حرف و صوت کی ہجرت
حرف و صوت کی ہجرت
Apr 29, 2026

دیدبان ثمینہ سید نمبر
حرف و صوت کی ہجرت
دانش عزیز
عجب اک ساعتِ دلدوز تھی کہ روشنی کا ، نور کی چادر میں لپٹے نور ہو جانا
رواں جس سے کئ چشمے معانی کے تھے جو ادھ کھلے ، ادھ پڑھے ، ادھ لکھے ہی رہ گئے
کہ جس کی سوچ کے کتنے ہی پہلو کھل نہیں پائے
نہ جس کو وقت پڑھ پایا
بہت کچھ اس نے کہنا تھا
بہت کچھ ہم نے سننا تھا
اسے شہر_ خموشان کی خموشی بھا گئی کیونکر
وہ چاہت کا وظیفہ تھی ،
محبت کا صحیفہ تھی
کسی ان دیکھے موسم نے جب اس کے لمس کی لو کو چھوا تو پیشتر بجھنے سے اس نے روشنی کر دی
خدائے لم یزل کو اس کی امانت سونپ دی ہنس کر
کسی بھی درد کا اس نے گلہ کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا
کہ وہ درد_ محبت کو نئی تہذیب دیتی تھی ، ہجر تفہیم کرتی تھی
وہ ہر اک درد کو اپنے قرینے سے بدلتی تھی
یہاں اب وہ نہیں ہے تو کیونکر ایسا لگتا ہے کہ جیسے نقرئی لہجہ خموشی میں کہیں گم ہو کر ہمارے نام لے لے کر صدائیں دیتا رہتا ہے
یہ لگتا ہے کہ جیسے فکر کی پیشانی سے اک روشن امکان ڈھل گیا ہو
مگر ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ اب تک جہاں سچ ہو وہاں پر سانس لیتی ہے
جہاں الفاظ آنسو بن رہے ہوں ایسی ہر اک آنکھ میں اس کا پڑاؤ ہے
بڑا زہریلا گھاؤ ہے
جدائی اس کو کہتے ہیں جسے ہم دیکھنا چاہیں مگر ہم دیکھ نہ پائیں
امینِ حرف و صوت تمہاری رخصتی نے تو بقا کے سابقہ سارے معانی ہی بدل ڈالے
ہمیں باور کرایا ہے کہ مٹ جانا فنا ہونا بقا کی سمت آشفتہ سروں کی پہلی منزل ہے
یہیں ہو تم ہمارے درمیاں فقط نظروں کی ہجرت ہے
فقط ان عارضی سانسوں کے پنجرے سے رہائی کے تسلسل کی تمنا کو ذرا تسکین سونپی ہے
مرے دل کی گواہی ہے
کہ تم اب
کسی سرسبز وادی میں کہیں پریوں کے جھرمٹ میں
محبت سینچتی ہو گی
مجھے اکثر یہ لگتا ہے
کہیں پچھلی نشستوں پر
کہیں گم گشتہ رستوں پر
کسی ان دیکھی ساعت میں
تو سب کچھ سن رہی ہو گی
تو سب کچھ سن رہی ہو گی
دانش عزیز
دیدبان ثمینہ سید نمبر
حرف و صوت کی ہجرت
دانش عزیز
عجب اک ساعتِ دلدوز تھی کہ روشنی کا ، نور کی چادر میں لپٹے نور ہو جانا
رواں جس سے کئ چشمے معانی کے تھے جو ادھ کھلے ، ادھ پڑھے ، ادھ لکھے ہی رہ گئے
کہ جس کی سوچ کے کتنے ہی پہلو کھل نہیں پائے
نہ جس کو وقت پڑھ پایا
بہت کچھ اس نے کہنا تھا
بہت کچھ ہم نے سننا تھا
اسے شہر_ خموشان کی خموشی بھا گئی کیونکر
وہ چاہت کا وظیفہ تھی ،
محبت کا صحیفہ تھی
کسی ان دیکھے موسم نے جب اس کے لمس کی لو کو چھوا تو پیشتر بجھنے سے اس نے روشنی کر دی
خدائے لم یزل کو اس کی امانت سونپ دی ہنس کر
کسی بھی درد کا اس نے گلہ کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا
کہ وہ درد_ محبت کو نئی تہذیب دیتی تھی ، ہجر تفہیم کرتی تھی
وہ ہر اک درد کو اپنے قرینے سے بدلتی تھی
یہاں اب وہ نہیں ہے تو کیونکر ایسا لگتا ہے کہ جیسے نقرئی لہجہ خموشی میں کہیں گم ہو کر ہمارے نام لے لے کر صدائیں دیتا رہتا ہے
یہ لگتا ہے کہ جیسے فکر کی پیشانی سے اک روشن امکان ڈھل گیا ہو
مگر ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ اب تک جہاں سچ ہو وہاں پر سانس لیتی ہے
جہاں الفاظ آنسو بن رہے ہوں ایسی ہر اک آنکھ میں اس کا پڑاؤ ہے
بڑا زہریلا گھاؤ ہے
جدائی اس کو کہتے ہیں جسے ہم دیکھنا چاہیں مگر ہم دیکھ نہ پائیں
امینِ حرف و صوت تمہاری رخصتی نے تو بقا کے سابقہ سارے معانی ہی بدل ڈالے
ہمیں باور کرایا ہے کہ مٹ جانا فنا ہونا بقا کی سمت آشفتہ سروں کی پہلی منزل ہے
یہیں ہو تم ہمارے درمیاں فقط نظروں کی ہجرت ہے
فقط ان عارضی سانسوں کے پنجرے سے رہائی کے تسلسل کی تمنا کو ذرا تسکین سونپی ہے
مرے دل کی گواہی ہے
کہ تم اب
کسی سرسبز وادی میں کہیں پریوں کے جھرمٹ میں
محبت سینچتی ہو گی
مجھے اکثر یہ لگتا ہے
کہیں پچھلی نشستوں پر
کہیں گم گشتہ رستوں پر
کسی ان دیکھی ساعت میں
تو سب کچھ سن رہی ہو گی
تو سب کچھ سن رہی ہو گی

