آج کی رات میں سب سے اداس سطریں لکھ سکتا ہوں!
آج کی رات میں سب سے اداس سطریں لکھ سکتا ہوں!
Feb 22, 2026
مصوّر-اسرار فاروقی


·دیدبان شمارہ- 32
فروری-2026
آج کی رات میں سب سے اداس سطریں لکھ سکتا ہوں!
شاعر: پابلو نیرودا | مترجم: اعجازالحق
آج کی رات
میں سب سے اداس سطریں لکھ سکتا ہوں
مثلاً یہ کہ
رات ستاروں سے بھری ہے
نیلے ستارے
دور خلا میں لرزتے ہیں
اور آسمان کے گول دائرے میں
رات کی ہوا
گھومتی ہے
اور گاتی ہے
آج کی رات
میں لکھ سکتا ہوں
میں نے اس سے محبت کی تھی
اور کبھی کبھی
اس نے بھی مجھ سے محبت کی
ایسی ہی راتوں میں
میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا
لامحدود آسمان کے نیچے
بار بار اس کے ہونٹ چومے
وہ مجھ سے محبت کرتی تھی
اور کبھی کبھی
میں بھی اس سے محبت کرتا تھا
کیسے ممکن تھا
کہ میں
اس کی بڑی، ساکن آنکھوں سے
محبت نہ کرتا؟
آج کی رات
میں لکھ سکتا ہوں
یہ سوچتے ہوئے
کہ اب وہ میرے پاس نہیں
یہ محسوس کرتے ہوئے
کہ میں نے اسے کھو دیا ہے
یہ سننے کے لیے
کہ رات کتنی وسیع ہے
اور اس کی عدم موجودگی میں
کتنی زیادہ وسیع
اور نظم
روح پر یوں گرتی ہے
جیسے شبنم
چراگاہ پر
اس سے کیا فرق پڑتا ہے
کہ میری محبت
اسے روک نہ سکی؟
رات ستاروں سے بھری ہے
اور وہ میرے ساتھ نہیں
بس یہی ہے
کہیں دور
کوئی گاتا ہے
کہیں دور
میری روح
اس بات پر مطمئن نہیں
کہ میں نے اسے کھو دیا ہے
میری نگاہ
اسے ڈھونڈتی ہے
گویا اسے
اپنے قریب بلا لے
میرا دل
اسے تلاش کرتا ہے
اور وہ میرے ساتھ نہیں
وہی رات
وہی درخت
جن پر سفیدی اتر آئی ہے
ہم
جو اُس وقت تھے
اب وہ نہیں رہے
میں اب اس سے محبت نہیں کرتا
یہ یقینی ہے
مگر میں نے
اس سے کیسی محبت کی تھی!
میری آواز
ہوا کو تلاش کرتی تھی
کہ اس کی سماعت کو چھو لے
کسی اور کی
وہ کسی اور کی ہو گی
جیسے وہ
میرے بوسوں سے پہلے تھی
اس کی آواز
اس کا روشن جسم
اس کی لامحدود آنکھیں
میں اب اس سے محبت نہیں کرتا
یہ یقینی ہے
مگر شاید
میں اب بھی اس سے محبت کرتا ہوں
محبت
بہت مختصر ہے
اور فراموشی
بہت طویل
کیونکہ ایسی ہی راتوں میں
میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا تھا
میری روح
اس بات پر مطمئن نہیں
کہ میں نے اسے کھو دیا ہے
اگرچہ یہی وہ آخری درد ہو
جو وہ مجھے دے
اور یہی وہ آخری سطریں ہوں
جو میں
اس کے لیے لکھوں
شاعر: پابلو نیرودا | مترجم: اعجازالحق
·دیدبان شمارہ- 32
فروری-2026
آج کی رات میں سب سے اداس سطریں لکھ سکتا ہوں!
شاعر: پابلو نیرودا | مترجم: اعجازالحق
آج کی رات
میں سب سے اداس سطریں لکھ سکتا ہوں
مثلاً یہ کہ
رات ستاروں سے بھری ہے
نیلے ستارے
دور خلا میں لرزتے ہیں
اور آسمان کے گول دائرے میں
رات کی ہوا
گھومتی ہے
اور گاتی ہے
آج کی رات
میں لکھ سکتا ہوں
میں نے اس سے محبت کی تھی
اور کبھی کبھی
اس نے بھی مجھ سے محبت کی
ایسی ہی راتوں میں
میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا
لامحدود آسمان کے نیچے
بار بار اس کے ہونٹ چومے
وہ مجھ سے محبت کرتی تھی
اور کبھی کبھی
میں بھی اس سے محبت کرتا تھا
کیسے ممکن تھا
کہ میں
اس کی بڑی، ساکن آنکھوں سے
محبت نہ کرتا؟
آج کی رات
میں لکھ سکتا ہوں
یہ سوچتے ہوئے
کہ اب وہ میرے پاس نہیں
یہ محسوس کرتے ہوئے
کہ میں نے اسے کھو دیا ہے
یہ سننے کے لیے
کہ رات کتنی وسیع ہے
اور اس کی عدم موجودگی میں
کتنی زیادہ وسیع
اور نظم
روح پر یوں گرتی ہے
جیسے شبنم
چراگاہ پر
اس سے کیا فرق پڑتا ہے
کہ میری محبت
اسے روک نہ سکی؟
رات ستاروں سے بھری ہے
اور وہ میرے ساتھ نہیں
بس یہی ہے
کہیں دور
کوئی گاتا ہے
کہیں دور
میری روح
اس بات پر مطمئن نہیں
کہ میں نے اسے کھو دیا ہے
میری نگاہ
اسے ڈھونڈتی ہے
گویا اسے
اپنے قریب بلا لے
میرا دل
اسے تلاش کرتا ہے
اور وہ میرے ساتھ نہیں
وہی رات
وہی درخت
جن پر سفیدی اتر آئی ہے
ہم
جو اُس وقت تھے
اب وہ نہیں رہے
میں اب اس سے محبت نہیں کرتا
یہ یقینی ہے
مگر میں نے
اس سے کیسی محبت کی تھی!
میری آواز
ہوا کو تلاش کرتی تھی
کہ اس کی سماعت کو چھو لے
کسی اور کی
وہ کسی اور کی ہو گی
جیسے وہ
میرے بوسوں سے پہلے تھی
اس کی آواز
اس کا روشن جسم
اس کی لامحدود آنکھیں
میں اب اس سے محبت نہیں کرتا
یہ یقینی ہے
مگر شاید
میں اب بھی اس سے محبت کرتا ہوں
محبت
بہت مختصر ہے
اور فراموشی
بہت طویل
کیونکہ ایسی ہی راتوں میں
میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا تھا
میری روح
اس بات پر مطمئن نہیں
کہ میں نے اسے کھو دیا ہے
اگرچہ یہی وہ آخری درد ہو
جو وہ مجھے دے
اور یہی وہ آخری سطریں ہوں
جو میں
اس کے لیے لکھوں
شاعر: پابلو نیرودا | مترجم: اعجازالحق

