ایک رات
ایک رات
Sep 23, 2026

ایک رات
صبا ممتاز بانو
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسے ایک رات… ہاں زندگی میں ایک رات حمام میں گزارنا پڑے گی۔ اس نے سنا تھا۔
’’محبت انسان کو محبوط الحواس کر دیتی ہے، دیوانہ بنا دیتی ہے، قیس یوں ہی نہیں گھر سے نکل گیا تھا۔‘‘
مجنوں کی طرح وہ صحرا میں تو نہ جا سکی، مگر ایک رات محبت نے اسے اتنا دُکھی کر دیا کہ وہ شہر سے باہر سفر کرنے کو راضی ہوگئی۔ جب سے اسے اس کے محبوب نے چھوڑا تھا،۔ آنکھیں میں ہر وقت اشک ، دل گرفتہ، دماغ پریشان حال رہتا۔ محبوب وجہ بتا کر چھوڑ دیتا تو الگ بات تھی، اس نے اسے بتایا بھی نہیں کہ وہ کیوں اور کس لئے اس سے لاتعلق ہے۔
’’پتا نہیں اس کی کیا مجبوری تھی جو دُوری کی وجہ بن گئی تھی۔‘‘
وجہ سوچ سوچ کر وہ پاگل ہوگئی تھی۔ اپنے دل کو بہلانے کے لئے اس نے خود کو ہزار دھندوں میں مصروف کر لیا تھا، مگر دل تھا کہ بہلتا ہی نہیں تھا۔ بس ہر وقت اس شخص کا خیال ذہن کو ستاتا، جس نے اس سے ساتھ نبھانے کے ہزار وعدے کئے تھے، مگر ایک بھی وعدہ وفا نہ ہوا۔ اس کی محبت جھوٹی تھی، لیکن اس نے اس سے سچی محبت کی تھی، اس لیے وہ اسے بھلا نہیں پا رہی تھی۔ کئی کولیگ تھے جن سے بات کرنا بھی وہ پسند نہ کرتی تھی۔ اب اس نے ان سے بھی بات چیت شروع کر دی تھی، شاید اس کا دل لگ جائے۔ سنا تھا۔
’’نئی وابستگی پرانی وابستگی کو دبانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘
مگر کوئی وابستگی اس کا متبادل ثابت نہ ہو سکی۔ وہ پریشان حال، سوچوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کے ایک جاننے والے کا فون آگیا۔ سفیر خان اچھا لڑکا تھا۔ اس کا ایک سیلون تھا۔ پرانے زمانے کا نام تو حمام، جدید دور میں کہا جائے تو بیوٹی سیلون۔ اس کے دو حصے تھے، ایک میں مردوں کے لئے آرائش و زیبائش کا اہتمام، دوسرے حصے میں خواتین کا کیبن تھا۔ کبھی کبھی وہ بھی وہاں چلی جاتی تھی، بال کٹوانے یا بالوں کی نوک پلک درست کروانے۔ سفیر اس کا خیال رکھتا تھا، اس لیے بھی کہ اس نے دو چار اخبارات میں اپنے جاننے والے صحافیوں کے ذریعے اس کے انٹرویوز بھی لگوائے تھے۔ پھر اس کے سیلون میں اس کا کام بھی مفت میں ہوتا تھا۔ وہ پھر بھی بہت کم وہاں جاتی۔ سفیر کو اس سے یہی شکایت رہتی تھی کہ وہ اس کے سیلون پر نہیں آتی۔ وہ اس وجہ سے نہیں جاتی تھی کہ ایک تو اس کے پاس وقت بہت کم ہوتا تھا، دوسرا وہ نہیں جانتی تھی کہ سفیر کے ساتھ اس کا سیکنڈل بنے۔ ایک دو دفعہ سفیر نے اس کا مساج خود کرنا چاہا، فیس مساج میں وہ بہت ماہر تھا۔ اس کے ہاتھ لڑکیوں سے بھی زیادہ نرم و گداز تھے۔ اس دن بھی وہ اس کے سیلون پر گئی تو سفیر ضد کرنے لگا۔
’’دیکھو، تمہیں مجھ سے کیا ڈر ہے بھلا…؟ میں اتنا اچھا فیس مساج کرتا ہوں۔ چہرہ گلاب کی طرح کھل اُٹھے گا۔ تروتازہ ہو جاو گی۔‘‘
’’مجھے پتا ہے سفیر…! لیکن مردوں سے مساج کروانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘
اس نے ہمیشہ کی طرح جواب نفی میں دیا۔
’’کیوں…؟ مرد جتنا اچھا ٹریٹمنٹ کرتے ہیں، عورتیں کبھی نہیں کر سکتی ہیں۔ پھر میں کون سا تمہارا باڈی مساج کرنے جا رہا ہوں جو گھبرا رہی ہو…؟ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہو اور اس قدر ڈر پوک…؟ اگر تم ٹی وی اداکارہ بننے جا رہی ہوتی اور یہ جو تمہیں ماڈلنگ کا شوق ہے ناں، مردوں سے میک اَپ کروانے پڑتے تو کیا کرتی…؟‘‘
’’اچھا بابا…! ماڈلنگ کا تو پتا نہیں، مگر میرا شوق ایک فوٹو سیشن کروانے کا ارادہ تو ہے۔‘‘
سفیر اس لئے اس کا فیشل نہیں کرنے چاہتا تھا کہ اسے عورت ہونے کی حیثیت سے اسے ہاتھ لگانے یا چھونے کا شوق تھا، بلکہ اس لیے کہ اسے وہ بہت اچھی لگتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس سے شادی کر لے۔ ایک دو دفعہ باتوں باتوں میں اس نے اس سے کہا بھی تھا، مگر اس نے بات سمجھ کر بھی ٹال دی تھی۔
’’آخر وہ ایک نائی سے کیسے شادی کر سکتی تھی۔ ایک نائی اور وہ بھی انڈر میٹرک۔ کہاں وہ ماسٹرز اور کہاں وہ نالائق…؟‘‘
سفیر خوب صورت لڑکا تھا، مگر اس کی خوب صورتی کو اس نے کیا کرنا تھا، جب وہ اس کے معیار کا ہی نہیں تھا…؟ ہاں، جب کبھی وہ اس کے سیلون پر جاتی تھی تو وہ اس کی راہ میں پلکیں بچھا دیتا تھا۔ وہ صبح سے محو انتظار ہوتا۔ وہ چھٹی ہونے کے بعد سیدھا اس کے سیلون پر جاتی تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتا۔
’’کیا کھاو گی…؟‘‘
اس کی آمد پر وہ اس سے پوچھتا اور چھوٹے ببلو کو آواز دیتا۔ ببلو ایک موٹا سا، چھوٹے سے قد کا لڑکا تھا جو کہ اس کی دُکان پر کام کرتا تھا۔ ببلو اپنے کام میں بہت ماہر تھا۔ شکل سے بہت بھولا بھالا اور سادہ لوح لگتا تھا، مگر کبھی کبھی اس کے دیکھنے کا انداز صائقہ کو پریشان کردیتا جیسے وہ اس سے دوستی کا خواہاں ہو۔ وہ سوچنے لگتی۔
’’توبہ…! اس سیلون میں آکر کیا یہ معیار ہوگیا کہ ببلو، کالو اور راجو بھی دوستی کی خواہش کرنے لگیں۔‘‘
سفیر نے اس کے انکار کو سنا اَن سنا کر کے اس کے چہرے پر مساج کے لئے ہاتھ بڑھا دیا۔
’’اُف…! کتنے ملائم ہاتھ تھے اس کے۔ دل چاہتا تھا بس اُنگلیاں یوں ہی چلتی رہیں۔ چہرے کی ایک ایک نس کو ٹٹولتے ہوئے۔ نرم و ملائم ہاتھ چلتے چہرے پر تھے مگر چھونے کا احساس، ٹٹولنے کا انداز کتنا گرم کر دینے والا ہوتا ہے۔‘‘
یہ پہلی دفعہ اسے تب پتا چلا جب سفیر نے اسے چھوا۔ نیند آنے لگی، آنکھیں خودبخود بند ہونے لگیں، آرام و سکون کا احساس اسے سست الوجود کر رہا تھا۔ ایک نائی اس کے چہرے کو چھو رہا تھا اور اس کا اپنا محبوب تصور میں اسے چھو رہا تھا۔ ٹٹولتی اُنگلیاں، آنکھوں، ناک، گالوں، لبوں پر، گردن پر دھیرے دھیرے مچلتی ہی جارہی تھیں۔
’’…! سفیر…! پلیز، مساج آپ چہرے کا کر رہے ہیں تو ہاتھ گردن سے نیچے کیوں…؟‘‘
سفیر کے ہاتھ جیسے ہی اس کے چہرے سے گردن کی طرف گئے، وہ چیخ اُٹھی۔ چلتے ہوئے ہاتھ رُک گئے۔ سفیر محبوب تھوڑی تھا جو وہ اسے بڑھنے دیتی۔ محبوب کا کچھ حق تو ہوتا ہے، اس نے ایک دفعہ رومن کہاوت پڑھی تھی۔
’’عورت کا اوپر والا دھڑ اس کے محبوب کی امانت ہوتا ہے اور نیچے والا شوہر کی۔‘‘
اس کے محبوب نے بھی شاید یہ کہاوت پڑھ رکھی تھی اور وہ اس پر عمل بھی کرتا تھا۔ جب کبھی وہ آمنے سامنے ہوتے، وہ اس کہاوت کو سچ ثابت کر دیتا، لیکن اس کے محبوب کے دیکھنے اورچھونے کا انداز شہوت انگیز نہیں ہوتا تھا۔ وہ اتنے پیار سے اسے پیار کرتا تھا کہ پیار بھی شرمندہ ہو جاتا۔ایسے تو کوئی گڑیا کو بھی پیار نہیں کرتا ہوگا، اس لیے ہی تو وہ اسے پیارا لگتا تھا۔ وہ کبھی دیوانہ وار اس پر جھپٹتا نہیں تھا، بلکہ وہ تو ایک لڑکا ہو کر بھی اسے چھونے میں ایسے احتیاط کرتا تھا جیسے وہ کوئی شیشہ ہو۔ اسے اس طرح سینے سے لپٹا لیتا جیسے کوئی چھوٹے بچے کو لپٹاتا ہے یا کسی دیرینہ دوست کے گلے لگ جاتا ہے یا پھر جیسے پروانہ شمع پر جان وارتا ہے یا کوئی بھنورا پھول کے گرد منڈلاتا ہے۔
’’میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
بار بار یہ فقرہ دُہرانے والے نے اسے چھوڑنے میں دیر نہیں لگائی۔ اس نے اسے چھوڑا ہی نہیں، توڑ بھی دیا۔ ایسا توڑا کہ اس کا وجود ریزہ ریزہ ہوگیا۔ سانسیں رُکنے لگیں، آنکھوں سے خون بہنے لگا، وہ خون جو قلب میں زخمی محبت کے لوتھڑوں سے رس کشید کرتا اور آنکھوں تک پہنچ جاتا، دماغ مفلوج ہوگیا، تب اس نے جانا۔
’’انسان سہارے کب ڈھونڈتا ہے…؟ کب اِدھر اُدھر ہاتھ پاوں مارتا ہے…؟ کب وہ صرف عمر گزارنے کے لئے سانس لینے کی کوشش کرتا ہے… اور وہ ایک ایک سانس بھی جان لیوا مرحلوں سے گزر کر لیتا ہے…؟‘‘
سفیر کے سیلون پر وہ جب بھی جاتی تھی، کوئی نہ کوئی کام ہوتا تھا، مگر محبوب کے جانے کے بعد اسے ایسا لگا کہ وہ محبوب کو بھلانے کے لئے سفیر نام کی دوائی پینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جوں جوں شام ہوتی جاتی، دل وحشی کی وحشت بڑھ جاتی۔ اس وقت وہ بے وفا، ظالم اور سنگ دل ایسا ٹوٹ کر یاد آتا کہ وہ ٹوٹنے لگتی اور نہ چاہتے ہوئے بھی سفیر کے سیلون کی طرف اس کے قدم بڑھ جاتے۔ آج پھر راستہ بھر وہ نقاب تلے اس کی یاد میں آنسو بہا رہی تھی، جس نے باہر جانے کے کچھ عرصہ بعد اسں سے رابطہ رکھا تھا مگر پھر جانے کیسے وہ بدل گیا برسوں اس کا حال تک نہیں پوچھا کہ اس پر کیا گزر رہی ہے…؟۔وہ فون کرتی تو نمبر کاٹ دیتا اور پھر نمبر ہی بدل دیا۔
’’ہیلو…! صائقہ…! کیا کر رہی ہو…؟ آج آجاو۔ موسم بڑا اچھا ہے۔ چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں۔‘‘
سفیر کا فون اس نے اٹینڈ تو کر لیا تھا، مگر اس سے اس وقت بولنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ رُندھی ہوئی آواز میں اس نے بادل نخواستہ جواب دیا۔
’’نہیں…! میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پھر کسی دن آوں گی۔‘‘
’’نہیں…! آج آجاو۔ تمہیں کیا ہوا ہے…؟ پریشان کیوں ہو…؟ چند لمحے ادھر گزارو گی ناں تو پریشانی کا احساس کم ہو جائے گا۔ پریشانی کو کم کرنے کا بہترین طریقہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ آجاو پلیز…! پلیز…!‘‘
’’اچھا…! ٹھیک ہے، میں آتی ہوں۔‘‘
ضرورتوں کا لباس رشتوں کی تاروں سے بُنا جاتا ہے۔ہر رشتہ کی اپنی ایک ضرورت ہوتی ہے۔ خیر اس وقت تو اسے اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے کسی دُعا یا دوا کی ضرورت تھی۔ دونوں ہی تدبیریں وہ کر چکی تھی۔ کوئی ایک بھی کار گر نہیں ہوئی تھی۔ سفیر اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کو دیکھتے ہی باغ باغ ہوگیا۔ اس نے اس سے پوچھا۔
’’کیا کھاو پیو گی…؟‘‘
’’کچھ نہیں…!‘‘
اس نے انکار کر دیا۔
’’نہیں صائقہ…! کچھ تو چلے گا۔‘‘
ہمیشہ کی طرح وہ بضد اصرار تھا۔
’’اچھا، ٹھیک ہے…! دودھ منگوا لو۔‘‘
اس کو سفیر کی دُکان کے قریب ایک دودھ والے کا گرم گرم کڑاھی کا کھولتا ہوا بالائی والا دودھ بہت اچھا لگتا تھا۔ اب سفیر نے پوچھا تو اس نے دودھ کا ہی کہہ دیا۔ سفیر نے دودھ کے پیالے کا آڈر ببلو کو دیا۔ دودھ آنے تک سفیر اس سے باتیں کرتا رہا۔
’’تمہارے بال کتنے خشک ہو رہے ہیں۔ چلو ان کی ٹرمنگ کر دوں۔‘‘
آخر نائی تھا، خوب صورتی کو تراشنے خراشنے کا خیال ضرور سوجھتا تھا۔
’’ہاں…! بال تو واقعی بہت اُجڑے اُجڑے اور بے رونق سے ہوگئے تھے۔ جب سے محبوب نے چھوڑا تھا، حسن بھی اس سے جان چھڑاتا جا رہا تھا۔ اسی حسن پر تو وہ مرتا تھا۔ اگر یہ بھی نہ رہا تو…؟ ایسا نہ ہو وہ لوٹ کے آئے اور اسے یوں بے رونق سا دیکھ کر اُلٹے قدموں واپس چلا جائے۔ مرد تو ہوتا ہی حسن پرست ہے۔ جہاں حسن دیکھا، بہک گیا۔ وہ تو ویسے بھی بہت حسن پرست تھا۔ کہتا تھا، اپنا خیال رکھا کرو۔ اگر تم اچھی ہی نہ لگو تو فائدہ…؟‘‘
’’اچھا سفیر…! کر دو ٹرمنگ۔‘‘
اپنے محبوب کے نظریات نے اسے ہار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ سفیر نے شیشے پر پردہ پھینکا تاکہ دوسری طرف سے کوئی جھانکتا نہ پھرے۔ ببلو دودھ لے کر آگیا۔ صائقہ نے دودھ کا پیالہ پکڑا اور ہونٹوں سے لگا لیا۔ آنکھوں سے دو قطرے آنسو کے ٹپکے اور دودھ میں جا گرے۔
’’کیا ہوا صائقہ…! کیا ہوا…؟‘‘
سفیر تڑپ اُٹھا۔
’’کچھ نہیں…! دودھ گرم تھا ناں، آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘
ایک مرد کے سامنے دوسرے مرد کی بے وفائی پر پردہ ڈالنا… اُف…! یہ بھی عورت کی مجبوری ہے۔‘‘
صائقہ کے دودھ پی لینے کے کچھ دیر بعد سفیر نے اس کے بالوں کی ٹرمنگ شروع کر دی۔
’’میں سوچ رہا ہوں، دُبئی یا ملائشیا میں کاروبار شروع کرنے کا۔ ساتھ چلو گی…؟‘‘
’’سفیر…! میں کیسے جا سکتی ہوں…؟ میرے یہاں سو بکھیڑے ہیں۔‘‘
اس نے سفیر کو ہمیشہ کی طرح کورا سا جواب دیا، حالانکہ دل سے وہ چاہتی تھی کہ وہ پاکستان سے نکل جائے۔ جب سے اس کا محبوب پاکستان سے گیا تھا، اس کا بھی پاکستان میں رہنے کو دل نہیں کرتا تھا۔ مرد کے پاس یہی تو راستے ہوتے ہیں عورت کو پاس رکھنے کے کہ اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جائے یااس کے دل کو لبھایا جائے ۔ ایسے شخص کے ساتھ جانا چہ جائیکہ جس کی گرل فرینڈ بننے کو دل چاہے، نہ بیوی۔ سفیر نے پاکستان سے باہر جانے کا تذکرہ چھیڑا تو اسے اپنا محبوب یاد آگیا۔
’’ہاتھ روک دو، بس…! میرا دل نہیں چاہ رہا۔ میں گھر جا رہی ہوں۔‘‘
اس نے سفیر کو کام کرتے کرتے ٹوک دیا۔
’’کیا پاگل ہوگئی ہو…؟ ابھی تو ٹرمنگ نامکمل ہے۔ یہ دیکھو، بالوں کی لٹیں۔ مجذوب لگ رہی ہو۔‘‘
سفیر اس کی بات پر حیران ہو کر بولا۔
’’لگنے دو۔ جب مجذوب ہو ہی گئی ہوں تو دکھاوئے میں کیا حرج…؟‘‘
اس نے روتے روتے فلسفہ جھاڑا۔ اپنے آپ پر قابو نہ رہا تو اس کے نینوں سے موسلا دھار بادل برسنے لگے۔ سفیر اسے چپ کرانے لگا۔
’’سنو…! آج میں اور میرا دوست ایک کام سے فیصل آباد جا رہے ہیں۔ تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔ آوٹنگ ہو جائے گی۔‘‘
’’نہیں…! میں نے نہیں جانا۔‘‘
اس نے اشک بار آنکھوں سے جواب دیا۔
’’کیوں…؟ ارے بابا…! ہم دس بجے تک واپس آجائیں گے۔ موٹروے سے جائیں گے اور وہاں بس کسی کی عیادت کرنا ہے اور اسی قدموں واپس۔ بس چلو ساتھ، چھوڑ ضد۔‘‘
’’نہیں…! لیٹ ہوگئے تو ہاسٹل نہیں جا سکوں گی۔‘‘
’’بتا دو کہ کوئی فنکشن ہے۔ زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے واپس آجاوں گی۔ وہ لوگ چھوڑ کر جائیں گے، ہاسٹل فون کر دو۔‘‘
صائقہ کا انکار جتنا بڑھتا جا رہا تھا، سفیر کا اصرار بھی اسی قدر بڑھ رہا تھا۔ ایک لمحے کو اس نے سوچا۔
’’ویک اینڈ پر گھر جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ گھر میں اماں نہیں تھیں، بھائی ان دنوں ملک سے باہر تھا، بھابی کو اچانک میکے کی یاد آگئی تھی۔ رہی کام والی بوا تو وہ تو چار بجے چلی جاتی تھیں۔ رات گھر میں بھی تنہا گزارنا ہوگی، تنہائی اور مار ڈالے گی۔ گھر جا کر وہ کیا کرے گی…۱؟ بڑا سا گھر کاٹنے کو دوڑے گا۔ وہ ٹی وی دیکھتے ہوئے، کتاب پڑھتے ہوئے بھی اپنے محبوب کے پاس پہنچ جائے گی، دل اور مضطرب ہو جائے گا، درد اور بڑھ جائے گا۔ اس لیے اس ویک اینڈ پر ہاسٹل میں ہی رہتے ہیں۔ دل کو بہلانے کے لئے سفیر کے ساتھ سفر کر لیتے ہیں۔‘‘
’’اچھا، ٹھیک ہے…! چلتی ہوں، مگر ہم زیادہ سے زیادہ دس، گیارہ بجے تک واپس آجائیں۔ اس سے زیادہ میرے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔‘‘
اس نے سفیر کو تاکید کی۔ سفیر کا دوست آیا تو اس نے صائقہ کا تعارف اس سے کروایا۔ وہ دونوں فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ صائقہ پیچھے بیٹھ گئی۔ گاڑی سفر پر روانہ ہوگئی مگر اس کے اندر دیر ہوجانے کا خدشہ ابھی بھی پریشان کن تھا۔ موٹروے پر چڑھے تو اس نے راستے میں اُترنے کی ضد کی جس پر سفیر نے پھر اسے ڈانٹ دیا۔
’’کہا ہے ناں کہ ہم جلد واپس آجائیں گے۔‘‘
لتا کی آوازمیں مدھر مدھر گانے اسے اپنے محبوب کی یاد دلا رہے تھے۔ سفیر اور اس کا دوست تنویر اسے ہنسانے اور باتوں میں لگانے کی کوشش کرتے رہے تاکہ باتوں باتوں یا ہنسی مذاق میں اس کا دل لگا رہے اور سفر بھی کٹ جائے، مگر ایک تو وہ ویسے کم گو تھی، دوسرا ان دنوں تو وہ ایک بہت بڑے سانحے سے گزر رہی تھی۔ باتیں تو درکنار پتا نہیں اس کے لب کیسے ہلتے تھے…؟ اس نے سفیر اور تنویر کی باتوں میں ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔ ویسے بھی اسے نیند آ رہی تھی، اسے تو بچپن سے ہی نیند بہت آتی تھی، اس نے آنکھیں بند کیں اور سو گئی۔ سفیر نے اسے دیکھا تو اسے غصہ آگیا۔
’’ارے بابا…! سفر کو اِنجوائے کرو۔ تم سو رہی ہو، تمہیں ساتھ لانے کا فائدہ…؟‘‘
بادل نخواستہ اس نے آنکھیں کھولیں۔ گاڑی سفر پر رواں دواں تھی۔
’’اُف…! وقت کافی ہوگیا تھا اور فیصل آباد ابھی دُور تھا۔ کیا ہم جلدی واپس آجائیں گے…؟‘‘
اس سوچ نے اسے پریشان کر دیا۔ وہ لاہور سے مناسب ٹائم پر ہی روانہ ہوئے تھے، مگر لاہور کی ٹریفک نے انہیں کئی گھنٹے شہر سے نکلنے نہیں دیا، اسی لیے انہیں دیر ہوگئی۔ ابھی بھی فیصل آباد نہیں آیا تھا۔ وہ بس یہی سوچ کر ہلکان ہوئی جا رہی تھی۔ خدا خدا کر کے فیصل آباد آگیا۔ تنویر نے گاڑی ہسپتال کے احاطے میں کھڑی کی اور وہ دونوں اسے گاڑی میں چھوڑ کر مریض کی عیادت کو اندر چلے گئے۔ پتا چلا مریض اس ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں منتقل ہو چکا ہے۔ اب دوسرے ہسپتال کی تلاش شروع ہوئی۔ وہ پریشان ہو رہی تھی۔ وقت گزر رہا تھا۔ دوسرا ہسپتال ملا، مریض کی عیادت کو وہ لوگ اندر گئے، وہ پھر سو گئی۔ کب وہ آئے اور آکر اسے آواز دی ۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔
’’یار…! تم کتنا سوتی ہو۔ ہم نے سوچا تھا کہ باتیں کریں گے، دل لگا رہے گا۔‘‘
سفیر نے شکوہ کیا۔
’’باتیں…؟ کیا باتیں کروں…؟ آپ لوگ مجھ سے بات کریں ناں، میں جواب دیتی ہوں۔‘‘
اس نے اُلٹا الزام ان لوگوں پر رکھ دیا۔
’’سفیر…! گھر کب پہنچیں گے…؟‘‘
اس نے وقت دیکھا تو دس بج چکے تھے۔
’’بس…! اب کسی کے گھر جانا ہے، دوست کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، اسے مبارک باد دینی ہے۔ یہ گولڈ چین اور گولڈ رنگ دینی ہے اور بس…!‘‘
سفیر نے اسے سونے کی چین اور انگوٹھی دیکھنے کے لئے پکڑائی۔چلتے چلتے گاڑی ایک علاقہ میں جا کر رُک گئی۔ متوسط مگر نسبتاً خوش حال علاقہ، وہ دونوں اندر چلے گئے اور وہ حسب معمول پھر سو گئی۔ کافی دیر گزر گئی۔ اسے تو نیند میں پتا ہی نہیں چلا۔ ان دونوں کے جانے کے بعد ایک دو دفعہ اس کی آنکھ کھلی تو اس نے سوچا کہ اندر جائے۔
’’مگر وہ لوگ کیا سوچیں گے کہ وہ کسی لڑکی کو بھی ساتھ لائے ہیں۔‘‘
وہ سوچ کر رہ گئی۔ بھوک بہت لگ رہی تھی۔ راستے میں دونوں نے کچھ کھانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ نتیجتاً اسے بھی بھوکا رہنا پڑا تھا۔ دونوں کی باتوں سے لگ رہا تھا، دوست نے خاطر تواضع کر کے بھیجا تھا۔ وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی۔
’’کیا گیارہ بجے وہ ہاسٹل پہنچ سکے گی…؟ لگ نہیں رہا تھا، مگر اب کیا ہو سکتا تھا…؟ اب تو جب پہنچنا تھا، تب ہی پہنچنا تھا۔‘‘
ایک بجے سے قبل وہ لاہور پہنچے تو وہ بے حد پریشان تھی۔
’’اب کیا کرے…؟ کہاں جائے…؟ یہ ہاسٹل جانے کا وقت نہیں ہے۔‘‘
’’فکر مت کرو۔ کسی ہوٹل میں چلے جاتے ہیں۔ میں تمہارے ساتھ ٹھہر جاو ں گا۔‘‘
سفیر نے اسے دلاسا دیا، مگر اس تجویز کے ساتھ جو اس کے لیے ناقابل قبول تھی۔
’’وہ اور کسی غیر مرد کے ساتھ رات تنہائی میں گزارے۔ اس نے تو کبھی اپنے محبوب کے ساتھ تنہائی میں رات گزارنے کا نہیں سوچا تھا اور یہ…‘‘
ہاں، وہ ان دو مردوں کے ساتھ تنہا سفر کرنے پر آمادہ ضرور ہوئی تھی، مگر وہ بھی اپنی پریشانی سے چند لمحوں کی نجات کے لئے۔ بے چین دل کو کچھ سکون دینے کے لیے کہ شاید دل کچھ بہل جائے۔
’’اُف…! محبت کتنی ظالم شے ہے ۔کسی کی یادوں نے اسے ذہنی طور پر اس قدر مفلوج کر دیا تھا کہ حرکت قلب کو سکون و راحت پہنچانے کے لیے اس نے ان کے ساتھ سفر کرنا گوارہ کر لیا۔‘‘وہ پچھتا رہی تھی۔
’’کیوں آئی…؟ اب کیا کرے…؟ کہاں جائے…؟‘‘
اس وقت ہاسٹل جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ دونوں نے گاڑی ایک ریستوران کے باہر روکی۔
’’چلو…! پہلے کھانا کھا لیں، پھر سوچتے ہیں کہ کہاں ٹھہرایا جائے تمہیں…؟‘‘
سفیر نے کہا۔ سفیر کی اس بات پر اسے شدید غصہ آیا۔ جب وہ ان کے ساتھ جانے سے مسلسل انکار کر رہی تھی تو تنویر نے کہا تھا۔
’’آپ کیوں فکر مند ہو رہی ہیں…؟ اگر ہم لیٹ ہوگئے تو آپ میرے گھر چلی جائیے گا۔ میری والدہ ، بہنیں ہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘
اب جب وقت آیا تھا تو تنویر نے اس پر اشارہ تک دینا مناسب خیال نہیں کیا تھا۔ رہا سفیر تو وہ تو اپنی بیوی کی موجودگی میں اسے گھر لے کر ہی نہیں جا سکتا تھا۔ ایسے میں کیا ہو سکتا تھا…؟
’’ہوٹل…!‘‘
’’نہیں…! وہ ہوٹل نہیں جائے گی۔‘‘
’’اچھا…! ایسا کرتے ہیں، میں تمہیں اکیلے ہوٹل میں کمرہ بک کروا دیتا ہوں۔‘‘
سفیر نے کھانا کھاتے ہوئے تجویز دی۔
’’کیا…؟ اکیلی…؟ وہاں میرے ساتھ کچھ ہوگیا تو…؟ نہیں بابا…!‘‘
وہ سفیر کی نئی تجویز پر اور زیادہ ڈر گئی۔کبھی کسی ہوٹل میں رات تو کیا، دن بھی نہیں گزارا تھا۔مگر یہ پھر بھی قابل عمل تجاویز تھی۔
’’ایسا کرتے ہیں، ہم دو کمرے لے لیتے ہیں، الگ الگ ٹھہر جائیں گے۔‘‘
۔ ایک بج چکا تھا۔ یہ وقت نہ ہاسٹل جانے کا تھا اور نہ کہیں اور کسی کے پاس ٹھہر جانے کا۔ خوف سے اس کی جان نکل رہی تھی۔ ابھی پہلی تجویز آئی تھی کہ سفیر نے دوسری تجویز بھی پیش کر دی۔
’’چلو…! ایسا کرو، ہم آج رات سیلون میں گزار لیتے ہیں۔ وہاں کوئی ڈر، خوف، خطرہ نہیں ہوگا۔ اتنی رات کسی ہوٹل میں جانا بھی مناسب نہیں ہے۔‘‘
سفیر یا تو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پا رہا تھا یا پھر ہوٹل میں ٹھہرنے کے لئے پیسوں کے معاملے میں وہ کنجوسی برت رہا تھا۔ تنویر نے سفیر اور اسے سیلون میں اُتارا اور خود چلا گیا۔ وہ اندر اس چھوٹے کیبن میں چلی گئی جو عورتوں کے لیے مخصوص تھا۔ سردی بہت زیادہ تھی۔ گاڑی میں تو ہیٹر چل رہا تھا، پھر کھانا کھاتے ہوئے بھی ریستوران میں ہیٹر دھک رہے تھے۔ سیلون میں آتے ہی سردی سے کپکپاہٹ شروع ہوگئی تھی۔ ٹانگیں سردی سے منجمد ہوئی چلی جا رہی تھیں۔
’’اُف…! سیلون میں ہیٹر تھا، نہ کمبل اور نہ کوئی اوڑھنا بچھونا۔
کیسے رات گزرے گی…؟ ‘‘۔
تھوڑی دیر بعد ببلو آگیا۔ اسے دیکھ کر صائقہ کو حیرت سی ہوئی۔ پتا نہیں سفیر نے اسے کس وقت فون کیا تھا… شاید تب جب وہ اندر آئی تھی اور سفیر، تنویر کو ’’خدا حافظ‘‘ کہہ رہا تھا۔ سفیر نے سردی سے کانپتی ہوئی صائقہ کو دیکھا اور سیلون کے اوپر والے حصہ میں رہنے والے کرایہ داروں سے ایک چادر لے آیا۔ کیبن پر لٹکنے والا پردہ بھی اُتار کر اس نے صائقہ کو دیا جو اس نے ٹانگوں پر ڈال لیا۔
’’یااللہ…! اتنی سردی، ان دو باریک چادروں سے سردی کیسے ختم ہوگی…؟‘‘
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سفیر مردوں والے حصہ میں بیٹھ گیا۔
’’صائقہ…! میں ذرا باہر چکر لگاکر آتا ہوں۔ کوئی کمبل بھی دیکھتا ہوں‘‘۔
سفیر باہر چلا گیا۔ ببلو نے دروازہ اندر سے بند کیا، مگر شٹر تو تھوڑا سا کھلا تھا۔ شٹر کو بند کیا بھی کیسے جا سکتا تھا، کیونکہ شٹر کو بند کر کے باہر تالا لگانا اور اس کو صبح کھولنا ممکن نہ تھا، پھر اس کا مطلب ہوتا، اندر ہی اندر گھٹ کر مر جانا۔ سانس لینے کا ذریعہ بھی نہ تھا۔ اس نے سرہانے کو ریوالونگ چیئر پر رکھ کر سر ٹکایا۔ چادر سے پورا جسم ڈھانپا اور سونے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ کافی دیر گزر گئی۔ سفیر نہیں آیا۔ سفیر گھر جا چکا تھا۔ ببلو نے لائٹس آف کر دیں۔ زیرو پاور کا ہلکا سا بلب روشن تھا۔ سردی سے اسے نیند بھی نہیں آ رہی تھی۔ اشکوں کی ندی رواں تھی۔
’’اس نے کیوں ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا…؟ کیوں سفیر کی باتوں پر یقین کیا کہ دس گیارہ بجے تک واپسی ہو جائے گی…؟‘‘
جذبات میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ احساسات میں طوفان اُٹھ رہا تھا۔ روتے روتے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔ پھر ایک دم کسی سایے کے وزن سے گھبرا کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ تھوڑا سا ہوش آیا تو ببلو کا چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ ببلو اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا۔ ہڑبڑا کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ جوں ہی اس نے اُٹھنے کی کوشش کی، ببلو نے اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔ اس نے اپنا آپ چھڑانے کی بڑی کوشش کی، مگر وہ آخر مرد تھا، باوجود کوشش کے اور لاکھ ہاتھ پائوں مارنے کے وہ ہاتھ چھڑا سکی اور نہ اس کو ہٹانے میں کامیاب ہو سکی۔
’’دفع ہو جاو۔ ذلیل…! کیا کر رہے ہو…؟ شرم نہیں آتی تمہیں…؟‘‘
اس نے چیخنا شروع کر دیا۔
’’شرم…؟ کیا تمہیں شرم آتی ہے جو رات گھر سے باہر گزار رہی ہو…؟ شریف لڑکی کو گھر سے باہر رات گزارتے وقت سوچنا چاہیے۔‘‘
’’میں رات گھر سے باہر گزارنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ سفیر نے کہا تھا کہ دس، گیارہ بجے تک واپس آجائیں گے۔ میں تو خود پھنس گئی ہوں۔‘‘
’’تم نے سفیر کی باتوں پر یقین کر لیا۔ یقینا وہ تمہیں کہیں اور لے کر گئے ہوں گے۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہے ہو…؟ ہم لوگ کسی غلط ارادے سے کسی غلط جگہ پر نہیں گئے تھے۔ بس فیصل آباد کچھ چھوٹے چھوٹے کام نپٹانے کو گئے تھے۔ مجھے بھی انہوں نے شریک سفر کر لیا۔‘‘
ببلو اس وقت اس کے اور سفیر کے کردار پر شک کر رہا تھا۔اسے یقین نہیں تھا کہ وہ فیصل آباد گئے تھے۔ وہ صفائی پیش کر رہی تھی اور ببلو اس کی کسی بات پریقین نہیں کر رہا تھا۔ وہ مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی، احتجاج کر رہی تھی، مگر وہ اس کے احتجاج اور انکار کو خاطر میں نہیں لارہا تھا اور لاتا بھی کیوں…؟ مالِ غنیمت کون چھوڑتا ہے…؟ اور وہ بھی مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے…؟ سیلون میں نیم تاریکی تھی۔ باہر سڑک نظر آ رہی تھی۔ کبھی کبھی کوئی اِکّا دُکّا گاڑی گزرتی تو وہ فوراً پیچھے ہٹ جاتا اور ایسے میں صائقہ کو سانس لینے کا موقع مل جاتا۔ جوں ہی اس کی آواز ذرا سی بلند ہوتی، وہ اس کو برا بھلا کہتی تو وہ اس کے منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیتا اور اس ہاتھ کے نیچے اس کی سانسیں بند ہونے لگتیں۔ وہ دیوانہ وار اس کے بوسے لے رہا تھا۔ اس نے غصے سے بولنا شروع ہی کیا تھا کہ وہ فوراً پھٹ پڑا۔
’’سنو…! زیادہ شور مت کرو۔ تمہاری آواز سن کر کوئی بھی اندر آ سکتا ہے۔ کسی کو بھی شک ہوگیا تو میں تو پھنسوں گا ہی، تم بھی پھنسو گی اور پھر یہ بدنامی تمہارے گھر تک پہنچ جائے گی۔‘‘
ببلو
ایک رات
صبا ممتاز بانو
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسے ایک رات… ہاں زندگی میں ایک رات حمام میں گزارنا پڑے گی۔ اس نے سنا تھا۔
’’محبت انسان کو محبوط الحواس کر دیتی ہے، دیوانہ بنا دیتی ہے، قیس یوں ہی نہیں گھر سے نکل گیا تھا۔‘‘
مجنوں کی طرح وہ صحرا میں تو نہ جا سکی، مگر ایک رات محبت نے اسے اتنا دُکھی کر دیا کہ وہ شہر سے باہر سفر کرنے کو راضی ہوگئی۔ جب سے اسے اس کے محبوب نے چھوڑا تھا،۔ آنکھیں میں ہر وقت اشک ، دل گرفتہ، دماغ پریشان حال رہتا۔ محبوب وجہ بتا کر چھوڑ دیتا تو الگ بات تھی، اس نے اسے بتایا بھی نہیں کہ وہ کیوں اور کس لئے اس سے لاتعلق ہے۔
’’پتا نہیں اس کی کیا مجبوری تھی جو دُوری کی وجہ بن گئی تھی۔‘‘
وجہ سوچ سوچ کر وہ پاگل ہوگئی تھی۔ اپنے دل کو بہلانے کے لئے اس نے خود کو ہزار دھندوں میں مصروف کر لیا تھا، مگر دل تھا کہ بہلتا ہی نہیں تھا۔ بس ہر وقت اس شخص کا خیال ذہن کو ستاتا، جس نے اس سے ساتھ نبھانے کے ہزار وعدے کئے تھے، مگر ایک بھی وعدہ وفا نہ ہوا۔ اس کی محبت جھوٹی تھی، لیکن اس نے اس سے سچی محبت کی تھی، اس لیے وہ اسے بھلا نہیں پا رہی تھی۔ کئی کولیگ تھے جن سے بات کرنا بھی وہ پسند نہ کرتی تھی۔ اب اس نے ان سے بھی بات چیت شروع کر دی تھی، شاید اس کا دل لگ جائے۔ سنا تھا۔
’’نئی وابستگی پرانی وابستگی کو دبانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘
مگر کوئی وابستگی اس کا متبادل ثابت نہ ہو سکی۔ وہ پریشان حال، سوچوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کے ایک جاننے والے کا فون آگیا۔ سفیر خان اچھا لڑکا تھا۔ اس کا ایک سیلون تھا۔ پرانے زمانے کا نام تو حمام، جدید دور میں کہا جائے تو بیوٹی سیلون۔ اس کے دو حصے تھے، ایک میں مردوں کے لئے آرائش و زیبائش کا اہتمام، دوسرے حصے میں خواتین کا کیبن تھا۔ کبھی کبھی وہ بھی وہاں چلی جاتی تھی، بال کٹوانے یا بالوں کی نوک پلک درست کروانے۔ سفیر اس کا خیال رکھتا تھا، اس لیے بھی کہ اس نے دو چار اخبارات میں اپنے جاننے والے صحافیوں کے ذریعے اس کے انٹرویوز بھی لگوائے تھے۔ پھر اس کے سیلون میں اس کا کام بھی مفت میں ہوتا تھا۔ وہ پھر بھی بہت کم وہاں جاتی۔ سفیر کو اس سے یہی شکایت رہتی تھی کہ وہ اس کے سیلون پر نہیں آتی۔ وہ اس وجہ سے نہیں جاتی تھی کہ ایک تو اس کے پاس وقت بہت کم ہوتا تھا، دوسرا وہ نہیں جانتی تھی کہ سفیر کے ساتھ اس کا سیکنڈل بنے۔ ایک دو دفعہ سفیر نے اس کا مساج خود کرنا چاہا، فیس مساج میں وہ بہت ماہر تھا۔ اس کے ہاتھ لڑکیوں سے بھی زیادہ نرم و گداز تھے۔ اس دن بھی وہ اس کے سیلون پر گئی تو سفیر ضد کرنے لگا۔
’’دیکھو، تمہیں مجھ سے کیا ڈر ہے بھلا…؟ میں اتنا اچھا فیس مساج کرتا ہوں۔ چہرہ گلاب کی طرح کھل اُٹھے گا۔ تروتازہ ہو جاو گی۔‘‘
’’مجھے پتا ہے سفیر…! لیکن مردوں سے مساج کروانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘
اس نے ہمیشہ کی طرح جواب نفی میں دیا۔
’’کیوں…؟ مرد جتنا اچھا ٹریٹمنٹ کرتے ہیں، عورتیں کبھی نہیں کر سکتی ہیں۔ پھر میں کون سا تمہارا باڈی مساج کرنے جا رہا ہوں جو گھبرا رہی ہو…؟ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہو اور اس قدر ڈر پوک…؟ اگر تم ٹی وی اداکارہ بننے جا رہی ہوتی اور یہ جو تمہیں ماڈلنگ کا شوق ہے ناں، مردوں سے میک اَپ کروانے پڑتے تو کیا کرتی…؟‘‘
’’اچھا بابا…! ماڈلنگ کا تو پتا نہیں، مگر میرا شوق ایک فوٹو سیشن کروانے کا ارادہ تو ہے۔‘‘
سفیر اس لئے اس کا فیشل نہیں کرنے چاہتا تھا کہ اسے عورت ہونے کی حیثیت سے اسے ہاتھ لگانے یا چھونے کا شوق تھا، بلکہ اس لیے کہ اسے وہ بہت اچھی لگتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس سے شادی کر لے۔ ایک دو دفعہ باتوں باتوں میں اس نے اس سے کہا بھی تھا، مگر اس نے بات سمجھ کر بھی ٹال دی تھی۔
’’آخر وہ ایک نائی سے کیسے شادی کر سکتی تھی۔ ایک نائی اور وہ بھی انڈر میٹرک۔ کہاں وہ ماسٹرز اور کہاں وہ نالائق…؟‘‘
سفیر خوب صورت لڑکا تھا، مگر اس کی خوب صورتی کو اس نے کیا کرنا تھا، جب وہ اس کے معیار کا ہی نہیں تھا…؟ ہاں، جب کبھی وہ اس کے سیلون پر جاتی تھی تو وہ اس کی راہ میں پلکیں بچھا دیتا تھا۔ وہ صبح سے محو انتظار ہوتا۔ وہ چھٹی ہونے کے بعد سیدھا اس کے سیلون پر جاتی تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتا۔
’’کیا کھاو گی…؟‘‘
اس کی آمد پر وہ اس سے پوچھتا اور چھوٹے ببلو کو آواز دیتا۔ ببلو ایک موٹا سا، چھوٹے سے قد کا لڑکا تھا جو کہ اس کی دُکان پر کام کرتا تھا۔ ببلو اپنے کام میں بہت ماہر تھا۔ شکل سے بہت بھولا بھالا اور سادہ لوح لگتا تھا، مگر کبھی کبھی اس کے دیکھنے کا انداز صائقہ کو پریشان کردیتا جیسے وہ اس سے دوستی کا خواہاں ہو۔ وہ سوچنے لگتی۔
’’توبہ…! اس سیلون میں آکر کیا یہ معیار ہوگیا کہ ببلو، کالو اور راجو بھی دوستی کی خواہش کرنے لگیں۔‘‘
سفیر نے اس کے انکار کو سنا اَن سنا کر کے اس کے چہرے پر مساج کے لئے ہاتھ بڑھا دیا۔
’’اُف…! کتنے ملائم ہاتھ تھے اس کے۔ دل چاہتا تھا بس اُنگلیاں یوں ہی چلتی رہیں۔ چہرے کی ایک ایک نس کو ٹٹولتے ہوئے۔ نرم و ملائم ہاتھ چلتے چہرے پر تھے مگر چھونے کا احساس، ٹٹولنے کا انداز کتنا گرم کر دینے والا ہوتا ہے۔‘‘
یہ پہلی دفعہ اسے تب پتا چلا جب سفیر نے اسے چھوا۔ نیند آنے لگی، آنکھیں خودبخود بند ہونے لگیں، آرام و سکون کا احساس اسے سست الوجود کر رہا تھا۔ ایک نائی اس کے چہرے کو چھو رہا تھا اور اس کا اپنا محبوب تصور میں اسے چھو رہا تھا۔ ٹٹولتی اُنگلیاں، آنکھوں، ناک، گالوں، لبوں پر، گردن پر دھیرے دھیرے مچلتی ہی جارہی تھیں۔
’’…! سفیر…! پلیز، مساج آپ چہرے کا کر رہے ہیں تو ہاتھ گردن سے نیچے کیوں…؟‘‘
سفیر کے ہاتھ جیسے ہی اس کے چہرے سے گردن کی طرف گئے، وہ چیخ اُٹھی۔ چلتے ہوئے ہاتھ رُک گئے۔ سفیر محبوب تھوڑی تھا جو وہ اسے بڑھنے دیتی۔ محبوب کا کچھ حق تو ہوتا ہے، اس نے ایک دفعہ رومن کہاوت پڑھی تھی۔
’’عورت کا اوپر والا دھڑ اس کے محبوب کی امانت ہوتا ہے اور نیچے والا شوہر کی۔‘‘
اس کے محبوب نے بھی شاید یہ کہاوت پڑھ رکھی تھی اور وہ اس پر عمل بھی کرتا تھا۔ جب کبھی وہ آمنے سامنے ہوتے، وہ اس کہاوت کو سچ ثابت کر دیتا، لیکن اس کے محبوب کے دیکھنے اورچھونے کا انداز شہوت انگیز نہیں ہوتا تھا۔ وہ اتنے پیار سے اسے پیار کرتا تھا کہ پیار بھی شرمندہ ہو جاتا۔ایسے تو کوئی گڑیا کو بھی پیار نہیں کرتا ہوگا، اس لیے ہی تو وہ اسے پیارا لگتا تھا۔ وہ کبھی دیوانہ وار اس پر جھپٹتا نہیں تھا، بلکہ وہ تو ایک لڑکا ہو کر بھی اسے چھونے میں ایسے احتیاط کرتا تھا جیسے وہ کوئی شیشہ ہو۔ اسے اس طرح سینے سے لپٹا لیتا جیسے کوئی چھوٹے بچے کو لپٹاتا ہے یا کسی دیرینہ دوست کے گلے لگ جاتا ہے یا پھر جیسے پروانہ شمع پر جان وارتا ہے یا کوئی بھنورا پھول کے گرد منڈلاتا ہے۔
’’میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
بار بار یہ فقرہ دُہرانے والے نے اسے چھوڑنے میں دیر نہیں لگائی۔ اس نے اسے چھوڑا ہی نہیں، توڑ بھی دیا۔ ایسا توڑا کہ اس کا وجود ریزہ ریزہ ہوگیا۔ سانسیں رُکنے لگیں، آنکھوں سے خون بہنے لگا، وہ خون جو قلب میں زخمی محبت کے لوتھڑوں سے رس کشید کرتا اور آنکھوں تک پہنچ جاتا، دماغ مفلوج ہوگیا، تب اس نے جانا۔
’’انسان سہارے کب ڈھونڈتا ہے…؟ کب اِدھر اُدھر ہاتھ پاوں مارتا ہے…؟ کب وہ صرف عمر گزارنے کے لئے سانس لینے کی کوشش کرتا ہے… اور وہ ایک ایک سانس بھی جان لیوا مرحلوں سے گزر کر لیتا ہے…؟‘‘
سفیر کے سیلون پر وہ جب بھی جاتی تھی، کوئی نہ کوئی کام ہوتا تھا، مگر محبوب کے جانے کے بعد اسے ایسا لگا کہ وہ محبوب کو بھلانے کے لئے سفیر نام کی دوائی پینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جوں جوں شام ہوتی جاتی، دل وحشی کی وحشت بڑھ جاتی۔ اس وقت وہ بے وفا، ظالم اور سنگ دل ایسا ٹوٹ کر یاد آتا کہ وہ ٹوٹنے لگتی اور نہ چاہتے ہوئے بھی سفیر کے سیلون کی طرف اس کے قدم بڑھ جاتے۔ آج پھر راستہ بھر وہ نقاب تلے اس کی یاد میں آنسو بہا رہی تھی، جس نے باہر جانے کے کچھ عرصہ بعد اسں سے رابطہ رکھا تھا مگر پھر جانے کیسے وہ بدل گیا برسوں اس کا حال تک نہیں پوچھا کہ اس پر کیا گزر رہی ہے…؟۔وہ فون کرتی تو نمبر کاٹ دیتا اور پھر نمبر ہی بدل دیا۔
’’ہیلو…! صائقہ…! کیا کر رہی ہو…؟ آج آجاو۔ موسم بڑا اچھا ہے۔ چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں۔‘‘
سفیر کا فون اس نے اٹینڈ تو کر لیا تھا، مگر اس سے اس وقت بولنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ رُندھی ہوئی آواز میں اس نے بادل نخواستہ جواب دیا۔
’’نہیں…! میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پھر کسی دن آوں گی۔‘‘
’’نہیں…! آج آجاو۔ تمہیں کیا ہوا ہے…؟ پریشان کیوں ہو…؟ چند لمحے ادھر گزارو گی ناں تو پریشانی کا احساس کم ہو جائے گا۔ پریشانی کو کم کرنے کا بہترین طریقہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ آجاو پلیز…! پلیز…!‘‘
’’اچھا…! ٹھیک ہے، میں آتی ہوں۔‘‘
ضرورتوں کا لباس رشتوں کی تاروں سے بُنا جاتا ہے۔ہر رشتہ کی اپنی ایک ضرورت ہوتی ہے۔ خیر اس وقت تو اسے اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے کسی دُعا یا دوا کی ضرورت تھی۔ دونوں ہی تدبیریں وہ کر چکی تھی۔ کوئی ایک بھی کار گر نہیں ہوئی تھی۔ سفیر اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کو دیکھتے ہی باغ باغ ہوگیا۔ اس نے اس سے پوچھا۔
’’کیا کھاو پیو گی…؟‘‘
’’کچھ نہیں…!‘‘
اس نے انکار کر دیا۔
’’نہیں صائقہ…! کچھ تو چلے گا۔‘‘
ہمیشہ کی طرح وہ بضد اصرار تھا۔
’’اچھا، ٹھیک ہے…! دودھ منگوا لو۔‘‘
اس کو سفیر کی دُکان کے قریب ایک دودھ والے کا گرم گرم کڑاھی کا کھولتا ہوا بالائی والا دودھ بہت اچھا لگتا تھا۔ اب سفیر نے پوچھا تو اس نے دودھ کا ہی کہہ دیا۔ سفیر نے دودھ کے پیالے کا آڈر ببلو کو دیا۔ دودھ آنے تک سفیر اس سے باتیں کرتا رہا۔
’’تمہارے بال کتنے خشک ہو رہے ہیں۔ چلو ان کی ٹرمنگ کر دوں۔‘‘
آخر نائی تھا، خوب صورتی کو تراشنے خراشنے کا خیال ضرور سوجھتا تھا۔
’’ہاں…! بال تو واقعی بہت اُجڑے اُجڑے اور بے رونق سے ہوگئے تھے۔ جب سے محبوب نے چھوڑا تھا، حسن بھی اس سے جان چھڑاتا جا رہا تھا۔ اسی حسن پر تو وہ مرتا تھا۔ اگر یہ بھی نہ رہا تو…؟ ایسا نہ ہو وہ لوٹ کے آئے اور اسے یوں بے رونق سا دیکھ کر اُلٹے قدموں واپس چلا جائے۔ مرد تو ہوتا ہی حسن پرست ہے۔ جہاں حسن دیکھا، بہک گیا۔ وہ تو ویسے بھی بہت حسن پرست تھا۔ کہتا تھا، اپنا خیال رکھا کرو۔ اگر تم اچھی ہی نہ لگو تو فائدہ…؟‘‘
’’اچھا سفیر…! کر دو ٹرمنگ۔‘‘
اپنے محبوب کے نظریات نے اسے ہار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ سفیر نے شیشے پر پردہ پھینکا تاکہ دوسری طرف سے کوئی جھانکتا نہ پھرے۔ ببلو دودھ لے کر آگیا۔ صائقہ نے دودھ کا پیالہ پکڑا اور ہونٹوں سے لگا لیا۔ آنکھوں سے دو قطرے آنسو کے ٹپکے اور دودھ میں جا گرے۔
’’کیا ہوا صائقہ…! کیا ہوا…؟‘‘
سفیر تڑپ اُٹھا۔
’’کچھ نہیں…! دودھ گرم تھا ناں، آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘
ایک مرد کے سامنے دوسرے مرد کی بے وفائی پر پردہ ڈالنا… اُف…! یہ بھی عورت کی مجبوری ہے۔‘‘
صائقہ کے دودھ پی لینے کے کچھ دیر بعد سفیر نے اس کے بالوں کی ٹرمنگ شروع کر دی۔
’’میں سوچ رہا ہوں، دُبئی یا ملائشیا میں کاروبار شروع کرنے کا۔ ساتھ چلو گی…؟‘‘
’’سفیر…! میں کیسے جا سکتی ہوں…؟ میرے یہاں سو بکھیڑے ہیں۔‘‘
اس نے سفیر کو ہمیشہ کی طرح کورا سا جواب دیا، حالانکہ دل سے وہ چاہتی تھی کہ وہ پاکستان سے نکل جائے۔ جب سے اس کا محبوب پاکستان سے گیا تھا، اس کا بھی پاکستان میں رہنے کو دل نہیں کرتا تھا۔ مرد کے پاس یہی تو راستے ہوتے ہیں عورت کو پاس رکھنے کے کہ اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جائے یااس کے دل کو لبھایا جائے ۔ ایسے شخص کے ساتھ جانا چہ جائیکہ جس کی گرل فرینڈ بننے کو دل چاہے، نہ بیوی۔ سفیر نے پاکستان سے باہر جانے کا تذکرہ چھیڑا تو اسے اپنا محبوب یاد آگیا۔
’’ہاتھ روک دو، بس…! میرا دل نہیں چاہ رہا۔ میں گھر جا رہی ہوں۔‘‘
اس نے سفیر کو کام کرتے کرتے ٹوک دیا۔
’’کیا پاگل ہوگئی ہو…؟ ابھی تو ٹرمنگ نامکمل ہے۔ یہ دیکھو، بالوں کی لٹیں۔ مجذوب لگ رہی ہو۔‘‘
سفیر اس کی بات پر حیران ہو کر بولا۔
’’لگنے دو۔ جب مجذوب ہو ہی گئی ہوں تو دکھاوئے میں کیا حرج…؟‘‘
اس نے روتے روتے فلسفہ جھاڑا۔ اپنے آپ پر قابو نہ رہا تو اس کے نینوں سے موسلا دھار بادل برسنے لگے۔ سفیر اسے چپ کرانے لگا۔
’’سنو…! آج میں اور میرا دوست ایک کام سے فیصل آباد جا رہے ہیں۔ تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔ آوٹنگ ہو جائے گی۔‘‘
’’نہیں…! میں نے نہیں جانا۔‘‘
اس نے اشک بار آنکھوں سے جواب دیا۔
’’کیوں…؟ ارے بابا…! ہم دس بجے تک واپس آجائیں گے۔ موٹروے سے جائیں گے اور وہاں بس کسی کی عیادت کرنا ہے اور اسی قدموں واپس۔ بس چلو ساتھ، چھوڑ ضد۔‘‘
’’نہیں…! لیٹ ہوگئے تو ہاسٹل نہیں جا سکوں گی۔‘‘
’’بتا دو کہ کوئی فنکشن ہے۔ زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے واپس آجاوں گی۔ وہ لوگ چھوڑ کر جائیں گے، ہاسٹل فون کر دو۔‘‘
صائقہ کا انکار جتنا بڑھتا جا رہا تھا، سفیر کا اصرار بھی اسی قدر بڑھ رہا تھا۔ ایک لمحے کو اس نے سوچا۔
’’ویک اینڈ پر گھر جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ گھر میں اماں نہیں تھیں، بھائی ان دنوں ملک سے باہر تھا، بھابی کو اچانک میکے کی یاد آگئی تھی۔ رہی کام والی بوا تو وہ تو چار بجے چلی جاتی تھیں۔ رات گھر میں بھی تنہا گزارنا ہوگی، تنہائی اور مار ڈالے گی۔ گھر جا کر وہ کیا کرے گی…۱؟ بڑا سا گھر کاٹنے کو دوڑے گا۔ وہ ٹی وی دیکھتے ہوئے، کتاب پڑھتے ہوئے بھی اپنے محبوب کے پاس پہنچ جائے گی، دل اور مضطرب ہو جائے گا، درد اور بڑھ جائے گا۔ اس لیے اس ویک اینڈ پر ہاسٹل میں ہی رہتے ہیں۔ دل کو بہلانے کے لئے سفیر کے ساتھ سفر کر لیتے ہیں۔‘‘
’’اچھا، ٹھیک ہے…! چلتی ہوں، مگر ہم زیادہ سے زیادہ دس، گیارہ بجے تک واپس آجائیں۔ اس سے زیادہ میرے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔‘‘
اس نے سفیر کو تاکید کی۔ سفیر کا دوست آیا تو اس نے صائقہ کا تعارف اس سے کروایا۔ وہ دونوں فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ صائقہ پیچھے بیٹھ گئی۔ گاڑی سفر پر روانہ ہوگئی مگر اس کے اندر دیر ہوجانے کا خدشہ ابھی بھی پریشان کن تھا۔ موٹروے پر چڑھے تو اس نے راستے میں اُترنے کی ضد کی جس پر سفیر نے پھر اسے ڈانٹ دیا۔
’’کہا ہے ناں کہ ہم جلد واپس آجائیں گے۔‘‘
لتا کی آوازمیں مدھر مدھر گانے اسے اپنے محبوب کی یاد دلا رہے تھے۔ سفیر اور اس کا دوست تنویر اسے ہنسانے اور باتوں میں لگانے کی کوشش کرتے رہے تاکہ باتوں باتوں یا ہنسی مذاق میں اس کا دل لگا رہے اور سفر بھی کٹ جائے، مگر ایک تو وہ ویسے کم گو تھی، دوسرا ان دنوں تو وہ ایک بہت بڑے سانحے سے گزر رہی تھی۔ باتیں تو درکنار پتا نہیں اس کے لب کیسے ہلتے تھے…؟ اس نے سفیر اور تنویر کی باتوں میں ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔ ویسے بھی اسے نیند آ رہی تھی، اسے تو بچپن سے ہی نیند بہت آتی تھی، اس نے آنکھیں بند کیں اور سو گئی۔ سفیر نے اسے دیکھا تو اسے غصہ آگیا۔
’’ارے بابا…! سفر کو اِنجوائے کرو۔ تم سو رہی ہو، تمہیں ساتھ لانے کا فائدہ…؟‘‘
بادل نخواستہ اس نے آنکھیں کھولیں۔ گاڑی سفر پر رواں دواں تھی۔
’’اُف…! وقت کافی ہوگیا تھا اور فیصل آباد ابھی دُور تھا۔ کیا ہم جلدی واپس آجائیں گے…؟‘‘
اس سوچ نے اسے پریشان کر دیا۔ وہ لاہور سے مناسب ٹائم پر ہی روانہ ہوئے تھے، مگر لاہور کی ٹریفک نے انہیں کئی گھنٹے شہر سے نکلنے نہیں دیا، اسی لیے انہیں دیر ہوگئی۔ ابھی بھی فیصل آباد نہیں آیا تھا۔ وہ بس یہی سوچ کر ہلکان ہوئی جا رہی تھی۔ خدا خدا کر کے فیصل آباد آگیا۔ تنویر نے گاڑی ہسپتال کے احاطے میں کھڑی کی اور وہ دونوں اسے گاڑی میں چھوڑ کر مریض کی عیادت کو اندر چلے گئے۔ پتا چلا مریض اس ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں منتقل ہو چکا ہے۔ اب دوسرے ہسپتال کی تلاش شروع ہوئی۔ وہ پریشان ہو رہی تھی۔ وقت گزر رہا تھا۔ دوسرا ہسپتال ملا، مریض کی عیادت کو وہ لوگ اندر گئے، وہ پھر سو گئی۔ کب وہ آئے اور آکر اسے آواز دی ۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔
’’یار…! تم کتنا سوتی ہو۔ ہم نے سوچا تھا کہ باتیں کریں گے، دل لگا رہے گا۔‘‘
سفیر نے شکوہ کیا۔
’’باتیں…؟ کیا باتیں کروں…؟ آپ لوگ مجھ سے بات کریں ناں، میں جواب دیتی ہوں۔‘‘
اس نے اُلٹا الزام ان لوگوں پر رکھ دیا۔
’’سفیر…! گھر کب پہنچیں گے…؟‘‘
اس نے وقت دیکھا تو دس بج چکے تھے۔
’’بس…! اب کسی کے گھر جانا ہے، دوست کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، اسے مبارک باد دینی ہے۔ یہ گولڈ چین اور گولڈ رنگ دینی ہے اور بس…!‘‘
سفیر نے اسے سونے کی چین اور انگوٹھی دیکھنے کے لئے پکڑائی۔چلتے چلتے گاڑی ایک علاقہ میں جا کر رُک گئی۔ متوسط مگر نسبتاً خوش حال علاقہ، وہ دونوں اندر چلے گئے اور وہ حسب معمول پھر سو گئی۔ کافی دیر گزر گئی۔ اسے تو نیند میں پتا ہی نہیں چلا۔ ان دونوں کے جانے کے بعد ایک دو دفعہ اس کی آنکھ کھلی تو اس نے سوچا کہ اندر جائے۔
’’مگر وہ لوگ کیا سوچیں گے کہ وہ کسی لڑکی کو بھی ساتھ لائے ہیں۔‘‘
وہ سوچ کر رہ گئی۔ بھوک بہت لگ رہی تھی۔ راستے میں دونوں نے کچھ کھانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ نتیجتاً اسے بھی بھوکا رہنا پڑا تھا۔ دونوں کی باتوں سے لگ رہا تھا، دوست نے خاطر تواضع کر کے بھیجا تھا۔ وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی۔
’’کیا گیارہ بجے وہ ہاسٹل پہنچ سکے گی…؟ لگ نہیں رہا تھا، مگر اب کیا ہو سکتا تھا…؟ اب تو جب پہنچنا تھا، تب ہی پہنچنا تھا۔‘‘
ایک بجے سے قبل وہ لاہور پہنچے تو وہ بے حد پریشان تھی۔
’’اب کیا کرے…؟ کہاں جائے…؟ یہ ہاسٹل جانے کا وقت نہیں ہے۔‘‘
’’فکر مت کرو۔ کسی ہوٹل میں چلے جاتے ہیں۔ میں تمہارے ساتھ ٹھہر جاو ں گا۔‘‘
سفیر نے اسے دلاسا دیا، مگر اس تجویز کے ساتھ جو اس کے لیے ناقابل قبول تھی۔
’’وہ اور کسی غیر مرد کے ساتھ رات تنہائی میں گزارے۔ اس نے تو کبھی اپنے محبوب کے ساتھ تنہائی میں رات گزارنے کا نہیں سوچا تھا اور یہ…‘‘
ہاں، وہ ان دو مردوں کے ساتھ تنہا سفر کرنے پر آمادہ ضرور ہوئی تھی، مگر وہ بھی اپنی پریشانی سے چند لمحوں کی نجات کے لئے۔ بے چین دل کو کچھ سکون دینے کے لیے کہ شاید دل کچھ بہل جائے۔
’’اُف…! محبت کتنی ظالم شے ہے ۔کسی کی یادوں نے اسے ذہنی طور پر اس قدر مفلوج کر دیا تھا کہ حرکت قلب کو سکون و راحت پہنچانے کے لیے اس نے ان کے ساتھ سفر کرنا گوارہ کر لیا۔‘‘وہ پچھتا رہی تھی۔
’’کیوں آئی…؟ اب کیا کرے…؟ کہاں جائے…؟‘‘
اس وقت ہاسٹل جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ دونوں نے گاڑی ایک ریستوران کے باہر روکی۔
’’چلو…! پہلے کھانا کھا لیں، پھر سوچتے ہیں کہ کہاں ٹھہرایا جائے تمہیں…؟‘‘
سفیر نے کہا۔ سفیر کی اس بات پر اسے شدید غصہ آیا۔ جب وہ ان کے ساتھ جانے سے مسلسل انکار کر رہی تھی تو تنویر نے کہا تھا۔
’’آپ کیوں فکر مند ہو رہی ہیں…؟ اگر ہم لیٹ ہوگئے تو آپ میرے گھر چلی جائیے گا۔ میری والدہ ، بہنیں ہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘
اب جب وقت آیا تھا تو تنویر نے اس پر اشارہ تک دینا مناسب خیال نہیں کیا تھا۔ رہا سفیر تو وہ تو اپنی بیوی کی موجودگی میں اسے گھر لے کر ہی نہیں جا سکتا تھا۔ ایسے میں کیا ہو سکتا تھا…؟
’’ہوٹل…!‘‘
’’نہیں…! وہ ہوٹل نہیں جائے گی۔‘‘
’’اچھا…! ایسا کرتے ہیں، میں تمہیں اکیلے ہوٹل میں کمرہ بک کروا دیتا ہوں۔‘‘
سفیر نے کھانا کھاتے ہوئے تجویز دی۔
’’کیا…؟ اکیلی…؟ وہاں میرے ساتھ کچھ ہوگیا تو…؟ نہیں بابا…!‘‘
وہ سفیر کی نئی تجویز پر اور زیادہ ڈر گئی۔کبھی کسی ہوٹل میں رات تو کیا، دن بھی نہیں گزارا تھا۔مگر یہ پھر بھی قابل عمل تجاویز تھی۔
’’ایسا کرتے ہیں، ہم دو کمرے لے لیتے ہیں، الگ الگ ٹھہر جائیں گے۔‘‘
۔ ایک بج چکا تھا۔ یہ وقت نہ ہاسٹل جانے کا تھا اور نہ کہیں اور کسی کے پاس ٹھہر جانے کا۔ خوف سے اس کی جان نکل رہی تھی۔ ابھی پہلی تجویز آئی تھی کہ سفیر نے دوسری تجویز بھی پیش کر دی۔
’’چلو…! ایسا کرو، ہم آج رات سیلون میں گزار لیتے ہیں۔ وہاں کوئی ڈر، خوف، خطرہ نہیں ہوگا۔ اتنی رات کسی ہوٹل میں جانا بھی مناسب نہیں ہے۔‘‘
سفیر یا تو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پا رہا تھا یا پھر ہوٹل میں ٹھہرنے کے لئے پیسوں کے معاملے میں وہ کنجوسی برت رہا تھا۔ تنویر نے سفیر اور اسے سیلون میں اُتارا اور خود چلا گیا۔ وہ اندر اس چھوٹے کیبن میں چلی گئی جو عورتوں کے لیے مخصوص تھا۔ سردی بہت زیادہ تھی۔ گاڑی میں تو ہیٹر چل رہا تھا، پھر کھانا کھاتے ہوئے بھی ریستوران میں ہیٹر دھک رہے تھے۔ سیلون میں آتے ہی سردی سے کپکپاہٹ شروع ہوگئی تھی۔ ٹانگیں سردی سے منجمد ہوئی چلی جا رہی تھیں۔
’’اُف…! سیلون میں ہیٹر تھا، نہ کمبل اور نہ کوئی اوڑھنا بچھونا۔
کیسے رات گزرے گی…؟ ‘‘۔
تھوڑی دیر بعد ببلو آگیا۔ اسے دیکھ کر صائقہ کو حیرت سی ہوئی۔ پتا نہیں سفیر نے اسے کس وقت فون کیا تھا… شاید تب جب وہ اندر آئی تھی اور سفیر، تنویر کو ’’خدا حافظ‘‘ کہہ رہا تھا۔ سفیر نے سردی سے کانپتی ہوئی صائقہ کو دیکھا اور سیلون کے اوپر والے حصہ میں رہنے والے کرایہ داروں سے ایک چادر لے آیا۔ کیبن پر لٹکنے والا پردہ بھی اُتار کر اس نے صائقہ کو دیا جو اس نے ٹانگوں پر ڈال لیا۔
’’یااللہ…! اتنی سردی، ان دو باریک چادروں سے سردی کیسے ختم ہوگی…؟‘‘
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سفیر مردوں والے حصہ میں بیٹھ گیا۔
’’صائقہ…! میں ذرا باہر چکر لگاکر آتا ہوں۔ کوئی کمبل بھی دیکھتا ہوں‘‘۔
سفیر باہر چلا گیا۔ ببلو نے دروازہ اندر سے بند کیا، مگر شٹر تو تھوڑا سا کھلا تھا۔ شٹر کو بند کیا بھی کیسے جا سکتا تھا، کیونکہ شٹر کو بند کر کے باہر تالا لگانا اور اس کو صبح کھولنا ممکن نہ تھا، پھر اس کا مطلب ہوتا، اندر ہی اندر گھٹ کر مر جانا۔ سانس لینے کا ذریعہ بھی نہ تھا۔ اس نے سرہانے کو ریوالونگ چیئر پر رکھ کر سر ٹکایا۔ چادر سے پورا جسم ڈھانپا اور سونے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ کافی دیر گزر گئی۔ سفیر نہیں آیا۔ سفیر گھر جا چکا تھا۔ ببلو نے لائٹس آف کر دیں۔ زیرو پاور کا ہلکا سا بلب روشن تھا۔ سردی سے اسے نیند بھی نہیں آ رہی تھی۔ اشکوں کی ندی رواں تھی۔
’’اس نے کیوں ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا…؟ کیوں سفیر کی باتوں پر یقین کیا کہ دس گیارہ بجے تک واپسی ہو جائے گی…؟‘‘
جذبات میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ احساسات میں طوفان اُٹھ رہا تھا۔ روتے روتے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔ پھر ایک دم کسی سایے کے وزن سے گھبرا کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ تھوڑا سا ہوش آیا تو ببلو کا چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ ببلو اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا۔ ہڑبڑا کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ جوں ہی اس نے اُٹھنے کی کوشش کی، ببلو نے اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔ اس نے اپنا آپ چھڑانے کی بڑی کوشش کی، مگر وہ آخر مرد تھا، باوجود کوشش کے اور لاکھ ہاتھ پائوں مارنے کے وہ ہاتھ چھڑا سکی اور نہ اس کو ہٹانے میں کامیاب ہو سکی۔
’’دفع ہو جاو۔ ذلیل…! کیا کر رہے ہو…؟ شرم نہیں آتی تمہیں…؟‘‘
اس نے چیخنا شروع کر دیا۔
’’شرم…؟ کیا تمہیں شرم آتی ہے جو رات گھر سے باہر گزار رہی ہو…؟ شریف لڑکی کو گھر سے باہر رات گزارتے وقت سوچنا چاہیے۔‘‘
’’میں رات گھر سے باہر گزارنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ سفیر نے کہا تھا کہ دس، گیارہ بجے تک واپس آجائیں گے۔ میں تو خود پھنس گئی ہوں۔‘‘
’’تم نے سفیر کی باتوں پر یقین کر لیا۔ یقینا وہ تمہیں کہیں اور لے کر گئے ہوں گے۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہے ہو…؟ ہم لوگ کسی غلط ارادے سے کسی غلط جگہ پر نہیں گئے تھے۔ بس فیصل آباد کچھ چھوٹے چھوٹے کام نپٹانے کو گئے تھے۔ مجھے بھی انہوں نے شریک سفر کر لیا۔‘‘
ببلو اس وقت اس کے اور سفیر کے کردار پر شک کر رہا تھا۔اسے یقین نہیں تھا کہ وہ فیصل آباد گئے تھے۔ وہ صفائی پیش کر رہی تھی اور ببلو اس کی کسی بات پریقین نہیں کر رہا تھا۔ وہ مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی، احتجاج کر رہی تھی، مگر وہ اس کے احتجاج اور انکار کو خاطر میں نہیں لارہا تھا اور لاتا بھی کیوں…؟ مالِ غنیمت کون چھوڑتا ہے…؟ اور وہ بھی مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے…؟ سیلون میں نیم تاریکی تھی۔ باہر سڑک نظر آ رہی تھی۔ کبھی کبھی کوئی اِکّا دُکّا گاڑی گزرتی تو وہ فوراً پیچھے ہٹ جاتا اور ایسے میں صائقہ کو سانس لینے کا موقع مل جاتا۔ جوں ہی اس کی آواز ذرا سی بلند ہوتی، وہ اس کو برا بھلا کہتی تو وہ اس کے منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیتا اور اس ہاتھ کے نیچے اس کی سانسیں بند ہونے لگتیں۔ وہ دیوانہ وار اس کے بوسے لے رہا تھا۔ اس نے غصے سے بولنا شروع ہی کیا تھا کہ وہ فوراً پھٹ پڑا۔
’’سنو…! زیادہ شور مت کرو۔ تمہاری آواز سن کر کوئی بھی اندر آ سکتا ہے۔ کسی کو بھی شک ہوگیا تو میں تو پھنسوں گا ہی، تم بھی پھنسو گی اور پھر یہ بدنامی تمہارے گھر تک پہنچ جائے گی۔‘‘
ببلو

