دیدبان انتخاب اول کا پیش لفظ
دیدبان انتخاب اول کا پیش لفظ
Jul 23, 2026

دیدبان، اکیسویں صدی کا ادبی افق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیسویں صدی کے وسط سے کچھ پہلے اردو ادب میں رومانیت کی دھند چھٹتی جا رہی تھی اور حقیقت نگاری کی طرف رحجان بڑھ رہا تھا۔ نوآبادیاتی تسلط، جدید تعلیم اور مغربی ادبی و ثقافتی اثرات سے ہندوستان کے عہد ساز معاشرے پرنئی دنیا کے گہرے نقش ثبت ہو رہے تھے۔ نوآبادیاتی نظام نے جہاں مادی وسائل کی لوٹ مار سے استعماریت کے طرز فکر کو افشاٗ کیا، وہیں ردعمل کے طور پر لوگوں میں امپیرئل طاقت اور زندگی سے نظریں ملانے کی جراٗت بھی پیدا ہو گئی۔ اسی جراٗت کا اظہار ”انگارے“ کی شکل میں سامنے آیا۔ انگارے ان چند کہانیوں کا مجموعہ تھا جس نے ہندوستانی سماج کے بعض کرہیہ پہلوؤں کی حقیقی تصویر کشی کی۔ایسے بھی موضوعات تھے جن پر قلم اٹھانا غیر اخلاقی اور غیر ادبی تصور کیا جاتا تھا۔ دولت کی غلط تقسیم، جھوٹی مذہبیت کے اثرات اور سب سے بڑھ کر گھٹے ہوئے سماجی ماحول کی نفیساتی الجھنوں پر ان حقیقت نگاروں کا سوال اٹھائے جانا ان کہانیوں کے اہم موضوعات تھے۔
وقت گزرتا گیا، دنیائے ادب کی ترجیحات میں انسانی مسائل کے نِت نئے موضوعات میں انسان اولین درجہ پر فائز ہوتا گیا، زمانی و مکانی پرت کھلتے گئے،لیکن روایتی اخلاق و آداب کا پروردہ معاشرہ ادب میں زندگی کے اس گھناؤنے رخ کو کسی حد تک ہی سہار سکا۔ موضوعات اور اظہار کی بے باکی نے ادب کی راہیں تو ہموار کر دیں لیکن ایسا کچھ ہوتا نوآبادیاتی ماحول میں استعماریت اور انکے مقامی نمائندوں کو قبول نہ ہوا۔
رشید جہاں نے انگارے میں معاشرتی غیر ہمواری، کلاس سسٹم، مذہبی منافقانہ رحجانات اور عورتوں پر میل ڈومین سوسائٹی میں کمتر درجہ کی انسانی شناخت پر لکھا۔ یوں ان خیالات پر مبنی اردو افسانوں اور کہانیوں میں تخلیقی وفور کے ساتھ تانیثی جبر کو اظہار مل گیا۔
ترقی پسند تحریک کے دور عروج میں جہاں حقیقت نگاری کو فروغ عام ملا وہیں ہمارے سامنے چنداولین خواتین کے نام سامنے آتے ہیں جنہوں نے ترقی پسند خیالات کو بام عروج بخشا۔ اس میں رشید جہاں، واجدہ تبسم، قراۃ العین حیدر اور عصمت چغتائی سرِ فہرست رہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ رشید جہاں، واجدہ تبسم اورقراۃ العین کا تعلق علی گڑھ سے تھا اور عصمت چغتائی بدایوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ متمول اوسط درجے کے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہوئے انہوں نے مارکسی تحریک کے زیر اثر سرمایہ دار طبقے کے خلاف آواز اٹھائی۔یوں خیالات میں جدت، ندرت، انسانی مسائل کا فکری ادراک،ترقی پسندی کے معنوی استحکام اور زبان و بیاں میں حقیقت نگاری ایک ایسا اسلوب بنا جس میں قاری ہمیشہ کے لئے کھو گیا۔
عصمت چغتائی اپنے ایک انٹرویو میں یوں کہتی ہیں۔ ”دوپہر کو محلے بھر کی عورتیں جمع ہو کر بیٹھ جاتی تھیں اور ہم لڑکیوں سے کہا جاتا، چلو بھاگو تم لوگ۔ میں چھپ کے پلنگ کے نیچے گھس کے کہیں سے ان کی باتیں سن لیا کرتی تھی، جنس کے موضوع، گھٹے ہوئے ماحول اور پردے میں رہنے والی بیویوں کے لئے بہت اہم ہیں۔ وہ اس پر بات چیت کیا کرتیں۔ میری افسانہ نگاری اسی گھٹے ہوئے ماحول کی عکاسی ہے۔“
(حوالہ عصمت چغتائی پیش لفظ از عجیب آدمی، ناولٹ عصمت چغتائی شائع مکتبہ اردو ادب، لاہور)
؎یہ وہ ادبی برقِ ابریشم تھا جو بیسویں صدی کے وسط سے شروع ہوکر آج تک اپنے موضوعات، فکری تنوع، تانیثی حوالوں اور انسا نی مسائل سے نبرد آزما ہونے والی متوسط کلاس اور بھوک و افلاس و استحصال کے جبر میں گھٹے ہوئے انسان کی نمائندگی کرتا تھا۔
آج جب اکیسویں صدی کے پہلے پندرہ برسوں کوہم دیکھتے ہیں تو آج کا معاشرہ اب دو حصوں سے بڑھ کر کئی ایک حصوں پر منقسم ہو چکا ہے۔ ایک طرف پرانی تہذیبوں سے کشید کیا ہوا وہ معاشرہ ہے جس میں دھرتی پوجا اور اس کے ٹوٹم اور ٹیبوز کسی نہ کسی شکل میں آج بھی ہمارے فہم و ادراک اور طرزِ فکر و احساس میں رچے بسے ہیں۔ دجلہ، نیل اور سندھ کے کنارے جنم لینے والی صدیوں پرانی زندگی کا جادو آج بھی ہماری اعمال و افکار کی سمتیں متعین کرتا ہے وہیں ہماری زبانوں کی تشکیل، رسم و رواج اور سماجی کلاس بندیوں کو جدید دنیا کی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کی ساعتوں کو رد و قبول کے ساتھ مستحکم بھی کرتا ہے کیونکہ زندگی اب انہی ٹیبوز میں ہمیشہ کے لئے بند نہیں رہ سکتی۔
ترقی پسندی اور سائنسی ارتقاٗ نے انسانی فکر کو ایک ہی جست میں برگد اور چنار کے چھتار پیڑوں کے سائے سے نکل کر دیو قامت جہازوں اور سیٹلائٹ کی وسعتوں میں پہنچا دیا۔ گمشدہ زرعی تہذیبوں کی آنچ مدہم ہو گئی اور اسکی جگہ کہکشاؤں کے بکھرنے اور بننے کے مشاہدے کی کرنیں وسیع تر انسانی زندگیوں کا ساماں کرنے لگیں۔ یوں انسانی فکر و ادراک کا یہ سفر اپنی نئی منزلوں کی طرف جاری و ساری ہے۔
اس عمل میں عصری ادبی فکر نے لسانی اور تانیثی رویوں سمیت جس بیانیہ کو نئے سرے سے استوار کرنے کی جدوجہد میں ایک ایسے ادبی افق کو جنم دینے کی سعی کی، جس میں ”دیدبان“ جیسا موقر آن لائن ادبی جریدہ سر فہرست رہا۔اُس نے عہد حاضر کے فن پاروں کو نئی متصور ہوتی ہوئے شکل سے آشنائی دی۔ دیدبان کیا ہے؟ کون اس ادبی فن پاروں کو قارئین کے سامنے لا رہا ہے؟ انکے مقاصد کیا ہیں؟ ان پر راقم نے دیدبان کے لئے لکھے گئے اپنے ابتدائی مضمون میں یوں عرض کیا تھا۔
”ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا میں کسی ایسے آن لائن جریدے کی اشد ضرورت تھی جو صنفی طور پر نثر کو فوقیت دے اور تنقید کے میدان میں نئے امکانات اور رحجانات کی دنیا آباد کرے۔ تب ”دیدبان“ کے جنم لینے کی نوید آئی۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر جانی پہچانی والی تین معروف عالمی ادیباؤں ڈاکٹر نسترن فتیحی (علی گڑھ انڈیا)، سبین علی (جدہ سعودی عریبیہ) اور سلمیٰ جیلانی (نیوزی لینڈ) راقم سے دلی مبارک باد کی مستحق ہیں، جنہوں نے انٹرنیٹ کے ناگفتہ بہ ادبی حالات میں اردو ادب کی ترقی و ترویج کا بیڑا اٹھایا اور دیدبان کے توسط سے نہ صرف نئے ادباٗ و شعرا کو جگہ دی،بلکہ اساتذہ کے ملفوظات اور تخلیقی محرکات کو قارئین تک پہچانے کی مشترکہ کوشش کو کامیاب بنایا۔ متذکرہ بالا تینوں خواتین کا عالمی ادب، اردو ادب اور تنقید و ترجمہ میں پہلے ہی کافی کام عالمی اردو قارئین سامنے آ چکا ہے، لہذا یقین واثق ہے کہ انکی علمی و فکری جستجو ’دیدبان‘ کے آنے والے شماروں میں نئی جہات کو منظر ائے گی۔۔ خاصے کی بات یہ ہے کہ تینوں خواتین اپنے الگ الگ فطری رحجانات میں یونیک حیثیت کی مالکہ ہیں، نسترن فتیحی کا میدان اگر تنقید ہے (انکی حالیہ تنقیدی کتاب نے ’ایکو فیمینزم‘ نے عالمی شہرت پائی ہے) تو سبین علی تخلیق کے میدان میں ’کتن والی‘ جیسے معرکۃ الآراء افسانے کو جنم دے چکی ہیں۔ سلمیٰ جیلانی گو اپنے تخلیقی جوہر میں یکتا ہیں، لیکن راقم کے ذاتی خیال میں وہ ترجمہ جیسی مشکل اور ٹیکنیکل صنف میں نمایاں کامیابی کے حامل عالمی کام نہ صرف کر چکی ہیں بلکہ مزید کریں گی۔
گواب تک ’دیدبان‘ کا پہلا شمارہ اپنے پورے ادبی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم راقم سمیت قارئین اس آن لائن بلاگ (جریدے) کی عمودی اور افقی سطح کو آسمانِ اردو ادب پر کہیں بلند دیکھنے کے متمنی ہیں۔“
یہ وہ خیالات تھے جو راقم نے دیدبان کے اجراٗ پر کہے تھے۔ آج دیدبان انٹرنیٹ کی دنیائے ادب میں مقبولِ عام ہو چکا ہے۔ اِن خواتین کی مسلسل جد و جہد عین اسی طرح تاریخ میں رقم ہو رہی ہے جس طرح زمانے نے ترقی پسند تحریک کے ابتدائی ادوار میں قراۃ العین، رشید جہاں اور عصمت چغتائی کو سرگرمِ عمل دیکھا۔
دیدبان کا پہلا انتخاب اس سلسلے کی اولین کڑی ہے جس میں وقت کی آواز کو اظہار بخشا گیا ہے۔
ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وقت کے جدید تقاضے، تہذیبی اور سماجی امکانات، شہری زندگی کے پورے علم و عرفان سے آگہی دیتے ہوئے فکری افق اب نئی منزلوں کی تلاش میں ہیں۔ نسائی اور تانیثی احساس و فکر اپنی جگہ مسلم، لیکن متلون اور وحشی سوچ اور فکرِ جدید کے لاینحل مسائل میں ادبی استغراق سے گزر کر ایک طرف لطافت و جمالیات کا اہتمام کرنا اور دوسری طرف من حیث البین القوامی شہری بشارتوں سے آگاہ افراد کے ذوقِ ادب کو افادی علامتوں میں تجسیم کرنا کاردارد ہے۔ ایسے کھٹن ما بعد جدیدیت عہد میں انسانی فکر و طرز احساس کو یقین کی حد تک ا نسانی خمیر میں گندھا ہوا رومانی و جمالیاتی رنگ دینا اور طبقاتی کشمکش میں پسے ہوئے انسان کے لئے ویرانوں کو گلزار بنا دینے کی سعی ”دیدبان“ کی فکری اپج ہے جس سے عہدِ حاضر کے انسان کے گھاؤخود بخود بھرنے لگتے ہیں۔
یہ ابھی ابتدا ہے یقین واثق ہے ہے کہ آنے والے دنوں میں ’دیدبان‘ وقت کی نبض پر انگلیاں رکھتے ہوئے مرض کا تشخیصی چارہ گر بھی ثابت ہوگا۔
’دیدبان‘ کے اس انتخاب میں مجھے پاک و ہند اورعالمی اردو ادب کے چیدہ چیدہ معروف اور عصری تقاضوں پر اترتے ہوئے ان ادباٗ و شعرا کے فن پارے نظر آتے ہیں جن کے فن پارے جہانِ بدن کا سائباں ہیں اور روح کے اضطراب کو سکونِ فہم دیتے ہیں۔ ’دیدبان‘انسانی فکر و جذبات کی طہارت اور عہدِ حاضر کا جمالیاتی اظہار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
23/2/2017
لاہور
دیدبان، اکیسویں صدی کا ادبی افق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیسویں صدی کے وسط سے کچھ پہلے اردو ادب میں رومانیت کی دھند چھٹتی جا رہی تھی اور حقیقت نگاری کی طرف رحجان بڑھ رہا تھا۔ نوآبادیاتی تسلط، جدید تعلیم اور مغربی ادبی و ثقافتی اثرات سے ہندوستان کے عہد ساز معاشرے پرنئی دنیا کے گہرے نقش ثبت ہو رہے تھے۔ نوآبادیاتی نظام نے جہاں مادی وسائل کی لوٹ مار سے استعماریت کے طرز فکر کو افشاٗ کیا، وہیں ردعمل کے طور پر لوگوں میں امپیرئل طاقت اور زندگی سے نظریں ملانے کی جراٗت بھی پیدا ہو گئی۔ اسی جراٗت کا اظہار ”انگارے“ کی شکل میں سامنے آیا۔ انگارے ان چند کہانیوں کا مجموعہ تھا جس نے ہندوستانی سماج کے بعض کرہیہ پہلوؤں کی حقیقی تصویر کشی کی۔ایسے بھی موضوعات تھے جن پر قلم اٹھانا غیر اخلاقی اور غیر ادبی تصور کیا جاتا تھا۔ دولت کی غلط تقسیم، جھوٹی مذہبیت کے اثرات اور سب سے بڑھ کر گھٹے ہوئے سماجی ماحول کی نفیساتی الجھنوں پر ان حقیقت نگاروں کا سوال اٹھائے جانا ان کہانیوں کے اہم موضوعات تھے۔
وقت گزرتا گیا، دنیائے ادب کی ترجیحات میں انسانی مسائل کے نِت نئے موضوعات میں انسان اولین درجہ پر فائز ہوتا گیا، زمانی و مکانی پرت کھلتے گئے،لیکن روایتی اخلاق و آداب کا پروردہ معاشرہ ادب میں زندگی کے اس گھناؤنے رخ کو کسی حد تک ہی سہار سکا۔ موضوعات اور اظہار کی بے باکی نے ادب کی راہیں تو ہموار کر دیں لیکن ایسا کچھ ہوتا نوآبادیاتی ماحول میں استعماریت اور انکے مقامی نمائندوں کو قبول نہ ہوا۔
رشید جہاں نے انگارے میں معاشرتی غیر ہمواری، کلاس سسٹم، مذہبی منافقانہ رحجانات اور عورتوں پر میل ڈومین سوسائٹی میں کمتر درجہ کی انسانی شناخت پر لکھا۔ یوں ان خیالات پر مبنی اردو افسانوں اور کہانیوں میں تخلیقی وفور کے ساتھ تانیثی جبر کو اظہار مل گیا۔
ترقی پسند تحریک کے دور عروج میں جہاں حقیقت نگاری کو فروغ عام ملا وہیں ہمارے سامنے چنداولین خواتین کے نام سامنے آتے ہیں جنہوں نے ترقی پسند خیالات کو بام عروج بخشا۔ اس میں رشید جہاں، واجدہ تبسم، قراۃ العین حیدر اور عصمت چغتائی سرِ فہرست رہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ رشید جہاں، واجدہ تبسم اورقراۃ العین کا تعلق علی گڑھ سے تھا اور عصمت چغتائی بدایوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ متمول اوسط درجے کے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہوئے انہوں نے مارکسی تحریک کے زیر اثر سرمایہ دار طبقے کے خلاف آواز اٹھائی۔یوں خیالات میں جدت، ندرت، انسانی مسائل کا فکری ادراک،ترقی پسندی کے معنوی استحکام اور زبان و بیاں میں حقیقت نگاری ایک ایسا اسلوب بنا جس میں قاری ہمیشہ کے لئے کھو گیا۔
عصمت چغتائی اپنے ایک انٹرویو میں یوں کہتی ہیں۔ ”دوپہر کو محلے بھر کی عورتیں جمع ہو کر بیٹھ جاتی تھیں اور ہم لڑکیوں سے کہا جاتا، چلو بھاگو تم لوگ۔ میں چھپ کے پلنگ کے نیچے گھس کے کہیں سے ان کی باتیں سن لیا کرتی تھی، جنس کے موضوع، گھٹے ہوئے ماحول اور پردے میں رہنے والی بیویوں کے لئے بہت اہم ہیں۔ وہ اس پر بات چیت کیا کرتیں۔ میری افسانہ نگاری اسی گھٹے ہوئے ماحول کی عکاسی ہے۔“
(حوالہ عصمت چغتائی پیش لفظ از عجیب آدمی، ناولٹ عصمت چغتائی شائع مکتبہ اردو ادب، لاہور)
؎یہ وہ ادبی برقِ ابریشم تھا جو بیسویں صدی کے وسط سے شروع ہوکر آج تک اپنے موضوعات، فکری تنوع، تانیثی حوالوں اور انسا نی مسائل سے نبرد آزما ہونے والی متوسط کلاس اور بھوک و افلاس و استحصال کے جبر میں گھٹے ہوئے انسان کی نمائندگی کرتا تھا۔
آج جب اکیسویں صدی کے پہلے پندرہ برسوں کوہم دیکھتے ہیں تو آج کا معاشرہ اب دو حصوں سے بڑھ کر کئی ایک حصوں پر منقسم ہو چکا ہے۔ ایک طرف پرانی تہذیبوں سے کشید کیا ہوا وہ معاشرہ ہے جس میں دھرتی پوجا اور اس کے ٹوٹم اور ٹیبوز کسی نہ کسی شکل میں آج بھی ہمارے فہم و ادراک اور طرزِ فکر و احساس میں رچے بسے ہیں۔ دجلہ، نیل اور سندھ کے کنارے جنم لینے والی صدیوں پرانی زندگی کا جادو آج بھی ہماری اعمال و افکار کی سمتیں متعین کرتا ہے وہیں ہماری زبانوں کی تشکیل، رسم و رواج اور سماجی کلاس بندیوں کو جدید دنیا کی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کی ساعتوں کو رد و قبول کے ساتھ مستحکم بھی کرتا ہے کیونکہ زندگی اب انہی ٹیبوز میں ہمیشہ کے لئے بند نہیں رہ سکتی۔
ترقی پسندی اور سائنسی ارتقاٗ نے انسانی فکر کو ایک ہی جست میں برگد اور چنار کے چھتار پیڑوں کے سائے سے نکل کر دیو قامت جہازوں اور سیٹلائٹ کی وسعتوں میں پہنچا دیا۔ گمشدہ زرعی تہذیبوں کی آنچ مدہم ہو گئی اور اسکی جگہ کہکشاؤں کے بکھرنے اور بننے کے مشاہدے کی کرنیں وسیع تر انسانی زندگیوں کا ساماں کرنے لگیں۔ یوں انسانی فکر و ادراک کا یہ سفر اپنی نئی منزلوں کی طرف جاری و ساری ہے۔
اس عمل میں عصری ادبی فکر نے لسانی اور تانیثی رویوں سمیت جس بیانیہ کو نئے سرے سے استوار کرنے کی جدوجہد میں ایک ایسے ادبی افق کو جنم دینے کی سعی کی، جس میں ”دیدبان“ جیسا موقر آن لائن ادبی جریدہ سر فہرست رہا۔اُس نے عہد حاضر کے فن پاروں کو نئی متصور ہوتی ہوئے شکل سے آشنائی دی۔ دیدبان کیا ہے؟ کون اس ادبی فن پاروں کو قارئین کے سامنے لا رہا ہے؟ انکے مقاصد کیا ہیں؟ ان پر راقم نے دیدبان کے لئے لکھے گئے اپنے ابتدائی مضمون میں یوں عرض کیا تھا۔
”ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا میں کسی ایسے آن لائن جریدے کی اشد ضرورت تھی جو صنفی طور پر نثر کو فوقیت دے اور تنقید کے میدان میں نئے امکانات اور رحجانات کی دنیا آباد کرے۔ تب ”دیدبان“ کے جنم لینے کی نوید آئی۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر جانی پہچانی والی تین معروف عالمی ادیباؤں ڈاکٹر نسترن فتیحی (علی گڑھ انڈیا)، سبین علی (جدہ سعودی عریبیہ) اور سلمیٰ جیلانی (نیوزی لینڈ) راقم سے دلی مبارک باد کی مستحق ہیں، جنہوں نے انٹرنیٹ کے ناگفتہ بہ ادبی حالات میں اردو ادب کی ترقی و ترویج کا بیڑا اٹھایا اور دیدبان کے توسط سے نہ صرف نئے ادباٗ و شعرا کو جگہ دی،بلکہ اساتذہ کے ملفوظات اور تخلیقی محرکات کو قارئین تک پہچانے کی مشترکہ کوشش کو کامیاب بنایا۔ متذکرہ بالا تینوں خواتین کا عالمی ادب، اردو ادب اور تنقید و ترجمہ میں پہلے ہی کافی کام عالمی اردو قارئین سامنے آ چکا ہے، لہذا یقین واثق ہے کہ انکی علمی و فکری جستجو ’دیدبان‘ کے آنے والے شماروں میں نئی جہات کو منظر ائے گی۔۔ خاصے کی بات یہ ہے کہ تینوں خواتین اپنے الگ الگ فطری رحجانات میں یونیک حیثیت کی مالکہ ہیں، نسترن فتیحی کا میدان اگر تنقید ہے (انکی حالیہ تنقیدی کتاب نے ’ایکو فیمینزم‘ نے عالمی شہرت پائی ہے) تو سبین علی تخلیق کے میدان میں ’کتن والی‘ جیسے معرکۃ الآراء افسانے کو جنم دے چکی ہیں۔ سلمیٰ جیلانی گو اپنے تخلیقی جوہر میں یکتا ہیں، لیکن راقم کے ذاتی خیال میں وہ ترجمہ جیسی مشکل اور ٹیکنیکل صنف میں نمایاں کامیابی کے حامل عالمی کام نہ صرف کر چکی ہیں بلکہ مزید کریں گی۔
گواب تک ’دیدبان‘ کا پہلا شمارہ اپنے پورے ادبی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم راقم سمیت قارئین اس آن لائن بلاگ (جریدے) کی عمودی اور افقی سطح کو آسمانِ اردو ادب پر کہیں بلند دیکھنے کے متمنی ہیں۔“
یہ وہ خیالات تھے جو راقم نے دیدبان کے اجراٗ پر کہے تھے۔ آج دیدبان انٹرنیٹ کی دنیائے ادب میں مقبولِ عام ہو چکا ہے۔ اِن خواتین کی مسلسل جد و جہد عین اسی طرح تاریخ میں رقم ہو رہی ہے جس طرح زمانے نے ترقی پسند تحریک کے ابتدائی ادوار میں قراۃ العین، رشید جہاں اور عصمت چغتائی کو سرگرمِ عمل دیکھا۔
دیدبان کا پہلا انتخاب اس سلسلے کی اولین کڑی ہے جس میں وقت کی آواز کو اظہار بخشا گیا ہے۔
ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وقت کے جدید تقاضے، تہذیبی اور سماجی امکانات، شہری زندگی کے پورے علم و عرفان سے آگہی دیتے ہوئے فکری افق اب نئی منزلوں کی تلاش میں ہیں۔ نسائی اور تانیثی احساس و فکر اپنی جگہ مسلم، لیکن متلون اور وحشی سوچ اور فکرِ جدید کے لاینحل مسائل میں ادبی استغراق سے گزر کر ایک طرف لطافت و جمالیات کا اہتمام کرنا اور دوسری طرف من حیث البین القوامی شہری بشارتوں سے آگاہ افراد کے ذوقِ ادب کو افادی علامتوں میں تجسیم کرنا کاردارد ہے۔ ایسے کھٹن ما بعد جدیدیت عہد میں انسانی فکر و طرز احساس کو یقین کی حد تک ا نسانی خمیر میں گندھا ہوا رومانی و جمالیاتی رنگ دینا اور طبقاتی کشمکش میں پسے ہوئے انسان کے لئے ویرانوں کو گلزار بنا دینے کی سعی ”دیدبان“ کی فکری اپج ہے جس سے عہدِ حاضر کے انسان کے گھاؤخود بخود بھرنے لگتے ہیں۔
یہ ابھی ابتدا ہے یقین واثق ہے ہے کہ آنے والے دنوں میں ’دیدبان‘ وقت کی نبض پر انگلیاں رکھتے ہوئے مرض کا تشخیصی چارہ گر بھی ثابت ہوگا۔
’دیدبان‘ کے اس انتخاب میں مجھے پاک و ہند اورعالمی اردو ادب کے چیدہ چیدہ معروف اور عصری تقاضوں پر اترتے ہوئے ان ادباٗ و شعرا کے فن پارے نظر آتے ہیں جن کے فن پارے جہانِ بدن کا سائباں ہیں اور روح کے اضطراب کو سکونِ فہم دیتے ہیں۔ ’دیدبان‘انسانی فکر و جذبات کی طہارت اور عہدِ حاضر کا جمالیاتی اظہار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
23/2/2017
لاہور

