آخری مورچہ
آخری مورچہ
Feb 2, 2026
مصوّر-اسرار فاروقی


مصنف
رابعہ خان
Rabia khan Solo traveller and writer Afsana nigar, story writer, nasri nazam, Human rights activist based in south Africa..
·دیدبان شمارہ- 32
جنوری-2026
افسانہ: آخری مورچہ
مصنفہ : رابعہ خان
ہوا سرد تھی.رات کے سینے میں کوئی آہٹ مسلسل جاگ رہی تھی۔ پہاڑی چوٹی پر ایک چھوٹا سا مورچہ جو دور سے دیکھنے میں خشک جھاڑیوں کا جھنڈ معلوم ہوتا تھا، اپنے اندر حب الوطنی کی سانسیں محفوظ کر رہا تھا — یہاں اکیلا پہرہ دے رہا تھا نوید حسین۔ جوان، گرم لہو ، دل میں عجیب سی امنگ لیے۔کچھ کر دینے کی چاہ لیے
نوید کے کندھے پر بندوق نہیں، ذمہ داری رکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک تھی مگر وہ چمک اب تھکی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ دور وادی میں اس کا گاؤں تھا جہاں ایک چھوٹا سا گھر اور دھوپ جیسی روشن ماں اس کا انتظار کرتی تھی۔
آج رات خاموش نہیں تھی۔ دشمن کے قدم، اندھیارے میں سرکتے سانپ کی مانند، سرحد کے پتھروں کو چھو رہے تھے۔
حسین اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ یہاں بلوچستان میں ہنگامی حالات میں دو روز پہلے تعینات کیا گیا تھا ۔سواے اکبر کے باقی تینوں جوان دور دراز علاقوں کے تھے اور وہ سب تئیس اور پچیس سال کے درمیان تھے ۔نوید حسین ابھی دس روز کی چھٹی پر گھر پہنچا ہی تھا کہ دو روز میں ڈیوٹی حاضر کر لیا گیا۔اس کی ماں کا خوشی سے تمتماتا چہرہ جیسے بجھ سا گیا ۔منگیتر کی کھنکھتی چوڑیاں درد کی لے میں بدل گئیں ۔سارا گاؤں قصے، کہانیاں سننے کا منتظر تھا، مایوس نظروں سے حسین کو تکتا رہا۔
فراز کو صبح شدید الرجی کا حملہ ہوا اور دوپہر تک حالت مزید خراب ہو گئی.ریڈیو پر نیچے بیس کیمپ میں اطلاع دی گئی ۔
اس علاقے میں حملے کا زیادہ خطرہ نہیں ہے صرف عقاب کی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔دو لوگ فراز کو احتیاط سے نیچے لے آئیں ۔جوابا" کہا گیا ۔
اکبر اور جمال نے وعدہ کیا کہ وہ رات کے کسی پہر واپس لوٹ آئیں گے ۔صبح کی چاے تمھاری طرف سے ۔جمال نے نوید کا کندھا دباتے ہوے کہا ۔
رات کا نہ جانےکون سا پہر تھا ۔نوید کو گہری سوچوں نے گھیر رکھا تھا ۔سب انسان ایک جیسے ہیں، ایک خالق کی تخلیق تو آپس میں دشمنیاں کیوں؟۔ساری زمین اللہ کے خزانوں سے بھری پڑی ہے تو پھر کہیں تیل کے کنووں اور گیس کے ذخائر پر لڑائی، کہیں سونے کے پہاڑ پانے کی جدوجہد، کہیں زمین پر اپنے نام کا جھنڈا لہرانے کےلئے انسانیت کا قتل عام ،کیوں؟۔
نوید نے اپنے مورچہ کی تصویر پینٹ کرتےہوئے سوچا ۔ فوج ملک کا دفاع بیرونی یلغار سے کرتی ہے اس کی بندوق کا رخ باڈر کے دوسری طرف ہوتا ہے لیکن اس کی بندوق کا رخ باڈر کی اندر جانب ہے ۔۔۔
سرسراتی آوازیں یقینا"کسی کے آس پاس موجودگی کی گواہی دے رہیں تھیں ۔نوید سوچوں کے تپتے صحرا سے فورا" ہی تلخ حقیقت میں لوٹ آیا۔
نوید نے بیس کیمپ میں سگنل بھیجے،موجودگی اور جدوجہد کے آثار مگر فاصلے کا اندازہ نہیں ہے ۔
جواب آیا، اکبر اور جمال کو ابتک پہنچ جانا چاہیئے تھا ۔
ایک لمحہ بھی غافل نہ ہونا۔ تم مورچہ ہو، تم حدِ حفاظت ہو۔
نوید کو دونوں ساتھیوں کی فکر لاحق تھی ۔دوبارا اتنی گہری خاموشی اتر آئی تھی کہ نوید کو اپنے دل کی دھڑکنیں سنائی دینے لگیں ۔ فاصلے اور سمت کا اندازہ کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔ نوید شہادت کے جذبہ سے سرشار تھا۔ اسے دشمن کےساتھ آخری سانس تک لڑنا تھا۔
اچانک دھماکوں سے دھرتی لرز گئی۔ نوید کو دشمن کے ٹھکانوں کا اندازہ کرنے میں دیر نہیں لگی ۔ دونوں طرف سے حملے جاری تھے دشمن یقینا" تعداد میں زیادہ تھے ۔
اچانک گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی، مورچہ زخمی سا ہو گیا۔ نوید نے جوابی کاروائی کی ۔ چنگاریاں فضا میں بھٹکیں۔ نوید کو اپنا جسم سلگتا ہوا محسوس ہوا مگر قدم پیچھے نہ ہٹے۔ ہر فائر کے ساتھ وہ ایمان کو تازہ کرتا رہا۔یہاں سے صرف آگے وطن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونا مجاہد کا عزم ہے اور شہادت اعزاز۔
دشمن پسپا ہونے لگا۔ نوید نے ٹوٹتے جسم اور ڈوبتی سانسوں کے ساتھ آخری بار بندوق سنبھالی اور پیچھے ہٹتے دشمن کو واپس مڑ کر دیکھنے کا موقعہ بھی نہیں دیا۔ ماتھے پر خون کسی آبشار کی طرح پورے جسم کو بھگو رہا تھا مگر آنکھوں میں طلوع صبح جیسی چمک تھی ۔
پھر اچانک اسے لگا جیسے آوازیں دور ہو رہی ہوں—
ماؤں کی لوریاں…
گھروں کے دروازے…
جھولوں پر ہنستے بچے…
گاوں کے رہٹ ۔۔۔۔
شام کی آذانوں کےساتھ تنوروں سے اٹھتے ہوئے دھویں ۔۔۔
سب دھند میں ڈھل گئے۔سوائے سبز ہلالی پرچم کے ۔
نوید کی ٹوپی زمین پر گری۔ اُس نے آخری سانس لیتے ہوئے اپنے مورچے کو تھام لیا، جیسے وہ چراغ کو طوفانی ہَوا سے بچا کر روشن رکھنا چاہتا تھا ۔ نوری چراغ جس میں شہداء کا خون جلتا ہو بجھنے کےلئے نہیں بنا تھا۔
افق پر صبح کی شفق پھیل رہی تھی۔ مجاہدین نے شہید کو عقیدت اور احترام سے اٹھایا ۔
پرندوں نے خاموشی سے سر جھکا لیے اور پرچم زیر لب مسکرا دیا ۔
مٹی پر سرخی کی لکیر، جیسے کسی نے اپنی قربانی سے سرحد پکی کر دی ہو۔
نوید اب زمین کا نہیں عرش بریں کا مسافر تھا۔اسے باقی دو دوستوں کے ساتھ سلامی دی گئی جنھوں نے دشمن کو راستے میں روک کر بیس کیمپ پہنچنے سے روکے رکھا تھا۔
اور زمین نے ان کے نام پر کِھلاے امن کے سفید پھول۔
یہ کہانی ختم نہیں ہوتی۔
کیونکہ جب کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو وہ فردِ واحد نہیں رہتا—
وہ پورے وطن کی دعا بن جاتا ہے،
سرحد کی سانس بن جاتا ہے،
اور ہر نئی صبح میں بسم اللہ کی طرح شامل ہو جاتا ہے۔
یہ افسانہ نہیں، ایک استعارہ ہے—
کہ جوان جسم مرتے ہیں، مگر ان کی قربانیاں سرحدوں کو زندہ رکھتی ہیں۔
·دیدبان شمارہ- 32
جنوری-2026
افسانہ: آخری مورچہ
مصنفہ : رابعہ خان
ہوا سرد تھی.رات کے سینے میں کوئی آہٹ مسلسل جاگ رہی تھی۔ پہاڑی چوٹی پر ایک چھوٹا سا مورچہ جو دور سے دیکھنے میں خشک جھاڑیوں کا جھنڈ معلوم ہوتا تھا، اپنے اندر حب الوطنی کی سانسیں محفوظ کر رہا تھا — یہاں اکیلا پہرہ دے رہا تھا نوید حسین۔ جوان، گرم لہو ، دل میں عجیب سی امنگ لیے۔کچھ کر دینے کی چاہ لیے
نوید کے کندھے پر بندوق نہیں، ذمہ داری رکھی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں ستاروں جیسی چمک تھی مگر وہ چمک اب تھکی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ دور وادی میں اس کا گاؤں تھا جہاں ایک چھوٹا سا گھر اور دھوپ جیسی روشن ماں اس کا انتظار کرتی تھی۔
آج رات خاموش نہیں تھی۔ دشمن کے قدم، اندھیارے میں سرکتے سانپ کی مانند، سرحد کے پتھروں کو چھو رہے تھے۔
حسین اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ یہاں بلوچستان میں ہنگامی حالات میں دو روز پہلے تعینات کیا گیا تھا ۔سواے اکبر کے باقی تینوں جوان دور دراز علاقوں کے تھے اور وہ سب تئیس اور پچیس سال کے درمیان تھے ۔نوید حسین ابھی دس روز کی چھٹی پر گھر پہنچا ہی تھا کہ دو روز میں ڈیوٹی حاضر کر لیا گیا۔اس کی ماں کا خوشی سے تمتماتا چہرہ جیسے بجھ سا گیا ۔منگیتر کی کھنکھتی چوڑیاں درد کی لے میں بدل گئیں ۔سارا گاؤں قصے، کہانیاں سننے کا منتظر تھا، مایوس نظروں سے حسین کو تکتا رہا۔
فراز کو صبح شدید الرجی کا حملہ ہوا اور دوپہر تک حالت مزید خراب ہو گئی.ریڈیو پر نیچے بیس کیمپ میں اطلاع دی گئی ۔
اس علاقے میں حملے کا زیادہ خطرہ نہیں ہے صرف عقاب کی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔دو لوگ فراز کو احتیاط سے نیچے لے آئیں ۔جوابا" کہا گیا ۔
اکبر اور جمال نے وعدہ کیا کہ وہ رات کے کسی پہر واپس لوٹ آئیں گے ۔صبح کی چاے تمھاری طرف سے ۔جمال نے نوید کا کندھا دباتے ہوے کہا ۔
رات کا نہ جانےکون سا پہر تھا ۔نوید کو گہری سوچوں نے گھیر رکھا تھا ۔سب انسان ایک جیسے ہیں، ایک خالق کی تخلیق تو آپس میں دشمنیاں کیوں؟۔ساری زمین اللہ کے خزانوں سے بھری پڑی ہے تو پھر کہیں تیل کے کنووں اور گیس کے ذخائر پر لڑائی، کہیں سونے کے پہاڑ پانے کی جدوجہد، کہیں زمین پر اپنے نام کا جھنڈا لہرانے کےلئے انسانیت کا قتل عام ،کیوں؟۔
نوید نے اپنے مورچہ کی تصویر پینٹ کرتےہوئے سوچا ۔ فوج ملک کا دفاع بیرونی یلغار سے کرتی ہے اس کی بندوق کا رخ باڈر کے دوسری طرف ہوتا ہے لیکن اس کی بندوق کا رخ باڈر کی اندر جانب ہے ۔۔۔
سرسراتی آوازیں یقینا"کسی کے آس پاس موجودگی کی گواہی دے رہیں تھیں ۔نوید سوچوں کے تپتے صحرا سے فورا" ہی تلخ حقیقت میں لوٹ آیا۔
نوید نے بیس کیمپ میں سگنل بھیجے،موجودگی اور جدوجہد کے آثار مگر فاصلے کا اندازہ نہیں ہے ۔
جواب آیا، اکبر اور جمال کو ابتک پہنچ جانا چاہیئے تھا ۔
ایک لمحہ بھی غافل نہ ہونا۔ تم مورچہ ہو، تم حدِ حفاظت ہو۔
نوید کو دونوں ساتھیوں کی فکر لاحق تھی ۔دوبارا اتنی گہری خاموشی اتر آئی تھی کہ نوید کو اپنے دل کی دھڑکنیں سنائی دینے لگیں ۔ فاصلے اور سمت کا اندازہ کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔ نوید شہادت کے جذبہ سے سرشار تھا۔ اسے دشمن کےساتھ آخری سانس تک لڑنا تھا۔
اچانک دھماکوں سے دھرتی لرز گئی۔ نوید کو دشمن کے ٹھکانوں کا اندازہ کرنے میں دیر نہیں لگی ۔ دونوں طرف سے حملے جاری تھے دشمن یقینا" تعداد میں زیادہ تھے ۔
اچانک گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی، مورچہ زخمی سا ہو گیا۔ نوید نے جوابی کاروائی کی ۔ چنگاریاں فضا میں بھٹکیں۔ نوید کو اپنا جسم سلگتا ہوا محسوس ہوا مگر قدم پیچھے نہ ہٹے۔ ہر فائر کے ساتھ وہ ایمان کو تازہ کرتا رہا۔یہاں سے صرف آگے وطن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونا مجاہد کا عزم ہے اور شہادت اعزاز۔
دشمن پسپا ہونے لگا۔ نوید نے ٹوٹتے جسم اور ڈوبتی سانسوں کے ساتھ آخری بار بندوق سنبھالی اور پیچھے ہٹتے دشمن کو واپس مڑ کر دیکھنے کا موقعہ بھی نہیں دیا۔ ماتھے پر خون کسی آبشار کی طرح پورے جسم کو بھگو رہا تھا مگر آنکھوں میں طلوع صبح جیسی چمک تھی ۔
پھر اچانک اسے لگا جیسے آوازیں دور ہو رہی ہوں—
ماؤں کی لوریاں…
گھروں کے دروازے…
جھولوں پر ہنستے بچے…
گاوں کے رہٹ ۔۔۔۔
شام کی آذانوں کےساتھ تنوروں سے اٹھتے ہوئے دھویں ۔۔۔
سب دھند میں ڈھل گئے۔سوائے سبز ہلالی پرچم کے ۔
نوید کی ٹوپی زمین پر گری۔ اُس نے آخری سانس لیتے ہوئے اپنے مورچے کو تھام لیا، جیسے وہ چراغ کو طوفانی ہَوا سے بچا کر روشن رکھنا چاہتا تھا ۔ نوری چراغ جس میں شہداء کا خون جلتا ہو بجھنے کےلئے نہیں بنا تھا۔
افق پر صبح کی شفق پھیل رہی تھی۔ مجاہدین نے شہید کو عقیدت اور احترام سے اٹھایا ۔
پرندوں نے خاموشی سے سر جھکا لیے اور پرچم زیر لب مسکرا دیا ۔
مٹی پر سرخی کی لکیر، جیسے کسی نے اپنی قربانی سے سرحد پکی کر دی ہو۔
نوید اب زمین کا نہیں عرش بریں کا مسافر تھا۔اسے باقی دو دوستوں کے ساتھ سلامی دی گئی جنھوں نے دشمن کو راستے میں روک کر بیس کیمپ پہنچنے سے روکے رکھا تھا۔
اور زمین نے ان کے نام پر کِھلاے امن کے سفید پھول۔
یہ کہانی ختم نہیں ہوتی۔
کیونکہ جب کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو وہ فردِ واحد نہیں رہتا—
وہ پورے وطن کی دعا بن جاتا ہے،
سرحد کی سانس بن جاتا ہے،
اور ہر نئی صبح میں بسم اللہ کی طرح شامل ہو جاتا ہے۔
یہ افسانہ نہیں، ایک استعارہ ہے—
کہ جوان جسم مرتے ہیں، مگر ان کی قربانیاں سرحدوں کو زندہ رکھتی ہیں۔

