افسانہ خون کی سیاہی

افسانہ خون کی سیاہی

Feb 2, 2026

مصنف

حمزہ حسن شیخ

مصوّر-اسرار فاروقی


دیدبان شمارہ-32

جنوری۔26

افسانہ : خون کی سیاہی

حمزہ حسن شیخ


ہال سجایا جا چکا تھا اور تقریب میں آنے والے ،ہر چہرے پر خوشی کی لہر موج زن تھی۔ اگرچہ ابھی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا لیکن محبت کے سرگم ہر سُو گُونج رہے تھے اور ہر دل پر سرورطاری کر رہے تھے۔ ہال کی دیواروں کو مختلف قسم کے خوبصورت بینرزکے ساتھ سجایا گیا تھا ؛ ان میں سے کچھ خوبصورت مناظر تھے، کچھ پر شادی اور محبت کے بارے میں کچھ احادیث لکھی تھیں جبکہ چند پر ، زندگی کے نئے سفر کی شروعات بارے، فارسی میں کچھ اقوال بھی لکھے تھے۔ ہال کی روشنیاں ہر چہرے کو شادابی کی لہر سے چمکا رہی تھیں۔ ہال کے داخلی دروازے کو خصوصی طور پر،تر و تازہ پھولوں اور چھوٹے دمکتے ہوئے درختوں کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ موسیقی گُونج رہی تھی اور اس کا ہر سُر ، موسیقی کے دلدادہ لوگوں کو اس کی لے پرتھرکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ہر چہرے پر خوشی کی رمق نمایاں تھی؛ جو محبت اور خوشی سے دمک رہے تھے۔ ہال میں بنا اسٹیج مختلف اقسام کے پھولوں کے ساتھ مزیں تھا جن میں سُرخ گلاب تمام پھولوں پر برتر تھے۔ گملوں میں لگے ہوئے مختلف پھول، اسٹیج کی خوبصورتی میں ، دلکش اضافہ کر رہے تھے۔ خیر و برکت کی غرض سے، کتابوں کے کچھ خانوں میں مقدس کتب رکھی گئی تھیں۔ تقریب میں آنے والے مہمانان خصوصی کے لیے کچھ صوفے اسٹیج پر رکھے گئے تھے جبکہ اسٹیج کے سامنے، نئی زندگی کی شروعات کرنے والے جوڑوں کے لیے ، رنگین کُرسیوں کے ساتھ ایک خصوصی جگہ بنائی گئی تھی۔ اُن نشستوں کے پیچھے، مہمانوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے کرسیوں کی لمبی قطاریں لگائی گئی تھیں۔ تمام انتظامات مکمل تھے اور انتظامیہ کے لوگ ، مہمان خصوصی کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آئیں اور ان خالی صوفوں اور کرسیوں کو اپنی موجودگی کے ساتھ رونق بخشیں۔

یہ ایک اجتماعی شادی کی تقریب تھی جس میں سینکڑوں دولہوں اور دلہنوں کو شادی کے بندھن میں باندھا جا رہا تھا۔ تمام دولہوں اور دلہنوں نے ایک جیسے رنگ اور ڈیزائن کے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ نئی زندگی کی شروعات کرنے والی اس شام کو، تمام دلہنوں کے زیورات کے ڈیزئن بھی ایک جیسے تھے۔ تمام دلہنیں اور دولہے، ایک ساتھ قطار میں، اندر داخل ہوئے تھے۔ تمام جوڑوں کو، ہال میں پڑے سامنے والے صوفوں پر ایک ترتیب کے ساتھ بٹھایا گیا ۔ دلہن کے ساتھ دلہن، اور پھر دولہے اور پھر دو دلہنیں۔ وہ اپنی نشستوں پر براجمان ہو چکے تھے اور پھر سینکڑوں کی تعداد میں، ان تمام جوڑوں کے خاندان، دوست اور رشتہ دار ہال میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے اپنی نشستیں لے لی تھیں، ایک بار پھر شادی بیاہ کی روایتی موسیقی گُونجنے لگی ۔ تمام چہرے ایک شادمانی کے ساتھ دمک رہے تھے۔ تمام لوگ ہال کی جانب بڑھ رہے تھے اور آہستہ آہستہ یہ بھرتا جا رہا تھا۔ لوگوں کا ایک ہجوم، ہال کے مختلف دروازوں سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ انسانی آوازوں کے شُور میں دبتے ہوئے موسیقی کے سُر، اس شور پر قابو آنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم یہ سُر پھر بھی ماحول کو خوشگوار بنانے میں معاون تھے۔ دلہنوں نے علاقائی روایت کے مطابق، اپنے چہرے لمبی شال کے گھونگھٹ پیچھے چھپائے ہوئے تھے جبکہ دولہے روایتی دولہوں کی طرح خاموشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ وہ اپنی ہی شادی کی تقریب میں گفتگو کرنے سے گریزاں تھے۔ اسٹیج کو سجانے والے غبارے ، روشنیوں سے مختلف رنگ اُدھار لے کر ، روشنی منعکس کر رہے تھے۔ اِن چمکتی دمکتی روشنیوں میں، پھولوں کے گلدستے لوگوں کو معطر کر رہے تھے اور ماحول ان کی پُرکشش خوشبو سے مہک رہا تھا۔ تمام دولہوں نے کالے سوٹ کے ساتھ سفید قمیض زیب تن کر رکھی تھی جبکہ تمام دلہنیں سفید شالوں کے ساتھ سُرخ لباس میں ملبوس تھیں۔ ہر دل ، زندگی کے نئے آنے والے لمحوں کے بارے میں پُر تعش دھڑکن کے ساتھ دھڑک رہا تھا جبکہ ہر دماغ زندگی کے آنے والے ہر موڑ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ہر دلہن اس اجتماعی سماجی شادی کا حصہ بننے پر خود کو خوش قسمت تصور کر رہی تھی کیونکہ اُس کے والدین غربت کی وجہ سے کبھی بھی اُس کی شادی کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ہر دولہا اِس تقریب کا حصہ بننے پر خود کو بہت خوش قسمت تصور کر رہا تھا کہ نہ ہی وہ اپنے والدین پر بوجھ بنا تھا اور نہ ہی اپنے سُسرال پر۔ اس سادہ سی شادی کے بعد، وہ ایک ساتھ زندگی کی ساری مُشکلات کا، بغیر کسی مداخلت کے سامناکرنے جا رہے تھے۔ ہر دماغ ، اپنے ہی انداز میں ایک بھرپور اور آزاد زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ موسیقی کی تال پر روشنیاں ناچ رہی تھیں اور ہال میں موجود ہر چیز بھی خوشیوںکی اس لے میں شامل ہو گئی تھیں۔ وہ آنے والے دنوںاور راتوں کی رومانوی زندگی اور محبت کے گرم جوش لمحات کے بارے میں پُرجوش تھے۔ وہ اِس چھت تلے ، ساری زندگی ایک دوسر ے کو محبت کرنے کے عہد وپیماں کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ بغیر کسی مسئلے کے ، اُن کی آنے والی زندگیوں کو خوبصورت بنانے کے لیے عہد اور حلف نامے کا دن تھا؛ اُن کی زندگیوں کا ایک یادگار دن، تاحیات اُن کی یادوں میں محفوظ رہنے والا دن۔ اُن کے دل مسرت سے بھرپور تھے اور ایک انجانی خوشی کے ساتھ دھڑک رہے تھے۔ ایک ایسی خوشی، جو کبھی بھی اُن کی یاد سے محو ہونے والی نہیں تھی اور اس نے تا حیات اُن کے ساتھ رہنا تھا۔ حسب معمول، لوگوں کا شور، موسیقی کی لے کے ساتھ سرگرداں تھاتاکہ اس کے سُر تال کو شکست دے سکے لیکن ابھی بھی موسیقی کی تال انسانی شور پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی، جو کہ ہال میں بغیر کسی وقفے کے گُونج رہی تھی۔ عورتوں کے چہرے خوب بنے سنورے تھے جبکہ مردوں کے چہروں پر خوشی کی ایک لہر دُوڑ رہی تھی۔ چھوٹے بچے اپنے روایتی ملبوسات میںبہت خوبصورت لگ رہے تھے ؛ اُن کے ہنستے مسکراتے چہرے بہت جاذب نظر اور پُرکشش تھے۔ اُن کی خوبصورتی بے مثال تھی، شریر بچے یہاں وہاں کھیل کوداور چھلانگیں لگا رہے تھے جبکہ بڑے بچے مختلف ٹولیوں میں بیٹھے، اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ ننھے بچے ، بھوک اور پیاس کی وجہ سے اپنی پُوری قوت کے ساتھ چیخ اور چلا رہے تھے ۔ ہال میں شور مچانے کے لیے ، ہر قسم کی آوازیں بغیر کسی وقفے کے گُونج رہی تھیں اوریہ موسیقی کی تال کے ساتھ محوجنگ تھیں۔اِس چپوترے تلے،جہاں خوشیاں بانٹی جا رہی تھیں، زندگی کے مختلف زوایے تھے۔ ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دولہے ، ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے جبکہ دولہنیں ، سر جھکائے اور گھونگھٹ نکالے ،خاموش بیٹھی ہوئی تھیں۔ موسیقی رُک گئی اور اسٹیج پر ایک بندہ نمودار ہوا۔ اُس نے اعلان کیا کہ کچھ ہی دیر میںمہمان خصوصی کی آمدہے اور لوگوں کا شور ، تالیوں کی پُرزور گُونج میںڈوب گیا۔ شور بھنبھناہٹ میں بدلااور جیسے ہی مقدس آیات کی تلاوت شروع ہوئی ، ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ تمام لوگ مقدس آیات کو سُننے کے لیے متوجہ ہو گئے۔ تلاوت کے بعد، شہر کے سب سے بڑے خطیب نے ایک چھوٹا سا مذہبی خطبہ دیا اور پھر شہر کے مئیر نے تمام جوڑوں کو ، اُن کی زندگیوں میں نئے باب کی شروعات پر مبارک باد دی۔ مقدس کتاب، تمام جوڑوں کے سامنے رکھ دی گئی کہ وہ آگے آنے والی محبت بھری اور پُرسکون زندگی کے عہد کو نبھا سکیں۔ ایک انمٹ رشتے میں بندھنے کے لیے کچھ لمحات رہ گئے تھے جس کو انہوں نے زندگی کی آخری سانسوں تک نبھانا تھا اور انہوں نے اِس ہال کے چپوترے تلے اِس کی قسم کھائی تھی کہ وہ تاحیات کبھی بھی ایک دوسرے کو دغا نہیں دیں گے۔ پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ساتھ، تازہ پھلوں کی ایک ٹوکری، ایک خوبصورت کیک، پانی کی بوتل اور کچھ تحائف بھی ہر جوڑے کے سامنے سجے تھے جبکہ پھولوں کے ایک گلدستے پر، آنے والی حیات میں برکات کے لیے مقدس کتاب بھی رکھی ہوئی تھی۔ شہر کے سب سے بڑے خطیب دوبارہ اسٹیج پر آگئے تا کہ وہ کچھ مقدس کلمات کی تلاوت کر کے اُن کو ایک رشتے میں پرو دیں۔ خوشی کے مارے ،دولہوں اور دولہنوں کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ لاج سے ہر چہرہ سُرخ تھا اور گالوں پر شرم کی لالی بکھری ہوئی تھی۔خوشی کے جذبات کے ساتھ کچھ جوڑوں کے ہاتھ بے قابو ہونے لگے اور وہ محبت کی نئی پناہ گاہ ڈھونڈنے کے لیے بے اختیاری سے اپنے ہمسفر کے ہاتھوں کی جانب بڑھنے لگے۔ پھولوں کے بیچ مقدس کتاب، ہر جوڑے کے سامنے سجی تھی اور وہ سر جھکائے ، تلاوت سُن رہے تھے۔ تلاوت کی آواز کے ساتھ ساتھ کچھ بچے بھی رو رہے تھے۔ ہال میں ایک گہرا سکوت تھاکہ اچانک ایک شدید دھماکہ ہوا۔ بم دھماکہ اتنا خوفناک تھاکہ ہال کی چھت تک گر گئی۔ اب سکوت ٹوٹ گیا تھااور پورے ماحول میں انسانی چیخیں گُونج رہی تھیں۔ گرد اور دھویںکے بادلوں نے پُورے آسمان کوڈھانپ دیا تھا۔ اسٹیج کی ساری خوبصورتی اور سجاوٹ تہس نہس ہو چکی تھی اور جلے ہوئے پھول پتی پتی نیچے گر رہے تھے۔ پھولوں کی اَدھ جلی پتیاں عجیب منظر پیش کر رہی تھیں۔پورا منظر بھیانک تھا۔ اب مزیدکوئی پُرکیف تلاوت یا خوشی کی تال نہیں تھی بلکہ انسانی چیخ و پُکار نے پورے ماحول پر قبضہ کر لیا تھا۔ اسٹیج یا اس کے قریب کا کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہا تھا۔ہال کی پچھلی سمت میں موجود لوگ بہت بُری طرح زخمی ہوئے تھے۔ اگلی صف میں بیٹھے ہوئے دولہوں اور دلہنوں میںسے کوئی بھی نہیں بچا تھا اور اُن کے اجسام کے ٹکڑے پُورے ہال میں بکھرے پڑے تھے۔ کچھ لمحوں کے دولہوں اور دلہنوں نے مقدس کتاب کے سامنے ، اپنا راستہ اگلے جہان کی جانب سدھار لیا تھا تاکہ وہ اپنے عہد و پیمان کو وہاں پُورا کر سکیں؛ آخری وعدے جو مقد س کتاب کے جلے ہوئے اوراق پر اُن کے خون کی سیاہی سے لکھے گئے تھے۔ انہی جلے ہوئے مقدس اوراق پر دو کٹے ہوئے ہاتھ دھرے تھے جن کی انگلیاںاپنا عہد نبھانے کے لیے ایک دوسرے میں مضبوطی سے پیوست تھیں اور مردوزن کے کٹے ہوئے ہاتھوں سے رستا خون ان کو رنگین کر رہا تھا۔


دیدبان شمارہ-32

جنوری۔26

افسانہ : خون کی سیاہی

حمزہ حسن شیخ


ہال سجایا جا چکا تھا اور تقریب میں آنے والے ،ہر چہرے پر خوشی کی لہر موج زن تھی۔ اگرچہ ابھی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا لیکن محبت کے سرگم ہر سُو گُونج رہے تھے اور ہر دل پر سرورطاری کر رہے تھے۔ ہال کی دیواروں کو مختلف قسم کے خوبصورت بینرزکے ساتھ سجایا گیا تھا ؛ ان میں سے کچھ خوبصورت مناظر تھے، کچھ پر شادی اور محبت کے بارے میں کچھ احادیث لکھی تھیں جبکہ چند پر ، زندگی کے نئے سفر کی شروعات بارے، فارسی میں کچھ اقوال بھی لکھے تھے۔ ہال کی روشنیاں ہر چہرے کو شادابی کی لہر سے چمکا رہی تھیں۔ ہال کے داخلی دروازے کو خصوصی طور پر،تر و تازہ پھولوں اور چھوٹے دمکتے ہوئے درختوں کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ موسیقی گُونج رہی تھی اور اس کا ہر سُر ، موسیقی کے دلدادہ لوگوں کو اس کی لے پرتھرکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ہر چہرے پر خوشی کی رمق نمایاں تھی؛ جو محبت اور خوشی سے دمک رہے تھے۔ ہال میں بنا اسٹیج مختلف اقسام کے پھولوں کے ساتھ مزیں تھا جن میں سُرخ گلاب تمام پھولوں پر برتر تھے۔ گملوں میں لگے ہوئے مختلف پھول، اسٹیج کی خوبصورتی میں ، دلکش اضافہ کر رہے تھے۔ خیر و برکت کی غرض سے، کتابوں کے کچھ خانوں میں مقدس کتب رکھی گئی تھیں۔ تقریب میں آنے والے مہمانان خصوصی کے لیے کچھ صوفے اسٹیج پر رکھے گئے تھے جبکہ اسٹیج کے سامنے، نئی زندگی کی شروعات کرنے والے جوڑوں کے لیے ، رنگین کُرسیوں کے ساتھ ایک خصوصی جگہ بنائی گئی تھی۔ اُن نشستوں کے پیچھے، مہمانوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے کرسیوں کی لمبی قطاریں لگائی گئی تھیں۔ تمام انتظامات مکمل تھے اور انتظامیہ کے لوگ ، مہمان خصوصی کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آئیں اور ان خالی صوفوں اور کرسیوں کو اپنی موجودگی کے ساتھ رونق بخشیں۔

یہ ایک اجتماعی شادی کی تقریب تھی جس میں سینکڑوں دولہوں اور دلہنوں کو شادی کے بندھن میں باندھا جا رہا تھا۔ تمام دولہوں اور دلہنوں نے ایک جیسے رنگ اور ڈیزائن کے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ نئی زندگی کی شروعات کرنے والی اس شام کو، تمام دلہنوں کے زیورات کے ڈیزئن بھی ایک جیسے تھے۔ تمام دلہنیں اور دولہے، ایک ساتھ قطار میں، اندر داخل ہوئے تھے۔ تمام جوڑوں کو، ہال میں پڑے سامنے والے صوفوں پر ایک ترتیب کے ساتھ بٹھایا گیا ۔ دلہن کے ساتھ دلہن، اور پھر دولہے اور پھر دو دلہنیں۔ وہ اپنی نشستوں پر براجمان ہو چکے تھے اور پھر سینکڑوں کی تعداد میں، ان تمام جوڑوں کے خاندان، دوست اور رشتہ دار ہال میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے اپنی نشستیں لے لی تھیں، ایک بار پھر شادی بیاہ کی روایتی موسیقی گُونجنے لگی ۔ تمام چہرے ایک شادمانی کے ساتھ دمک رہے تھے۔ تمام لوگ ہال کی جانب بڑھ رہے تھے اور آہستہ آہستہ یہ بھرتا جا رہا تھا۔ لوگوں کا ایک ہجوم، ہال کے مختلف دروازوں سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ انسانی آوازوں کے شُور میں دبتے ہوئے موسیقی کے سُر، اس شور پر قابو آنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم یہ سُر پھر بھی ماحول کو خوشگوار بنانے میں معاون تھے۔ دلہنوں نے علاقائی روایت کے مطابق، اپنے چہرے لمبی شال کے گھونگھٹ پیچھے چھپائے ہوئے تھے جبکہ دولہے روایتی دولہوں کی طرح خاموشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ وہ اپنی ہی شادی کی تقریب میں گفتگو کرنے سے گریزاں تھے۔ اسٹیج کو سجانے والے غبارے ، روشنیوں سے مختلف رنگ اُدھار لے کر ، روشنی منعکس کر رہے تھے۔ اِن چمکتی دمکتی روشنیوں میں، پھولوں کے گلدستے لوگوں کو معطر کر رہے تھے اور ماحول ان کی پُرکشش خوشبو سے مہک رہا تھا۔ تمام دولہوں نے کالے سوٹ کے ساتھ سفید قمیض زیب تن کر رکھی تھی جبکہ تمام دلہنیں سفید شالوں کے ساتھ سُرخ لباس میں ملبوس تھیں۔ ہر دل ، زندگی کے نئے آنے والے لمحوں کے بارے میں پُر تعش دھڑکن کے ساتھ دھڑک رہا تھا جبکہ ہر دماغ زندگی کے آنے والے ہر موڑ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ہر دلہن اس اجتماعی سماجی شادی کا حصہ بننے پر خود کو خوش قسمت تصور کر رہی تھی کیونکہ اُس کے والدین غربت کی وجہ سے کبھی بھی اُس کی شادی کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ہر دولہا اِس تقریب کا حصہ بننے پر خود کو بہت خوش قسمت تصور کر رہا تھا کہ نہ ہی وہ اپنے والدین پر بوجھ بنا تھا اور نہ ہی اپنے سُسرال پر۔ اس سادہ سی شادی کے بعد، وہ ایک ساتھ زندگی کی ساری مُشکلات کا، بغیر کسی مداخلت کے سامناکرنے جا رہے تھے۔ ہر دماغ ، اپنے ہی انداز میں ایک بھرپور اور آزاد زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ موسیقی کی تال پر روشنیاں ناچ رہی تھیں اور ہال میں موجود ہر چیز بھی خوشیوںکی اس لے میں شامل ہو گئی تھیں۔ وہ آنے والے دنوںاور راتوں کی رومانوی زندگی اور محبت کے گرم جوش لمحات کے بارے میں پُرجوش تھے۔ وہ اِس چھت تلے ، ساری زندگی ایک دوسر ے کو محبت کرنے کے عہد وپیماں کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ بغیر کسی مسئلے کے ، اُن کی آنے والی زندگیوں کو خوبصورت بنانے کے لیے عہد اور حلف نامے کا دن تھا؛ اُن کی زندگیوں کا ایک یادگار دن، تاحیات اُن کی یادوں میں محفوظ رہنے والا دن۔ اُن کے دل مسرت سے بھرپور تھے اور ایک انجانی خوشی کے ساتھ دھڑک رہے تھے۔ ایک ایسی خوشی، جو کبھی بھی اُن کی یاد سے محو ہونے والی نہیں تھی اور اس نے تا حیات اُن کے ساتھ رہنا تھا۔ حسب معمول، لوگوں کا شور، موسیقی کی لے کے ساتھ سرگرداں تھاتاکہ اس کے سُر تال کو شکست دے سکے لیکن ابھی بھی موسیقی کی تال انسانی شور پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی، جو کہ ہال میں بغیر کسی وقفے کے گُونج رہی تھی۔ عورتوں کے چہرے خوب بنے سنورے تھے جبکہ مردوں کے چہروں پر خوشی کی ایک لہر دُوڑ رہی تھی۔ چھوٹے بچے اپنے روایتی ملبوسات میںبہت خوبصورت لگ رہے تھے ؛ اُن کے ہنستے مسکراتے چہرے بہت جاذب نظر اور پُرکشش تھے۔ اُن کی خوبصورتی بے مثال تھی، شریر بچے یہاں وہاں کھیل کوداور چھلانگیں لگا رہے تھے جبکہ بڑے بچے مختلف ٹولیوں میں بیٹھے، اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ ننھے بچے ، بھوک اور پیاس کی وجہ سے اپنی پُوری قوت کے ساتھ چیخ اور چلا رہے تھے ۔ ہال میں شور مچانے کے لیے ، ہر قسم کی آوازیں بغیر کسی وقفے کے گُونج رہی تھیں اوریہ موسیقی کی تال کے ساتھ محوجنگ تھیں۔اِس چپوترے تلے،جہاں خوشیاں بانٹی جا رہی تھیں، زندگی کے مختلف زوایے تھے۔ ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دولہے ، ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے جبکہ دولہنیں ، سر جھکائے اور گھونگھٹ نکالے ،خاموش بیٹھی ہوئی تھیں۔ موسیقی رُک گئی اور اسٹیج پر ایک بندہ نمودار ہوا۔ اُس نے اعلان کیا کہ کچھ ہی دیر میںمہمان خصوصی کی آمدہے اور لوگوں کا شور ، تالیوں کی پُرزور گُونج میںڈوب گیا۔ شور بھنبھناہٹ میں بدلااور جیسے ہی مقدس آیات کی تلاوت شروع ہوئی ، ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ تمام لوگ مقدس آیات کو سُننے کے لیے متوجہ ہو گئے۔ تلاوت کے بعد، شہر کے سب سے بڑے خطیب نے ایک چھوٹا سا مذہبی خطبہ دیا اور پھر شہر کے مئیر نے تمام جوڑوں کو ، اُن کی زندگیوں میں نئے باب کی شروعات پر مبارک باد دی۔ مقدس کتاب، تمام جوڑوں کے سامنے رکھ دی گئی کہ وہ آگے آنے والی محبت بھری اور پُرسکون زندگی کے عہد کو نبھا سکیں۔ ایک انمٹ رشتے میں بندھنے کے لیے کچھ لمحات رہ گئے تھے جس کو انہوں نے زندگی کی آخری سانسوں تک نبھانا تھا اور انہوں نے اِس ہال کے چپوترے تلے اِس کی قسم کھائی تھی کہ وہ تاحیات کبھی بھی ایک دوسرے کو دغا نہیں دیں گے۔ پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ساتھ، تازہ پھلوں کی ایک ٹوکری، ایک خوبصورت کیک، پانی کی بوتل اور کچھ تحائف بھی ہر جوڑے کے سامنے سجے تھے جبکہ پھولوں کے ایک گلدستے پر، آنے والی حیات میں برکات کے لیے مقدس کتاب بھی رکھی ہوئی تھی۔ شہر کے سب سے بڑے خطیب دوبارہ اسٹیج پر آگئے تا کہ وہ کچھ مقدس کلمات کی تلاوت کر کے اُن کو ایک رشتے میں پرو دیں۔ خوشی کے مارے ،دولہوں اور دولہنوں کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ لاج سے ہر چہرہ سُرخ تھا اور گالوں پر شرم کی لالی بکھری ہوئی تھی۔خوشی کے جذبات کے ساتھ کچھ جوڑوں کے ہاتھ بے قابو ہونے لگے اور وہ محبت کی نئی پناہ گاہ ڈھونڈنے کے لیے بے اختیاری سے اپنے ہمسفر کے ہاتھوں کی جانب بڑھنے لگے۔ پھولوں کے بیچ مقدس کتاب، ہر جوڑے کے سامنے سجی تھی اور وہ سر جھکائے ، تلاوت سُن رہے تھے۔ تلاوت کی آواز کے ساتھ ساتھ کچھ بچے بھی رو رہے تھے۔ ہال میں ایک گہرا سکوت تھاکہ اچانک ایک شدید دھماکہ ہوا۔ بم دھماکہ اتنا خوفناک تھاکہ ہال کی چھت تک گر گئی۔ اب سکوت ٹوٹ گیا تھااور پورے ماحول میں انسانی چیخیں گُونج رہی تھیں۔ گرد اور دھویںکے بادلوں نے پُورے آسمان کوڈھانپ دیا تھا۔ اسٹیج کی ساری خوبصورتی اور سجاوٹ تہس نہس ہو چکی تھی اور جلے ہوئے پھول پتی پتی نیچے گر رہے تھے۔ پھولوں کی اَدھ جلی پتیاں عجیب منظر پیش کر رہی تھیں۔پورا منظر بھیانک تھا۔ اب مزیدکوئی پُرکیف تلاوت یا خوشی کی تال نہیں تھی بلکہ انسانی چیخ و پُکار نے پورے ماحول پر قبضہ کر لیا تھا۔ اسٹیج یا اس کے قریب کا کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہا تھا۔ہال کی پچھلی سمت میں موجود لوگ بہت بُری طرح زخمی ہوئے تھے۔ اگلی صف میں بیٹھے ہوئے دولہوں اور دلہنوں میںسے کوئی بھی نہیں بچا تھا اور اُن کے اجسام کے ٹکڑے پُورے ہال میں بکھرے پڑے تھے۔ کچھ لمحوں کے دولہوں اور دلہنوں نے مقدس کتاب کے سامنے ، اپنا راستہ اگلے جہان کی جانب سدھار لیا تھا تاکہ وہ اپنے عہد و پیمان کو وہاں پُورا کر سکیں؛ آخری وعدے جو مقد س کتاب کے جلے ہوئے اوراق پر اُن کے خون کی سیاہی سے لکھے گئے تھے۔ انہی جلے ہوئے مقدس اوراق پر دو کٹے ہوئے ہاتھ دھرے تھے جن کی انگلیاںاپنا عہد نبھانے کے لیے ایک دوسرے میں مضبوطی سے پیوست تھیں اور مردوزن کے کٹے ہوئے ہاتھوں سے رستا خون ان کو رنگین کر رہا تھا۔

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024