اداریہ
اداریہ
May 5, 2026

دیدبان: ثمینہ سید نمبر
اداریہ
نسترن احسن فتیحی
وہ 18 /مارچ 2026 رمضان المبارک کا دن تھا جب ثمینہ سید نے اس فانی دنیا سے پردہ کر لیا۔ان کے جانے کے بعد شدت سے احساس ہوا کہ سوشل میڈیا کی ادبی دنیا ہماری زندگی میں ایک بڑے خاندان کا درجہ رکھتی ہے ۔جس میں ہر عمر اور مزاج کے لوگ شامل ہیں ،جن سے بظاہر ہم جڑے ہوں یا نہ جڑے ہوں ۔ یہ شخصیتیں اپنی پازیٹو اور نیگیٹو انرجی کے ساتھ ہماری زندگی میں شامل ہیں ۔ ثمینہ سید کی شخصیت ایسی تھی جو اپنے حوصلے، وقار اور مسکراتے وجود کے ساتھ ہماری ادبی دنیا میں اپنی موجودگی سے خوشبوئیں بکھیرتی رہتی تھی ۔وہ اس خاندان کا ایسا فرد تھیں جو نرم رو اور نرم خو ،اپنی ہر تکلیف کو مسکراہٹ کے پردے میں چھپائے،خاموشی سے سب کے دل میں جگہ بنا لیتی تھیں ۔ان کی تصویریں دیکھ کر نرم سی چھاؤں کا احساس دل میں جاگزیں ہوتا تھا۔ان کی دائمی جدائ نے جیسے ہمیں ننگی چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کر دیا۔ اس لئے ان کی وفات کی خبر ذاتی عم کی طرح محسوس ہوئ۔
ثمینہ سید کی وفات صرف ایک فرد کا بچھڑ جانا نہیں بلکہ ایک حساس شعری لہجے اور نرم احساسات کے ایک عہد کا خاموش ہو جانا ہے۔ ان کی شاعری میں داخلی کرب، نسائی شعور اور زندگی کا باریک مشاہدہ اس سلیقے سے الفاظ کے پیکر میں ڈھلا ہے کہ قاری خود کو ان کے لفظوں میں تلاش کرنے لگتا تھا۔
وہ محض شاعرہ نہیں تھیں بلکہ ایک باوقار فکری آواز تھیں، جنہوں نے اپنے احساسات کو وقار اور سادگی کے ساتھ بیان کیا۔ ان کے ہاں دکھ بھی شائستگی اختیار کر لیتا ہے اور محبت بھی خودداری کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
ان کی رحلت اردو ادبی خاندان کے ہر دل کو سوگوار کر گئ ہے۔ دیدبان کا یہ خاص نمبر ثمینہ سید کی یاد میں ثمینہ سید نمبر ہے ۔ دیدبان کی ادارتی ٹیم ان سب شرکا کی تہ دل سے مشکور ہے، جنہوں نے اپنی گرانقدر تحریروں سے دیدبان کے صفحات کو سجایا۔ سبین علی کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے بڑی مستعدی سے اتنے کم وقت میں ان ٹحاریر کو یکجا کرنے کی ذمہ داری نبھائ۔ دیدبان کا ثمینہ سید نمبر سلمی جیلانی کی خوبصورت پینٹنگ سے مزین ہے ۔ جو انہوں نے ثمینہ سید نمبر کے لئے خاص طور پر بھجوائیں ۔ میں ان کی اس کرم فرمائ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے اپنی محبت ثمینہ پر یوں نیوچھاور کیا ۔ثمینہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گے—خاموشی میں بھی بولتے ہوئے، اور دلوں میں دیر تک چھاوں بن کر اترتے ہوئے۔
نسترن فتیحی
دیدبان: ثمینہ سید نمبر
اداریہ
نسترن احسن فتیحی
وہ 18 /مارچ 2026 رمضان المبارک کا دن تھا جب ثمینہ سید نے اس فانی دنیا سے پردہ کر لیا۔ان کے جانے کے بعد شدت سے احساس ہوا کہ سوشل میڈیا کی ادبی دنیا ہماری زندگی میں ایک بڑے خاندان کا درجہ رکھتی ہے ۔جس میں ہر عمر اور مزاج کے لوگ شامل ہیں ،جن سے بظاہر ہم جڑے ہوں یا نہ جڑے ہوں ۔ یہ شخصیتیں اپنی پازیٹو اور نیگیٹو انرجی کے ساتھ ہماری زندگی میں شامل ہیں ۔ ثمینہ سید کی شخصیت ایسی تھی جو اپنے حوصلے، وقار اور مسکراتے وجود کے ساتھ ہماری ادبی دنیا میں اپنی موجودگی سے خوشبوئیں بکھیرتی رہتی تھی ۔وہ اس خاندان کا ایسا فرد تھیں جو نرم رو اور نرم خو ،اپنی ہر تکلیف کو مسکراہٹ کے پردے میں چھپائے،خاموشی سے سب کے دل میں جگہ بنا لیتی تھیں ۔ان کی تصویریں دیکھ کر نرم سی چھاؤں کا احساس دل میں جاگزیں ہوتا تھا۔ان کی دائمی جدائ نے جیسے ہمیں ننگی چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کر دیا۔ اس لئے ان کی وفات کی خبر ذاتی عم کی طرح محسوس ہوئ۔
ثمینہ سید کی وفات صرف ایک فرد کا بچھڑ جانا نہیں بلکہ ایک حساس شعری لہجے اور نرم احساسات کے ایک عہد کا خاموش ہو جانا ہے۔ ان کی شاعری میں داخلی کرب، نسائی شعور اور زندگی کا باریک مشاہدہ اس سلیقے سے الفاظ کے پیکر میں ڈھلا ہے کہ قاری خود کو ان کے لفظوں میں تلاش کرنے لگتا تھا۔
وہ محض شاعرہ نہیں تھیں بلکہ ایک باوقار فکری آواز تھیں، جنہوں نے اپنے احساسات کو وقار اور سادگی کے ساتھ بیان کیا۔ ان کے ہاں دکھ بھی شائستگی اختیار کر لیتا ہے اور محبت بھی خودداری کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
ان کی رحلت اردو ادبی خاندان کے ہر دل کو سوگوار کر گئ ہے۔ دیدبان کا یہ خاص نمبر ثمینہ سید کی یاد میں ثمینہ سید نمبر ہے ۔ دیدبان کی ادارتی ٹیم ان سب شرکا کی تہ دل سے مشکور ہے، جنہوں نے اپنی گرانقدر تحریروں سے دیدبان کے صفحات کو سجایا۔ سبین علی کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے بڑی مستعدی سے اتنے کم وقت میں ان ٹحاریر کو یکجا کرنے کی ذمہ داری نبھائ۔ دیدبان کا ثمینہ سید نمبر سلمی جیلانی کی خوبصورت پینٹنگ سے مزین ہے ۔ جو انہوں نے ثمینہ سید نمبر کے لئے خاص طور پر بھجوائیں ۔ میں ان کی اس کرم فرمائ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے اپنی محبت ثمینہ پر یوں نیوچھاور کیا ۔ثمینہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گے—خاموشی میں بھی بولتے ہوئے، اور دلوں میں دیر تک چھاوں بن کر اترتے ہوئے۔
نسترن فتیحی

