ثمینہ سید: عصرِ حاضر کی ایک ہمہ جہت تخلیقی آواز
ثمینہ سید: عصرِ حاضر کی ایک ہمہ جہت تخلیقی آواز
Apr 29, 2026

دیدبان ثمینہ سید نمبر
ثمینہ سید: عصرِ حاضر کی ایک ہمہ جہت تخلیقی آواز
تحریر: نجمہ منصور
ثمینہ سید عصرِ حاضر کی ان باصلاحیت اور ہمہ جہت تخلیق کاروں میں شامل تھیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی اور اسلوب کی ندرت سے اردو ادب کے افق پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ انہوں نے بیک وقت ایک منجھی ہوئی افسانہ نگار، حساس شاعرہ، زیرک مضمون نگار اور ناول نویس کے اپنی منفرد پہچان بنائی ان کے فن کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ وہ زندگی کے پیچیدہ سماجی رویوں سے لے کر انسانی جذبات کی باریک ترین پرتوں تک کو بڑی چابکدستی سے اپنے قلم کے حصار میں لے آتیں۔ ۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اردو دنیا کے معتبر اور نمائندہ ادبی جرائد جیسے ادب دوست، دنیائے ادب، تخلیق، فانوس، شاعر، اردو ڈائجسٹ اور دیدبان میں ان کی نگارشات مستقل بنیادوں پر شائع ہوئیں جو ان کی مقبولیت اور ادبی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ثمینہ سید کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی تدریس کے شعبے سے طویل وابستگی تھی جس نے ان کے مشاہدے کو وسعت اور ان کے قلم کو ایک خاص قسم کا توازن اور متانت عطا کی وہ نہ صرف لکھنے پر قادر تھیں بلکہ صوتی اثرات کے ذریعے بھی اپنے فن کو عوام تک پہنچانے کا ہنر جانتی تھیں ۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے متعدد ڈرامے تحریر کیے جنہوں نے سامعین میں بے حد پزیرائی حاصل کی اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پر اپنے افسانوں کی ریکارڈنگ اور مشاعروں میں اپنے کلام کی پیشکش کے ذریعے بھی ادبی حلقوں میں متحرک رہیں ان کی انتظامی اور تنظیمی صلاحیتیں سیوا انٹرنیشنل جیسی ادبی تنظیم کی نائب صدر کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں جہاں وہ اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے سرگرمِ عمل رہیں ۔
ثمینہ سید کی فکشن نگاری اردو ادب میں ایک ایسی توانا اور منفرد آواز بن کر ابھری جس نے نسائی شعور کو محض روایتی جذباتیت کے پیرائے میں نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی اور سماجی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ان کے افسانوں کے اسلوب میں ایک خاص قسم کی بے ساختگی اور بیانیہ میں ایسی گرفت تھی جو قاری کو کردار کی داخلی دنیا کا حصہ بنا دیتی ہے۔ ان کی تحریروں میں الفاظ کا بہاؤ اور بیان کی روانی محض لسانی کرشمہ سازی نہیں بلکہ اس درد کی عکاسی ہے جو عورت کے وجود میں برسوں سے قید رہا ہے۔ ان کے افسانوں میں جہاں سماجی ناہمواریوں پر احتجاج ملتا ہے وہاں انسانی رشتوں کی نزاکت اور ان کے بکھرنے کا کرب بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔
ان کے فن کی پختگی کا اندازہ ان کی منظر نگاری اور کرداروں کی نفسیاتی تحلیل سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر افسانہ ’’جس تن لاگے‘‘ میں وہ انسانی وجود کے اندرونی ہیجان اور خارجی فطرت کے درمیان ایک گہرا رشتہ استوار کرتی نظر آتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں:
’’وجود میں سامنے پھیلے تاحدِ نگاہ دریا کی لہروں جیسا شور تھا۔ ایک لمحے کو تو دل چاہا خود کو اس کے سپرد کردوں۔ یہ بھی تو دیکھے میری خود سپردگی یہ بھی تو ہار سے شناسائی پائے۔‘‘
یہ اقتباس اس داخلی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک عورت اپنے وجود کے بند ٹوٹتے ہوئے دیکھتی ہے اور سماجی انا و شرافت کے بوجھ تلے دب کر بھی اپنی نفرت کو دریا کے پھیلاؤ سے زیادہ وسیع پاتی ہے۔ یہ فطرت اور انسانی جبلت کا وہ ملاپ ہے جو ثمینہ سید کے فکشن کو معاصرین میں ممتاز کرتا ہے۔
اسی طرح ثمینہ سید کے ہاں عورت کا وہ روپ بھی ملتا ہے جو سماج کے طے شدہ اصولوں اور اخلاقی ضابطوں سے بغاوت کرتا ہے۔ وہ انسانی جذبات کے ان گوشوں کو چھوتی ہیں جنہیں عموماً مصلحت کے پردوں میں چھپا دیا جاتا ہے۔ افسانہ ’’محبوبہ‘‘ میں وہ محبت کے ایک ایسے ہی تلخ اور اذیت ناک پہلو کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں محبت سکون کے بجائے ایک مستقل بے چینی بن جاتی ہے۔ اس افسانے کا یہ ٹکڑا ملاحظہ ہو:
’’ہاں محبت ہے یہ۔ سزا کے جیسی، بددعا کے جیسی، لہو میں زہر کی طرح کڑواہٹ اتارتی، جلاتی ہوئی روز نئی محبت.... اماں تجھے تو اندازا بھی نہیں ہوسکتا کیسا لطف ہے اس محبت میں۔‘‘
یہاں وہ محبت کو ایک نشہ اور ایک چسکے کے طور پر پیش کر کے روایتی رومانوی تصورات کو رد کرتی ہیں اور دکھاتی ہیں کہ کس طرح ایک عورت محبوبہ ہونے کے احساس میں اپنی تباہی کے باوجود ایک عجیب قسم کی لذت پاتی ہے۔
ثمینہ سید کی فکشن نگاری کا کمال یہی ہے کہ انہوں نے بانو قدسیہ اور سلمیٰ اعوان جیسی نامور قلمکاروں سے اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’ردائے محبت‘‘ اور ’’کہانی سفر میں ہے‘‘ دراصل اسی انسانی سفر کی داستانیں ہیں جہاں جذبات کی صداقت اور اسلوب کی ندرت مل کر ایک نیا جہان تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں الفاظ کی چست بندش اور خیالات کو خوبصورت پیرائے میں ڈھالنے کا سلیقہ ان کے وسیع مشاہدے اور گہری علمی وابستگی کا نتیجہ ہے۔
ثمینہ سید کی شاعری کا مطالعہ کریں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کا تخلیقی کینوس داخلی اداسی اور خارجی کرب کے امتزاج سے بنا ہوا ہے۔ ان کے ہاں ہجر کی کیفیات محض ایک جذباتی تجربہ نہیں بلکہ ایک وجودی خلا بن کر ابھرتی ہیں۔ جب وہ کہتی ہیں "قحط سالی سی قحط سالی ہے، دل تری یاد سے بھی خالی ہے" تو یہاں خالی پن کی شدت کو 'قحط' سے تشبیہ دے کر انہوں نے انسانی روح کے اس بانجھ پن کی عکاسی کی ہے جہاں یادوں کے چراغ بھی گل ہو چکے ہوں۔ ان کے اشعار میں چاند محض ایک خوبصورت استعارہ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا کردار بن کر سامنے آتا ہے کبھی وہ اسے اپنی طرح "سوالی" قرار دے کر کائناتی تنہائی کا حصہ بناتی ہیں تو کبھی "آدھا چھپتا ہے آدھا دکھتا ہے، چاند بالکل تمہارے جیسا ہے" کہہ کر محبوب کی پراسرار شخصیت اور بے وفائی کو فطرت کے آئینے میں دیکھتی ہیں۔
ان کی شاعری میں حیرت اور تبدیلی کا عنصر بھی نمایاں ہے خاص طور پر وہ مقام جہاں وہ وجود کی کایا پلٹ کا ذکر کرتی ہیں کہ "دل دشت کی صورت تھا سمندر ہوا کیسے، سرسبز خزاں زاد مقدر ہوا کیسے"۔ یہ شعر کسی بڑی باطنی تبدیلی کی گواہی دیتا ہے جہاں محرومیوں کا مارا ہوا شخص اچانک اپنی فطرت میں وسعت اور شادابی محسوس کرنے لگتا ہے۔ ثمینہ سید صرف اپنی ذات کے حصار میں مقید نہیں رہیں بلکہ سماجی شعور اور انسانی اقدار کا تحفظ بھی ان کے ہاں ایک اہم موضوع ہے۔ "کہیں ایسا نہ ہو گھر کا شجر تقسیم ہو جائے" جیسے مصرعے میں وہ خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور مادی ہوس کے نتیجے میں بکھرتے ہوئے ورثے پر نوحہ کناں نظر آتی ہیں۔ ان کے نزدیک ہوس وہ زہر ہے جو آنکھوں کو خون رلاتی ہے جبکہ محبت وہ واحد فصل ہے جو اگر عالم گیر سطح پر تقسیم ہو جائے تو نفرت کی آگ کو ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا کر سکتی ہے جیسا کہ وہ کہتی ہیں "محبت سارے عالم میں اگر تقسیم ہو جائے"۔
ثمینہ کی شاعری کا ایک طاقتور پہلو ان کا حقیقت پسندانہ لب و لہجہ ہے جہاں وہ استعاروں کی اوٹ سے نکل کر تلخ زمینی حقائق کو براہِ راست مخاطب کرتی ہیں۔ جب وہ کہتی ہیں "آسماں والے کچھ خبر بھی ہے، بھوک اگنے لگی ہے کھیتوں میں" تو یہ محض شاعری نہیں بلکہ ایک تڑپتا ہوا سماجی سوال ہے جو کائنات کے نظام اور انسانی بے حسی پر ضرب لگاتا ہے۔ ان کے اشعار میں خوابوں کی چوری سے لے کر کھیتوں میں بھوک اگنے تک کا سفر ایک حساس شاعرہ کے اس اضطراب کو ظاہر کرتا ہے جو فرد سے شروع ہو کر پوری انسانیت کے دکھوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر ان کا کلام نرم و نازک جذبات اور سخت سماجی حقائق کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں لفظ اپنی تاثیر سے قاری کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔
ان کے تخلیقی سفر کا نچوڑ ان کی مطبوعہ کتب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے جو ان کے تنوع پسندی کی گواہ ہیں۔ ان کا ناول ’’ابھی کچھ خواب باقی ہیں‘‘ خوابوں اور حقیقتوں کے درمیان جاری کشمکش کی کہانی ہے جبکہ ان کا ناولٹ ’’وہ کافر‘‘ اپنے اچھوتے موضوع کی بنا پر توجہ حاصل کرتا ہے۔ افسانوی ادب میں ان کے مجموعے ’’ردائے محبت‘‘ اور ’’کہانی سفر میں ہے‘‘ انسانی رشتوں، سماجی ناانصافیوں اور محبت کے بدلتے رنگوں کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔ شاعری میں ان کا مجموعہ ’’ہجر کے بہاؤ میں‘‘ اور ’’وحشت‘‘ ان کے دل گرفتہ لہجے اور گہری جذباتی وابستگی کا مظہر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب ’’ان سے ملیے‘‘ معاصر ادب پر ان کی گہری نظر کو واضح کرتی ہے۔ مجموعی طور پر ثمینہ سید کی ادبی خدمات اردو ادب کے سرمائے میں ایک گراں قدر اضافہ ہیں جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
ثمینہ سید آج وجودی لحاظ سے ہم میں موجود نہیں ہیں مگر وہ اپنی تحریروں کی صورت ہمیشہ زندہ رہیں گی ہمارے دلوں ، ہماری یادوں اور ہماری دعاؤں میں بھی ۔
دیدبان ثمینہ سید نمبر
ثمینہ سید: عصرِ حاضر کی ایک ہمہ جہت تخلیقی آواز
تحریر: نجمہ منصور
ثمینہ سید عصرِ حاضر کی ان باصلاحیت اور ہمہ جہت تخلیق کاروں میں شامل تھیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی اور اسلوب کی ندرت سے اردو ادب کے افق پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ انہوں نے بیک وقت ایک منجھی ہوئی افسانہ نگار، حساس شاعرہ، زیرک مضمون نگار اور ناول نویس کے اپنی منفرد پہچان بنائی ان کے فن کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ وہ زندگی کے پیچیدہ سماجی رویوں سے لے کر انسانی جذبات کی باریک ترین پرتوں تک کو بڑی چابکدستی سے اپنے قلم کے حصار میں لے آتیں۔ ۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیا گیا یہی وجہ ہے کہ اردو دنیا کے معتبر اور نمائندہ ادبی جرائد جیسے ادب دوست، دنیائے ادب، تخلیق، فانوس، شاعر، اردو ڈائجسٹ اور دیدبان میں ان کی نگارشات مستقل بنیادوں پر شائع ہوئیں جو ان کی مقبولیت اور ادبی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ثمینہ سید کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی تدریس کے شعبے سے طویل وابستگی تھی جس نے ان کے مشاہدے کو وسعت اور ان کے قلم کو ایک خاص قسم کا توازن اور متانت عطا کی وہ نہ صرف لکھنے پر قادر تھیں بلکہ صوتی اثرات کے ذریعے بھی اپنے فن کو عوام تک پہنچانے کا ہنر جانتی تھیں ۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے متعدد ڈرامے تحریر کیے جنہوں نے سامعین میں بے حد پزیرائی حاصل کی اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پر اپنے افسانوں کی ریکارڈنگ اور مشاعروں میں اپنے کلام کی پیشکش کے ذریعے بھی ادبی حلقوں میں متحرک رہیں ان کی انتظامی اور تنظیمی صلاحیتیں سیوا انٹرنیشنل جیسی ادبی تنظیم کی نائب صدر کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں جہاں وہ اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے سرگرمِ عمل رہیں ۔
ثمینہ سید کی فکشن نگاری اردو ادب میں ایک ایسی توانا اور منفرد آواز بن کر ابھری جس نے نسائی شعور کو محض روایتی جذباتیت کے پیرائے میں نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی اور سماجی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ان کے افسانوں کے اسلوب میں ایک خاص قسم کی بے ساختگی اور بیانیہ میں ایسی گرفت تھی جو قاری کو کردار کی داخلی دنیا کا حصہ بنا دیتی ہے۔ ان کی تحریروں میں الفاظ کا بہاؤ اور بیان کی روانی محض لسانی کرشمہ سازی نہیں بلکہ اس درد کی عکاسی ہے جو عورت کے وجود میں برسوں سے قید رہا ہے۔ ان کے افسانوں میں جہاں سماجی ناہمواریوں پر احتجاج ملتا ہے وہاں انسانی رشتوں کی نزاکت اور ان کے بکھرنے کا کرب بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔
ان کے فن کی پختگی کا اندازہ ان کی منظر نگاری اور کرداروں کی نفسیاتی تحلیل سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر افسانہ ’’جس تن لاگے‘‘ میں وہ انسانی وجود کے اندرونی ہیجان اور خارجی فطرت کے درمیان ایک گہرا رشتہ استوار کرتی نظر آتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں:
’’وجود میں سامنے پھیلے تاحدِ نگاہ دریا کی لہروں جیسا شور تھا۔ ایک لمحے کو تو دل چاہا خود کو اس کے سپرد کردوں۔ یہ بھی تو دیکھے میری خود سپردگی یہ بھی تو ہار سے شناسائی پائے۔‘‘
یہ اقتباس اس داخلی کشمکش کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک عورت اپنے وجود کے بند ٹوٹتے ہوئے دیکھتی ہے اور سماجی انا و شرافت کے بوجھ تلے دب کر بھی اپنی نفرت کو دریا کے پھیلاؤ سے زیادہ وسیع پاتی ہے۔ یہ فطرت اور انسانی جبلت کا وہ ملاپ ہے جو ثمینہ سید کے فکشن کو معاصرین میں ممتاز کرتا ہے۔
اسی طرح ثمینہ سید کے ہاں عورت کا وہ روپ بھی ملتا ہے جو سماج کے طے شدہ اصولوں اور اخلاقی ضابطوں سے بغاوت کرتا ہے۔ وہ انسانی جذبات کے ان گوشوں کو چھوتی ہیں جنہیں عموماً مصلحت کے پردوں میں چھپا دیا جاتا ہے۔ افسانہ ’’محبوبہ‘‘ میں وہ محبت کے ایک ایسے ہی تلخ اور اذیت ناک پہلو کو بے نقاب کرتی ہیں جہاں محبت سکون کے بجائے ایک مستقل بے چینی بن جاتی ہے۔ اس افسانے کا یہ ٹکڑا ملاحظہ ہو:
’’ہاں محبت ہے یہ۔ سزا کے جیسی، بددعا کے جیسی، لہو میں زہر کی طرح کڑواہٹ اتارتی، جلاتی ہوئی روز نئی محبت.... اماں تجھے تو اندازا بھی نہیں ہوسکتا کیسا لطف ہے اس محبت میں۔‘‘
یہاں وہ محبت کو ایک نشہ اور ایک چسکے کے طور پر پیش کر کے روایتی رومانوی تصورات کو رد کرتی ہیں اور دکھاتی ہیں کہ کس طرح ایک عورت محبوبہ ہونے کے احساس میں اپنی تباہی کے باوجود ایک عجیب قسم کی لذت پاتی ہے۔
ثمینہ سید کی فکشن نگاری کا کمال یہی ہے کہ انہوں نے بانو قدسیہ اور سلمیٰ اعوان جیسی نامور قلمکاروں سے اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’ردائے محبت‘‘ اور ’’کہانی سفر میں ہے‘‘ دراصل اسی انسانی سفر کی داستانیں ہیں جہاں جذبات کی صداقت اور اسلوب کی ندرت مل کر ایک نیا جہان تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں الفاظ کی چست بندش اور خیالات کو خوبصورت پیرائے میں ڈھالنے کا سلیقہ ان کے وسیع مشاہدے اور گہری علمی وابستگی کا نتیجہ ہے۔
ثمینہ سید کی شاعری کا مطالعہ کریں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کا تخلیقی کینوس داخلی اداسی اور خارجی کرب کے امتزاج سے بنا ہوا ہے۔ ان کے ہاں ہجر کی کیفیات محض ایک جذباتی تجربہ نہیں بلکہ ایک وجودی خلا بن کر ابھرتی ہیں۔ جب وہ کہتی ہیں "قحط سالی سی قحط سالی ہے، دل تری یاد سے بھی خالی ہے" تو یہاں خالی پن کی شدت کو 'قحط' سے تشبیہ دے کر انہوں نے انسانی روح کے اس بانجھ پن کی عکاسی کی ہے جہاں یادوں کے چراغ بھی گل ہو چکے ہوں۔ ان کے اشعار میں چاند محض ایک خوبصورت استعارہ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا کردار بن کر سامنے آتا ہے کبھی وہ اسے اپنی طرح "سوالی" قرار دے کر کائناتی تنہائی کا حصہ بناتی ہیں تو کبھی "آدھا چھپتا ہے آدھا دکھتا ہے، چاند بالکل تمہارے جیسا ہے" کہہ کر محبوب کی پراسرار شخصیت اور بے وفائی کو فطرت کے آئینے میں دیکھتی ہیں۔
ان کی شاعری میں حیرت اور تبدیلی کا عنصر بھی نمایاں ہے خاص طور پر وہ مقام جہاں وہ وجود کی کایا پلٹ کا ذکر کرتی ہیں کہ "دل دشت کی صورت تھا سمندر ہوا کیسے، سرسبز خزاں زاد مقدر ہوا کیسے"۔ یہ شعر کسی بڑی باطنی تبدیلی کی گواہی دیتا ہے جہاں محرومیوں کا مارا ہوا شخص اچانک اپنی فطرت میں وسعت اور شادابی محسوس کرنے لگتا ہے۔ ثمینہ سید صرف اپنی ذات کے حصار میں مقید نہیں رہیں بلکہ سماجی شعور اور انسانی اقدار کا تحفظ بھی ان کے ہاں ایک اہم موضوع ہے۔ "کہیں ایسا نہ ہو گھر کا شجر تقسیم ہو جائے" جیسے مصرعے میں وہ خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور مادی ہوس کے نتیجے میں بکھرتے ہوئے ورثے پر نوحہ کناں نظر آتی ہیں۔ ان کے نزدیک ہوس وہ زہر ہے جو آنکھوں کو خون رلاتی ہے جبکہ محبت وہ واحد فصل ہے جو اگر عالم گیر سطح پر تقسیم ہو جائے تو نفرت کی آگ کو ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا کر سکتی ہے جیسا کہ وہ کہتی ہیں "محبت سارے عالم میں اگر تقسیم ہو جائے"۔
ثمینہ کی شاعری کا ایک طاقتور پہلو ان کا حقیقت پسندانہ لب و لہجہ ہے جہاں وہ استعاروں کی اوٹ سے نکل کر تلخ زمینی حقائق کو براہِ راست مخاطب کرتی ہیں۔ جب وہ کہتی ہیں "آسماں والے کچھ خبر بھی ہے، بھوک اگنے لگی ہے کھیتوں میں" تو یہ محض شاعری نہیں بلکہ ایک تڑپتا ہوا سماجی سوال ہے جو کائنات کے نظام اور انسانی بے حسی پر ضرب لگاتا ہے۔ ان کے اشعار میں خوابوں کی چوری سے لے کر کھیتوں میں بھوک اگنے تک کا سفر ایک حساس شاعرہ کے اس اضطراب کو ظاہر کرتا ہے جو فرد سے شروع ہو کر پوری انسانیت کے دکھوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر ان کا کلام نرم و نازک جذبات اور سخت سماجی حقائق کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں لفظ اپنی تاثیر سے قاری کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔
ان کے تخلیقی سفر کا نچوڑ ان کی مطبوعہ کتب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے جو ان کے تنوع پسندی کی گواہ ہیں۔ ان کا ناول ’’ابھی کچھ خواب باقی ہیں‘‘ خوابوں اور حقیقتوں کے درمیان جاری کشمکش کی کہانی ہے جبکہ ان کا ناولٹ ’’وہ کافر‘‘ اپنے اچھوتے موضوع کی بنا پر توجہ حاصل کرتا ہے۔ افسانوی ادب میں ان کے مجموعے ’’ردائے محبت‘‘ اور ’’کہانی سفر میں ہے‘‘ انسانی رشتوں، سماجی ناانصافیوں اور محبت کے بدلتے رنگوں کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔ شاعری میں ان کا مجموعہ ’’ہجر کے بہاؤ میں‘‘ اور ’’وحشت‘‘ ان کے دل گرفتہ لہجے اور گہری جذباتی وابستگی کا مظہر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب ’’ان سے ملیے‘‘ معاصر ادب پر ان کی گہری نظر کو واضح کرتی ہے۔ مجموعی طور پر ثمینہ سید کی ادبی خدمات اردو ادب کے سرمائے میں ایک گراں قدر اضافہ ہیں جو قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔
ثمینہ سید آج وجودی لحاظ سے ہم میں موجود نہیں ہیں مگر وہ اپنی تحریروں کی صورت ہمیشہ زندہ رہیں گی ہمارے دلوں ، ہماری یادوں اور ہماری دعاؤں میں بھی ۔

