کافی ہے

کافی ہے

Nov 11, 2020

کافی ہے آدمی کے لیے

دیدبان شمارہ 12

کافی ہے

۔

کافی ہے آدمی کے لیے

سادہ سا گھر

ایک مہربان پیڑ کی چھائوں

جھونپڑی یا غار

ایک بے نام ڈھیری

کافی ہے چھوٹا سا باغ

پرندوں کی چہکار

تھوڑا سا اناج

کھٹے میٹھے پھل

کافی ہیں

چند انسان محبت کرنے والے

انسانوں سے

چڑیوں سے

پھولوں اور تتلیوں سے

مجھے نہیں چاہیے

کسی طاقت ور گروہ کی رُکنیت

عظیم مقاصد کے لیے

زمینیں تاراج کرنے کے لیے

خدا کے لیے خزانے اکٹھے کرنے کے لیے

میں محض ایک آدمی ہوں

میرا لہو حاضر ہے

اِس عمر میں بھی

کسی ضرورت مند کے لیے

مگر میرے پاس ایک بوند بھی نہیں

کسی مقدس سرحد پر بہانے کے لیے

کسی مہان آدرش کی حفاظت کے لیے

تم اپنے پاس رکھو

پر فریب خطابات

منافق تمغے

ہیرو یا غدار

میں جو بھی ہوں

مطمئن ہوں

بہت خوش ہوں

                   ( افتخار بخاری )

دیدبان شمارہ 12

کافی ہے

۔

کافی ہے آدمی کے لیے

سادہ سا گھر

ایک مہربان پیڑ کی چھائوں

جھونپڑی یا غار

ایک بے نام ڈھیری

کافی ہے چھوٹا سا باغ

پرندوں کی چہکار

تھوڑا سا اناج

کھٹے میٹھے پھل

کافی ہیں

چند انسان محبت کرنے والے

انسانوں سے

چڑیوں سے

پھولوں اور تتلیوں سے

مجھے نہیں چاہیے

کسی طاقت ور گروہ کی رُکنیت

عظیم مقاصد کے لیے

زمینیں تاراج کرنے کے لیے

خدا کے لیے خزانے اکٹھے کرنے کے لیے

میں محض ایک آدمی ہوں

میرا لہو حاضر ہے

اِس عمر میں بھی

کسی ضرورت مند کے لیے

مگر میرے پاس ایک بوند بھی نہیں

کسی مقدس سرحد پر بہانے کے لیے

کسی مہان آدرش کی حفاظت کے لیے

تم اپنے پاس رکھو

پر فریب خطابات

منافق تمغے

ہیرو یا غدار

میں جو بھی ہوں

مطمئن ہوں

بہت خوش ہوں

                   ( افتخار بخاری )

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024