برگشتہ فقیر
برگشتہ فقیر
Sep 23, 2026

افسانہ: برگشتہ فقیر
مصنف: عامر شہزاد
"جسم کی حد اور روح کی وسعت کیا ہے؟"
"مجھے روٹی چاہیے۔" بشر فقیر نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔
"لیکن مجھے جواب کی کھوج ہے۔" اسفند بولا۔
"مگر میرا سوال روٹی ہے۔" فقیر نے پھر کاسہ پھیلا دیا۔
"جسم اور روح کے درمیان کیا ہے؟"
"روٹی۔" بشر فقیر ہنستے ہوئے بولا۔
"روٹی۔۔۔ اور روٹی سے آگے؟"
"آگہی۔"
"ہاں، مگر جسم کی حد اور روح کی وسعت۔۔۔؟"
"میں نہیں جانتا کہ جسموں کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور روح کی سانسیں کہاں پہ رک جاتی ہیں، لیکن مجھے درک ہے کہ جسم روٹی چاہتا ہے اور روح۔۔۔ ناچ۔" فقیر نے بات ختم کی اور کاسہ پھیلا دیا۔ "مجھے روٹی دو۔"
آسمانوں سے پھوٹتی دھوپ نے دھند میں ڈوبے اور کہر میں لپٹے شہرِ بے جاں کے وجود میں حیاتی کا ارتعاش پھونک دیا تھا۔
رات کی سیاہی میں کملائے ہوئے بازار، آدم زادوں کی سانسوں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے کھلکھلا اٹھے تھے۔ غرض مندوں کے اترتے ہوئے بے ہنگم ہجوم میں ایک بوڑھا فقیر، "بشر"، کسی ان کہی بات پر ہنستا، روٹی کے نوالے چباتا، آج پہلی بار اس راہ پر چل رہا تھا جو اپنے راہ رو کو شہر بدر کر دیتی تھی۔
اس شہرِ بے جاں کی گلیوں کی گرد چھانتے ہوئے بشر کو کئی مدتیں بیت چکی تھیں۔
بشر دن چڑھنے سے پہلے مسجد کی سیڑھیوں پر جا بیٹھتا اور شام کی سرمئی پھیل جانے سے کچھ دیر بعد مندر کی سیڑھیوں کے نیچے ایک پرانے، بوسیدہ کمبل میں لیٹ جاتا۔
شہر میں کوئی ایسا بوڑھا یا جوان نہ تھا جس نے بشر کو مسجد میں سجدہ کرتے یا کبھی مندر میں پوجا کرتے دیکھا ہو۔
بشر کون اور اس کا خدا کون تھا، بشر سمیت یہ معمہ کبھی کسی پر منکشف نہ ہوا۔
وہ بوڑھے جنہوں نے پہلی بار بشر کو اس شہر میں دیکھا، وہ تمام مرگ کی تنہائیوں میں کھو چکے تھے، اور بشر کو دیکھتے دیکھتے کتنی ماؤں کے دودھ پیتے بچے جوان ہو چکے تھے۔
سانپ اور پانی کی طرح فقیر کا بھی کوئی دیس نہیں ہوتا۔ اسی شہر کی گلیوں میں، چوراہوں میں اور معبدوں میں بشر نے کئی سانسیں لی تھیں، لیکن آج وہ اس شہر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہا تھا، اور اسفند کے سوال کی بازگشت اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
"جسم کی حد۔۔۔؟ روح کی وسعت۔۔۔؟"
لیکن اب اس کے پاس اس سوال کا جواب روٹی نہیں تھا۔
"اگر روٹی سچ ہے تو جوگ کیا ہے، اور میں سوداگری چھوڑ کر اتنے سالوں سے کیوں بھٹک رہا ہوں؟"
شہر کے بڑے بازار سے پیچھے امرداس کی دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے خیال آیا تھا کہ وہ بھی کبھی ایسے ہی تڑکے اٹھتا اور سوداگری کو نکلتا تھا۔
"وہ وقت جب میں بشر سوداگر تھا، اور یہ وقت جب میں بشر فقیر ہوں، تو فرق کیا ہے؟"
برسوں کی اس ریاضت کے باوجود بھی میرا وجود روٹی کے ایک ٹکڑے سے بے نیاز نہیں ہو سکا۔
ساڑھی کو سمیٹے، کولھے چھنکاتی اور ناف لرزاتی ناڑیوں کو دیکھتے میں اب بھی ہیجان زدہ ہو جاتا ہوں۔
آج بھی۔۔۔ مندر کی سیڑھیوں کے نیچے، بوسیدہ کمبل میں ٹھٹھرتے ہوئے، جب رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلتی ہے اور نیند مجھ سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے، تو میں سالوں پہلے گزری اس رات کے خمار میں کھو جاتا ہوں۔
"دھند میں ڈوبی ماگھ کی پہلی رات کا وہ لمحہ، جب دیپ کی لو صبورا کے آدھ برہنہ بدن پر پڑتی، اور اس کا جوبن روشنی کا منبع محسوس ہوتا، اور وہ ہیجان زدہ نظروں سے مجھے دیکھتی تھی۔
سانسوں کی تیزی سے دھڑکتے اس کے ابھاروں سے میرا ہاتھ بہت نیچے تک پھسل گیا تو اس نے جنسی تلذذ سے بھرپور ایک سرگوشی کی، 'بشر۔۔۔ مجھے تمام سیمائیں پار کرنی ہیں۔'
اور اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان کوئی سیما باقی نہ رہی تھی۔"
جوگ کی تسبیح کا دھاگا ٹوٹ چکا تھا اور نروان کی مٹی اس کی مٹھیوں سے پھسل رہی تھی۔
وہ چیختے ہوئے بولا، "فرق کیا ہے؟"
"شاید ایسا ہی فرق جو مندر اور مسجد کی سیڑھیوں میں ہے۔" راہ چلتا بشر فقیر خود کلامی کرتے ہوئے خود سے گویا ہوا۔
"مگر مجھے تو وہ دونوں سیڑھیاں ایک جیسی لگتی ہیں، دو ایسی راہیں جو کسی اندیکھی حقیقت کی طرف مڑتی ہیں!!!!!"
سچ کی بے مراد راہوں کو کھوجتے بشر کا شباب ڈھل چکا تھا اور حیاتی کی اندھیر راہوں میں صدیوں کی مسافت طے کرتے کرتے اس کا بدن کملا گیا تھا۔
پوہ پھوٹنے، کہر گرنے اور گرمی کی شدت، ایسی بہت سی رتیں اس کے نحیف بدن نے برداشت کی تھیں۔
کبھی کسی شام جب وہ مندر کو لوٹ رہا ہوتا یا کسی گھر کے باہر روٹی کے لیے دستِ سوال پھیلائے ہوئے ہوتا تو پردیس سے دیس کی جانب پلٹتی کونجیں اس کو پھر اسی جگہ پر لا کھڑا کرتیں، جب وہ گھر سے نکل رہا تھا اور نوریہ چیخ چیخ کر اسے نہ جانے کی قسمیں دے رہی تھی، اور اس نے آخری بار چیختے ہوئے کہا،
"صبورا۔۔۔ مجھے حیاتی کے اندھے چرکے کے پھیروں سے مکتی پانی ہے۔"
اور پھر وہ سچ کی بے انت راہوں پر چل نکلا۔ ہمیشہ کے لیے جاتے محبوب کی کمر کو آخری بار دیکھتے ہوئے صبورا نے روتے ہوئے کہا،
"بشر۔۔۔ بشر، زندگی کا سچ جوگ نہیں بلکہ سنجوگ ہے، بشر۔۔۔ مجھے سہاگن نہ چھوڑو۔"
سیماؤں کی لطافتوں سے خود کو معطر کرنے والی نوریہ چیختی رہی،
"بشررر۔۔۔! بشررررررر۔۔۔!"
لیکن بشر سنجوگ کی راہوں کو تیاگتا جوگ کے دشتِ بے مراد میں اتر چکا تھا اور پھر کبھی واپس نہ پلٹا۔
اب بھی جب وہ ڈوبتے سورج کے ساتھ کونجوں کو گھر کی جانب پلٹتے دیکھتا تو صبورا کی آخری دہائی کی بازگشت اس کے کانوں میں گونجنے لگتی۔
اس کے جوگ کے منکے تھرتھرانے اور مقدس خواب بکھرنے لگتے، اور وہ خود سے وہی سوال کرتا جس سوال کی کھوج نے اسے بشر سوداگر سے بشر فقیر بنا دیا تھا۔
بشر فقیر شہر سے باہر نکل کر دکشن کی طرف مڑتی پگڈنڈی پر ہو لیا۔
دو راتیں کٹ گئیں۔۔۔ دو اور۔۔۔ اور نہ جانے پھر کتنی اور۔
پھر ایک صبح شہر سے باہر کچھ چند کوس کی مسافت پر درختوں کے ایک جھنڈ کے نیچے سے بو پھیلنے لگی، ایسی بو جس میں اجل کی ناگواری اور مرگ کی وحشت تھی۔
سمے کے گزرتے پھیر کے ساتھ بو بڑھتی گئی، موت کی ہیبت نے چار سو لپیٹ میں لے لیے۔
پھر سپاہی آئے۔۔۔ چند گھنٹوں کے بعد ایک لاش شہر کے چوراہے میں پڑی تھی۔
شہر میں کہرام مچا تھا، پنچھی پرواز بھول گئے، اسفند چیخ رہا تھا اور شہر کی بوڑھیاں سینہ کوبی کر رہی تھیں۔
"بشر فقیر مرگ کی آغوش میں، نروان سے بے پرواہ، موت کی میٹھی نیند سو رہا تھا۔"
افسانہ: برگشتہ فقیر
مصنف: عامر شہزاد
"جسم کی حد اور روح کی وسعت کیا ہے؟"
"مجھے روٹی چاہیے۔" بشر فقیر نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔
"لیکن مجھے جواب کی کھوج ہے۔" اسفند بولا۔
"مگر میرا سوال روٹی ہے۔" فقیر نے پھر کاسہ پھیلا دیا۔
"جسم اور روح کے درمیان کیا ہے؟"
"روٹی۔" بشر فقیر ہنستے ہوئے بولا۔
"روٹی۔۔۔ اور روٹی سے آگے؟"
"آگہی۔"
"ہاں، مگر جسم کی حد اور روح کی وسعت۔۔۔؟"
"میں نہیں جانتا کہ جسموں کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور روح کی سانسیں کہاں پہ رک جاتی ہیں، لیکن مجھے درک ہے کہ جسم روٹی چاہتا ہے اور روح۔۔۔ ناچ۔" فقیر نے بات ختم کی اور کاسہ پھیلا دیا۔ "مجھے روٹی دو۔"
آسمانوں سے پھوٹتی دھوپ نے دھند میں ڈوبے اور کہر میں لپٹے شہرِ بے جاں کے وجود میں حیاتی کا ارتعاش پھونک دیا تھا۔
رات کی سیاہی میں کملائے ہوئے بازار، آدم زادوں کی سانسوں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے کھلکھلا اٹھے تھے۔ غرض مندوں کے اترتے ہوئے بے ہنگم ہجوم میں ایک بوڑھا فقیر، "بشر"، کسی ان کہی بات پر ہنستا، روٹی کے نوالے چباتا، آج پہلی بار اس راہ پر چل رہا تھا جو اپنے راہ رو کو شہر بدر کر دیتی تھی۔
اس شہرِ بے جاں کی گلیوں کی گرد چھانتے ہوئے بشر کو کئی مدتیں بیت چکی تھیں۔
بشر دن چڑھنے سے پہلے مسجد کی سیڑھیوں پر جا بیٹھتا اور شام کی سرمئی پھیل جانے سے کچھ دیر بعد مندر کی سیڑھیوں کے نیچے ایک پرانے، بوسیدہ کمبل میں لیٹ جاتا۔
شہر میں کوئی ایسا بوڑھا یا جوان نہ تھا جس نے بشر کو مسجد میں سجدہ کرتے یا کبھی مندر میں پوجا کرتے دیکھا ہو۔
بشر کون اور اس کا خدا کون تھا، بشر سمیت یہ معمہ کبھی کسی پر منکشف نہ ہوا۔
وہ بوڑھے جنہوں نے پہلی بار بشر کو اس شہر میں دیکھا، وہ تمام مرگ کی تنہائیوں میں کھو چکے تھے، اور بشر کو دیکھتے دیکھتے کتنی ماؤں کے دودھ پیتے بچے جوان ہو چکے تھے۔
سانپ اور پانی کی طرح فقیر کا بھی کوئی دیس نہیں ہوتا۔ اسی شہر کی گلیوں میں، چوراہوں میں اور معبدوں میں بشر نے کئی سانسیں لی تھیں، لیکن آج وہ اس شہر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہا تھا، اور اسفند کے سوال کی بازگشت اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
"جسم کی حد۔۔۔؟ روح کی وسعت۔۔۔؟"
لیکن اب اس کے پاس اس سوال کا جواب روٹی نہیں تھا۔
"اگر روٹی سچ ہے تو جوگ کیا ہے، اور میں سوداگری چھوڑ کر اتنے سالوں سے کیوں بھٹک رہا ہوں؟"
شہر کے بڑے بازار سے پیچھے امرداس کی دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے خیال آیا تھا کہ وہ بھی کبھی ایسے ہی تڑکے اٹھتا اور سوداگری کو نکلتا تھا۔
"وہ وقت جب میں بشر سوداگر تھا، اور یہ وقت جب میں بشر فقیر ہوں، تو فرق کیا ہے؟"
برسوں کی اس ریاضت کے باوجود بھی میرا وجود روٹی کے ایک ٹکڑے سے بے نیاز نہیں ہو سکا۔
ساڑھی کو سمیٹے، کولھے چھنکاتی اور ناف لرزاتی ناڑیوں کو دیکھتے میں اب بھی ہیجان زدہ ہو جاتا ہوں۔
آج بھی۔۔۔ مندر کی سیڑھیوں کے نیچے، بوسیدہ کمبل میں ٹھٹھرتے ہوئے، جب رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلتی ہے اور نیند مجھ سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے، تو میں سالوں پہلے گزری اس رات کے خمار میں کھو جاتا ہوں۔
"دھند میں ڈوبی ماگھ کی پہلی رات کا وہ لمحہ، جب دیپ کی لو صبورا کے آدھ برہنہ بدن پر پڑتی، اور اس کا جوبن روشنی کا منبع محسوس ہوتا، اور وہ ہیجان زدہ نظروں سے مجھے دیکھتی تھی۔
سانسوں کی تیزی سے دھڑکتے اس کے ابھاروں سے میرا ہاتھ بہت نیچے تک پھسل گیا تو اس نے جنسی تلذذ سے بھرپور ایک سرگوشی کی، 'بشر۔۔۔ مجھے تمام سیمائیں پار کرنی ہیں۔'
اور اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان کوئی سیما باقی نہ رہی تھی۔"
جوگ کی تسبیح کا دھاگا ٹوٹ چکا تھا اور نروان کی مٹی اس کی مٹھیوں سے پھسل رہی تھی۔
وہ چیختے ہوئے بولا، "فرق کیا ہے؟"
"شاید ایسا ہی فرق جو مندر اور مسجد کی سیڑھیوں میں ہے۔" راہ چلتا بشر فقیر خود کلامی کرتے ہوئے خود سے گویا ہوا۔
"مگر مجھے تو وہ دونوں سیڑھیاں ایک جیسی لگتی ہیں، دو ایسی راہیں جو کسی اندیکھی حقیقت کی طرف مڑتی ہیں!!!!!"
سچ کی بے مراد راہوں کو کھوجتے بشر کا شباب ڈھل چکا تھا اور حیاتی کی اندھیر راہوں میں صدیوں کی مسافت طے کرتے کرتے اس کا بدن کملا گیا تھا۔
پوہ پھوٹنے، کہر گرنے اور گرمی کی شدت، ایسی بہت سی رتیں اس کے نحیف بدن نے برداشت کی تھیں۔
کبھی کسی شام جب وہ مندر کو لوٹ رہا ہوتا یا کسی گھر کے باہر روٹی کے لیے دستِ سوال پھیلائے ہوئے ہوتا تو پردیس سے دیس کی جانب پلٹتی کونجیں اس کو پھر اسی جگہ پر لا کھڑا کرتیں، جب وہ گھر سے نکل رہا تھا اور نوریہ چیخ چیخ کر اسے نہ جانے کی قسمیں دے رہی تھی، اور اس نے آخری بار چیختے ہوئے کہا،
"صبورا۔۔۔ مجھے حیاتی کے اندھے چرکے کے پھیروں سے مکتی پانی ہے۔"
اور پھر وہ سچ کی بے انت راہوں پر چل نکلا۔ ہمیشہ کے لیے جاتے محبوب کی کمر کو آخری بار دیکھتے ہوئے صبورا نے روتے ہوئے کہا،
"بشر۔۔۔ بشر، زندگی کا سچ جوگ نہیں بلکہ سنجوگ ہے، بشر۔۔۔ مجھے سہاگن نہ چھوڑو۔"
سیماؤں کی لطافتوں سے خود کو معطر کرنے والی نوریہ چیختی رہی،
"بشررر۔۔۔! بشررررررر۔۔۔!"
لیکن بشر سنجوگ کی راہوں کو تیاگتا جوگ کے دشتِ بے مراد میں اتر چکا تھا اور پھر کبھی واپس نہ پلٹا۔
اب بھی جب وہ ڈوبتے سورج کے ساتھ کونجوں کو گھر کی جانب پلٹتے دیکھتا تو صبورا کی آخری دہائی کی بازگشت اس کے کانوں میں گونجنے لگتی۔
اس کے جوگ کے منکے تھرتھرانے اور مقدس خواب بکھرنے لگتے، اور وہ خود سے وہی سوال کرتا جس سوال کی کھوج نے اسے بشر سوداگر سے بشر فقیر بنا دیا تھا۔
بشر فقیر شہر سے باہر نکل کر دکشن کی طرف مڑتی پگڈنڈی پر ہو لیا۔
دو راتیں کٹ گئیں۔۔۔ دو اور۔۔۔ اور نہ جانے پھر کتنی اور۔
پھر ایک صبح شہر سے باہر کچھ چند کوس کی مسافت پر درختوں کے ایک جھنڈ کے نیچے سے بو پھیلنے لگی، ایسی بو جس میں اجل کی ناگواری اور مرگ کی وحشت تھی۔
سمے کے گزرتے پھیر کے ساتھ بو بڑھتی گئی، موت کی ہیبت نے چار سو لپیٹ میں لے لیے۔
پھر سپاہی آئے۔۔۔ چند گھنٹوں کے بعد ایک لاش شہر کے چوراہے میں پڑی تھی۔
شہر میں کہرام مچا تھا، پنچھی پرواز بھول گئے، اسفند چیخ رہا تھا اور شہر کی بوڑھیاں سینہ کوبی کر رہی تھیں۔
"بشر فقیر مرگ کی آغوش میں، نروان سے بے پرواہ، موت کی میٹھی نیند سو رہا تھا۔"

