غزل

غزل

Mar 23, 2021

فیصله تو افلاک کریں گے سچی میں

دیدبان شمارہ ١٣

غزل :

غزالہ صدیقی

وہ تو کیا ادراک کریں گے سچی میں

ہجر ھمیں ھی خاک کریں گے سچی میں

عشق میں ڈوب کے سوہنی نے جو کر  ڈالا

کیا ماہر پیراک کریں گے سچی میں

ہجر کے جھوٹے قصوں پر بھی اہل دل

آنکھوں کو نمناک کریں گے سچی میں

‌فصل گل میں روٹھ کے ان کو پرکھوں گی

کیا وہ دامن چاک کریں گے سچی میں  

انساں عشق میں خاکستر ھو  جاتا ہے

عشق فرشتے خاک کریں گے سچی میں

دل ایسا گھائل کرتے ہیں رشتے بھی

کیا دشمن سفاک کریں گے سچی میں

آپ رقیبوں کا دل رکھیں اور ہم بھی

جاں کا قصہ پاک کریں گے سچی میں

اسکو  میں امید کے جگنو کیسے  دوں

فیصله تو افلاک کریں گے سچی  میں

-------------------

دیدبان شمارہ ١٣

غزل :

غزالہ صدیقی

وہ تو کیا ادراک کریں گے سچی میں

ہجر ھمیں ھی خاک کریں گے سچی میں

عشق میں ڈوب کے سوہنی نے جو کر  ڈالا

کیا ماہر پیراک کریں گے سچی میں

ہجر کے جھوٹے قصوں پر بھی اہل دل

آنکھوں کو نمناک کریں گے سچی میں

‌فصل گل میں روٹھ کے ان کو پرکھوں گی

کیا وہ دامن چاک کریں گے سچی میں  

انساں عشق میں خاکستر ھو  جاتا ہے

عشق فرشتے خاک کریں گے سچی میں

دل ایسا گھائل کرتے ہیں رشتے بھی

کیا دشمن سفاک کریں گے سچی میں

آپ رقیبوں کا دل رکھیں اور ہم بھی

جاں کا قصہ پاک کریں گے سچی میں

اسکو  میں امید کے جگنو کیسے  دوں

فیصله تو افلاک کریں گے سچی  میں

-------------------

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024