شاہد رضوی کا شعری مجموعہ : “اندازِ سخن" ایک جائزہ

شاہد رضوی کا شعری مجموعہ : “اندازِ سخن" ایک جائزہ

Mar 15, 2025

مصنف

نسترن احسن فتیحی

شاہد رضوی کا شعری مجموعہ : “اندازِ سخن" ایک جائزہ

نسترن احسن فتیحی

مرتب : رعنا رضوی

صفحات : 655

پبلشر: میٹر لنک لکھنؤ

شاہد رضوی ایک ممتاز ترقی پسند شاعر تھے، جنہوں نے اپنی زندگی اور شاعری کے ذریعے ظلم و استحصال کے خلاف آواز بلند کی اور مظلوموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی شاعری میں سماجی انصاف، محنت کش طبقے کی جدوجہد، اور انسان دوستی کے گہرے جذبات نمایاں ہیں۔ شاہد رضوی کا شمار ان ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے جو نہ صرف قلم کے ذریعے بلکہ عملی طور پر بھی سماجی تبدیلی کے لیے کوشاں رہے۔ شاہد رضوی کی ترقی پسندی محض نظریاتی نہیں تھی، بلکہ وہ ایک "کمیٹڈ" (مکمل طور پر وقف) ترقی پسند تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف ظالموں کی مذمت کی بلکہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائی۔ ان کی شاعری میں محنت کش طبقے کی مشکلات، ان کی امیدیں، اور ان کے خوابوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ شاہد رضوی کی ترقی پسندی کا یہ پہلو انہیں اپنے دور کے دوسرے ترقی پسند شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔

اندازِ سخن" شاعر شاہد رضوی کا شعری مجموعہ ہے جسے ان کی بیٹی رعنا رضوی نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں شاہد رضوی کے دو مشہور شعری مجموعے "دشت حیراں" اور "شہر وفا" کے علاوہ ان کا غیر مطبوعہ کلام "قبائے جنوں" بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کتاب میں کامریڈ امام علی نازش، کامریڈ وارث رضا، اور ڈاکٹر شبیر آزاد کے مضامین بھی شامل ہیں، جو شاہد رضوی کی شخصیت، ان کی جدوجہد، اور ان کی شاعری کے بارے میں گہرائی سے روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ مضامین شاہد رضوی کے فکری اور عملی زندگی کے اہم گوشوں کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی شاعری کے پیچھے کارفرما جذبات، مقاصد اور سماجی شعور کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

1. کامریڈ امام علی نازش کا مضمون:

امام علی نازش نے شاہد رضوی کی شخصیت اور ان کی جدوجہد کو اپنے مضمون میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے شاہد رضوی کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا ہے جو نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ ایک فعال سماجی کارکن، ٹریڈ یونین کے رہنما، اور مزدور طبقے کے حقوق کے لیے لڑنے والے مجاہد بھی تھے۔ نازش نے شاہد رضوی کی شاعری کو ان کی جدوجہد کا آئینہ قرار دیا ہے، جس میں محنت کش عوام کی مشکلات، ان کی امیدیں، اور ان کے خوابوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہد رضوی کا عشق زندگی کے حسن سے اور محنت کش عوام کی جدوجہد سے لامحدود تھا، جو ان کی شاعری میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔

2. کامریڈ وارث رضا کا مضمون:

کامریڈ وارث رضا نے شاہد رضوی کی شاعری کے نظریاتی اور فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ شاہد رضوی کے سینئر نظریاتی ساتھی تھے، اور انہوں نے اپنے مضمون میں شاہد رضوی کی شاعری کو سماجی تبدیلی اور انقلاب کا ایک ذریعہ قرار دیا ہے۔ وارث رضا نے شاہد رضوی کی شاعری میں موجود طنز و مزاح، ان کی حساسیت، اور ان کے درد مند دل کی عکاسی کو سراہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہد رضوی کی شاعری نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی جدوجہد کی ترجمانی کرتی ہے۔

3. ڈاکٹر شبیر آزاد کا مضمون:

ڈاکٹر شبیر آزاد نے اپنے مضمون میں شاہد رضوی کی شاعری کے ادبی اور تحقیقی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کےتحقیقی مقالے میں شاہد رضوی کے شعری مجموعوں "دشت حیراں" اور "شہر وفا" کو شامل کیا تھا۔ ڈاکٹر شبیر آزاد نے شاہد رضوی کی شاعری کی فنی خوبیوں، ان کے منفرد اسلوب، اور ان کے کلام میں موجود گہرے جذباتی اور فکری عناصر کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہد رضوی کی شاعری نہ صرف ادبی بلکہ سماجی اور سیاسی لحاظ سے بھی اہم ہے۔

4. مجموعی جائزہ:

یہ مضامین شاہد رضوی کی شخصیت اور ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان مضامین کے ذریعے قاری کو شاہد رضوی کی شاعری کے پیچھے کارفرما جذبات، مقاصد، اور سماجی شعور کا گہرا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ یہ مضامین نہ صرف شاہد رضوی کے فن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ ان کی جدوجہد اور ان کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔

زیر نظر کلیات:

جیسا کہ پہلےبھی بیان ہوا ہے کہ شاہد رضوی کی کلیات میں ان کے دو مشہور شعری مجموعے "شہر وفا" اور "دشت حیراں" شامل ہیں۔ ان کے علاوہ، اس کلیات میں ان کا غیر مطبوعہ کلام "قبائے جنوں" کے نام سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ کلیات شاہد رضوی کے فن اور جدوجہد کا ایک جامع مجموعہ ہے، جو ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔

1. "شہر وفا":

یہ مجموعہ شاہد رضوی کی شاعری کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے جو محبت، وفا، اور انسان دوستی کے جذبات سے لبریز ہیں۔ اس میں ان کی غزلیں اور نظمیں شامل ہیں، جو نہ صرف جذباتی بلکہ فکری لحاظ سے بھی گہری ہیں۔

2. "دشت حیراں":

یہ مجموعہ شاہد رضوی کی شاعری کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے جو سماجی انصاف، محنت کش طبقے کی جدوجہد، اور ظلم و استحصال کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اس میں ان کی نظمیں اور غزلیں شامل ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی جدوجہد کی ترجمانی کرتی ہیں۔

3. "قبائے جنوں":

یہ شاہد رضوی کا غیر مطبوعہ کلام ہے، جو ان کی کلیات میں پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔ اس میں ان کی وہ نظمیں اور غزلیں شامل ہیں جو ان کی ڈائریوں اور چھوٹے چھوٹے کاغذوں پر لکھی ہوئی تھیں۔ یہ کلام شاہد رضوی کے فن کے نئے پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے اور ان کی شاعری کی گہرائی اور وسعت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

کتاب کے آخر میں "شاعر بقلم خود" کے عنوان سے ایک خاص سیکشن شامل کیا گیا ہے، جس میں شاہد رضوی کی ہاتھ سے لکھی ہوئی غزلوں کے اسکرین شارٹس پیش کیے گئے ہیں۔ ان کا ایک شعر دیکھیے

"نہ خدائی نہ بندگی کا ذوق

کتنا مشکل ہے آدمی ہونا"

شاہد رضوی کہتے ہیں کہ انسان کو نہ تو تکبر اور غرور (خدائی) کا شوق ہونا چاہیے، اور نہ ہی محکومی اور غلامی (بندگی) کا رجحان۔ دونوں ہی رویے انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں "آدمی" بنے، یعنی وہ انسانیت کے اعلیٰ اقدار کو اپنائے، جو بے حد مشکل کام ہے۔

فلسفیانہ پہلو:

یہ شعر انسانیت کے بنیادی اقدار پر روشنی ڈالتا ہے۔ شاہد رضوی کے مطابق، انسان کو نہ تو تکبر کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکنا چاہیے۔ بلکہ، انسان کو ایک متوازن اور باعزت زندگی گزارنی چاہیے، جو انسانیت کے اعلیٰ معیارات پر پورا اترے۔ یہ کام بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن عملی طور پر بے حد مشکل ہے۔

سماجی پہلو:

شاہد رضوی نے اس شعر کے ذریعے سماجی عدم مساوات اور انسانوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کو بھی نشاندہی کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان کو نہ تو ظالم بننا چاہیے اور نہ ہی مظلوم۔ بلکہ، انسان کو انصاف، مساوات، اور انسانیت کے اصولوں پر چلنا چاہیے۔ یہی حقیقی انسانیت ہے، جو حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

شاہد رضوی نے اس شعر میں سادہ لفظوں کے ذریعے گہرے مفہوم کو بیان کیا ہے۔ "نہ خدائی نہ بندگی" کے ذریعے شاعر نے دو انتہاؤں کو نمایاں کیا ہے، اور پھر "آدمی ہونا" کے ذریعے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

یہ شعر انسانیت کے اعلیٰ اقدار کو اپنانے کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کے مطابق، انسان کو نہ تو تکبر کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکنا چاہیے۔ بلکہ، انسان کو ایک متوازن اور باعزت زندگی گزارنی چاہیے، جو انسانیت کے اعلیٰ معیارات پر پورا اترے۔ یہ کام بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن عملی طور پر بے حد مشکل ہے۔ شاعر نے اس شعر کے ذریعے ا

اُس دور کے ترقّی پسندوں اور آج کے ترقّی پسندوں میں فرق:

شاہد رضوی جیسے ترقی پسند شعرا کا دور وہ تھا جب ترقی پسندی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی جدوجہد تھی۔ وہ شعرا جو اس دور میں ترقی پسند تھے، وہ نہ صرف قلم کے ذریعے بلکہ عملی طور پر بھی سماجی تبدیلی کے لیے کوشاں رہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف ظلم و استحصال کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ محنت کش طبقے کی جدوجہد میں بھی فعال طور پر حصہ لیا۔

آج کے ترقی پسند شعرا میں سے کچھ ایسے ہیں جو شاہد رضوی جیسے مکمل طور پر وقف ترقی پسند ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جن کی ترقی پسندی محض نظریاتی ہے اور وہ عملی جدوجہد سے دور ہیں۔ شاہد رضوی جیسے شعرا کی شاعری نہ صرف جذباتی بلکہ فکری لحاظ سے بھی گہری ہوتی تھی، جبکہ آج کے کچھ ترقی پسند شعرا کی شاعری میں یہ گہرائی اور عملی جدوجہد کا عنصر کم نظر آتا ہے۔

شاہد رضوی کی کلیات ان کی شاعری اور جدوجہد کا ایک جامع مجموعہ ہے، جو نہ صرف ان کے فن کو خراج تحسین پیش کرتی ہے بلکہ ان کی ترقی پسندی اور سماجی انصاف کے لیے ان کی لگن کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ کلیات شاہد رضوی جیسے مکمل طور پر وقف ترقی پسند شعرا کی یاد دلاتی ہے، جو نہ صرف قلم کے ذریعے بلکہ عملی طور پر بھی سماجی تبدیلی کے لیے کوشاں رہے۔

شاہد رضوی کی شاعری محنت کش طبقے کی جدوجہد، سماجی انصاف، اور زندگی کے حسن سے لبریز ہے۔ ان کی نظمیں اور غزلیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے اہم واقعات اور تحریکوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس شعری مجموعہ کی اشاعت میں میثر لنک پبلشر کے ذکریا صاحب کا بے مثال تعاون شامل نظر آتا ہے ، شاید اس کے بغیر یہ کتاب منظر عام پر نہیں آسکتی تھی۔

"اندازِ سخن" نہ صرف شاہد رضوی کے فن کو خراج تحسین پیش کرتی ہے بلکہ ان کی جدوجہد اور ان کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو شاعری، سماجی انصاف، اور انسانی جدوجہد سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

…………….

شاہد رضوی کا شعری مجموعہ : “اندازِ سخن" ایک جائزہ

نسترن احسن فتیحی

مرتب : رعنا رضوی

صفحات : 655

پبلشر: میٹر لنک لکھنؤ

شاہد رضوی ایک ممتاز ترقی پسند شاعر تھے، جنہوں نے اپنی زندگی اور شاعری کے ذریعے ظلم و استحصال کے خلاف آواز بلند کی اور مظلوموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی شاعری میں سماجی انصاف، محنت کش طبقے کی جدوجہد، اور انسان دوستی کے گہرے جذبات نمایاں ہیں۔ شاہد رضوی کا شمار ان ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے جو نہ صرف قلم کے ذریعے بلکہ عملی طور پر بھی سماجی تبدیلی کے لیے کوشاں رہے۔ شاہد رضوی کی ترقی پسندی محض نظریاتی نہیں تھی، بلکہ وہ ایک "کمیٹڈ" (مکمل طور پر وقف) ترقی پسند تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف ظالموں کی مذمت کی بلکہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائی۔ ان کی شاعری میں محنت کش طبقے کی مشکلات، ان کی امیدیں، اور ان کے خوابوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ شاہد رضوی کی ترقی پسندی کا یہ پہلو انہیں اپنے دور کے دوسرے ترقی پسند شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔

اندازِ سخن" شاعر شاہد رضوی کا شعری مجموعہ ہے جسے ان کی بیٹی رعنا رضوی نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں شاہد رضوی کے دو مشہور شعری مجموعے "دشت حیراں" اور "شہر وفا" کے علاوہ ان کا غیر مطبوعہ کلام "قبائے جنوں" بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کتاب میں کامریڈ امام علی نازش، کامریڈ وارث رضا، اور ڈاکٹر شبیر آزاد کے مضامین بھی شامل ہیں، جو شاہد رضوی کی شخصیت، ان کی جدوجہد، اور ان کی شاعری کے بارے میں گہرائی سے روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ مضامین شاہد رضوی کے فکری اور عملی زندگی کے اہم گوشوں کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی شاعری کے پیچھے کارفرما جذبات، مقاصد اور سماجی شعور کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

1. کامریڈ امام علی نازش کا مضمون:

امام علی نازش نے شاہد رضوی کی شخصیت اور ان کی جدوجہد کو اپنے مضمون میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے شاہد رضوی کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کیا ہے جو نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ ایک فعال سماجی کارکن، ٹریڈ یونین کے رہنما، اور مزدور طبقے کے حقوق کے لیے لڑنے والے مجاہد بھی تھے۔ نازش نے شاہد رضوی کی شاعری کو ان کی جدوجہد کا آئینہ قرار دیا ہے، جس میں محنت کش عوام کی مشکلات، ان کی امیدیں، اور ان کے خوابوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہد رضوی کا عشق زندگی کے حسن سے اور محنت کش عوام کی جدوجہد سے لامحدود تھا، جو ان کی شاعری میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔

2. کامریڈ وارث رضا کا مضمون:

کامریڈ وارث رضا نے شاہد رضوی کی شاعری کے نظریاتی اور فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ شاہد رضوی کے سینئر نظریاتی ساتھی تھے، اور انہوں نے اپنے مضمون میں شاہد رضوی کی شاعری کو سماجی تبدیلی اور انقلاب کا ایک ذریعہ قرار دیا ہے۔ وارث رضا نے شاہد رضوی کی شاعری میں موجود طنز و مزاح، ان کی حساسیت، اور ان کے درد مند دل کی عکاسی کو سراہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہد رضوی کی شاعری نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی جدوجہد کی ترجمانی کرتی ہے۔

3. ڈاکٹر شبیر آزاد کا مضمون:

ڈاکٹر شبیر آزاد نے اپنے مضمون میں شاہد رضوی کی شاعری کے ادبی اور تحقیقی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کےتحقیقی مقالے میں شاہد رضوی کے شعری مجموعوں "دشت حیراں" اور "شہر وفا" کو شامل کیا تھا۔ ڈاکٹر شبیر آزاد نے شاہد رضوی کی شاعری کی فنی خوبیوں، ان کے منفرد اسلوب، اور ان کے کلام میں موجود گہرے جذباتی اور فکری عناصر کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہد رضوی کی شاعری نہ صرف ادبی بلکہ سماجی اور سیاسی لحاظ سے بھی اہم ہے۔

4. مجموعی جائزہ:

یہ مضامین شاہد رضوی کی شخصیت اور ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان مضامین کے ذریعے قاری کو شاہد رضوی کی شاعری کے پیچھے کارفرما جذبات، مقاصد، اور سماجی شعور کا گہرا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ یہ مضامین نہ صرف شاہد رضوی کے فن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ ان کی جدوجہد اور ان کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔

زیر نظر کلیات:

جیسا کہ پہلےبھی بیان ہوا ہے کہ شاہد رضوی کی کلیات میں ان کے دو مشہور شعری مجموعے "شہر وفا" اور "دشت حیراں" شامل ہیں۔ ان کے علاوہ، اس کلیات میں ان کا غیر مطبوعہ کلام "قبائے جنوں" کے نام سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ کلیات شاہد رضوی کے فن اور جدوجہد کا ایک جامع مجموعہ ہے، جو ان کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔

1. "شہر وفا":

یہ مجموعہ شاہد رضوی کی شاعری کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے جو محبت، وفا، اور انسان دوستی کے جذبات سے لبریز ہیں۔ اس میں ان کی غزلیں اور نظمیں شامل ہیں، جو نہ صرف جذباتی بلکہ فکری لحاظ سے بھی گہری ہیں۔

2. "دشت حیراں":

یہ مجموعہ شاہد رضوی کی شاعری کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے جو سماجی انصاف، محنت کش طبقے کی جدوجہد، اور ظلم و استحصال کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ اس میں ان کی نظمیں اور غزلیں شامل ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی جدوجہد کی ترجمانی کرتی ہیں۔

3. "قبائے جنوں":

یہ شاہد رضوی کا غیر مطبوعہ کلام ہے، جو ان کی کلیات میں پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔ اس میں ان کی وہ نظمیں اور غزلیں شامل ہیں جو ان کی ڈائریوں اور چھوٹے چھوٹے کاغذوں پر لکھی ہوئی تھیں۔ یہ کلام شاہد رضوی کے فن کے نئے پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے اور ان کی شاعری کی گہرائی اور وسعت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

کتاب کے آخر میں "شاعر بقلم خود" کے عنوان سے ایک خاص سیکشن شامل کیا گیا ہے، جس میں شاہد رضوی کی ہاتھ سے لکھی ہوئی غزلوں کے اسکرین شارٹس پیش کیے گئے ہیں۔ ان کا ایک شعر دیکھیے

"نہ خدائی نہ بندگی کا ذوق

کتنا مشکل ہے آدمی ہونا"

شاہد رضوی کہتے ہیں کہ انسان کو نہ تو تکبر اور غرور (خدائی) کا شوق ہونا چاہیے، اور نہ ہی محکومی اور غلامی (بندگی) کا رجحان۔ دونوں ہی رویے انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں "آدمی" بنے، یعنی وہ انسانیت کے اعلیٰ اقدار کو اپنائے، جو بے حد مشکل کام ہے۔

فلسفیانہ پہلو:

یہ شعر انسانیت کے بنیادی اقدار پر روشنی ڈالتا ہے۔ شاہد رضوی کے مطابق، انسان کو نہ تو تکبر کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکنا چاہیے۔ بلکہ، انسان کو ایک متوازن اور باعزت زندگی گزارنی چاہیے، جو انسانیت کے اعلیٰ معیارات پر پورا اترے۔ یہ کام بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن عملی طور پر بے حد مشکل ہے۔

سماجی پہلو:

شاہد رضوی نے اس شعر کے ذریعے سماجی عدم مساوات اور انسانوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کو بھی نشاندہی کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان کو نہ تو ظالم بننا چاہیے اور نہ ہی مظلوم۔ بلکہ، انسان کو انصاف، مساوات، اور انسانیت کے اصولوں پر چلنا چاہیے۔ یہی حقیقی انسانیت ہے، جو حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

شاہد رضوی نے اس شعر میں سادہ لفظوں کے ذریعے گہرے مفہوم کو بیان کیا ہے۔ "نہ خدائی نہ بندگی" کے ذریعے شاعر نے دو انتہاؤں کو نمایاں کیا ہے، اور پھر "آدمی ہونا" کے ذریعے ان دونوں انتہاؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

یہ شعر انسانیت کے اعلیٰ اقدار کو اپنانے کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کے مطابق، انسان کو نہ تو تکبر کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکنا چاہیے۔ بلکہ، انسان کو ایک متوازن اور باعزت زندگی گزارنی چاہیے، جو انسانیت کے اعلیٰ معیارات پر پورا اترے۔ یہ کام بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن عملی طور پر بے حد مشکل ہے۔ شاعر نے اس شعر کے ذریعے ا

اُس دور کے ترقّی پسندوں اور آج کے ترقّی پسندوں میں فرق:

شاہد رضوی جیسے ترقی پسند شعرا کا دور وہ تھا جب ترقی پسندی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی جدوجہد تھی۔ وہ شعرا جو اس دور میں ترقی پسند تھے، وہ نہ صرف قلم کے ذریعے بلکہ عملی طور پر بھی سماجی تبدیلی کے لیے کوشاں رہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف ظلم و استحصال کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ محنت کش طبقے کی جدوجہد میں بھی فعال طور پر حصہ لیا۔

آج کے ترقی پسند شعرا میں سے کچھ ایسے ہیں جو شاہد رضوی جیسے مکمل طور پر وقف ترقی پسند ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جن کی ترقی پسندی محض نظریاتی ہے اور وہ عملی جدوجہد سے دور ہیں۔ شاہد رضوی جیسے شعرا کی شاعری نہ صرف جذباتی بلکہ فکری لحاظ سے بھی گہری ہوتی تھی، جبکہ آج کے کچھ ترقی پسند شعرا کی شاعری میں یہ گہرائی اور عملی جدوجہد کا عنصر کم نظر آتا ہے۔

شاہد رضوی کی کلیات ان کی شاعری اور جدوجہد کا ایک جامع مجموعہ ہے، جو نہ صرف ان کے فن کو خراج تحسین پیش کرتی ہے بلکہ ان کی ترقی پسندی اور سماجی انصاف کے لیے ان کی لگن کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ کلیات شاہد رضوی جیسے مکمل طور پر وقف ترقی پسند شعرا کی یاد دلاتی ہے، جو نہ صرف قلم کے ذریعے بلکہ عملی طور پر بھی سماجی تبدیلی کے لیے کوشاں رہے۔

شاہد رضوی کی شاعری محنت کش طبقے کی جدوجہد، سماجی انصاف، اور زندگی کے حسن سے لبریز ہے۔ ان کی نظمیں اور غزلیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے اہم واقعات اور تحریکوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس شعری مجموعہ کی اشاعت میں میثر لنک پبلشر کے ذکریا صاحب کا بے مثال تعاون شامل نظر آتا ہے ، شاید اس کے بغیر یہ کتاب منظر عام پر نہیں آسکتی تھی۔

"اندازِ سخن" نہ صرف شاہد رضوی کے فن کو خراج تحسین پیش کرتی ہے بلکہ ان کی جدوجہد اور ان کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے جو شاعری، سماجی انصاف، اور انسانی جدوجہد سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

…………….

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024