غزل : نجمہ ثاقب

غزل : نجمہ ثاقب

Nov 23, 2020

دیدبان شمارہ ١٢

غزل : نجمہ ثاقب

دیے کی لو اگر زخمی ہوئی ہے

ہوا بھی رات سے سہمی ہوئی ہے

گلی کے پار سناٹے کی بارش

گھروں نے خامشی پہنی ہوئی ہے

مرے گاؤں کے کچے راستے کی

اداسی دھول میں لپٹی ہوئی ہے

شجر پر کیا کوئی جادو ہوا ہے؟

کہ ڈالی بیل سے چمٹی ہوئی ہے

سرہانے رکھ کے چرخہ اور پونی

تھکی بڑھیا ذرا لیٹی ہوئی ہے

دریچہ کھول کے دیکھو ذرا سا

وبا دہلیز پر بیٹھی ہوئی ہے؟؟

نجمہ ثاقب




دیدبان شمارہ ١٢

غزل : نجمہ ثاقب

دیے کی لو اگر زخمی ہوئی ہے

ہوا بھی رات سے سہمی ہوئی ہے

گلی کے پار سناٹے کی بارش

گھروں نے خامشی پہنی ہوئی ہے

مرے گاؤں کے کچے راستے کی

اداسی دھول میں لپٹی ہوئی ہے

شجر پر کیا کوئی جادو ہوا ہے؟

کہ ڈالی بیل سے چمٹی ہوئی ہے

سرہانے رکھ کے چرخہ اور پونی

تھکی بڑھیا ذرا لیٹی ہوئی ہے

دریچہ کھول کے دیکھو ذرا سا

وبا دہلیز پر بیٹھی ہوئی ہے؟؟

نجمہ ثاقب




خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024