افسانہ : سید جی
افسانہ : سید جی
Jul 25, 2026

سید جی :
ہاجرہ ریحان
جب سے زبیدہ بیگم سے فرہاد نے اُن کو اپنے ساتھ امریکہ لے جانے کی بات کی تھی وہ بے حد افسردہ ہو گئیں تھیں۔ ابھی تو فیضان صاحب کی قبر کی مٹی بھی نہیں سوکھی اور یہ کہتا ہے پاکستان چھوڑ دیں۔ گو بقول فرہاد اب زبیدہ بیگم کے تینوں بچے اور تقریباً سارے ہی رشتہ دار بیرون ِ ملک سدھار چکے ہیں اور مستقبل قریب میں کوئی بھی واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ فرہاد بھی اپنی جگہ ٹھیک تھا اُس کو اپنی اکیلی ، بوڑھی ، بیمار اور بیوہ ماں کی فکر لاحق تھی زبیدہ بیگم لاکھ نوکر رکھ لیں مگر بہرحال جو خدمت بچے کر سکتے ہیں وہ نوکر وں کے ذمہ نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔ زبیدہ بیگم کو افسردگی سے زیادہ پریشانی یہ تھی کہ فرہاد جانے سے پہلے خاندانی مکان بیچ دینا چاہتا تھا۔ اُس کے خیال میں یہ بالکل صحیح وقت ہے کہ زبیدہ بیگم کے مرحوم شوہر فیضان صاحب کے بھائی بہنوں کے ساتھ ساتھ مرحوم فیضان صاحب کے تینوں بچوں کو بھی مکان بیچ کر اُن کا حصہ دے دیا جائے کہ وہ لوگ جہاں رہتے ہیں وہاں اپنے اسٹیٹس کو بہتر کر لیں گے۔ مگر ان تمام میں سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ فرہاد ، سید جی کے بارے میں بالکل لاتعلقی دکھا رہا تھا۔ مکان بک گیا تو سید جی کہاں جائیں گے ؟ اور جس نے اس گھر میں بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپہ دیکھا ہو کیا اُس کے لئے آسان ہو گا گھر چھوڑ دینا۔ زبیدہ بیگم شرمندگی سے دُھری ہوئی جاتی تھیں اور سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ یہ اطلاع سید جی تک کیسے پہنچائیں کہ جس جگہ کو آپ نے اپنی عمر دے دی وہ آپ سے چھینی جا رہی ہے۔ زبیدہ بیگم نے فرہاد کے فیصلے کے بعد کئی بار سید جی کو سب کچھ بتانے کی لاکھ کوشیشں کیں مگر سید جی بھی جیسے تہیہ کر بیٹھے تھے کہ زبیدہ بیگم کی ایک نہیں سُنے گے۔ صبح ہوتے ہی زبیدہ بیگم ، سید جی کو پورے گھر میں ڈھونڈتی پھرتیں اور شام تک تھک ہار کر سید جی کو نہ پا کر آخر کار رونے بیٹھ جاتیں۔ اُن کو نہایت افسوس یہ بھی ہوتا کہ اب تو زبیدہ بیگم رو کر بھی سید جی کی توجہ نہ لے پاتیں تھیں۔ کاش اُن کو سید جی کے گھر میں مختلف ٹھکانوں کا معلوم ہوتا تو سید جی کو ڈھونڈنا کتنا آسان ہوتا۔ ہمیشہ سے زبیدہ بیگم نے سید جی کو گھر میں باقاعدہ ایک کمرہ دینے کی کوشش کی۔ کمرے میں سید جی کے لئے ہر طرح کی سہولت بھی رکھی گئی مگر مجال ہے جو ایک دن یا رات ہی سید جی نے اُس کمرے میں گزاری ہو۔
سید جی کے ساتھ مسلۂ یہ تھا کہ وہ گھر کی کسی ایک جگہ ٹکتے نہ تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ سید جی پورے گھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ ہر وقت ہر طرف اُن کے ہونے کا احساس رہتا۔ مگر یہ بات بھی تھی کہ جب زبیدہ بیگم بڑی سنجیدگی اور رُعب سے سید جی کو گھر کے فلاں فلاں کمرے یا جگہ جانے سے منع کر دیتیں تو وہ بہت ہی فرمانبردار بچے کی طرح اُن کے حکم پر عمل پیرا ہو جاتے۔ مگر ایسی ہی ہدایات اگر کسی مہمان کے آنے پر سید جی کو دی جاتیں تو وہ پوری کوشش کرتے کہ کسی طرح دی گئی ہدایت کا مکمل اُلٹ کر کے دکھا دیں پھر زبیدہ بیگم اپنا رعب دکھاتیں اور سید جی سہم کر ادھر اُدھر ہو جاتے۔ گھر کا ہر فرد یہی سمجھتا تھا کہ گو سید جی بہت پہلے سے اس گھر کے فرد تھے اور زبیدہ بیگم بہت بعد میں آئیں مگر زبیدہ بیگم نے سید جی کے ساتھ دوستی و احترام کا جو رشتہ قائم کیا ہے وہ کوئی دوسرا نہیں کر پایا ہے۔
پُرانے زمانے کا تعمیر کردہ پانچ سو گز کا یہ بنگلہ جو فیضان صاحب کے والد نے پائی پائی جوڑ کر بنوایا تھا ، کسی زمانے میں لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ فیضا ن صاحب اپنے گھر کے سب سے بڑے بیٹے تھے ، زبیدہ بیگم بیاہ کر آئیں تو فیضان صاحب کے والدین کے ساتھ اُن کے باقی دو بہنیں اور دو بھائی رہتے تھے۔ پھر فیضان صاحب کے بھائی بہن آہستہ آہستہ بیرون ِ ملک سدھارنے لگے کسی کی شادی ہوئی تو کوئی نوکری کی تلاش میں ملک چھوڑ گیا۔ کبھی کبھار کوئی بھولے بھٹکے سے دو چار ہفتوں کے لئے آ جاتا اور زیادہ تر رابطہ فون اور ویڈیو کال تک محدود ہو گیا۔ مگر مجال ہے جو کبھی کسی نے سید جی کی خیریت معلوم نہ کی ہو۔ سب کو ہی سید جی کے خاندان کا حصہ ہونے پر ناز بھی تھا تو اُن کو چھپانا بھی ضروری سمجھا جاتا تھا ، لہذا جب خاندان میں کسی نئے فرد کا اضافہ ہوتا تو ایک ان کہی ہدایات کے مطابق سید جی کے بارے بات چیت کم کی جاتی۔ پہلے آہستہ روی اور احتیاط سے نو وارد کو سید جی کے بارے میں معلومات دی جاتیں ، سید جی کا ماضی ، فیضان صاحب کے خاندان میں اُن کی شمولیت کے مختلف قصے ، گھر کے بہت سے کاموں میں سید جی کا کردار اس کے علاوہ سید جی کا ہر دم خاندان کی امداد کے بارے میں بتا کر نووارد کا تجسس اور شوق بڑھا کر سید جی کا گرویدہ کیا جاتا۔ جب وہ سید جی سے ملنے کے لئے بالکل ہی بے چین ہو جاتا تب جا کر سید جی سے اُس کی ملاقات کروا دی جاتی۔ جو کہ ہمیشہ سید جی کی مرضی سے ہی طے پاتی لہذا ان تمام احتیاط کے باوجود سید جی سے پہلی ملاقات نووارد کو اکثر ہکا بکا کر دیتی تھی۔ بیگم زبیدہ کو ٹھیک سے یاد نہیں کہ پہلی بار سید جی سے مل کر اُن کو جھرجھری آئی تھی یا پھر وہ بیہوش ہوگئیں تھیں۔ ہاں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ زبیدہ بیگم کی شادی کے بعد سید جی سے اُن کی پہلی ملاقات بھی اتنی دیر میں ہوئی تھی کہ اُن کا پہلا بیٹا فرہاد بھی تقریباً ڈیڑھ سال کا ہو چکا تھا۔ حواس میں آتے ہی زبیدہ بیگم نے فیضان صاحب کو دو ٹوک کہہ دیا تھا کہ وہ اور سید جی ایک چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے۔ دو چا ر ہفتوں تک زبیدہ بیگم ، فیضان صاحب اور اُن کے گھر والوں کے درمیان بے تحاشہ تناؤ رہا۔ اللہ بخشے فیضان صاحب کی والد ہ بہت حلیم اور بُردبار انسان تھیں۔ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کی بیوی اور خاندان کی پہلی بہو کے ساتھ الجھنے کے بجائے اُن کو گھر کے کام کاج سے مکمل آزادی دے دی ویسے بھی سید جی کے گھر میں مو جود ہونے کا سوچ کر زبیدہ بیگم اپنے کمرے سے نکل ہی نہیں رہیں تھیں۔ فیضان صاحب اُس زمانے میں ایک ملٹی آرگنائیزشن میں اچھے عہدے پر نئے نئے فائز ہوئے تھے اور کافی وقت وہ اپنے کام کو دیا کرتے تھے جبکہ اُن کے باقی چھوٹے بھائی بہن ، نوکری پر یا پڑھنے کسی یونیورسٹی یا کالج جایا کرتے۔چھٹی کے دن کے علاوہ گھر میں پورا دن خاموشی رہتی۔ ایسے میں سید جی پورے گھر میں بلا روک ٹوک اٹھلاتے پھرتے۔ زبیدہ بیگم کو یہی خوف رہتا کہ کسی بھی وقت کہیں بھی سید جی سے ٹکراؤ ہو گیا تو اس خالی گھر میں اُن کو کون سنبھالے گا۔ لہذا وہ فیضان صاحب کے آفس سے واپس آنے پر ہی کمرے سے نکلنے لگیں تھیں۔ مگر ڈیڑھ سالہ فرہاد کو سید جی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ اُس کو گھٹنے گھٹنے چلنا آ چکا تھا اور صبح ہوتے ہی وہ ایک مہم جو کی طرح بستر سے چادر پکڑ اُترتا اور دادا ، دادی اور چاچو ، پھوپھی کی تلاش میں کمرے سے نکل جاتا۔ تمام گھر والوں کو چابی بھرا کھلونہ مل چکا تھا۔ اپنے جانے کی تیاریوں کے دوران فرہاد سے کھیلنا اُس کی شرارتوں پر ہنسنا اور اسی طرح اُس کو گود میں لئے پھرنے پر ہر کو ئی تیار رہتا۔ جب سب چلے جاتے تو فیضان صاحب کی والدہ خراماں خراماں باورچی خانے میں جا کر فرہاد اور فرہاد کے دادا کے ناشتے کا اہتمام کرتیں۔ فر ہاد کو بھی معلوم تھا کہ دادی کے ساتھ وہ کھیل کود نہیں ہو سکتے جو چاچا یا پھوپھو کرواتے ہیں۔ لہذا وہ باروچی خانے میں دادی کا ساتھ یوں دیتا کہ جب دادی اُسے ناشتہ تیار کرنے کے دوران باورچی خانے کے کسی سلیپ پر بٹھا دیتیں تو وہ جم کر وہیں بیٹھا رہتا اور صرف نئے سیکھے الفاظ اونچی آواز میں دُھراتا ، ہنستا اور دادی کے نہال ہونے پر اور پُرجوش ہو جا تا۔
یہ اُس دن کی صبح کا قصہ ہے کہ جب زبیدہ بیگم کو کمرے میں قید ہوئے کو ئی تین ہفتے گُزر چکے تھے اور اُن کی ساس صاحبہ اپنے معمول کے مطابق فرہاد کو سلیپ پر بٹھا کر ناشتے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ اُس وقت اچانک کسی بات پر زبیدہ بیگم کو فیضان صاحب اور اُن کے گھر والوں کی خاموشی پر بے حد طیش آیا اور وہ آج کے دن ساس صاحبہ کو کھری کھری سُنانے اور فیضان صاحب کو علیحدہ گھر لینے کا فیصلہ جلدی کروانے کا بولنے کے لئے غصے سے بے قابو ہو کر کمرے سے باہر آئیں۔ ابھی وہ باورچی خانے سے دور تھیں مگر باورچی خانے کا منظر مکمل دیکھ سکتی تھیں۔ ساس صاحبہ کا منہ چولہے کی طرف تھا شاید وہ انڈہ تل رہی تھیں اور اُن کی پیٹھ کی طرف کے سلیپ پر فرہاد بیٹھا ایک چمچ سے خالی اسٹیل کے پیالے کو پیٹ رہا تھا اور بہت شور ہو رہا تھا۔ زبیدہ بیگم نے دیکھا کہ فرہاد کے چمچ سے ٹھوکر کھا کر اسٹیل کا پیالہ ایک طرف لڑھکا اور پھر اپنے پیندے پر گول گول گھومتا سلیپ سے نیچے جا گرا مگر اُس کو گرنے سے بچانے کے لئے فرہاد نے اپنے دونوں ننھے منے ہاتھ آگے بڑھائے اور یوں فرہاد کا جسم بھی بے قابو ہو کر اسٹیل کے برتن کی طرح لڑھک کر سلیپ سے گرنے لگا۔ زبیدہ بیگم اُس وقت یہ سارا منظر دیکھ رہیں تھیں مگر باورچی خانے سے اتنی دور تھیں کہ بھاگ کر بھی جاتیں تو فرہاد کو گرنے سے بچا نہیں سکتی تھیں۔ ایک ڈری سہمی ہلکی سی چیخ زبیدہ بیگم کے منہ سے برآمد ہوئی اور اُسی وقت پتہ نہیں کہاں سے اچانک سید جی حاضر ہو گئے۔ فرہاد سلیپ اور زمین کے درمیان ہوا میں معلق ہو گیا۔ ساس صاحبہ جب تک مُڑ کر معاملات ملاحضہ کرتیں زبیدہ بیگم دوڑ کر فرہاد کے قریب پہنچ چکی تھیں اور پھر بغیر ڈرے ، گھن کھائے یا جھرجھری لئے زبیدہ بیگم نے بے حد ممنون نظروں کے ساتھ سید جی کی بانہوں سے فرہاد کو اپنی گود میں بھر لیا۔
بس یہی وہ دن تھا جب زبیدہ بیگم کو گھر کے باقی لوگوں کی ہی طرح سید جی پیارے ہو گئے تھے۔ ایک بار پھر سے زبیدہ بیگم نے فیضان صاحب سے ، سید جی کے متعلق تمام معلومات لیں مگر اب کی بار زبیدہ بیگم کے دل میں سید جی سے ڈر کے بجائے احترام تھا۔ سید جی بڑے کام کے تھے ، اس زمانے شہر کے خراب حالات کے باوجود فیضان صاحب کے گھر کے چاروں طرف پستہ قد دیوار تھی۔ اُن کے کسی دروازے یا کھڑکی پر لوہے کی جالیاں بھی نہیں لگی ہوئیں تھیں۔ بلا ناغہ سید جی گھر کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ دن ہو یا رات اُن کی نظروں سے بچنا ناممکن تھا۔ گھر میں آنے والے مستقل ملازموں سے لے کر کبھی کبھار ضرورت کے وقت آنے والے پلمبر، الیکٹریشن یا مستری وغیرہ کو نظروں میں رکھنے کا کام بھی سید جی ہی کے ذمہ تھا۔ رات گئے جب سب سو جاتے تو سید جی گھر کے باغ میں گھانس پودوں کو پانی دیتے ، دالان کی دھلائی کر دیتے اور جب گھر میں گاڑیاں اور موٹر سائیکل کھڑی ہونے لگیں تو اُن کو بھی شوق سے دھو کر چمکا دیا کرتے۔ رات کی خاموشی میں چلتے پھرتے سید جی کے پیر زمین پر ہلکی سی دھمک پیدا کرتے اور ایک بہت ڈرامائی سا ماحول بنا دیتے۔ سو بات کی ایک بات کہ سید جی تو اس گھر کے لئے ایک انعام تھے۔
سید جی کی فیضان صاحب کے خاندان میں شمولیت بھی عجیب ڈرامائی تھی۔ فیضان صاحب کے والد صاحب کسی مزار کے آگے ٹریفک سگنل پر رُکے ہوئے تھے کہ کچھ بندر کا ناچ نچانے والے اُن سے مانگنے پہنچ گئے۔ اُن کے تین چار زنجیروں سے بندھے بندروں میں سید جی بھی موجود تھے۔ والد صاحب کو فوراً ا حساس ہوا کہ سید جی کو بندر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ ایسا ہے نہیں۔ ا نہوں نے سید جی کا سودا کر لیا۔ بقول فیضان صاحب وہ بہت چھوٹے تھے جب اُن کے والد ایک شام سید جی کو لئے گھر میں داخل ہوئے۔ شر وع میں کسی نے بھی سید جی پر توجہ نہ دی کیونکہ سب کی نظریں والد صاحب کے ہاتھوں میں سب کے لئے لائے گئے تحائف پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ خود والد صاحب بھی بھول گئے تھے کہ گھر میں داخل ہونے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ مگر پھر جیسے ہی سارا گھر ایک جگہ بیٹھ کر اپنے اپنے تحائف دیکھنے ، والد صاحب کا شکریہ ادا کرنے میں مصروف تھا ، سید جی نے اپنی موجودگی ظاہر کر دی۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ سید جی اپنی مرضی اور خوشی سے ہی کسی وقت اور جگہ پر ا پنی موجودگی ظاہر کرتے تھے ورنہ اُن کی مرضی نہ ہوتی تو پورا دن وہ کسی کی توجہ لئے بغیر خاموشی سے پورے گھر میں گھومتے پھرتے۔ کچھ دنوں تک والد صاحب نے کوشش کی کہ سید جی کو کسی ایسے ادارے میں ڈلوا دیا جائے جو سید جی کو طریقے سے رکھ سکے مگر ایسا کوئی نہ ملا یوں سید جی اسی خاندان کا حصہ بن گئے۔
اس معاملے میں تمام گھر والوں کو پختہ یقین تھا کہ سید جی کوئی آفاقی مخلوق ہیں تب ہی تو اُن کو ہر وقت نظروں میں رکھنا ناممکن تھا اور جو فیضان صاحب کے والدصاحب کے ساتھ لگ کر سید جی اس خاندان میں شامل ہوئے ہیں تو یہ بھی اُن کی اپنی ہی مرضی سے ممکن ہوا ہے۔ سید جی کی ظاہری شکل و صورت پر سوچو تو زیادہ سوچا نہ جا سکتا تھا ، اُن کی عمر کا کسی کو بھی اندازہ نہ تھا مگر فیضان صاحب کو یقین تھا کہ وہ بالکل اُن کے ہم عُمر تھے۔ جبکہ سید جی کا قد ڈھائی فٹ سے بھی کم تھا ، پیدائشی تالو نہ ہونے اور اوپر نیچے کے ہونٹ درمیان سے کٹے ہونے کے باعث وہ بات نہیں کرتے تھے جبکہ بصارت ہونے کے باوجو د وہ سنتے بھی کسی کی نہیں تھے۔ ہاں وہ خود کو نظروں سے چھپانے کا ہنر رکھتے تھے اور اپنی تیز نظروں سے کبھی کچھ اوجھل نہ ہونے دیتے تھے۔ سید جی کو باقاعدہ طور پر زمانے کے لحاظ سے کپڑے پہننے کی عادت نہ تھی اور نہ ہی ڈالی جا سکی۔ شروع میں اُن کو چھوٹے لڑکوں کی پینٹ جرسی شلوار سوٹ سب ہی پہنا کر رکھنے کی کوشش کی گئی مگر اُن کا پہناوا ہمیشہ ایک سفید چادر تھی جو وہ احرام کی طرح پورے جسم میں لپیٹ کر رکھتے تھے۔ ا سی وجہ سے نووارد اور انجان لوگ اُن سے خوف کھاتے تھے ، پہلی بار ملنے پر کسی کو وہ بھوت لگتے کسی کو مافق الفطرت۔ اور زبیدہ بیگم کو اب جا کر اندازہ ہوا تھا کہ سید جی ان سب باتوں سے افسردہ ہونے کے بجائے خوب مزے لیتے تھے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی سید جی کی کوئی خاص پہنچان نہ تھی۔ بس ہر رات باورچی خانے میں ایک پلیٹ میں اُس دن کا پکا ہوا کھانا ڈھک کر رکھ دیا جاتا تھا۔ جو زیادہ تر کھایا ہی نہیں جاتا تھا۔
فیضان صاحب کے انتقال پر اُن کے تینوں بچے آئے تھے اور زبیدہ بیگم کو پورا یقین تھا کہ جہاں سید جی کو فیضان صاحب کے جانے کا دکھ ہوا ہو گا وہیں سید جی ان تمام بچوں کو ایک ساتھ دیکھ کر خوش بھی ہو رہے ہوں گے مگر جب سے فرہاد نے گھر بیچنے کی بات تھی پتہ نہیں سید جی کہاں روپوش ہو گئے تھے۔ جیسے جیسے زبیدہ بیگم کے جانے کی تیاریاں زور پکڑ رہی تھیں اُن کی سید جی کے بارے میں فکر مندی بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ تو وہ جانتی تھیں کہ سید جی کو رکھوانے کے لئے پاکستان میں کوئی ادارہ موجود نہیں اور نہ ہی اُن کا کوئی رشتہ دار ہی اتنا کھلے دل کا ہو گا جو سید جی کو رکھ لے۔ ایسا تو کبھی ہوا بھی نہیں تھا کہ سید جی کو اس گھر سے نکالنے یا کسی اور جگہ بھیجنے کا سوچا ہی گیا ہو اب اچانک جو یہ آفت آ گئی ہے تو زبیدہ بیگم دکھی سے زیاد ہ سید جی کی فکر میں بے چین ہو رہی تھیں۔ پھر سید جی دو چار روز سے ایسے چھپ گئے ہیں کہ ہزار کوشش پر بھی اُن سے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ سید جی کو مسلۂ بنا کر پیش کرنا سید جی کو پسند نہیں آئے گا کہ بہرحال وہ گھر میں ہونے والی ہر بات چیت کی سُن گُن لے ہی لیتے ہیں۔ زبیدہ بیگم کو فرہاد کی لاتعلقی بہت ناگوار لگ رہی تھی۔ اُن کو اندازہ ہو رہا تھا کہ فرہاد ، سید جی کا کوئی انتظام کئے بغیر ہی گھر بیچ کر اپنی ماں کو لے کر امریکہ سدھار جائے گا۔ پیچھے رہ جائیں گے سید جی، جو بہرحال نئے مالک مکان کو کبھی نہ کبھی تو نظر آ ہی جائیں گے اور پھر وہی ہو گا جو اس ملک میں کسی نایاب جاندار کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اُس کو پہلے جان سے مارا جاتا ہے پھر خبروں میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں فلاں بندے نے فلاں جگہ ایک خطرناک جاندار کو بر وقت مار کر شہریوں کی اُس سے جان بچائی۔ ایک جھرجھری لے کر زبیدہ بیگم نے شام کی چائے پیتے اپنے بچوں کی طرف بے بسی سے دیکھا اور آخر کار اُن کے منہ سے نکل ہی گیا۔
’ سید جی کا کیا ہو گا ؟ ‘
زبیدہ بیگم کے کمرے میں چائے کا کپ پکڑے سلیقے سے بیٹھے اپنی سوچوں میں گُم سارے ہی افراد ایک ساتھ چونک پڑے۔ جیسے اُن کو بھی ابھی خیال آیا ہو کہ مکان بکنے پر سید جی کہاں جائیں گے۔ یہ شاید پہلی بار تھا کہ یوں بھری محفل میں سید جی کا نام اس طرح بلند آواز میں لیا گیا تھا۔
’ امی جان کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ جو ہمارے خاندان میں جانے کب سے سید جی جیسی ایک شخصیت موجود رہی وہ واقعی انسان ہے؟ پھر کیا یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ سید جی کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ؟ پھر بھی اگر آپ فکرمند ہیں تو جان لیں کہ سید جی نے اپنا ٹھکانہ ڈھونڈ لیا ہے ؟ ‘
فرہاد کی اطلاع پر زبیدہ بیگم چونک گئیں۔ فرہاد پھر گویا ہوا۔
آج جب میں ابو کی قبر پر فاتحہ خوانی اور پھول چڑھانے گیا تو مجھے دیکھ کر گورکن آ گیا وہ کافی حیران تھا۔ پہلے تو پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے والد کوئی پہنچے ہوئے بزرگ ہیں ؟ میں نے جب کوئی خاص جواب نہ دیا تو بتانے لگا کہ کوئی تین راتوں پہلے ایک مافوق الفطرت سفید کپڑے میں لپٹا چھوٹا بچہ جیسی ہیت والا وجود قبر کے پاس بیٹھا نظر آیا تھا ۔ مگر جب اطلاع دینے والے کے ساتھ دوسرے لوگ بھی قبر پر پہنچے تو کوئی نہیں ملا۔ اُس کے دو دن بعد ہی بھری دوپہر میں بھی ایسی ہی اطلاع ملی ہے۔ میں نے قبرستان کے قریب سنسان سے علا قے میں ایک پُرانا متروک شدہ کواٹر دیکھا ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں سید جی وہاں شفٹ ہو چکے ہیں۔ آپ فکر نہ کریں وہ کواٹر میں جلد خرید لوں گا تا کہ سید جی کو پھر سے گھر بدر نہ ہونا پڑے۔‘
پتہ نہیں کیوں زبیدہ بیگم کو لگا کہ واقعی فرہاد ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔ سید جی کا وجود انسانی مدد پر قائم نہیں ہے۔
سید جی :
ہاجرہ ریحان
جب سے زبیدہ بیگم سے فرہاد نے اُن کو اپنے ساتھ امریکہ لے جانے کی بات کی تھی وہ بے حد افسردہ ہو گئیں تھیں۔ ابھی تو فیضان صاحب کی قبر کی مٹی بھی نہیں سوکھی اور یہ کہتا ہے پاکستان چھوڑ دیں۔ گو بقول فرہاد اب زبیدہ بیگم کے تینوں بچے اور تقریباً سارے ہی رشتہ دار بیرون ِ ملک سدھار چکے ہیں اور مستقبل قریب میں کوئی بھی واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ فرہاد بھی اپنی جگہ ٹھیک تھا اُس کو اپنی اکیلی ، بوڑھی ، بیمار اور بیوہ ماں کی فکر لاحق تھی زبیدہ بیگم لاکھ نوکر رکھ لیں مگر بہرحال جو خدمت بچے کر سکتے ہیں وہ نوکر وں کے ذمہ نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔ زبیدہ بیگم کو افسردگی سے زیادہ پریشانی یہ تھی کہ فرہاد جانے سے پہلے خاندانی مکان بیچ دینا چاہتا تھا۔ اُس کے خیال میں یہ بالکل صحیح وقت ہے کہ زبیدہ بیگم کے مرحوم شوہر فیضان صاحب کے بھائی بہنوں کے ساتھ ساتھ مرحوم فیضان صاحب کے تینوں بچوں کو بھی مکان بیچ کر اُن کا حصہ دے دیا جائے کہ وہ لوگ جہاں رہتے ہیں وہاں اپنے اسٹیٹس کو بہتر کر لیں گے۔ مگر ان تمام میں سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ فرہاد ، سید جی کے بارے میں بالکل لاتعلقی دکھا رہا تھا۔ مکان بک گیا تو سید جی کہاں جائیں گے ؟ اور جس نے اس گھر میں بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپہ دیکھا ہو کیا اُس کے لئے آسان ہو گا گھر چھوڑ دینا۔ زبیدہ بیگم شرمندگی سے دُھری ہوئی جاتی تھیں اور سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ یہ اطلاع سید جی تک کیسے پہنچائیں کہ جس جگہ کو آپ نے اپنی عمر دے دی وہ آپ سے چھینی جا رہی ہے۔ زبیدہ بیگم نے فرہاد کے فیصلے کے بعد کئی بار سید جی کو سب کچھ بتانے کی لاکھ کوشیشں کیں مگر سید جی بھی جیسے تہیہ کر بیٹھے تھے کہ زبیدہ بیگم کی ایک نہیں سُنے گے۔ صبح ہوتے ہی زبیدہ بیگم ، سید جی کو پورے گھر میں ڈھونڈتی پھرتیں اور شام تک تھک ہار کر سید جی کو نہ پا کر آخر کار رونے بیٹھ جاتیں۔ اُن کو نہایت افسوس یہ بھی ہوتا کہ اب تو زبیدہ بیگم رو کر بھی سید جی کی توجہ نہ لے پاتیں تھیں۔ کاش اُن کو سید جی کے گھر میں مختلف ٹھکانوں کا معلوم ہوتا تو سید جی کو ڈھونڈنا کتنا آسان ہوتا۔ ہمیشہ سے زبیدہ بیگم نے سید جی کو گھر میں باقاعدہ ایک کمرہ دینے کی کوشش کی۔ کمرے میں سید جی کے لئے ہر طرح کی سہولت بھی رکھی گئی مگر مجال ہے جو ایک دن یا رات ہی سید جی نے اُس کمرے میں گزاری ہو۔
سید جی کے ساتھ مسلۂ یہ تھا کہ وہ گھر کی کسی ایک جگہ ٹکتے نہ تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ سید جی پورے گھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ ہر وقت ہر طرف اُن کے ہونے کا احساس رہتا۔ مگر یہ بات بھی تھی کہ جب زبیدہ بیگم بڑی سنجیدگی اور رُعب سے سید جی کو گھر کے فلاں فلاں کمرے یا جگہ جانے سے منع کر دیتیں تو وہ بہت ہی فرمانبردار بچے کی طرح اُن کے حکم پر عمل پیرا ہو جاتے۔ مگر ایسی ہی ہدایات اگر کسی مہمان کے آنے پر سید جی کو دی جاتیں تو وہ پوری کوشش کرتے کہ کسی طرح دی گئی ہدایت کا مکمل اُلٹ کر کے دکھا دیں پھر زبیدہ بیگم اپنا رعب دکھاتیں اور سید جی سہم کر ادھر اُدھر ہو جاتے۔ گھر کا ہر فرد یہی سمجھتا تھا کہ گو سید جی بہت پہلے سے اس گھر کے فرد تھے اور زبیدہ بیگم بہت بعد میں آئیں مگر زبیدہ بیگم نے سید جی کے ساتھ دوستی و احترام کا جو رشتہ قائم کیا ہے وہ کوئی دوسرا نہیں کر پایا ہے۔
پُرانے زمانے کا تعمیر کردہ پانچ سو گز کا یہ بنگلہ جو فیضان صاحب کے والد نے پائی پائی جوڑ کر بنوایا تھا ، کسی زمانے میں لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ فیضا ن صاحب اپنے گھر کے سب سے بڑے بیٹے تھے ، زبیدہ بیگم بیاہ کر آئیں تو فیضان صاحب کے والدین کے ساتھ اُن کے باقی دو بہنیں اور دو بھائی رہتے تھے۔ پھر فیضان صاحب کے بھائی بہن آہستہ آہستہ بیرون ِ ملک سدھارنے لگے کسی کی شادی ہوئی تو کوئی نوکری کی تلاش میں ملک چھوڑ گیا۔ کبھی کبھار کوئی بھولے بھٹکے سے دو چار ہفتوں کے لئے آ جاتا اور زیادہ تر رابطہ فون اور ویڈیو کال تک محدود ہو گیا۔ مگر مجال ہے جو کبھی کسی نے سید جی کی خیریت معلوم نہ کی ہو۔ سب کو ہی سید جی کے خاندان کا حصہ ہونے پر ناز بھی تھا تو اُن کو چھپانا بھی ضروری سمجھا جاتا تھا ، لہذا جب خاندان میں کسی نئے فرد کا اضافہ ہوتا تو ایک ان کہی ہدایات کے مطابق سید جی کے بارے بات چیت کم کی جاتی۔ پہلے آہستہ روی اور احتیاط سے نو وارد کو سید جی کے بارے میں معلومات دی جاتیں ، سید جی کا ماضی ، فیضان صاحب کے خاندان میں اُن کی شمولیت کے مختلف قصے ، گھر کے بہت سے کاموں میں سید جی کا کردار اس کے علاوہ سید جی کا ہر دم خاندان کی امداد کے بارے میں بتا کر نووارد کا تجسس اور شوق بڑھا کر سید جی کا گرویدہ کیا جاتا۔ جب وہ سید جی سے ملنے کے لئے بالکل ہی بے چین ہو جاتا تب جا کر سید جی سے اُس کی ملاقات کروا دی جاتی۔ جو کہ ہمیشہ سید جی کی مرضی سے ہی طے پاتی لہذا ان تمام احتیاط کے باوجود سید جی سے پہلی ملاقات نووارد کو اکثر ہکا بکا کر دیتی تھی۔ بیگم زبیدہ کو ٹھیک سے یاد نہیں کہ پہلی بار سید جی سے مل کر اُن کو جھرجھری آئی تھی یا پھر وہ بیہوش ہوگئیں تھیں۔ ہاں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ زبیدہ بیگم کی شادی کے بعد سید جی سے اُن کی پہلی ملاقات بھی اتنی دیر میں ہوئی تھی کہ اُن کا پہلا بیٹا فرہاد بھی تقریباً ڈیڑھ سال کا ہو چکا تھا۔ حواس میں آتے ہی زبیدہ بیگم نے فیضان صاحب کو دو ٹوک کہہ دیا تھا کہ وہ اور سید جی ایک چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے۔ دو چا ر ہفتوں تک زبیدہ بیگم ، فیضان صاحب اور اُن کے گھر والوں کے درمیان بے تحاشہ تناؤ رہا۔ اللہ بخشے فیضان صاحب کی والد ہ بہت حلیم اور بُردبار انسان تھیں۔ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کی بیوی اور خاندان کی پہلی بہو کے ساتھ الجھنے کے بجائے اُن کو گھر کے کام کاج سے مکمل آزادی دے دی ویسے بھی سید جی کے گھر میں مو جود ہونے کا سوچ کر زبیدہ بیگم اپنے کمرے سے نکل ہی نہیں رہیں تھیں۔ فیضان صاحب اُس زمانے میں ایک ملٹی آرگنائیزشن میں اچھے عہدے پر نئے نئے فائز ہوئے تھے اور کافی وقت وہ اپنے کام کو دیا کرتے تھے جبکہ اُن کے باقی چھوٹے بھائی بہن ، نوکری پر یا پڑھنے کسی یونیورسٹی یا کالج جایا کرتے۔چھٹی کے دن کے علاوہ گھر میں پورا دن خاموشی رہتی۔ ایسے میں سید جی پورے گھر میں بلا روک ٹوک اٹھلاتے پھرتے۔ زبیدہ بیگم کو یہی خوف رہتا کہ کسی بھی وقت کہیں بھی سید جی سے ٹکراؤ ہو گیا تو اس خالی گھر میں اُن کو کون سنبھالے گا۔ لہذا وہ فیضان صاحب کے آفس سے واپس آنے پر ہی کمرے سے نکلنے لگیں تھیں۔ مگر ڈیڑھ سالہ فرہاد کو سید جی کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ اُس کو گھٹنے گھٹنے چلنا آ چکا تھا اور صبح ہوتے ہی وہ ایک مہم جو کی طرح بستر سے چادر پکڑ اُترتا اور دادا ، دادی اور چاچو ، پھوپھی کی تلاش میں کمرے سے نکل جاتا۔ تمام گھر والوں کو چابی بھرا کھلونہ مل چکا تھا۔ اپنے جانے کی تیاریوں کے دوران فرہاد سے کھیلنا اُس کی شرارتوں پر ہنسنا اور اسی طرح اُس کو گود میں لئے پھرنے پر ہر کو ئی تیار رہتا۔ جب سب چلے جاتے تو فیضان صاحب کی والدہ خراماں خراماں باورچی خانے میں جا کر فرہاد اور فرہاد کے دادا کے ناشتے کا اہتمام کرتیں۔ فر ہاد کو بھی معلوم تھا کہ دادی کے ساتھ وہ کھیل کود نہیں ہو سکتے جو چاچا یا پھوپھو کرواتے ہیں۔ لہذا وہ باروچی خانے میں دادی کا ساتھ یوں دیتا کہ جب دادی اُسے ناشتہ تیار کرنے کے دوران باورچی خانے کے کسی سلیپ پر بٹھا دیتیں تو وہ جم کر وہیں بیٹھا رہتا اور صرف نئے سیکھے الفاظ اونچی آواز میں دُھراتا ، ہنستا اور دادی کے نہال ہونے پر اور پُرجوش ہو جا تا۔
یہ اُس دن کی صبح کا قصہ ہے کہ جب زبیدہ بیگم کو کمرے میں قید ہوئے کو ئی تین ہفتے گُزر چکے تھے اور اُن کی ساس صاحبہ اپنے معمول کے مطابق فرہاد کو سلیپ پر بٹھا کر ناشتے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ اُس وقت اچانک کسی بات پر زبیدہ بیگم کو فیضان صاحب اور اُن کے گھر والوں کی خاموشی پر بے حد طیش آیا اور وہ آج کے دن ساس صاحبہ کو کھری کھری سُنانے اور فیضان صاحب کو علیحدہ گھر لینے کا فیصلہ جلدی کروانے کا بولنے کے لئے غصے سے بے قابو ہو کر کمرے سے باہر آئیں۔ ابھی وہ باورچی خانے سے دور تھیں مگر باورچی خانے کا منظر مکمل دیکھ سکتی تھیں۔ ساس صاحبہ کا منہ چولہے کی طرف تھا شاید وہ انڈہ تل رہی تھیں اور اُن کی پیٹھ کی طرف کے سلیپ پر فرہاد بیٹھا ایک چمچ سے خالی اسٹیل کے پیالے کو پیٹ رہا تھا اور بہت شور ہو رہا تھا۔ زبیدہ بیگم نے دیکھا کہ فرہاد کے چمچ سے ٹھوکر کھا کر اسٹیل کا پیالہ ایک طرف لڑھکا اور پھر اپنے پیندے پر گول گول گھومتا سلیپ سے نیچے جا گرا مگر اُس کو گرنے سے بچانے کے لئے فرہاد نے اپنے دونوں ننھے منے ہاتھ آگے بڑھائے اور یوں فرہاد کا جسم بھی بے قابو ہو کر اسٹیل کے برتن کی طرح لڑھک کر سلیپ سے گرنے لگا۔ زبیدہ بیگم اُس وقت یہ سارا منظر دیکھ رہیں تھیں مگر باورچی خانے سے اتنی دور تھیں کہ بھاگ کر بھی جاتیں تو فرہاد کو گرنے سے بچا نہیں سکتی تھیں۔ ایک ڈری سہمی ہلکی سی چیخ زبیدہ بیگم کے منہ سے برآمد ہوئی اور اُسی وقت پتہ نہیں کہاں سے اچانک سید جی حاضر ہو گئے۔ فرہاد سلیپ اور زمین کے درمیان ہوا میں معلق ہو گیا۔ ساس صاحبہ جب تک مُڑ کر معاملات ملاحضہ کرتیں زبیدہ بیگم دوڑ کر فرہاد کے قریب پہنچ چکی تھیں اور پھر بغیر ڈرے ، گھن کھائے یا جھرجھری لئے زبیدہ بیگم نے بے حد ممنون نظروں کے ساتھ سید جی کی بانہوں سے فرہاد کو اپنی گود میں بھر لیا۔
بس یہی وہ دن تھا جب زبیدہ بیگم کو گھر کے باقی لوگوں کی ہی طرح سید جی پیارے ہو گئے تھے۔ ایک بار پھر سے زبیدہ بیگم نے فیضان صاحب سے ، سید جی کے متعلق تمام معلومات لیں مگر اب کی بار زبیدہ بیگم کے دل میں سید جی سے ڈر کے بجائے احترام تھا۔ سید جی بڑے کام کے تھے ، اس زمانے شہر کے خراب حالات کے باوجود فیضان صاحب کے گھر کے چاروں طرف پستہ قد دیوار تھی۔ اُن کے کسی دروازے یا کھڑکی پر لوہے کی جالیاں بھی نہیں لگی ہوئیں تھیں۔ بلا ناغہ سید جی گھر کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ دن ہو یا رات اُن کی نظروں سے بچنا ناممکن تھا۔ گھر میں آنے والے مستقل ملازموں سے لے کر کبھی کبھار ضرورت کے وقت آنے والے پلمبر، الیکٹریشن یا مستری وغیرہ کو نظروں میں رکھنے کا کام بھی سید جی ہی کے ذمہ تھا۔ رات گئے جب سب سو جاتے تو سید جی گھر کے باغ میں گھانس پودوں کو پانی دیتے ، دالان کی دھلائی کر دیتے اور جب گھر میں گاڑیاں اور موٹر سائیکل کھڑی ہونے لگیں تو اُن کو بھی شوق سے دھو کر چمکا دیا کرتے۔ رات کی خاموشی میں چلتے پھرتے سید جی کے پیر زمین پر ہلکی سی دھمک پیدا کرتے اور ایک بہت ڈرامائی سا ماحول بنا دیتے۔ سو بات کی ایک بات کہ سید جی تو اس گھر کے لئے ایک انعام تھے۔
سید جی کی فیضان صاحب کے خاندان میں شمولیت بھی عجیب ڈرامائی تھی۔ فیضان صاحب کے والد صاحب کسی مزار کے آگے ٹریفک سگنل پر رُکے ہوئے تھے کہ کچھ بندر کا ناچ نچانے والے اُن سے مانگنے پہنچ گئے۔ اُن کے تین چار زنجیروں سے بندھے بندروں میں سید جی بھی موجود تھے۔ والد صاحب کو فوراً ا حساس ہوا کہ سید جی کو بندر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ ایسا ہے نہیں۔ ا نہوں نے سید جی کا سودا کر لیا۔ بقول فیضان صاحب وہ بہت چھوٹے تھے جب اُن کے والد ایک شام سید جی کو لئے گھر میں داخل ہوئے۔ شر وع میں کسی نے بھی سید جی پر توجہ نہ دی کیونکہ سب کی نظریں والد صاحب کے ہاتھوں میں سب کے لئے لائے گئے تحائف پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ خود والد صاحب بھی بھول گئے تھے کہ گھر میں داخل ہونے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ مگر پھر جیسے ہی سارا گھر ایک جگہ بیٹھ کر اپنے اپنے تحائف دیکھنے ، والد صاحب کا شکریہ ادا کرنے میں مصروف تھا ، سید جی نے اپنی موجودگی ظاہر کر دی۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ سید جی اپنی مرضی اور خوشی سے ہی کسی وقت اور جگہ پر ا پنی موجودگی ظاہر کرتے تھے ورنہ اُن کی مرضی نہ ہوتی تو پورا دن وہ کسی کی توجہ لئے بغیر خاموشی سے پورے گھر میں گھومتے پھرتے۔ کچھ دنوں تک والد صاحب نے کوشش کی کہ سید جی کو کسی ایسے ادارے میں ڈلوا دیا جائے جو سید جی کو طریقے سے رکھ سکے مگر ایسا کوئی نہ ملا یوں سید جی اسی خاندان کا حصہ بن گئے۔
اس معاملے میں تمام گھر والوں کو پختہ یقین تھا کہ سید جی کوئی آفاقی مخلوق ہیں تب ہی تو اُن کو ہر وقت نظروں میں رکھنا ناممکن تھا اور جو فیضان صاحب کے والدصاحب کے ساتھ لگ کر سید جی اس خاندان میں شامل ہوئے ہیں تو یہ بھی اُن کی اپنی ہی مرضی سے ممکن ہوا ہے۔ سید جی کی ظاہری شکل و صورت پر سوچو تو زیادہ سوچا نہ جا سکتا تھا ، اُن کی عمر کا کسی کو بھی اندازہ نہ تھا مگر فیضان صاحب کو یقین تھا کہ وہ بالکل اُن کے ہم عُمر تھے۔ جبکہ سید جی کا قد ڈھائی فٹ سے بھی کم تھا ، پیدائشی تالو نہ ہونے اور اوپر نیچے کے ہونٹ درمیان سے کٹے ہونے کے باعث وہ بات نہیں کرتے تھے جبکہ بصارت ہونے کے باوجو د وہ سنتے بھی کسی کی نہیں تھے۔ ہاں وہ خود کو نظروں سے چھپانے کا ہنر رکھتے تھے اور اپنی تیز نظروں سے کبھی کچھ اوجھل نہ ہونے دیتے تھے۔ سید جی کو باقاعدہ طور پر زمانے کے لحاظ سے کپڑے پہننے کی عادت نہ تھی اور نہ ہی ڈالی جا سکی۔ شروع میں اُن کو چھوٹے لڑکوں کی پینٹ جرسی شلوار سوٹ سب ہی پہنا کر رکھنے کی کوشش کی گئی مگر اُن کا پہناوا ہمیشہ ایک سفید چادر تھی جو وہ احرام کی طرح پورے جسم میں لپیٹ کر رکھتے تھے۔ ا سی وجہ سے نووارد اور انجان لوگ اُن سے خوف کھاتے تھے ، پہلی بار ملنے پر کسی کو وہ بھوت لگتے کسی کو مافق الفطرت۔ اور زبیدہ بیگم کو اب جا کر اندازہ ہوا تھا کہ سید جی ان سب باتوں سے افسردہ ہونے کے بجائے خوب مزے لیتے تھے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی سید جی کی کوئی خاص پہنچان نہ تھی۔ بس ہر رات باورچی خانے میں ایک پلیٹ میں اُس دن کا پکا ہوا کھانا ڈھک کر رکھ دیا جاتا تھا۔ جو زیادہ تر کھایا ہی نہیں جاتا تھا۔
فیضان صاحب کے انتقال پر اُن کے تینوں بچے آئے تھے اور زبیدہ بیگم کو پورا یقین تھا کہ جہاں سید جی کو فیضان صاحب کے جانے کا دکھ ہوا ہو گا وہیں سید جی ان تمام بچوں کو ایک ساتھ دیکھ کر خوش بھی ہو رہے ہوں گے مگر جب سے فرہاد نے گھر بیچنے کی بات تھی پتہ نہیں سید جی کہاں روپوش ہو گئے تھے۔ جیسے جیسے زبیدہ بیگم کے جانے کی تیاریاں زور پکڑ رہی تھیں اُن کی سید جی کے بارے میں فکر مندی بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ تو وہ جانتی تھیں کہ سید جی کو رکھوانے کے لئے پاکستان میں کوئی ادارہ موجود نہیں اور نہ ہی اُن کا کوئی رشتہ دار ہی اتنا کھلے دل کا ہو گا جو سید جی کو رکھ لے۔ ایسا تو کبھی ہوا بھی نہیں تھا کہ سید جی کو اس گھر سے نکالنے یا کسی اور جگہ بھیجنے کا سوچا ہی گیا ہو اب اچانک جو یہ آفت آ گئی ہے تو زبیدہ بیگم دکھی سے زیاد ہ سید جی کی فکر میں بے چین ہو رہی تھیں۔ پھر سید جی دو چار روز سے ایسے چھپ گئے ہیں کہ ہزار کوشش پر بھی اُن سے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ سید جی کو مسلۂ بنا کر پیش کرنا سید جی کو پسند نہیں آئے گا کہ بہرحال وہ گھر میں ہونے والی ہر بات چیت کی سُن گُن لے ہی لیتے ہیں۔ زبیدہ بیگم کو فرہاد کی لاتعلقی بہت ناگوار لگ رہی تھی۔ اُن کو اندازہ ہو رہا تھا کہ فرہاد ، سید جی کا کوئی انتظام کئے بغیر ہی گھر بیچ کر اپنی ماں کو لے کر امریکہ سدھار جائے گا۔ پیچھے رہ جائیں گے سید جی، جو بہرحال نئے مالک مکان کو کبھی نہ کبھی تو نظر آ ہی جائیں گے اور پھر وہی ہو گا جو اس ملک میں کسی نایاب جاندار کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اُس کو پہلے جان سے مارا جاتا ہے پھر خبروں میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں فلاں بندے نے فلاں جگہ ایک خطرناک جاندار کو بر وقت مار کر شہریوں کی اُس سے جان بچائی۔ ایک جھرجھری لے کر زبیدہ بیگم نے شام کی چائے پیتے اپنے بچوں کی طرف بے بسی سے دیکھا اور آخر کار اُن کے منہ سے نکل ہی گیا۔
’ سید جی کا کیا ہو گا ؟ ‘
زبیدہ بیگم کے کمرے میں چائے کا کپ پکڑے سلیقے سے بیٹھے اپنی سوچوں میں گُم سارے ہی افراد ایک ساتھ چونک پڑے۔ جیسے اُن کو بھی ابھی خیال آیا ہو کہ مکان بکنے پر سید جی کہاں جائیں گے۔ یہ شاید پہلی بار تھا کہ یوں بھری محفل میں سید جی کا نام اس طرح بلند آواز میں لیا گیا تھا۔
’ امی جان کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ جو ہمارے خاندان میں جانے کب سے سید جی جیسی ایک شخصیت موجود رہی وہ واقعی انسان ہے؟ پھر کیا یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ سید جی کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ؟ پھر بھی اگر آپ فکرمند ہیں تو جان لیں کہ سید جی نے اپنا ٹھکانہ ڈھونڈ لیا ہے ؟ ‘
فرہاد کی اطلاع پر زبیدہ بیگم چونک گئیں۔ فرہاد پھر گویا ہوا۔
آج جب میں ابو کی قبر پر فاتحہ خوانی اور پھول چڑھانے گیا تو مجھے دیکھ کر گورکن آ گیا وہ کافی حیران تھا۔ پہلے تو پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے والد کوئی پہنچے ہوئے بزرگ ہیں ؟ میں نے جب کوئی خاص جواب نہ دیا تو بتانے لگا کہ کوئی تین راتوں پہلے ایک مافوق الفطرت سفید کپڑے میں لپٹا چھوٹا بچہ جیسی ہیت والا وجود قبر کے پاس بیٹھا نظر آیا تھا ۔ مگر جب اطلاع دینے والے کے ساتھ دوسرے لوگ بھی قبر پر پہنچے تو کوئی نہیں ملا۔ اُس کے دو دن بعد ہی بھری دوپہر میں بھی ایسی ہی اطلاع ملی ہے۔ میں نے قبرستان کے قریب سنسان سے علا قے میں ایک پُرانا متروک شدہ کواٹر دیکھا ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں سید جی وہاں شفٹ ہو چکے ہیں۔ آپ فکر نہ کریں وہ کواٹر میں جلد خرید لوں گا تا کہ سید جی کو پھر سے گھر بدر نہ ہونا پڑے۔‘
پتہ نہیں کیوں زبیدہ بیگم کو لگا کہ واقعی فرہاد ٹھیک ہی کہہ رہا ہے۔ سید جی کا وجود انسانی مدد پر قائم نہیں ہے۔

