے لاتعداد ہیولے سے بیٹھے تھے۔ وہ تمام بچے جو انسانی ہوس اور درندگی کا شکار ہوئے جن کی موت پہ پرندوں نے نوحے پڑھے تھے ۔ وہ خدا کے نائب کہ جن کے لیے جنگلی درندوں کے جھنڈ آیا گیری کریں۔ کرمو آسمان کی جانب تھوتھنی اٹھا کر ہوکنے لگا ،سیامی کی بلکنے کی آواز جنگل میں پھیلتی گئی ۔

مگر ماتا نے اس بات پر حیران ہوئے بغیر اپنی کہانی جاری رکھی۔ جب بستیوں میں بچے جنسی درندگی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی چیخیں بلائیں بن کر زمین پر بھٹکتی رہتی ہیں جو کسی کو دکھائی دیتیں ۔ مگر جنگل میں انکی چیخوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر خون آشامی کا جرثومہ پرورش پانے لگا ہے وہ کم سن بچوں کی اذیت اور موت کے مناظر سے لطف کشید کرنے لگا ہے اور بلائیں ہیں کہ بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔

ماتا آپ نے جو آملا کاملا کی پرورش کی بیکار گئی؟

نہیں بیکار نہیں گئی میری بچی ۔

ہم بھیڑیے ہیں ہمیں کتے کی نسل سے گردانا جاتا ہے۔ تمھیں پتا ہے بھیڑیوں کی ماتا دو انسانی لڑکیاں برسوں تک کیوں پالتی ہے۔ کیونکہ وہ ماتا ہے اور دھرتی بھی ماتا ہے جو ہم سب کو پالتی پوستی ہے۔ جیسے جنگلوں میں رہنا شکار کرنا اپنی نسل بڑھانا ہماری جبلت ہے اسی طرح ہماری جبلت میں یہ بھی کہیں درج ہے کہ انسان اس جگ کا راجا ہے انسان ہے تو یہ زمین باقی ہے جس دن انسان ختم ہوا درندوں کی پرجاتیوں میں ایک پرجاتی اور بڑھے گی مگر دھرتی ختم ہو جائے گی۔ یہاں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

انسانوں میں خون آشامی کا جرثومہ پھیلتا جا رہا ہے۔ اس کی نسل ختم ہونے کے قریب ہے اس سے قبل سب انسان ویمپائر بن جائیں تم سب بستیوں میں پھیل جاؤ اور ظلم کا شکار معصوم بچوں کو جنگل میں لے آؤ۔ ہم ان بچوں کو پال کر انسانی نسل کو بچا لیں گے وہ ہمارے ساتھ جنگلوں میں جی کر ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کچھ دنوں بعد رکاوٹوں کے قریب کھڑے ٹی وی چینل کے نمائندے کی آواز جگمگاتی سکرینوں پر گونج رہی تھی ۔

کئی بڑے شہروں میں رات کے وقت چمکتی آنکھوں والی عجیب و غریب بلائیں نظر آ رہی ہیں جو پیچھا کرتے ہی اچانک غائب ہو جاتی ہیں ۔ ان کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا ۔کچھ لوگ انہیں بھوت پریت قرار دے رہے ہیں تو کچھ لوگ اسے زمین پر ایلین کا حملہ تصور کر رہے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اس قسم کی وڈیو ہو تو ہمارے چینل کو ارسال کیجیے۔ اور اسی خبر کے ساتھ جڑی دوسری اہم خبر یہ ہے کہ شہر سے کئی کم سن بچے غائب ہو رہے ہیں۔ ابھی تک کسی بچے کا زندہ یا مردہ کوئی سراغ نہیں مل رہا۔حکومت نے عوام کے تحفظ کے لیے شہر کے تمام راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا محاصرہ بڑھا دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبین علی

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024