ہزار کا نوٹ
ہزار کا نوٹ
Sep 23, 2026

ہزار کا نوٹ
سبین علی
عنایہ کے دل اور سر میں بیک وقت درد بھرا ہوا تھا ۔ اس کے علاؤہ گھر کے دیگر لوگ خاندان کی ایک شادی میں گئے تھے جہاں اسے جائیداد کے تنازعے کی وجہ سے بلایا نہیں گیا تھا ۔ مگر رشتے داروں میں یوں ظاہر کیا گیا جیسے بلاوا بھیجا گیا ہو۔ گھر سے خوب بن ٹھن کے نکلتے وقت ایک رشتے دار خاتون نے اسکی تکلیف کا لطف لیتے ہوئے ساتھ چلنے پہ اصرار کیا ۔ اسے تنہا رہنے میں کبھی تکلیف نہیں ہوتی تھی مگر آج یہ تنہائی ایک الزام کی مانند اس پر چپکی ہوئی تھی۔ یہ کہاں کا ستم تھا کہ اسی کی حق تلفی کر کے ، اُسے ہی برا بنا کر لطف بھی لیا جائے۔
ایسے میں سونیا ہیجڑے کا اچانک آ جانا اسے ایک سہارے جیسا لگا۔ سونیا تھی تو ہیجڑہ مگر چونکہ اس نے حلیہ میک اپ اور نام زنانہ اختیار کر رکھا تھا وہ اسے مؤنث کے صیغے میں ہی مخاطب کرتی۔ عنایہ کا خیال تھا کہ ایک ہیجڑے کا حق ہے وہ جیسا مناسب خیال کرے حلیہ اور نام اختیار کرے۔۔بھلا ماں کے رحم میں پلتے ایک ایمبریو کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنے کروموسومز میں آیا نقص دور کر سکے؟
جب دو طرف سے کروموسومز مل کر زندگی کے خلیے کو جنم دیتے ہیں تو روشنی کا جھماکا سا ہوتا ہے۔ وہ نور وہ روشنی کا جھماکا خصوصی بچوں اور ہیجڑوں کے ایمبریو نے بھی تو خارج کیا ہوگا۔
آدھے سر کا پورا درد چاند 🌒 گرہن کی مانند دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا۔ بیٹا گھر کے بوجھل ماحول اور ماں کو تکلیف میں دیکھ کر ایک کونے میں خاموش بیٹھ گیا تھا۔ گلابی جاڑے کی ٹھنڈک میں اسکے ہاتھ سرد ہو رہے تھے سارے کھلونے یونہی دھرے تھے ۔ بیٹے کی بھوک کا خیال کر کے عنایہ نے اپنے میاں کو میسیج کیا کہ فوڈ پانڈا پر کھانے کا آڈر دے دیں۔
سونیا ہیجڑے کا محلے کے پرانے مکینوں کے گھروں میں آنا جانا عام تھا۔ان کے خاندان میں ہر خوشی کے موقع پر جانے کہاں سے آن وارد ہوتی اور زبردستی نیگ لے کر جاتی اور جب کوئی موقع نہ ہوتا تو پھر بھی کچھ نہ کچھ خیرات کے نام پر مل ہی جاتا۔
سونیا شادی والے گھر کا ایک چکر لگا آئی تھی۔ اس نے سبز رنگ کا زرق برق لباس پہنا ہوا تھا۔ گہرا گلا باریک چمکیلا کپڑا جو سردی نہیں روک سکتا تھا ، پھٹی ایڑیوں والے پاؤں ۔ چہرے پر سستے اور گہرے میک اپ کی تہہ جمی تھی۔
مگر اس ساری تیاری کے باوجود اس کا منہ اترا ہوا تھا۔ عنایہ کو اس کے چہرے پر بھوک کی شدت نظر آ گئی تھی مگر اسوقت وہ خود نڈھال تھی۔
کہنے لگی جاؤ شادی والے گھر روٹی کھلنے والی ہوگی ۔
نہ بہو ۔۔۔ اُدھر نہ ھُماں نہ دُھماں
گھر میں مہندی کر رہے ہیں۔ ابھی تو ان کا اپنا ہی ناچ گانا اور ڈھولکی چل رہی ہے کسی نے سر وارنا تک مجھے نہیں دیا۔ روٹی رات کو پتا نہیں کتنے بجے کھولیں گے ۔ سنا ہے پالک گوشت اور بریانی کی دیگیں چڑھی ہیں۔
میں آ گئی اب نہ جاؤں گی جب تک گھر والے خود نہیں بلاتے ۔
عنایہ دل میں سوچ رہی تھی کہ فوڈ پانڈا پر دو لوگوں کے لیے کھانے کا آڈر دیا۔ اب اس سونیا سے کیسے جان چھڑاوں؟
دیکھ سونیا میں اب آرام کروں گی۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔
تو شادی والے گھر جا ۔
بہو رانی کچھ پیسے ہی دے دے مجھے۔
عنایہ نے پرس کھنگالا ڈھائی سو روپیہ تھا۔
دل میں سوچا بھلا اتنی خیرات کون دیتا ہے ہیجڑوں کو ۔ ڈھائی سو بہت ہیں۔
نہ بہو رانی ! ہزار سے کم نہ لوں گی۔
اس وقت پرس میں اتنے پیسے نہیں تھے میاں سے منگوا سکتی تھی وہ انکار نہ کرتا لیکن اسے خیرات میں دینے کے لیے ڈھائی سو معقول رقم لگ رہی تھی۔
اسی دوران رائیڈر کھانا لے کر آ گیا ۔ سونیا کو اندازہ ہو گیا کہ اسے چلے جانا چاہیے۔ اس نے عنایہ کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور کہا سدا سہاگن رہو۔ مالکن ہو بیٹے والی ہو میں نے یہ پیسے نہیں رکھنے ۔ اگر لینے ہیں تو ہزار ہی لوں گی۔
عنایہ چپ رہی ۔
اور سونیا چپکے سے وہ ڈھائی سو روپیہ اس کے بیٹے کے سرہانے رکھ کر باہر نکل گئی۔
پیکٹ میں گرما گرم بھاپ اڑاتی مچھلی تھی۔ ساتھ املی کی چٹنی رائتہ اور روغنی نان تھے۔
بیٹے کو کھلانے کی کوشش کی مگر اس سے ایک نوالہ نہ کھایا گیا ۔ بددلی میں وہ خود بھی ڈھنگ سے نہ کھا سکی۔
چند روز گزرے۔ بیٹے کے پیٹ کا درد کسی طور ختم نہ ہو رہا تھا۔ پھر رنگت زرد ہوئی ساتھ ہی بخار نے آن لیا۔
پڑوسن نے کہا عنایہ کہیں تیرے بیٹے کو یرقان تو نہیں ہو گیا۔
اس کے دل پر ضرب لگی ۔ بیٹے کو ساتھ لیے بڑے ڈاکٹر کا رخ کیا۔ بلڈ ٹیسٹ ہوئے رپورٹ آئی ۔ پیلا یرقان تھا۔ ڈاکٹر نے کہا وائرل ہے ۔ جلد ٹھیک ہو جائے گا ۔ گلو کوز ، کھانے کی احتیاط سپلمنٹ سب دیے۔ مگر بیٹے کی صحتیابی کو کئی ہفتے لگ گئے۔ بلڈ ٹیسٹ ٹھیک ہو گئے مگر کمزوری رفع نہ ہوئی۔ سرخ و سپید پھولوں جیسا بچہ زرد اور مریل پودے جیسا ہو گیا۔
عنایہ کے دل میں بار بار خیال آتا کہیں وہ کسی کا دل تو نہیں دکھا بیٹھی؟ ماں کہا کرتی تھی بال بچوں والی عورت ہیجڑوں کی آہ کبھی نہیں لے ۔ وہ بیچارے ہمیشہ کے لیے اولاد سے محروم ، معاشرے کے دھتکارے ہوئے اور رنجور ہوتے ہیں۔ عنایہ خیال کرتی تھی کہ دو تین سو روپے اور عید شبرات کی خیرات اسکے اچھے دل کی نشانی ہے ۔ مگر تب احساس جاگا کہ اس رات خود مچھلی کھا لی مگر وہ بھوکے پیٹ ہزار روپیہ مانگتی خالی ہاتھ لوٹ گئی۔
خدا جانے کون سی افتاد پڑی ہوگی۔ بجلی کا بل گھر کا کرایہ یا اپنے گرو کو دینا ہوں گے۔ اللہ ہی جانے ۔ کاش دے دیتی۔ کیسے وہ حسرت سے اُسے بیٹے کی ماں ہونے کا کہہ کر چلی گئی تھی ۔ ارے پھر آ جاتی میں اسے ہزار کیا دو ہزار دے دوں گی۔ خدایا میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے ۔
سونیا ایسی غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
ارد گرد سے پتا کیا۔ اُسے کئی مہینوں سے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ عنایہ کو اپنے محلے میں جو ہیجڑا نظر آتا اسے کہتی کیسری کے چیلوں میں ایک سونیا نام کا ہیجڑا ہے۔ کوئی اسے میرا پیغام دے کہ میاں جی کی بڑی بہو بلاتی ہے۔
چند روز بعد گیٹ پر بیل ہوئی۔ عنایہ نے پوچھا کون ؟
تالی بجا کر جواب دیا گیا سونیا ۔ مگر وہ کوئی اور تھا۔ دس دن میں تین مختلف سونیا نام کے ہیجڑے گھر کی یاترا کر چکے تھے۔ عنایہ کو سمجھ لگ گئی کہ اسے بیوقوف بنایا جا رہا یے اور اصلی سونیا تک اس کا پیغام نہیں پہنچا۔
اس بات کو سات آٹھ ماہ بیت گئے۔ ایک دن عنائیہ کو چنگچی پر سونیا نظر آئی ۔ اس نے آواز دی رکو۔۔۔۔
چنچگی رُکا اور سونیا نے اُسے ایسی بیگانگی سے دیکھا جیسے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہو اور پھر سواری سے اتر کی قریبی گلی میں غائب ہو گئی۔
چند روز بعد اس نے اپنے ہی محلے کی ایک گلی میں اسے جاتے دیکھا۔ عنایہ نے آواز دی سونیا۔۔۔۔۔ !
سونیا نے اسکی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا اور اپنی دھن میں آگے بڑھ گئی ۔
بیٹے کی بیماری نے عنایہ کے دل میں ایک مستقل خلش پیدا کر دی تھی ۔ وہ پہلے بھی ان لوگوں کو حقیر نہیں گردانتی تھی مگر اب جہاں بھی ہیجڑا دیکھتی اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتی ۔
سال بیت گیا ۔ پھر سردیوں کی آمد آمد تھی۔ عنایہ نے کمبل دھو کر چھت پر سوکھنے کو پھیلائے ہوئے تھے۔ خود بھی چھت پر بیٹھی دھوپ سینکتے ہوئے چھوٹی چھوٹی گاجریں چھیل کر مربع بنانے کی تیاری کر رہی تھی ۔ کہ سونیا سچ مچ آ گئی۔
سونیا میں نے کتنے پیغام بھیجے تمھیں۔ ایسا ناراض ہو کر گئی کہ پلٹ کر آئی نہیں ۔
نہ نہ بہو رانی۔ ناراض نہیں ہوئی۔ مجھے یاد ہے تم نے چنگچی میں دیکھ کر آواز دی تھی پھر گلی کی نکڑ پر۔
ذرا سوچو۔ لوگ سوچتے کہ عزت دار گھرانے کی عورت کا ہیجڑوں سے کیا تعلق ہے ؟ ہمیں تو ہمارے اپنے نہیں بلاتے۔ آپ کی بدنامی ہوتی ۔
اسی لیے اُس دن گلی میں بھی کنی کترا کر نکل گئی تھی ۔
عنایہ کو لگا شام کی دھوپ میں سونیا کا قد بہت ہی بلند ہو گیا ہے۔
اس نے شرمسار سی آواز میں کہا یہ لو سونیا یہ تمھارا ہزار روپیہ ۔
سونیا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔
ہزار کا نوٹ اسکے ضمیر کی خلش اور سونیا کی خود داری کے بیچ لرز رہا تھا ۔
..................
ہزار کا نوٹ
سبین علی
عنایہ کے دل اور سر میں بیک وقت درد بھرا ہوا تھا ۔ اس کے علاؤہ گھر کے دیگر لوگ خاندان کی ایک شادی میں گئے تھے جہاں اسے جائیداد کے تنازعے کی وجہ سے بلایا نہیں گیا تھا ۔ مگر رشتے داروں میں یوں ظاہر کیا گیا جیسے بلاوا بھیجا گیا ہو۔ گھر سے خوب بن ٹھن کے نکلتے وقت ایک رشتے دار خاتون نے اسکی تکلیف کا لطف لیتے ہوئے ساتھ چلنے پہ اصرار کیا ۔ اسے تنہا رہنے میں کبھی تکلیف نہیں ہوتی تھی مگر آج یہ تنہائی ایک الزام کی مانند اس پر چپکی ہوئی تھی۔ یہ کہاں کا ستم تھا کہ اسی کی حق تلفی کر کے ، اُسے ہی برا بنا کر لطف بھی لیا جائے۔
ایسے میں سونیا ہیجڑے کا اچانک آ جانا اسے ایک سہارے جیسا لگا۔ سونیا تھی تو ہیجڑہ مگر چونکہ اس نے حلیہ میک اپ اور نام زنانہ اختیار کر رکھا تھا وہ اسے مؤنث کے صیغے میں ہی مخاطب کرتی۔ عنایہ کا خیال تھا کہ ایک ہیجڑے کا حق ہے وہ جیسا مناسب خیال کرے حلیہ اور نام اختیار کرے۔۔بھلا ماں کے رحم میں پلتے ایک ایمبریو کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنے کروموسومز میں آیا نقص دور کر سکے؟
جب دو طرف سے کروموسومز مل کر زندگی کے خلیے کو جنم دیتے ہیں تو روشنی کا جھماکا سا ہوتا ہے۔ وہ نور وہ روشنی کا جھماکا خصوصی بچوں اور ہیجڑوں کے ایمبریو نے بھی تو خارج کیا ہوگا۔
آدھے سر کا پورا درد چاند 🌒 گرہن کی مانند دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا۔ بیٹا گھر کے بوجھل ماحول اور ماں کو تکلیف میں دیکھ کر ایک کونے میں خاموش بیٹھ گیا تھا۔ گلابی جاڑے کی ٹھنڈک میں اسکے ہاتھ سرد ہو رہے تھے سارے کھلونے یونہی دھرے تھے ۔ بیٹے کی بھوک کا خیال کر کے عنایہ نے اپنے میاں کو میسیج کیا کہ فوڈ پانڈا پر کھانے کا آڈر دے دیں۔
سونیا ہیجڑے کا محلے کے پرانے مکینوں کے گھروں میں آنا جانا عام تھا۔ان کے خاندان میں ہر خوشی کے موقع پر جانے کہاں سے آن وارد ہوتی اور زبردستی نیگ لے کر جاتی اور جب کوئی موقع نہ ہوتا تو پھر بھی کچھ نہ کچھ خیرات کے نام پر مل ہی جاتا۔
سونیا شادی والے گھر کا ایک چکر لگا آئی تھی۔ اس نے سبز رنگ کا زرق برق لباس پہنا ہوا تھا۔ گہرا گلا باریک چمکیلا کپڑا جو سردی نہیں روک سکتا تھا ، پھٹی ایڑیوں والے پاؤں ۔ چہرے پر سستے اور گہرے میک اپ کی تہہ جمی تھی۔
مگر اس ساری تیاری کے باوجود اس کا منہ اترا ہوا تھا۔ عنایہ کو اس کے چہرے پر بھوک کی شدت نظر آ گئی تھی مگر اسوقت وہ خود نڈھال تھی۔
کہنے لگی جاؤ شادی والے گھر روٹی کھلنے والی ہوگی ۔
نہ بہو ۔۔۔ اُدھر نہ ھُماں نہ دُھماں
گھر میں مہندی کر رہے ہیں۔ ابھی تو ان کا اپنا ہی ناچ گانا اور ڈھولکی چل رہی ہے کسی نے سر وارنا تک مجھے نہیں دیا۔ روٹی رات کو پتا نہیں کتنے بجے کھولیں گے ۔ سنا ہے پالک گوشت اور بریانی کی دیگیں چڑھی ہیں۔
میں آ گئی اب نہ جاؤں گی جب تک گھر والے خود نہیں بلاتے ۔
عنایہ دل میں سوچ رہی تھی کہ فوڈ پانڈا پر دو لوگوں کے لیے کھانے کا آڈر دیا۔ اب اس سونیا سے کیسے جان چھڑاوں؟
دیکھ سونیا میں اب آرام کروں گی۔ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔
تو شادی والے گھر جا ۔
بہو رانی کچھ پیسے ہی دے دے مجھے۔
عنایہ نے پرس کھنگالا ڈھائی سو روپیہ تھا۔
دل میں سوچا بھلا اتنی خیرات کون دیتا ہے ہیجڑوں کو ۔ ڈھائی سو بہت ہیں۔
نہ بہو رانی ! ہزار سے کم نہ لوں گی۔
اس وقت پرس میں اتنے پیسے نہیں تھے میاں سے منگوا سکتی تھی وہ انکار نہ کرتا لیکن اسے خیرات میں دینے کے لیے ڈھائی سو معقول رقم لگ رہی تھی۔
اسی دوران رائیڈر کھانا لے کر آ گیا ۔ سونیا کو اندازہ ہو گیا کہ اسے چلے جانا چاہیے۔ اس نے عنایہ کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور کہا سدا سہاگن رہو۔ مالکن ہو بیٹے والی ہو میں نے یہ پیسے نہیں رکھنے ۔ اگر لینے ہیں تو ہزار ہی لوں گی۔
عنایہ چپ رہی ۔
اور سونیا چپکے سے وہ ڈھائی سو روپیہ اس کے بیٹے کے سرہانے رکھ کر باہر نکل گئی۔
پیکٹ میں گرما گرم بھاپ اڑاتی مچھلی تھی۔ ساتھ املی کی چٹنی رائتہ اور روغنی نان تھے۔
بیٹے کو کھلانے کی کوشش کی مگر اس سے ایک نوالہ نہ کھایا گیا ۔ بددلی میں وہ خود بھی ڈھنگ سے نہ کھا سکی۔
چند روز گزرے۔ بیٹے کے پیٹ کا درد کسی طور ختم نہ ہو رہا تھا۔ پھر رنگت زرد ہوئی ساتھ ہی بخار نے آن لیا۔
پڑوسن نے کہا عنایہ کہیں تیرے بیٹے کو یرقان تو نہیں ہو گیا۔
اس کے دل پر ضرب لگی ۔ بیٹے کو ساتھ لیے بڑے ڈاکٹر کا رخ کیا۔ بلڈ ٹیسٹ ہوئے رپورٹ آئی ۔ پیلا یرقان تھا۔ ڈاکٹر نے کہا وائرل ہے ۔ جلد ٹھیک ہو جائے گا ۔ گلو کوز ، کھانے کی احتیاط سپلمنٹ سب دیے۔ مگر بیٹے کی صحتیابی کو کئی ہفتے لگ گئے۔ بلڈ ٹیسٹ ٹھیک ہو گئے مگر کمزوری رفع نہ ہوئی۔ سرخ و سپید پھولوں جیسا بچہ زرد اور مریل پودے جیسا ہو گیا۔
عنایہ کے دل میں بار بار خیال آتا کہیں وہ کسی کا دل تو نہیں دکھا بیٹھی؟ ماں کہا کرتی تھی بال بچوں والی عورت ہیجڑوں کی آہ کبھی نہیں لے ۔ وہ بیچارے ہمیشہ کے لیے اولاد سے محروم ، معاشرے کے دھتکارے ہوئے اور رنجور ہوتے ہیں۔ عنایہ خیال کرتی تھی کہ دو تین سو روپے اور عید شبرات کی خیرات اسکے اچھے دل کی نشانی ہے ۔ مگر تب احساس جاگا کہ اس رات خود مچھلی کھا لی مگر وہ بھوکے پیٹ ہزار روپیہ مانگتی خالی ہاتھ لوٹ گئی۔
خدا جانے کون سی افتاد پڑی ہوگی۔ بجلی کا بل گھر کا کرایہ یا اپنے گرو کو دینا ہوں گے۔ اللہ ہی جانے ۔ کاش دے دیتی۔ کیسے وہ حسرت سے اُسے بیٹے کی ماں ہونے کا کہہ کر چلی گئی تھی ۔ ارے پھر آ جاتی میں اسے ہزار کیا دو ہزار دے دوں گی۔ خدایا میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے ۔
سونیا ایسی غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
ارد گرد سے پتا کیا۔ اُسے کئی مہینوں سے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ عنایہ کو اپنے محلے میں جو ہیجڑا نظر آتا اسے کہتی کیسری کے چیلوں میں ایک سونیا نام کا ہیجڑا ہے۔ کوئی اسے میرا پیغام دے کہ میاں جی کی بڑی بہو بلاتی ہے۔
چند روز بعد گیٹ پر بیل ہوئی۔ عنایہ نے پوچھا کون ؟
تالی بجا کر جواب دیا گیا سونیا ۔ مگر وہ کوئی اور تھا۔ دس دن میں تین مختلف سونیا نام کے ہیجڑے گھر کی یاترا کر چکے تھے۔ عنایہ کو سمجھ لگ گئی کہ اسے بیوقوف بنایا جا رہا یے اور اصلی سونیا تک اس کا پیغام نہیں پہنچا۔
اس بات کو سات آٹھ ماہ بیت گئے۔ ایک دن عنائیہ کو چنگچی پر سونیا نظر آئی ۔ اس نے آواز دی رکو۔۔۔۔
چنچگی رُکا اور سونیا نے اُسے ایسی بیگانگی سے دیکھا جیسے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہو اور پھر سواری سے اتر کی قریبی گلی میں غائب ہو گئی۔
چند روز بعد اس نے اپنے ہی محلے کی ایک گلی میں اسے جاتے دیکھا۔ عنایہ نے آواز دی سونیا۔۔۔۔۔ !
سونیا نے اسکی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا اور اپنی دھن میں آگے بڑھ گئی ۔
بیٹے کی بیماری نے عنایہ کے دل میں ایک مستقل خلش پیدا کر دی تھی ۔ وہ پہلے بھی ان لوگوں کو حقیر نہیں گردانتی تھی مگر اب جہاں بھی ہیجڑا دیکھتی اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتی ۔
سال بیت گیا ۔ پھر سردیوں کی آمد آمد تھی۔ عنایہ نے کمبل دھو کر چھت پر سوکھنے کو پھیلائے ہوئے تھے۔ خود بھی چھت پر بیٹھی دھوپ سینکتے ہوئے چھوٹی چھوٹی گاجریں چھیل کر مربع بنانے کی تیاری کر رہی تھی ۔ کہ سونیا سچ مچ آ گئی۔
سونیا میں نے کتنے پیغام بھیجے تمھیں۔ ایسا ناراض ہو کر گئی کہ پلٹ کر آئی نہیں ۔
نہ نہ بہو رانی۔ ناراض نہیں ہوئی۔ مجھے یاد ہے تم نے چنگچی میں دیکھ کر آواز دی تھی پھر گلی کی نکڑ پر۔
ذرا سوچو۔ لوگ سوچتے کہ عزت دار گھرانے کی عورت کا ہیجڑوں سے کیا تعلق ہے ؟ ہمیں تو ہمارے اپنے نہیں بلاتے۔ آپ کی بدنامی ہوتی ۔
اسی لیے اُس دن گلی میں بھی کنی کترا کر نکل گئی تھی ۔
عنایہ کو لگا شام کی دھوپ میں سونیا کا قد بہت ہی بلند ہو گیا ہے۔
اس نے شرمسار سی آواز میں کہا یہ لو سونیا یہ تمھارا ہزار روپیہ ۔
سونیا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔
ہزار کا نوٹ اسکے ضمیر کی خلش اور سونیا کی خود داری کے بیچ لرز رہا تھا ۔
..................

