غزل ۔۔۔ سید بصیر الحسن وفا نقوی

غزل ۔۔۔ سید بصیر الحسن وفا نقوی

May 4, 2020

غزل

سر اٹھانے کا جو اعلان کیا ہے ہم نے

کون سا آپ کا نقصان کیا ہے ہم نے

اپنے خوابوں کی بسائی ہے یہاں پر جنت

تیری مٹی پہ یہ احسان کیا ہے ہم نے

دھوپ چھاﺅں کا تماشہ تو رہے گا جاری

بے سبب خود کو پریشان کیا ہے ہم نے

اپنے آنسو سے بنایا ہے ستارہ کوئی

اس طرح رات کو حیران کیا ہے ہم نے

اب چراغوں کو بجھانے نہیں والا کوئی

اب ہواﺅں کو نگہبان کیا ہے ہم نے

یہ فقیری یہ امیری یہ زمانہ یہ حیات

آپ کے عشق میں سب دان کیا ہے ہم نے

حسرتیں خواہشیں ارمان نکالے دل سے

جب سے اک عشق کو مہمان کیا ہے ہم نے

سید بصیر الحسن وفا نقوی

ہلال ہاﺅس

مکان نمبر ۴۱۱/۴

نگلہ ملاح سول لائن

علی گڑھ یوپی

موبائل:9219782014

غزل

سر اٹھانے کا جو اعلان کیا ہے ہم نے

کون سا آپ کا نقصان کیا ہے ہم نے

اپنے خوابوں کی بسائی ہے یہاں پر جنت

تیری مٹی پہ یہ احسان کیا ہے ہم نے

دھوپ چھاﺅں کا تماشہ تو رہے گا جاری

بے سبب خود کو پریشان کیا ہے ہم نے

اپنے آنسو سے بنایا ہے ستارہ کوئی

اس طرح رات کو حیران کیا ہے ہم نے

اب چراغوں کو بجھانے نہیں والا کوئی

اب ہواﺅں کو نگہبان کیا ہے ہم نے

یہ فقیری یہ امیری یہ زمانہ یہ حیات

آپ کے عشق میں سب دان کیا ہے ہم نے

حسرتیں خواہشیں ارمان نکالے دل سے

جب سے اک عشق کو مہمان کیا ہے ہم نے

سید بصیر الحسن وفا نقوی

ہلال ہاﺅس

مکان نمبر ۴۱۱/۴

نگلہ ملاح سول لائن

علی گڑھ یوپی

موبائل:9219782014

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024