محمود درویش کی نظم: ریتا اور میری آنکھوں کے درمیاں

محمود درویش کی نظم: ریتا اور میری آنکھوں کے درمیاں

Aug 28, 2026

مصنف

اردو ترجمہ :سلمی جیلانی

محمود درویش کی نظم: ریتا اور میری آنکھوں کے درمیاں

اردو ترجمہ :سلمی جیلانی


ریتا اور میری آنکھوں کے درمیاں

ایک بندوق ہے

جو بھی ریتا سے واقف ہے

وہ گھٹنوں کے بل جھک کر دعا کرتا ہے

ان شہد رنگ آنکھوں میں

بسی الوہیت کے لیے۔

میں نے ریتا کے بوسے لئے

جب وہ نوخیز تھی،

مجھے یاد ہے وہ کیسے میرے قریب آئی تھی

اور کیسے میرے بازوؤں نے

اس کے حسین وجود کو تھام لیا تھا۔

مجھے ریتا اس طرح یاد ہے،

جیسے کوئی چڑیا

اپنی ندی کو یاد رکھتی ہے۔

آہ، ریتا!

ہمارے درمیان انگنت چڑیاں

اور بے شمار تصویریں ہیں ،

اور کتنی ہی ملاقاتیں

جنہیں ایک بندوق نے نشانہ بنایا۔

ریتا کا نام

میرے منہ میں شرینی گھول دیتا

ریتا کا جسم

میرے خون میں عروس کی طرح کیف آگیں سرور تھا،

میں دو برس تک ریتا میں کھویا رہا،

دو برس تک

وہ میرے بازوؤں پہ سوئی ،

ہم نے ایک دوسرے سے عہد پیمان کیے

سب سے نفیس ساغروں پر،

اور اپنے ہونٹوں کی مدھ بھری مے میں

سلگتے رہے،

اور ازسرِنو جنم لیتے رہے۔

آہ، ریتا!

اس بندوق سے پہلے

اور کیا تھا

جو میری آنکھوں کو تمہاری آنکھوں سے موڑ سکتا

سوائے ایک آدھ نیند کے

یا شہد آگیں بادلوں کے

ایک زمانہ تھا۔۔۔

آہ، شام کا سکوت!

صبح ہوئی

تو میرا چاند

کہیں دور پار کی طرف ہجرت کر گیا،

ان شہد رنگ آنکھوں کی سمت۔

اور شہر

تمام فنکاروں کو بہا لے گیا ،

اور ریتا کو بھی۔

ریتا اور میری آنکھوں کے درمیان

ایک بندوق

رہ گئی

نوٹ : ریٹامحمود درویش کی اسرائیلی محبوبہ تھی جو اس کی کلاس فیلو تھی

محمود درویش کی نظم: ریتا اور میری آنکھوں کے درمیاں

اردو ترجمہ :سلمی جیلانی


ریتا اور میری آنکھوں کے درمیاں

ایک بندوق ہے

جو بھی ریتا سے واقف ہے

وہ گھٹنوں کے بل جھک کر دعا کرتا ہے

ان شہد رنگ آنکھوں میں

بسی الوہیت کے لیے۔

میں نے ریتا کے بوسے لئے

جب وہ نوخیز تھی،

مجھے یاد ہے وہ کیسے میرے قریب آئی تھی

اور کیسے میرے بازوؤں نے

اس کے حسین وجود کو تھام لیا تھا۔

مجھے ریتا اس طرح یاد ہے،

جیسے کوئی چڑیا

اپنی ندی کو یاد رکھتی ہے۔

آہ، ریتا!

ہمارے درمیان انگنت چڑیاں

اور بے شمار تصویریں ہیں ،

اور کتنی ہی ملاقاتیں

جنہیں ایک بندوق نے نشانہ بنایا۔

ریتا کا نام

میرے منہ میں شرینی گھول دیتا

ریتا کا جسم

میرے خون میں عروس کی طرح کیف آگیں سرور تھا،

میں دو برس تک ریتا میں کھویا رہا،

دو برس تک

وہ میرے بازوؤں پہ سوئی ،

ہم نے ایک دوسرے سے عہد پیمان کیے

سب سے نفیس ساغروں پر،

اور اپنے ہونٹوں کی مدھ بھری مے میں

سلگتے رہے،

اور ازسرِنو جنم لیتے رہے۔

آہ، ریتا!

اس بندوق سے پہلے

اور کیا تھا

جو میری آنکھوں کو تمہاری آنکھوں سے موڑ سکتا

سوائے ایک آدھ نیند کے

یا شہد آگیں بادلوں کے

ایک زمانہ تھا۔۔۔

آہ، شام کا سکوت!

صبح ہوئی

تو میرا چاند

کہیں دور پار کی طرف ہجرت کر گیا،

ان شہد رنگ آنکھوں کی سمت۔

اور شہر

تمام فنکاروں کو بہا لے گیا ،

اور ریتا کو بھی۔

ریتا اور میری آنکھوں کے درمیان

ایک بندوق

رہ گئی

نوٹ : ریٹامحمود درویش کی اسرائیلی محبوبہ تھی جو اس کی کلاس فیلو تھی

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024