غزلیں۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید

غزلیں۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید

May 1, 2026

دیدبان ثمینہ سید نمبر

غزلیں۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید


1

آنکھ پر خواب کا اجارا تھا

ورنہ یہ ذہن کب تمھارا تھا

آپ ملتے یا پھر جدا ہوتے

مجھے دونوں طرح خسارا تھا

آخری صف کے آدمی تھے مگر

عشق میں ہجر بھی گوارا تھا

وقت گزرا تو یہ ہوا احساس

زندگی نے مجھے گزارا تھا

خواب تھے اِس طرف اور آنکھوں نے

مجھے اُس پار ۔۔۔۔۔۔۔جا اتارا تھا

عمر کی اُٹھ نہیں سکی گٹھڑی

میں نے لمحات کو شمارا تھا

تیرے ہٹنے کی دیر تھی ساری

وہ نظر تھی، نہ وہ نظارا تھا

کر دیا راکھ سب لکیروں کو

میری مٹھی میں جو ستارا تھا

کیسے اترا ہے وہ نگاہوں سے

میں نے دل میں جسے اتارا تھا

سرِ منزل ثمینہ لوٹ آئی

راستوں نے مجھے پکارا تھا

………………………..

2

آزمائشی رستے مختصر نہیں ہوتے

”ساتھ چلنے والے بھی ہمسفر نہیں ہوتے“

نیند آ ہی جائے گی شب گزیدہ لوگوں کو

خواب وہ بھی دیکھیں گے جن کے گھر نہیں ہوتے

ان کو فکر ایماں کی جان سے زیادہ ہے

ایک در کے ہو کر جو در بدر نہیں ہوتے

یہ جہان کرتا ہے اُن کو بس نظر انداز

وُہ خموش رہتے ہیں بے ہنر نہیں ہوتے

دشمنوں کے لشکر میں کس قدر منافق ہیں

ورنہ یوں مقابل تو اتنے سر نہیں ہوتے

دیکھا پشت کی جانب ہم نے ہی نہیں ۔ورنہ

جسم اپنے ہی خوں سے اتنے تر نہیں ہوتے

تم سمجھ نہیں پائے اس ثمینہ سید کو

ورنہ میری ہستی سے بے خبر نہیں ہوتے

ثمینہ سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


3

یاس کو میری نظرآتا ہے،دریا ہوگا

عین ممکن ہے سراب آسا وہ صحرا ہوگا

غور کیجے گا ذرا دعوے پہ پھر از سرٍنو

آپ نے آگے کا سوچا بھی ہے ۔۔۔۔کیا کیا ہوگا

ذکر کرتے رہے کوفہ کا مسلسل ۔۔۔لیکن

تم نے سوچا ہی نہیں کہ کوئی پیاسا ہوگا

راہِ حق پر بھی انا داری سے ٹھوکر کھائے

جانتے بوجھتے وہ آنکھ کا اندھا ہوگا

چیخ کر اپنی ہر اک بات کو ثابت کرنا

کیا کہوں۔ ۔آپ سمجھ لیں کہ وہ کیسا ہوگا

خوش گمانی کا مرض نقص بتاتا ہی نہیں

آئینہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ فقط آپ کا چہرہ ہوگا

آج پھر روٹھ کے نکلا ہے ثمینہ سید

ہائے وہ شخص بھری بزم میں تنہا ہوگا

ثمینہ سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


4


دن بھی تاریک ہوا شب کی سحر آتی نہیں

اپنی آنکھوں سے میں خود کو بھی نظر آتی نہیں

ذہن پر چھا یا ہے یوں خانہ بدوشی کا غبار

پھرتی رہتی ہوں کہیں لوٹ کے ۔گھر آتی نہیں

ڈاکیہ آخری خط لے کے چلا آئے کبھی

ہائے اس شخص کی جانب سے خبر آتی نہیں

لکھنا چاہوں بھی تو الفاظ مرے ساتھ نہیں

اب کوئی فکر بھی پابندِ ہنر آتی نہیں

خود میں جکڑی ہوں میں اس طرح ثمینہ سید

چلنا چاہوں تو کوئی راہ گزر آتی نہیں

ثمینہ سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دیدبان ثمینہ سید نمبر

غزلیں۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید


1

آنکھ پر خواب کا اجارا تھا

ورنہ یہ ذہن کب تمھارا تھا

آپ ملتے یا پھر جدا ہوتے

مجھے دونوں طرح خسارا تھا

آخری صف کے آدمی تھے مگر

عشق میں ہجر بھی گوارا تھا

وقت گزرا تو یہ ہوا احساس

زندگی نے مجھے گزارا تھا

خواب تھے اِس طرف اور آنکھوں نے

مجھے اُس پار ۔۔۔۔۔۔۔جا اتارا تھا

عمر کی اُٹھ نہیں سکی گٹھڑی

میں نے لمحات کو شمارا تھا

تیرے ہٹنے کی دیر تھی ساری

وہ نظر تھی، نہ وہ نظارا تھا

کر دیا راکھ سب لکیروں کو

میری مٹھی میں جو ستارا تھا

کیسے اترا ہے وہ نگاہوں سے

میں نے دل میں جسے اتارا تھا

سرِ منزل ثمینہ لوٹ آئی

راستوں نے مجھے پکارا تھا

………………………..

2

آزمائشی رستے مختصر نہیں ہوتے

”ساتھ چلنے والے بھی ہمسفر نہیں ہوتے“

نیند آ ہی جائے گی شب گزیدہ لوگوں کو

خواب وہ بھی دیکھیں گے جن کے گھر نہیں ہوتے

ان کو فکر ایماں کی جان سے زیادہ ہے

ایک در کے ہو کر جو در بدر نہیں ہوتے

یہ جہان کرتا ہے اُن کو بس نظر انداز

وُہ خموش رہتے ہیں بے ہنر نہیں ہوتے

دشمنوں کے لشکر میں کس قدر منافق ہیں

ورنہ یوں مقابل تو اتنے سر نہیں ہوتے

دیکھا پشت کی جانب ہم نے ہی نہیں ۔ورنہ

جسم اپنے ہی خوں سے اتنے تر نہیں ہوتے

تم سمجھ نہیں پائے اس ثمینہ سید کو

ورنہ میری ہستی سے بے خبر نہیں ہوتے

ثمینہ سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


3

یاس کو میری نظرآتا ہے،دریا ہوگا

عین ممکن ہے سراب آسا وہ صحرا ہوگا

غور کیجے گا ذرا دعوے پہ پھر از سرٍنو

آپ نے آگے کا سوچا بھی ہے ۔۔۔۔کیا کیا ہوگا

ذکر کرتے رہے کوفہ کا مسلسل ۔۔۔لیکن

تم نے سوچا ہی نہیں کہ کوئی پیاسا ہوگا

راہِ حق پر بھی انا داری سے ٹھوکر کھائے

جانتے بوجھتے وہ آنکھ کا اندھا ہوگا

چیخ کر اپنی ہر اک بات کو ثابت کرنا

کیا کہوں۔ ۔آپ سمجھ لیں کہ وہ کیسا ہوگا

خوش گمانی کا مرض نقص بتاتا ہی نہیں

آئینہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ فقط آپ کا چہرہ ہوگا

آج پھر روٹھ کے نکلا ہے ثمینہ سید

ہائے وہ شخص بھری بزم میں تنہا ہوگا

ثمینہ سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


4


دن بھی تاریک ہوا شب کی سحر آتی نہیں

اپنی آنکھوں سے میں خود کو بھی نظر آتی نہیں

ذہن پر چھا یا ہے یوں خانہ بدوشی کا غبار

پھرتی رہتی ہوں کہیں لوٹ کے ۔گھر آتی نہیں

ڈاکیہ آخری خط لے کے چلا آئے کبھی

ہائے اس شخص کی جانب سے خبر آتی نہیں

لکھنا چاہوں بھی تو الفاظ مرے ساتھ نہیں

اب کوئی فکر بھی پابندِ ہنر آتی نہیں

خود میں جکڑی ہوں میں اس طرح ثمینہ سید

چلنا چاہوں تو کوئی راہ گزر آتی نہیں

ثمینہ سید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024