غزل۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید
غزل۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید
May 1, 2026

دیدبان ثمینہ سید نمبر
غزل۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید
آنکھ پر خواب کا اجارا تھا
ورنہ یہ ذہن کب تمھارا تھا
آپ ملتے یا پھر جدا ہوتے
مجھے دونوں طرح خسارا تھا
آخری صف کے آدمی تھے مگر
عشق میں ہجر بھی گوارا تھا
وقت گزرا تو یہ ہوا احساس
زندگی نے مجھے گزارا تھا
خواب تھے اِس طرف اور آنکھوں نے
مجھے اُس پار ۔۔۔۔۔۔۔جا اتارا تھا
عمر کی اُٹھ نہیں سکی گٹھڑی
میں نے لمحات کو شمارا تھا
تیرے ہٹنے کی دیر تھی ساری
وہ نظر تھی، نہ وہ نظارا تھا
کر دیا راکھ سب لکیروں کو
میری مٹھی میں جو ستارا تھا
کیسے اترا ہے وہ نگاہوں سے
میں نے دل میں جسے اتارا تھا
سرِ منزل ثمینہ لوٹ آئی
دیدبان ثمینہ سید نمبر
غزل۔۔۔۔۔۔ ثمینہ سید
آنکھ پر خواب کا اجارا تھا
ورنہ یہ ذہن کب تمھارا تھا
آپ ملتے یا پھر جدا ہوتے
مجھے دونوں طرح خسارا تھا
آخری صف کے آدمی تھے مگر
عشق میں ہجر بھی گوارا تھا
وقت گزرا تو یہ ہوا احساس
زندگی نے مجھے گزارا تھا
خواب تھے اِس طرف اور آنکھوں نے
مجھے اُس پار ۔۔۔۔۔۔۔جا اتارا تھا
عمر کی اُٹھ نہیں سکی گٹھڑی
میں نے لمحات کو شمارا تھا
تیرے ہٹنے کی دیر تھی ساری
وہ نظر تھی، نہ وہ نظارا تھا
کر دیا راکھ سب لکیروں کو
میری مٹھی میں جو ستارا تھا
کیسے اترا ہے وہ نگاہوں سے
میں نے دل میں جسے اتارا تھا
سرِ منزل ثمینہ لوٹ آئی

