مجسموں کا اعجاز

مجسموں کا اعجاز

Oct 7, 2023

دیدبان شمارہ -٢٠ اور٢١

مجسموں کا اعجاز

قاضی علی ابولحسن

با غ کا دروازہ کھلا اور پھر جیسے پھولوں کے ساتھ انسانوں کی مہکتی ہوئی خوشبو، روح کے اندر اترتی چلی گئی۔خوشبو __جنون، لگن، جستجو اور تازہ لہو کی مہک سے بھرپورتھی۔دروازے سے ہی پگڈنڈیوں میں تقسیم ہوتے راستوں پر ہر شعبہ ہائے زندگی کی تختیاں آویزاں تھیں۔ادب کیا، مصوری کیا، سائنس، موسیقی، میڈیسن، معاشیات، شاعری،سیاست، ثقافت، تعمیرات سب کے سب شعبوں کی راہیں کھل رہیں تھیں۔ان راہوں پہ مجسم تھے وہ شاہکارجو  ان راہوں پہ وقف ہو چکے۔ہر حصے سے اٹھتی خوشبو تھی جو سماج کے علوم و فنون کی مہارت کی دھن بجا رہی تھی۔البیرونی، نیوٹن، فارابی، میر، غالب، ایلیٹ، گاندھی، لنکن، جناح، نصرت، ایدھی سب کے سب موجود تھے۔اچانک میری آنکھ کھلی اور سب غائب ہو گیا۔

یہ ایک خواب میں ہی ممکن تھا۔ ہمارے معاشرے میں علم و فن والوں کی قدر کم ہی کی جاتی ہے اور اگر مرنے کے بعد کرنی بھی پڑ جائے تو دو،چار نشستوں تک محدود ہوتی ہے۔تمام فنونِ لطیفہ کی طرح مجسمہ سازی بھی ہمارے ہاں ترجیحات کی تہوں میں چھپی ملتی ہے۔ بلکہ شاید اِس فن کے ساتھ زیادہ سخت رویہ روا رکھا گیا۔اکیسوی صدی کی جدید سائنس کی بہاریں دیکھ چکنے کے باوجود ہم مجسمے، بت اور مورتی کی تمیز کو واضح نہیں کر پائے۔

مجسمہ سازی آرٹ کی ایک صنف ہونے کے ساتھ خراج دینے کا اہم ذریعہ ہے۔ایک صلاحیت اور تاثر سے ایک مضبوط صنف بن جانے تک کے سفر کے دوران اور اُس کے بعد، دنیا اپنے خداوٗں، بادشاہوں، بزرگوں، فن کاروں اور علم والوں کو مجسم کر کے اپنے باغیچوں،عجائب گھروں، درس گاہوں، عبادت گاہوں اور چوراہوں کو سجاتی چلی آئی ہے۔

اعجاز ملک کے مجسمے اسی روایت کی ایک کڑی ہیں۔ان مجسموں سے انہوں نے فن کاروں کو نہ صرف خراج دیا بلکہ اُن کے فن کو ان مجسموں میں محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ مجسمے محض تشریحِ ابدان نہیں اور نہ ہی کثیر الاطراف تراش خراش ہیں بلکہ یہ اُس شخصیت کے مزاج، فن اور اندازِ فن کی مجسم شکل ہیں۔صرف شکل و صورت کی شبیہ کسی شخص کے تعارف کے لئے تو کافی ہو گی مگر اعجاز ملک کے مجسمے اُس برصغیر روایت کا حصہ ہیں جس کے بارے میں ٹیگور نے کہا تھا کہ یہاں مجسمے میں روح کی صورت مجسم ہونے والے کا پیغام شامل کر دیا جاتا ہے۔ان مجسموں کی مٹی میں ہی فیض کی چاشنی، پٹھانے خان کی درویشی،فرید کا عشق اور مبارک علی کی حسِ تاریخ شامل کر دی گئی تھی۔ مجسمہ ساز کا اپنا ایک انداز ہمیں ہر مجسمے میں نظر آتا ہے۔وہ انداز اِن مجسموں کی واحد مشترک شے ہے اور یہی انداز اعجاز ملک کی پہچان ہے۔ مگر اس مخصوص انداز کے باوجود ہر مجسمہ مجسم ہونے والے شخص کے مزاج کا بھرپور عکاس ہے۔ہمیں فیض کے مجسمے میں امن کی فاختاوں کے ساتھ اُن کی کم گوئی اور اُس میں چھُپا ایک ٹھہراو اور دبدبہ نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ فاختائیں ابھی عقابوں کا روپ دھار لیں گی۔ منٹو کی طرف رخ کریں تو اُس کی حقیقت پسندی، بہادری، شخصیت کا دکھ، اور اُس کے اندر کے بکھراؤ کے ساتھ مزاج کی نرگسیت کھلتی چلی جاتی ہے۔ صادقین کے اناٹمی کی زبان میں دیکھے گئے آفاقی خواب ہوں، پٹھانے خان کے راگ اور اُن راگوں سے جڑے اُس کے جسم اور لگن کے رشتے، غالب کے ذات سے کائنات تک پھیلے موضوعات، غنم کی جرئات مندی، ڈاکٹر مبارک علی کا سادگی سے تاریخ کی پیچیدگیوں کو سلجھانے کا کمال، فرید کی روہی سے محبت،  سب کا سب اِن مجسموں سے عیاں ہے۔جہاں ایک رخ شخصیت کے ہمہ جہت پہلو پورے نہیں کر پایا وہاں ایک سے زیادہ تاثر سمو لینے کی خاطر کثیر الاطراف شکل دی گئی ہے۔اور ہر رخ شخصیت کے ایک منفرد پہلو کا عکاس ہے۔ یہ سب اس صورت ممکن ہو پایا ہے کہ اعجاز ملک نے

صرف اشکال، تصاویر یا چہروں کا مشاہدہ کافی نہیں جانا بلکہ ہر شخصیت کے کام کا جائزہ لے کر اُس سے ایک تعلق بنانے کی کوشش کی ہے اور اُس شخصیت اور اُس کے فن کو اپنی ذات میں جگہ دے کر اپنے فن سے اس شخصیت کوریپرو ڈیوس٭کیا ہے۔اُن شخصیات کے بے شمار سکیچ بنا کر ہر زاویے کے ممکنہ امکانات کی ریاضت کی ہے۔اُن کے مجسم کئے جانے والے لوگوں میں بیشتر مصنف، ادیب اور شاعر ہیں۔ اعجاز ملک نے اُن سب کی تحریروں کو کئی بار پڑھا اور نہ صرف پڑھا بلکہ اُن تحریروں کے ذریعے مصنفین کی شخصیت کو گرفت میں لانے کی ہر ممکنہ کوشش کی۔ اِن دنوں بننے والے معروف فرانسیسی فلسفی،سائنس دان اور ادیب گستوں بشلاغ کے مجسمے کو اس سارے عمل سے گزرتے ہوئے میری گناہگار آنکھوں نے خود دیکھا ہے۔

اعجاز ملک واضح طور پر  مجسمہ سازی کی مختلف ادوار میں چلنے والی تحریکوں کا حصہ نظر نہیں آتے۔اگر اُن کے فن میں یورپی مجسمہ سازی کی کلاسیکل اور مینرازم کی جھلکیاں نظر آتی ہیں تو ساتھ ہی سندھ وادی کے مجسموں کا خمیر اور جمالیات ڈھکی چھپی نہیں۔جو چیز ان مجسموں کا بالکل حصہ نہیں وہ ڈیکوریشن ہے۔مائیکل انجلو کے بعد بیشتر دنیاکی مجسمہ سازی میں جس طرح ڈیکوریٹو آرٹ شامل ہوا جسے دھائیوں بعد بھی جدیدت اور مابعدجدیدیت مکمل طور پر ختم نہ کر سکے اعجاز ملک نے باآسانی خود کو اُس سے بچا لیا۔

یہ صرف مجسمے نہیں بلکہ آرکیٹیکچرل ماڈل ہیں۔ان مجسموں میں بننے والی سپیس اور ڈائریکشن کی کیمسٹری دراصل اعجاز ملک کی وہ مہارت ہے جسے وہ کئی دہائیوں سے بطور آرکیٹکٹ اپنے پیشے میں انجام دے رہے ہیں۔ہر مجسمہ ایک فرد کی شخصیت کی ایسی تعمیر ہے جو اُس کی ذات کے ہر پہلو کو کوئی نہ کوئی جگہ مہیا کر رہی ہے اور شخصیت کاکوئی وصف باقی نہیں رہتا۔

یہ مجسمے یقینا پاکستان میں مجسمہ سازی کے فروغ کا باعث ہو ں گے اور نوجوان مجسمہ سازوں کے لئے نہ صرف ایک عمدہ نمونے کا کام کریں گے بلکہ مجسم کئے جانے والی شاہکار ہستیوں کو دیر تک ٹریبیوٹ دیتے رہیں گے۔ہمیں اپنے فن کاروں اور فن کوبہر حال عزت دینے کی ضرورت ہے چونکہ اب فقط   ’گھوڑا چوک‘ میں اضافوں سے کام نہیں چلے گا۔

٭ reproduce

*(Gaston Bachelard)

دیدبان شمارہ -٢٠ اور٢١

مجسموں کا اعجاز

قاضی علی ابولحسن

با غ کا دروازہ کھلا اور پھر جیسے پھولوں کے ساتھ انسانوں کی مہکتی ہوئی خوشبو، روح کے اندر اترتی چلی گئی۔خوشبو __جنون، لگن، جستجو اور تازہ لہو کی مہک سے بھرپورتھی۔دروازے سے ہی پگڈنڈیوں میں تقسیم ہوتے راستوں پر ہر شعبہ ہائے زندگی کی تختیاں آویزاں تھیں۔ادب کیا، مصوری کیا، سائنس، موسیقی، میڈیسن، معاشیات، شاعری،سیاست، ثقافت، تعمیرات سب کے سب شعبوں کی راہیں کھل رہیں تھیں۔ان راہوں پہ مجسم تھے وہ شاہکارجو  ان راہوں پہ وقف ہو چکے۔ہر حصے سے اٹھتی خوشبو تھی جو سماج کے علوم و فنون کی مہارت کی دھن بجا رہی تھی۔البیرونی، نیوٹن، فارابی، میر، غالب، ایلیٹ، گاندھی، لنکن، جناح، نصرت، ایدھی سب کے سب موجود تھے۔اچانک میری آنکھ کھلی اور سب غائب ہو گیا۔

یہ ایک خواب میں ہی ممکن تھا۔ ہمارے معاشرے میں علم و فن والوں کی قدر کم ہی کی جاتی ہے اور اگر مرنے کے بعد کرنی بھی پڑ جائے تو دو،چار نشستوں تک محدود ہوتی ہے۔تمام فنونِ لطیفہ کی طرح مجسمہ سازی بھی ہمارے ہاں ترجیحات کی تہوں میں چھپی ملتی ہے۔ بلکہ شاید اِس فن کے ساتھ زیادہ سخت رویہ روا رکھا گیا۔اکیسوی صدی کی جدید سائنس کی بہاریں دیکھ چکنے کے باوجود ہم مجسمے، بت اور مورتی کی تمیز کو واضح نہیں کر پائے۔

مجسمہ سازی آرٹ کی ایک صنف ہونے کے ساتھ خراج دینے کا اہم ذریعہ ہے۔ایک صلاحیت اور تاثر سے ایک مضبوط صنف بن جانے تک کے سفر کے دوران اور اُس کے بعد، دنیا اپنے خداوٗں، بادشاہوں، بزرگوں، فن کاروں اور علم والوں کو مجسم کر کے اپنے باغیچوں،عجائب گھروں، درس گاہوں، عبادت گاہوں اور چوراہوں کو سجاتی چلی آئی ہے۔

اعجاز ملک کے مجسمے اسی روایت کی ایک کڑی ہیں۔ان مجسموں سے انہوں نے فن کاروں کو نہ صرف خراج دیا بلکہ اُن کے فن کو ان مجسموں میں محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ مجسمے محض تشریحِ ابدان نہیں اور نہ ہی کثیر الاطراف تراش خراش ہیں بلکہ یہ اُس شخصیت کے مزاج، فن اور اندازِ فن کی مجسم شکل ہیں۔صرف شکل و صورت کی شبیہ کسی شخص کے تعارف کے لئے تو کافی ہو گی مگر اعجاز ملک کے مجسمے اُس برصغیر روایت کا حصہ ہیں جس کے بارے میں ٹیگور نے کہا تھا کہ یہاں مجسمے میں روح کی صورت مجسم ہونے والے کا پیغام شامل کر دیا جاتا ہے۔ان مجسموں کی مٹی میں ہی فیض کی چاشنی، پٹھانے خان کی درویشی،فرید کا عشق اور مبارک علی کی حسِ تاریخ شامل کر دی گئی تھی۔ مجسمہ ساز کا اپنا ایک انداز ہمیں ہر مجسمے میں نظر آتا ہے۔وہ انداز اِن مجسموں کی واحد مشترک شے ہے اور یہی انداز اعجاز ملک کی پہچان ہے۔ مگر اس مخصوص انداز کے باوجود ہر مجسمہ مجسم ہونے والے شخص کے مزاج کا بھرپور عکاس ہے۔ہمیں فیض کے مجسمے میں امن کی فاختاوں کے ساتھ اُن کی کم گوئی اور اُس میں چھُپا ایک ٹھہراو اور دبدبہ نظر آتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ فاختائیں ابھی عقابوں کا روپ دھار لیں گی۔ منٹو کی طرف رخ کریں تو اُس کی حقیقت پسندی، بہادری، شخصیت کا دکھ، اور اُس کے اندر کے بکھراؤ کے ساتھ مزاج کی نرگسیت کھلتی چلی جاتی ہے۔ صادقین کے اناٹمی کی زبان میں دیکھے گئے آفاقی خواب ہوں، پٹھانے خان کے راگ اور اُن راگوں سے جڑے اُس کے جسم اور لگن کے رشتے، غالب کے ذات سے کائنات تک پھیلے موضوعات، غنم کی جرئات مندی، ڈاکٹر مبارک علی کا سادگی سے تاریخ کی پیچیدگیوں کو سلجھانے کا کمال، فرید کی روہی سے محبت،  سب کا سب اِن مجسموں سے عیاں ہے۔جہاں ایک رخ شخصیت کے ہمہ جہت پہلو پورے نہیں کر پایا وہاں ایک سے زیادہ تاثر سمو لینے کی خاطر کثیر الاطراف شکل دی گئی ہے۔اور ہر رخ شخصیت کے ایک منفرد پہلو کا عکاس ہے۔ یہ سب اس صورت ممکن ہو پایا ہے کہ اعجاز ملک نے

صرف اشکال، تصاویر یا چہروں کا مشاہدہ کافی نہیں جانا بلکہ ہر شخصیت کے کام کا جائزہ لے کر اُس سے ایک تعلق بنانے کی کوشش کی ہے اور اُس شخصیت اور اُس کے فن کو اپنی ذات میں جگہ دے کر اپنے فن سے اس شخصیت کوریپرو ڈیوس٭کیا ہے۔اُن شخصیات کے بے شمار سکیچ بنا کر ہر زاویے کے ممکنہ امکانات کی ریاضت کی ہے۔اُن کے مجسم کئے جانے والے لوگوں میں بیشتر مصنف، ادیب اور شاعر ہیں۔ اعجاز ملک نے اُن سب کی تحریروں کو کئی بار پڑھا اور نہ صرف پڑھا بلکہ اُن تحریروں کے ذریعے مصنفین کی شخصیت کو گرفت میں لانے کی ہر ممکنہ کوشش کی۔ اِن دنوں بننے والے معروف فرانسیسی فلسفی،سائنس دان اور ادیب گستوں بشلاغ کے مجسمے کو اس سارے عمل سے گزرتے ہوئے میری گناہگار آنکھوں نے خود دیکھا ہے۔

اعجاز ملک واضح طور پر  مجسمہ سازی کی مختلف ادوار میں چلنے والی تحریکوں کا حصہ نظر نہیں آتے۔اگر اُن کے فن میں یورپی مجسمہ سازی کی کلاسیکل اور مینرازم کی جھلکیاں نظر آتی ہیں تو ساتھ ہی سندھ وادی کے مجسموں کا خمیر اور جمالیات ڈھکی چھپی نہیں۔جو چیز ان مجسموں کا بالکل حصہ نہیں وہ ڈیکوریشن ہے۔مائیکل انجلو کے بعد بیشتر دنیاکی مجسمہ سازی میں جس طرح ڈیکوریٹو آرٹ شامل ہوا جسے دھائیوں بعد بھی جدیدت اور مابعدجدیدیت مکمل طور پر ختم نہ کر سکے اعجاز ملک نے باآسانی خود کو اُس سے بچا لیا۔

یہ صرف مجسمے نہیں بلکہ آرکیٹیکچرل ماڈل ہیں۔ان مجسموں میں بننے والی سپیس اور ڈائریکشن کی کیمسٹری دراصل اعجاز ملک کی وہ مہارت ہے جسے وہ کئی دہائیوں سے بطور آرکیٹکٹ اپنے پیشے میں انجام دے رہے ہیں۔ہر مجسمہ ایک فرد کی شخصیت کی ایسی تعمیر ہے جو اُس کی ذات کے ہر پہلو کو کوئی نہ کوئی جگہ مہیا کر رہی ہے اور شخصیت کاکوئی وصف باقی نہیں رہتا۔

یہ مجسمے یقینا پاکستان میں مجسمہ سازی کے فروغ کا باعث ہو ں گے اور نوجوان مجسمہ سازوں کے لئے نہ صرف ایک عمدہ نمونے کا کام کریں گے بلکہ مجسم کئے جانے والی شاہکار ہستیوں کو دیر تک ٹریبیوٹ دیتے رہیں گے۔ہمیں اپنے فن کاروں اور فن کوبہر حال عزت دینے کی ضرورت ہے چونکہ اب فقط   ’گھوڑا چوک‘ میں اضافوں سے کام نہیں چلے گا۔

٭ reproduce

*(Gaston Bachelard)

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024