ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا
ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا
May 1, 2026

دیدبان ثمینہ سید نمبر
ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا
رقیہ اکبر چوہدری
وہ ایسی ہی تھی قرض محبتوں کا ہو ،چاہتوں یا اخلاص کا وہ ہاتھ کے ہاتھ اتار دیتی تھی۔شاید اسے پہلے سے علم ہو گیا تھا کہ اس نے بہت جلدی اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے اس لئے وہ اپنی ذات پر کسی کا کوئی ادھار نہیں رکھنا چاہتی تھی لیکن ایسی ہوشیار بھی تھی کہ ایک جہان کو اپنی محبتوں ،بےریا چاہتوں اور پرخلوص الفتوں کا قرضدار بنا رکھا تھا۔
روشن آنکھوں ،کشادہ پیشانی ،مسکراتے چہرے اور لانبے بالوں والی ثمینہ سید سے میری پہلی باضابطہ ملاقات فلیٹیز ہوٹل کی لابی میں اس وقت ہوئی جب ہم ایک پروگرام میں شرکت کے بعد اپنی اپنی سواری کا انتظار کر رہے تھے۔
اس نے بات کرنے میں پہل کی ۔۔وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ آگے بڑھ کر ملنے والے ،بانہیں کھول کر اجنبیوں کو بڑھ کر گلے لگا لینے والی ،نیکیوں میں پہل کرنے والی ۔۔
اپنی بیٹی شوال کے ساتھ گاڑی کے انتظار میں کھڑی ثمینہ سید نے جب مجھے کہا
آپ بہت اچھا لکھتی ہیں میں آپ کی شاعری اور کالمز پڑھتی رہتی ہوں ۔آپ مشاعروں میں کیوں نہیں آتیں؟
تو جہاں مجھے اس کے منہ سے اپنی تعریف سننا اچھا لگا وہاں حیرت کا ایک خوشگوار جھٹکا اس کی اس درجہ اپنائیت سے بھی لگا۔
ادبی حلقوں میں یہ تیسری خاتون تھیں جنہیں میں نے پہلی ہی ملاقات میں اتنی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پایا۔
پھر ہم نے ایکدوسرے سے فون نمبر ایکسچینج کئے اور یہ اتفاقی ملاقات کب اور کیسے ایک گہری دوستی میں بدل گئی پتہ ہی نہیں چلا۔
اس دوستی کا سارا کریڈٹ ثمینہ سید کو جاتا ہے۔خوش اخلاق اور نہایت ہی سادہ مزاج یہ خاتون لمحوں میں دلوں میں جگہ بنانے کی ماہر تھی۔
وہ جانتی تھی اور کہہ گئی کہ
لے جاتی ہے اکڑی گردن نار کی جانب
یہی وجہ تھی کہ اس میں اکڑ ،غرور ،نخرے کی رتی برابر رمق بھی نہ تھی مگر ایسی بھی نہیں تھی کہ دوسروں کو اپنی حدود میں گھسنے کی اجازت دے دے۔
وہ بہت مضبوط اور متوازن شخصیت کی مالک تھی نہ ایسی میٹھی کہ لوگ نگل جائیں نا کڑوی کہ تھوک دیں۔۔
شاید اس لئے کہ اس نے بہت چھوٹی سی عمر میں ہی زندگی کی کئے تکلیف دہ رنگ دیکھ لئے تھے ،برت لئے تھے۔۔۔
وہ اس شعر کی جیتی جاگتی مثال تھی
ہمارے لہجوں میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی
اس کے اندر بہ یک وقت دو مختلف شخصیات بستی تھیں۔
ایک طرف کھلی کتاب کے جیسی۔۔
ادبی حلقوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ثمینہ کی زندگی کی مشکلات اور درپیش چیلنجوں سے واقف نہ ہو مگر
دوسری طرف ایک ایسی بند کتاب جسے اس نے کسی کو پڑھنے کی اجازت تو خاک دینی تھی الٹا اتنا سینت ،سنبھال اور چھپا کے رکھ چھوڑا تھا کہ کسی کو اس کتاب کے کور پہ لگا مومی کاغذ تک اتارنے کی اجازت نہیں دی۔
شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کی اس کی شخصیت کی گہری تہوں تک رسائی ہو۔
وہ اپنی جگہ بنانے کا ہنر بھی خوب جانتی تھی اور اس پہ ٹکے رہنے کی صلاحیتوں سے بھی واقف تھی۔وہ کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتی تھی لیکن اگر کبھی اسے لگتا کہ مجھ سے زیادہ کوئی دوسرا اس جگہ پہنچنے کا خواہشمند ہے تو خود کو ایسے سمیٹ لیتی تھی کہ دوسرے کے قدم رکھنے کو کافی جگہ میسر آ جائے۔
یہاں تک نہیں وہ تو اس سے آگے بڑھ کر اسے تھام لیتی تھی اور اس وقت تک تھامے رکھتی تھی جب تک کہ لڑکھڑانے والا ،اپنی جگہ بنانے والا جم کر کھڑا نہیں ہو جاتا۔
شازیہ مفتی ٹھیک کہتی ہے
ثمینہ جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔
سات کتابوں کی خالق ثمینہ سید کی برداشت ،ہمت،صبر اور بہادری کو یوں تو سب نے دیکھ ہی رکھا تھا مگر اس نے جس ہمت و حوصلے کیساتھ کینسر جیسی بیماری سے مقابلہ کیا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
جب پہلی بار اسے ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے چوتھی سٹیج کا کینسر ہے تو لمحہ بھر کو اس کے قدم لڑکھڑائے ضرور تھے مگر اس نے خود کو گرنے نہیں دیا۔
کینسر کو شکست دینے کیلئے اپنی تمام تر ہمتیں مجتمع کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر ہم نے دیکھا کیمو تھراپی کے پراسس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے ایم فل کی پڑھائی جاری رکھی۔
جس کیلئے اس نے محاورتاً نہیں سچ مچ دن رات محنت کی۔
اور یہاں تک بس نہیں کیا بلکہ اسی دوران اپنی دو کتابیں
شعری مجموعہ "سامنے مات ہے"
اور افسانوں کی کتاب
"زن زندگی" پہ مسلسل کام کیا اور اسے منظر عام پر لے آئی۔
یہ وہی دور ہے جب اسے کیمو جیسے سخت علاج کے بعد اپنے لمبے گھنے بالوں سے ہاتھ دھونا پڑ گیا تھا۔
ثمینہ کو اپنی لمبی ،گھنی اور سچ مچ سیاہ ناگن جیسی بل کھاتی زلفوں سے بہت پیار تھا اور جس دن اس کے بال پہلے گچھوں کی صورت میں اترنا شروع ہوئے اور پھر شیمپو کرتے ہوئے ایکدوسرے میں ایسے الجھے کہ شوال کو انہیں نہ چاہتے ہوئے قینچی سے کاٹنا ہی پڑا۔۔ اس دن وہ دونوں ماں بیٹی جو ایکدوسرے کی سہیلیاں بھی تھیں بہت روئی تھیں۔
مگر ان دونوں کو امید تھی کہ ان کا رب ثمینہ کو جلد صحت یاب فرمائے گا اور یہ بال دوبارہ اگ آئیں گے۔۔
اپنی ایم فل کی ڈگری لینے کیلئے وہ سر پہ سکارف باندھ کر گئی تو بہت پرجوش تھی ۔کیوں نہ ہوتی آخر اپنے ایک اور خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا کام جو سرا انجام دے دیا تھا۔
وہ بہت خوش تھی کیونکہ اس کا علاج بھی مکمل ہو گیا تھا۔جلد ہی اس کے سر کا پھر سے سیاہ گھنے بالوں نے احاطہ کر لیا تو یوں لگا جیسے ساری مشکلات ختم ہو گئی ہوں ساری مصیبتیں ٹل گئی ہوں لیکن۔۔۔
قدرت کو تو ابھی ثمینہ کا اور امتحان لینا تھا۔
قدرت بھی تو انہی کے امتحان لیتی ہے جن کی تیاری فل ہوتی ہے جو اس قابل ہوتے ہیں کہ اللہ کی مرتب کردہ امتحان گاہ میں بیٹھنے کی تمام تر اہلیت رکھتے ہوں۔
بمشکل چھ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ وہ ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دی گئی۔۔وہ اس بار بھی ہمت و حوصلے کیساتھ اس بیماری سے لڑنے کیلئے تیار ہو گئی اس کی ہمت کا اندازہ اسی بات سے لگائیے کہ اس نے دوران علاج پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا۔
اتفاق سے جس دن اس کی کیمو ہوتی تھی اس سے اگلے ہی دن اس کی پی ایچ ڈی کی کلاس ہوتی تھی۔
کوئی سوچ سکتا ہے کیمو جیسے تکلیف دہ ،اذیت ناک پراسس سے گزرنے کے اگلے ہی دن وہ کلاس میں بیٹھی لیکچر اٹینڈ کر رہی ہوتی تھی۔
وہ بلا کی سخت جان ،محنت کش اور بہادر عورت تھی۔سکون اور آرام سے بیٹھنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔وہ قائد کے اس فرمان کی عملی مثال تھی
کام ،کام اور بس کام۔۔
کینسر سے جھوجھتی ثمینہ سید نے ان حالات میں بھی پی ایچ ڈی کی کلاسز جاری رکھیں۔
مگر افسوس کہ قدرت نے اسے اپنا پی ایچ ڈی کا خواب مکمل کرنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیا۔
(میں دید بان کے توسط سے گورنمنٹ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست گزار ہوں کہ وہ ثمینہ کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیکر اس کا اس ادھورے سپنے کو مکمل کر دیں )
اپنی بیماری کے ان آخری ایام میں اس نے اپنی زندگی کی آخری تصنیف ،تنقیدی مضامین پر مشتمل نئی کتاب "یہ میرے ہم عصر" پبلش کروائی۔
ایسی تھی ثمینہ سید۔۔
جس نے نہ کبھی بندوں سے شکوہ کیا نہ کبھی خدا سے۔اس کی زبان پہ بس ہمیشہ شکر کے کلمات رہے۔
بڑی سے بڑی تکلیف میں بھی اس کے منہ سے کبھی آہ نہ نکلی تھی ایسے میں وہ لب بھینچ لیا کرتی تھی اور اپنی ہر اذیت اپنے ہر درد کو صبر کیساتھ برداشت کر لیا کرتی تھی۔
اپنی زندگی کی آخری غزل کے مطلع میں وہ لکھتی ہے
دن بھی تاریک ہوا شب کی سحر آتی نہیں
اپنی آنکھوں سے میں خود کو بھی نظر آتی نہیں
۔۔
ہائے اس دکھ کا کیا کوئی حساب لگا سکتا ہے کہ مجھے میری یہ شریکِ غم ،شریک خوشی سہیلی تو کھلی آنکھوں سے بھی کہیں نظر نہیں آتی ۔۔۔
دیدبان ثمینہ سید نمبر
ہے کوئی قرض نہ مجھ پر نہ کسی پر میرا
رقیہ اکبر چوہدری
وہ ایسی ہی تھی قرض محبتوں کا ہو ،چاہتوں یا اخلاص کا وہ ہاتھ کے ہاتھ اتار دیتی تھی۔شاید اسے پہلے سے علم ہو گیا تھا کہ اس نے بہت جلدی اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے اس لئے وہ اپنی ذات پر کسی کا کوئی ادھار نہیں رکھنا چاہتی تھی لیکن ایسی ہوشیار بھی تھی کہ ایک جہان کو اپنی محبتوں ،بےریا چاہتوں اور پرخلوص الفتوں کا قرضدار بنا رکھا تھا۔
روشن آنکھوں ،کشادہ پیشانی ،مسکراتے چہرے اور لانبے بالوں والی ثمینہ سید سے میری پہلی باضابطہ ملاقات فلیٹیز ہوٹل کی لابی میں اس وقت ہوئی جب ہم ایک پروگرام میں شرکت کے بعد اپنی اپنی سواری کا انتظار کر رہے تھے۔
اس نے بات کرنے میں پہل کی ۔۔وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ آگے بڑھ کر ملنے والے ،بانہیں کھول کر اجنبیوں کو بڑھ کر گلے لگا لینے والی ،نیکیوں میں پہل کرنے والی ۔۔
اپنی بیٹی شوال کے ساتھ گاڑی کے انتظار میں کھڑی ثمینہ سید نے جب مجھے کہا
آپ بہت اچھا لکھتی ہیں میں آپ کی شاعری اور کالمز پڑھتی رہتی ہوں ۔آپ مشاعروں میں کیوں نہیں آتیں؟
تو جہاں مجھے اس کے منہ سے اپنی تعریف سننا اچھا لگا وہاں حیرت کا ایک خوشگوار جھٹکا اس کی اس درجہ اپنائیت سے بھی لگا۔
ادبی حلقوں میں یہ تیسری خاتون تھیں جنہیں میں نے پہلی ہی ملاقات میں اتنی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پایا۔
پھر ہم نے ایکدوسرے سے فون نمبر ایکسچینج کئے اور یہ اتفاقی ملاقات کب اور کیسے ایک گہری دوستی میں بدل گئی پتہ ہی نہیں چلا۔
اس دوستی کا سارا کریڈٹ ثمینہ سید کو جاتا ہے۔خوش اخلاق اور نہایت ہی سادہ مزاج یہ خاتون لمحوں میں دلوں میں جگہ بنانے کی ماہر تھی۔
وہ جانتی تھی اور کہہ گئی کہ
لے جاتی ہے اکڑی گردن نار کی جانب
یہی وجہ تھی کہ اس میں اکڑ ،غرور ،نخرے کی رتی برابر رمق بھی نہ تھی مگر ایسی بھی نہیں تھی کہ دوسروں کو اپنی حدود میں گھسنے کی اجازت دے دے۔
وہ بہت مضبوط اور متوازن شخصیت کی مالک تھی نہ ایسی میٹھی کہ لوگ نگل جائیں نا کڑوی کہ تھوک دیں۔۔
شاید اس لئے کہ اس نے بہت چھوٹی سی عمر میں ہی زندگی کی کئے تکلیف دہ رنگ دیکھ لئے تھے ،برت لئے تھے۔۔۔
وہ اس شعر کی جیتی جاگتی مثال تھی
ہمارے لہجوں میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی
اس کے اندر بہ یک وقت دو مختلف شخصیات بستی تھیں۔
ایک طرف کھلی کتاب کے جیسی۔۔
ادبی حلقوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ثمینہ کی زندگی کی مشکلات اور درپیش چیلنجوں سے واقف نہ ہو مگر
دوسری طرف ایک ایسی بند کتاب جسے اس نے کسی کو پڑھنے کی اجازت تو خاک دینی تھی الٹا اتنا سینت ،سنبھال اور چھپا کے رکھ چھوڑا تھا کہ کسی کو اس کتاب کے کور پہ لگا مومی کاغذ تک اتارنے کی اجازت نہیں دی۔
شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کی اس کی شخصیت کی گہری تہوں تک رسائی ہو۔
وہ اپنی جگہ بنانے کا ہنر بھی خوب جانتی تھی اور اس پہ ٹکے رہنے کی صلاحیتوں سے بھی واقف تھی۔وہ کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑتی تھی لیکن اگر کبھی اسے لگتا کہ مجھ سے زیادہ کوئی دوسرا اس جگہ پہنچنے کا خواہشمند ہے تو خود کو ایسے سمیٹ لیتی تھی کہ دوسرے کے قدم رکھنے کو کافی جگہ میسر آ جائے۔
یہاں تک نہیں وہ تو اس سے آگے بڑھ کر اسے تھام لیتی تھی اور اس وقت تک تھامے رکھتی تھی جب تک کہ لڑکھڑانے والا ،اپنی جگہ بنانے والا جم کر کھڑا نہیں ہو جاتا۔
شازیہ مفتی ٹھیک کہتی ہے
ثمینہ جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔
سات کتابوں کی خالق ثمینہ سید کی برداشت ،ہمت،صبر اور بہادری کو یوں تو سب نے دیکھ ہی رکھا تھا مگر اس نے جس ہمت و حوصلے کیساتھ کینسر جیسی بیماری سے مقابلہ کیا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
جب پہلی بار اسے ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے چوتھی سٹیج کا کینسر ہے تو لمحہ بھر کو اس کے قدم لڑکھڑائے ضرور تھے مگر اس نے خود کو گرنے نہیں دیا۔
کینسر کو شکست دینے کیلئے اپنی تمام تر ہمتیں مجتمع کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر ہم نے دیکھا کیمو تھراپی کے پراسس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے ایم فل کی پڑھائی جاری رکھی۔
جس کیلئے اس نے محاورتاً نہیں سچ مچ دن رات محنت کی۔
اور یہاں تک بس نہیں کیا بلکہ اسی دوران اپنی دو کتابیں
شعری مجموعہ "سامنے مات ہے"
اور افسانوں کی کتاب
"زن زندگی" پہ مسلسل کام کیا اور اسے منظر عام پر لے آئی۔
یہ وہی دور ہے جب اسے کیمو جیسے سخت علاج کے بعد اپنے لمبے گھنے بالوں سے ہاتھ دھونا پڑ گیا تھا۔
ثمینہ کو اپنی لمبی ،گھنی اور سچ مچ سیاہ ناگن جیسی بل کھاتی زلفوں سے بہت پیار تھا اور جس دن اس کے بال پہلے گچھوں کی صورت میں اترنا شروع ہوئے اور پھر شیمپو کرتے ہوئے ایکدوسرے میں ایسے الجھے کہ شوال کو انہیں نہ چاہتے ہوئے قینچی سے کاٹنا ہی پڑا۔۔ اس دن وہ دونوں ماں بیٹی جو ایکدوسرے کی سہیلیاں بھی تھیں بہت روئی تھیں۔
مگر ان دونوں کو امید تھی کہ ان کا رب ثمینہ کو جلد صحت یاب فرمائے گا اور یہ بال دوبارہ اگ آئیں گے۔۔
اپنی ایم فل کی ڈگری لینے کیلئے وہ سر پہ سکارف باندھ کر گئی تو بہت پرجوش تھی ۔کیوں نہ ہوتی آخر اپنے ایک اور خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا کام جو سرا انجام دے دیا تھا۔
وہ بہت خوش تھی کیونکہ اس کا علاج بھی مکمل ہو گیا تھا۔جلد ہی اس کے سر کا پھر سے سیاہ گھنے بالوں نے احاطہ کر لیا تو یوں لگا جیسے ساری مشکلات ختم ہو گئی ہوں ساری مصیبتیں ٹل گئی ہوں لیکن۔۔۔
قدرت کو تو ابھی ثمینہ کا اور امتحان لینا تھا۔
قدرت بھی تو انہی کے امتحان لیتی ہے جن کی تیاری فل ہوتی ہے جو اس قابل ہوتے ہیں کہ اللہ کی مرتب کردہ امتحان گاہ میں بیٹھنے کی تمام تر اہلیت رکھتے ہوں۔
بمشکل چھ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ وہ ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دی گئی۔۔وہ اس بار بھی ہمت و حوصلے کیساتھ اس بیماری سے لڑنے کیلئے تیار ہو گئی اس کی ہمت کا اندازہ اسی بات سے لگائیے کہ اس نے دوران علاج پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا۔
اتفاق سے جس دن اس کی کیمو ہوتی تھی اس سے اگلے ہی دن اس کی پی ایچ ڈی کی کلاس ہوتی تھی۔
کوئی سوچ سکتا ہے کیمو جیسے تکلیف دہ ،اذیت ناک پراسس سے گزرنے کے اگلے ہی دن وہ کلاس میں بیٹھی لیکچر اٹینڈ کر رہی ہوتی تھی۔
وہ بلا کی سخت جان ،محنت کش اور بہادر عورت تھی۔سکون اور آرام سے بیٹھنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔وہ قائد کے اس فرمان کی عملی مثال تھی
کام ،کام اور بس کام۔۔
کینسر سے جھوجھتی ثمینہ سید نے ان حالات میں بھی پی ایچ ڈی کی کلاسز جاری رکھیں۔
مگر افسوس کہ قدرت نے اسے اپنا پی ایچ ڈی کا خواب مکمل کرنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیا۔
(میں دید بان کے توسط سے گورنمنٹ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست گزار ہوں کہ وہ ثمینہ کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیکر اس کا اس ادھورے سپنے کو مکمل کر دیں )
اپنی بیماری کے ان آخری ایام میں اس نے اپنی زندگی کی آخری تصنیف ،تنقیدی مضامین پر مشتمل نئی کتاب "یہ میرے ہم عصر" پبلش کروائی۔
ایسی تھی ثمینہ سید۔۔
جس نے نہ کبھی بندوں سے شکوہ کیا نہ کبھی خدا سے۔اس کی زبان پہ بس ہمیشہ شکر کے کلمات رہے۔
بڑی سے بڑی تکلیف میں بھی اس کے منہ سے کبھی آہ نہ نکلی تھی ایسے میں وہ لب بھینچ لیا کرتی تھی اور اپنی ہر اذیت اپنے ہر درد کو صبر کیساتھ برداشت کر لیا کرتی تھی۔
اپنی زندگی کی آخری غزل کے مطلع میں وہ لکھتی ہے
دن بھی تاریک ہوا شب کی سحر آتی نہیں
اپنی آنکھوں سے میں خود کو بھی نظر آتی نہیں
۔۔
ہائے اس دکھ کا کیا کوئی حساب لگا سکتا ہے کہ مجھے میری یہ شریکِ غم ،شریک خوشی سہیلی تو کھلی آنکھوں سے بھی کہیں نظر نہیں آتی ۔۔۔

