نظم:میری خفا بلی
نظم:میری خفا بلی
Feb 27, 2026
مصور اسرار فاروقی

دیدبان شمارہ - ٣۲
فروری۔2026
میری خفا بلّی
شاعر: نزار قبانی | مترجم: اعجازالحق
تم ایک ہی سوال
بیسویں بار دہرا رہے ہو
کیا میری زندگی میں
کوئی اور مرد ہے؟
ہاں
ہاں، ہے
تم نے کیا گمان کیا تھا؟
کہ قبرستان بھی
بے زائر رہتے ہیں؟
اے محترم!
دنیا میں مردوں کی کمی نہیں
اور کوئی باغ
پرندوں سے خالی نہیں ہوتا
تم
محض ایک تجربہ تھے
ایک مرحلہ
جس سے گزر کر
میں تمہارے سحر سے نکل آئی ہوں
تھک چکی ہوں
اوب چکی ہوں
میں اپنی
کمزوریوں سے شفا پا چکی ہوں
اپنی سادہ لوحی
دفن کر چکی ہوں
یہ نزاکتیں، یہ نرمی
آخرکار ختم ہو ہی جاتی ہیں
تم کہتے ہو
تم مجھ سے محبت کرتی ہو!
دیکھو، پھر وہی
قدیم داستان
مٹی سے نکال لائے ہو
کب
تم نے میرے وجود میں
دلچسپی لی
سوائے
میرے بدن کے خم کے؟
یہ اچانک
محبت کا سیلاب
کہاں سے امڈ آیا؟
میں تو
تمہارے قیمتی ساز و سامان میں
ایک ٹوٹی ہوئی کرسی تھی
ایک ایسا باغ
جسے تم نے
بے جھجھک
ویران کر دیا
بلا ندامت
تم میری چھاتیوں کو
یوں کیوں گھورتے ہو
جیسے وہ تمہاری ملکیت ہوں؟
اور یوں کیوں روتے ہو
جیسے تم
کسی گم شدہ سلطنت کے
دروازے پر کھڑے ہو؟
اے صاحب!
تمہاری شاندار سلطنت
اب ملبے میں بدل چکی ہے
دیکھا
میں نے ایک لمحے میں
حساب چکا دیا
اب بتاؤ
کھیل کون ہارا؟
میں نے خود کو
تم پر
جنت کی طرح کھولا تھا
تمہیں ہر وہ پھل دیا
جس کی تم نے خواہش کی
ہر سبز گھاس
جو تم نے مانگی
آج
نہ جنت ہے
نہ دوزخ
بس یہی ہے
جو تمہیں ملتا ہے
ناشکری کے بدلے
اے بے وفا!
اگر تم نے
مجھے
صرف ایک بار
انسان سمجھا ہوتا
تو یہ دوسرا مرد
وجود میں ہی نہ آتا
شاعر: نزار قبانی | مترجم: اعجازالحق
دیدبان شمارہ - ٣۲
فروری۔2026
میری خفا بلّی
شاعر: نزار قبانی | مترجم: اعجازالحق
تم ایک ہی سوال
بیسویں بار دہرا رہے ہو
کیا میری زندگی میں
کوئی اور مرد ہے؟
ہاں
ہاں، ہے
تم نے کیا گمان کیا تھا؟
کہ قبرستان بھی
بے زائر رہتے ہیں؟
اے محترم!
دنیا میں مردوں کی کمی نہیں
اور کوئی باغ
پرندوں سے خالی نہیں ہوتا
تم
محض ایک تجربہ تھے
ایک مرحلہ
جس سے گزر کر
میں تمہارے سحر سے نکل آئی ہوں
تھک چکی ہوں
اوب چکی ہوں
میں اپنی
کمزوریوں سے شفا پا چکی ہوں
اپنی سادہ لوحی
دفن کر چکی ہوں
یہ نزاکتیں، یہ نرمی
آخرکار ختم ہو ہی جاتی ہیں
تم کہتے ہو
تم مجھ سے محبت کرتی ہو!
دیکھو، پھر وہی
قدیم داستان
مٹی سے نکال لائے ہو
کب
تم نے میرے وجود میں
دلچسپی لی
سوائے
میرے بدن کے خم کے؟
یہ اچانک
محبت کا سیلاب
کہاں سے امڈ آیا؟
میں تو
تمہارے قیمتی ساز و سامان میں
ایک ٹوٹی ہوئی کرسی تھی
ایک ایسا باغ
جسے تم نے
بے جھجھک
ویران کر دیا
بلا ندامت
تم میری چھاتیوں کو
یوں کیوں گھورتے ہو
جیسے وہ تمہاری ملکیت ہوں؟
اور یوں کیوں روتے ہو
جیسے تم
کسی گم شدہ سلطنت کے
دروازے پر کھڑے ہو؟
اے صاحب!
تمہاری شاندار سلطنت
اب ملبے میں بدل چکی ہے
دیکھا
میں نے ایک لمحے میں
حساب چکا دیا
اب بتاؤ
کھیل کون ہارا؟
میں نے خود کو
تم پر
جنت کی طرح کھولا تھا
تمہیں ہر وہ پھل دیا
جس کی تم نے خواہش کی
ہر سبز گھاس
جو تم نے مانگی
آج
نہ جنت ہے
نہ دوزخ
بس یہی ہے
جو تمہیں ملتا ہے
ناشکری کے بدلے
اے بے وفا!
اگر تم نے
مجھے
صرف ایک بار
انسان سمجھا ہوتا
تو یہ دوسرا مرد
وجود میں ہی نہ آتا
شاعر: نزار قبانی | مترجم: اعجازالحق

