ادب گہنا گیا

ادب گہنا گیا

May 5, 2026

مصنف

رابعہ رحمن


·

ادب گہنا گیا

رابعہ رحمن


ثمینہ سید ادب کی ایک شاہکار ہستی ہیں،وقت نے ان کو ہم سے بہت جلد جدا کردیا اس عہدِ پر آشوب میں زندگی کے دوسرے مسائل سے لڑتے لڑتے ایک اور زندگی کی لَوبجھ گئی،کہکشاں ِ ادب کا ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا،ممتاز شاعرہ،افسانہ نگار،صحافی اور ادبی تنظیم سیوا آرٹس سوسائٹی کی روحِ رواں ثمینہ سید کئی سالوں سے کینسر جیسی موذی بیماری سے لڑتے لڑتے ہارگئیں۔اپنی زندگی میں ثمینہ سید جس بہادری سے آگے بڑھ رہی تھیں اسی بہادری سے صبر اور شکر سے انہوں نے اپنی ہرتکلیف کامقابلہ کیا اور کبھی ان کی زبان شکوہ کنعاں نہ ہوئی،انہوں نے علم وادب کے فروغ کیلئے وہ کام کئے جو آئندہ آنے والے نئے لکھاری پود کیلئے مشعل راہ ہوگا۔

سسکتے روتے ہوئے سارے مال روڈ کے پیڑ

گلے لگاتے ہیں مجھ کو تمہارا پوچھتے ہیں

عرفان صادق

سیوا آرٹ سوسائٹی کے تحت23 اپریل 2026 کی شام ہم اپنی دوست ثمینہ سید کیلئے اکٹھے ہوئے اور وہاں پہ سب ساتھیوں نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔

بھلا ایسے بھی کرتے ہیں،تمہیں جلدی تھی اتنی کیوں،ابھی سوچوں کی پوروں سے پھسلتے خوبرو لمحوں،کو گننا تھا،ابھی ہم نے بہت سی ان کہی باتوں کی گرہیں کھولنی تھیں،مشام جاں میں گھلتی پیاس کی شدت پہ اپنے ریشمی احساس کا چھڑکاؤ کرنا تھا،ابھی تو ریگِ زار زندگی کی لو کو مل کر جھیلنا تھا،سروں پہ چنچلاتی دھوپ کو شیشم کی ٹھنڈی چھاؤں میں تبدیل کرنا تھا،بھلا ایسے بھی کرتے ہیں

تمہیں جلدی تھی اتنی کیوں،ابھی تخلیق کے ان لہلہاتے گل کدوں سے اپنے حصے کے بہت سے پھول چننے تھے،ابھی سانسوں کی لے پہ مسکراتے موسموں کے گیت بُننے تھے،ابھی تو خامشی کے ساز پر اس دل کی دھڑکن کو دھمالیں ڈالنا تھیں،ابھی کچھ نا مکمل نظموں کی تکمیل ہونی تھی،ابھی شعروں کے مصرعے غزلیہ آہنگ میں ترتیب پانے تھے،ابھی سوچوں کی پوروں سے پھسلتے خوبرو لمحوں کو گننا تھا،بھلا ایسے بھی کرتے ہیں،تمہیں جلدی تھی اتنی کیوں؟عرفان صادق

حرف و صوت کی ہجرت کے عنوان سے دانش عزیز نے اپنے دلسوز خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

عجب اک ساعتِ دلدوز تھی کہ روشنی کانور کی چادر میں لپٹے نور ہو جانا،رواں جس سے کے چشمے معانی کے تھے جو ادھ کھلے، ادھ پڑھے، ادھ لکھے ہی رہ گئے،کہ جس کی سوچ کے کتنے ہی پہلو کھِل نہیں پائے،نہ جس کو وقت پڑھ پایا،بہت کچھ اس نے کہنا تھا،بہت کچھ ہم نے سننا تھا،اسے شہرِخموشان کی خموشی بھا گئی، کیونکر وہ چاہت کا وظیفہ تھی، محبت کا صحیفہ تھی،کسی اَن دیکھے موسم نے جب اس کے لمس کی لو کو چھوا تو پیشتر بجھنے سے اس نے روشنی کر دی،خدائے لم یزل کو اس کی امانت سونپ دی ہنس کر،کسی بھی درد کا اس نے گلہ کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا، کہ وہ دردِ محبت کو نئی تہذیب دیتی تھی، ہجر تفہیم کرتی تھی،وہ ہر اک درد کو اپنے قرینے سے بدلتی تھی،یہاں اب وہ نہیں ہے تو کیونکر ایسا لگتا ہے کہ جیسے نقرئی لہجہ خموشی میں کہیں گم ہو کر ہمارے نام لے لے کر صدائیں دیتا رہتا ہے،یہ لگتا ہے کہ جیسے فکر کی پیشانی سے اک روشن امکان ڈھل گیا ہو،مگر ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ اب تک جہاں سچ ہو وہاں پر سانس لیتی ہے،جہاں الفاظ آنسو بن رہے ہوں ایسی ہر اک آنکھ میں اس کا پڑاؤ ہے،بڑا زہریلا گھاؤ ہے،جدائی اس کو کہتے ہیں جسے ہم دیکھنا چاہیں مگر ہم دیکھ نہ پائیں،امینِ حرف و صوت تمہاری رخصتی نے تو بقا کے سابقہ سارے معانی ہی بدل ڈالے،ہمیں باور کرایا ہے کہ مٹ جانا فنا ہونا بقا کی سمت آشفتہ سروں کی پہلی منزل ہے،یہیں ہو تم ہمارے درمیاں فقط نظروں کی ہجرت ہے،فقط ان عارضی سانسوں کے پنجرے سے رہائی کے تسلسل کی تمنا کو ذرا تسکین سونپی ہے،مرے دل کی گواہی ہے،کہ تم اب،کسی سرسبز وادی میں کہیں پریوں کے جھرمٹ میں،محبت سینچتی ہو گی ،مجھے اکثر یہ لگتا ہے،کہیں پچھلی نشستوں پر،کہیں گم گشتہ رستوں پر،کسی ان دیکھی ساعت میں،تو سب کچھ سن رہی ہو گی،تو سب کچھ سن رہی ہو گی۔

ثمینہ سید کے لیے کیا گیا تعزیتی پروگرام دلشاد، رقیہ، شوال،ممتاز، دانش عزیز، نذیر قیصر،عابدہ نذیر، احتشام حسن، عرفان صادقاور منزہ سحر اور باقی تمام احباب کے لیے کرنا بہت مشکل تھا اشکوں اور سسکیوں کے درمیان یہ پروگرام شروع ہوا اور اسی پر اختتام پذیر ثمینہ سید ہمارے لیے ادب کا اور انسانیت کا تحفہ تھی ان کو بھلایا نہ جا سکے گا ان کی تخلیقات ہمیشہ ہمارے ادب کا سرمایہ رہیں گی۔


·

ادب گہنا گیا

رابعہ رحمن


ثمینہ سید ادب کی ایک شاہکار ہستی ہیں،وقت نے ان کو ہم سے بہت جلد جدا کردیا اس عہدِ پر آشوب میں زندگی کے دوسرے مسائل سے لڑتے لڑتے ایک اور زندگی کی لَوبجھ گئی،کہکشاں ِ ادب کا ایک اور ستارہ ٹوٹ گیا،ممتاز شاعرہ،افسانہ نگار،صحافی اور ادبی تنظیم سیوا آرٹس سوسائٹی کی روحِ رواں ثمینہ سید کئی سالوں سے کینسر جیسی موذی بیماری سے لڑتے لڑتے ہارگئیں۔اپنی زندگی میں ثمینہ سید جس بہادری سے آگے بڑھ رہی تھیں اسی بہادری سے صبر اور شکر سے انہوں نے اپنی ہرتکلیف کامقابلہ کیا اور کبھی ان کی زبان شکوہ کنعاں نہ ہوئی،انہوں نے علم وادب کے فروغ کیلئے وہ کام کئے جو آئندہ آنے والے نئے لکھاری پود کیلئے مشعل راہ ہوگا۔

سسکتے روتے ہوئے سارے مال روڈ کے پیڑ

گلے لگاتے ہیں مجھ کو تمہارا پوچھتے ہیں

عرفان صادق

سیوا آرٹ سوسائٹی کے تحت23 اپریل 2026 کی شام ہم اپنی دوست ثمینہ سید کیلئے اکٹھے ہوئے اور وہاں پہ سب ساتھیوں نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔

بھلا ایسے بھی کرتے ہیں،تمہیں جلدی تھی اتنی کیوں،ابھی سوچوں کی پوروں سے پھسلتے خوبرو لمحوں،کو گننا تھا،ابھی ہم نے بہت سی ان کہی باتوں کی گرہیں کھولنی تھیں،مشام جاں میں گھلتی پیاس کی شدت پہ اپنے ریشمی احساس کا چھڑکاؤ کرنا تھا،ابھی تو ریگِ زار زندگی کی لو کو مل کر جھیلنا تھا،سروں پہ چنچلاتی دھوپ کو شیشم کی ٹھنڈی چھاؤں میں تبدیل کرنا تھا،بھلا ایسے بھی کرتے ہیں

تمہیں جلدی تھی اتنی کیوں،ابھی تخلیق کے ان لہلہاتے گل کدوں سے اپنے حصے کے بہت سے پھول چننے تھے،ابھی سانسوں کی لے پہ مسکراتے موسموں کے گیت بُننے تھے،ابھی تو خامشی کے ساز پر اس دل کی دھڑکن کو دھمالیں ڈالنا تھیں،ابھی کچھ نا مکمل نظموں کی تکمیل ہونی تھی،ابھی شعروں کے مصرعے غزلیہ آہنگ میں ترتیب پانے تھے،ابھی سوچوں کی پوروں سے پھسلتے خوبرو لمحوں کو گننا تھا،بھلا ایسے بھی کرتے ہیں،تمہیں جلدی تھی اتنی کیوں؟عرفان صادق

حرف و صوت کی ہجرت کے عنوان سے دانش عزیز نے اپنے دلسوز خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

عجب اک ساعتِ دلدوز تھی کہ روشنی کانور کی چادر میں لپٹے نور ہو جانا،رواں جس سے کے چشمے معانی کے تھے جو ادھ کھلے، ادھ پڑھے، ادھ لکھے ہی رہ گئے،کہ جس کی سوچ کے کتنے ہی پہلو کھِل نہیں پائے،نہ جس کو وقت پڑھ پایا،بہت کچھ اس نے کہنا تھا،بہت کچھ ہم نے سننا تھا،اسے شہرِخموشان کی خموشی بھا گئی، کیونکر وہ چاہت کا وظیفہ تھی، محبت کا صحیفہ تھی،کسی اَن دیکھے موسم نے جب اس کے لمس کی لو کو چھوا تو پیشتر بجھنے سے اس نے روشنی کر دی،خدائے لم یزل کو اس کی امانت سونپ دی ہنس کر،کسی بھی درد کا اس نے گلہ کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا، کہ وہ دردِ محبت کو نئی تہذیب دیتی تھی، ہجر تفہیم کرتی تھی،وہ ہر اک درد کو اپنے قرینے سے بدلتی تھی،یہاں اب وہ نہیں ہے تو کیونکر ایسا لگتا ہے کہ جیسے نقرئی لہجہ خموشی میں کہیں گم ہو کر ہمارے نام لے لے کر صدائیں دیتا رہتا ہے،یہ لگتا ہے کہ جیسے فکر کی پیشانی سے اک روشن امکان ڈھل گیا ہو،مگر ایسا بھی لگتا ہے کہ وہ اب تک جہاں سچ ہو وہاں پر سانس لیتی ہے،جہاں الفاظ آنسو بن رہے ہوں ایسی ہر اک آنکھ میں اس کا پڑاؤ ہے،بڑا زہریلا گھاؤ ہے،جدائی اس کو کہتے ہیں جسے ہم دیکھنا چاہیں مگر ہم دیکھ نہ پائیں،امینِ حرف و صوت تمہاری رخصتی نے تو بقا کے سابقہ سارے معانی ہی بدل ڈالے،ہمیں باور کرایا ہے کہ مٹ جانا فنا ہونا بقا کی سمت آشفتہ سروں کی پہلی منزل ہے،یہیں ہو تم ہمارے درمیاں فقط نظروں کی ہجرت ہے،فقط ان عارضی سانسوں کے پنجرے سے رہائی کے تسلسل کی تمنا کو ذرا تسکین سونپی ہے،مرے دل کی گواہی ہے،کہ تم اب،کسی سرسبز وادی میں کہیں پریوں کے جھرمٹ میں،محبت سینچتی ہو گی ،مجھے اکثر یہ لگتا ہے،کہیں پچھلی نشستوں پر،کہیں گم گشتہ رستوں پر،کسی ان دیکھی ساعت میں،تو سب کچھ سن رہی ہو گی،تو سب کچھ سن رہی ہو گی۔

ثمینہ سید کے لیے کیا گیا تعزیتی پروگرام دلشاد، رقیہ، شوال،ممتاز، دانش عزیز، نذیر قیصر،عابدہ نذیر، احتشام حسن، عرفان صادقاور منزہ سحر اور باقی تمام احباب کے لیے کرنا بہت مشکل تھا اشکوں اور سسکیوں کے درمیان یہ پروگرام شروع ہوا اور اسی پر اختتام پذیر ثمینہ سید ہمارے لیے ادب کا اور انسانیت کا تحفہ تھی ان کو بھلایا نہ جا سکے گا ان کی تخلیقات ہمیشہ ہمارے ادب کا سرمایہ رہیں گی۔

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024

خریدیں

رابطہ

مدیران دیدبان

مندرجات

شمارہ جات

PRIVACY POLICY

Terms & Conditions

Cancellation and Refund

Shipping and exchange

All Rights Reserved © 2024